ایفسس:تاریخ، تہذیب اور عظمت کا شاہکار
اسپیشل فیچر
ترکی کی سرزمین پر واقع قدیم شہر ایفسس انسانی تاریخ کے ان درخشاں ابواب میں شامل ہے جہاں وقت نے اپنی رفتار ضرور دکھائی، مگر عظمت کے نقوش ماند نہ پڑ سکے۔ بحیرہ ایجیئن کے قریب واقع یہ شہر کبھی علم و فن، تجارت و سیاست اور مذہب و تہذیب کا عالمی مرکز ہوا کرتا تھا۔ یونانی و رومی ادوار کی شاندار یادگاریں آج بھی اس بات کی گواہ ہیں کہ ایفسس صرف اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسی تہذیبی داستان ہے جو صدیوں بعد بھی انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ تاریخ کے اوراق میں ایفسس کا ذکر ایک ایسے شہر کے طور پر ملتا ہے جس نے عروج و زوال دونوں کو دیکھا، مگر اپنی عظمت کی پہچان ہمیشہ برقرار رکھی۔
ایفسس ترکی کے مغربی حصے میں واقع ایک قدیم اور تاریخی شہر ہے جو کبھی یونانی اور رومی تہذیب کا ایک شاندار مرکز ہوا کرتا تھا۔ یہ شہر موجودہ ازمیر (Izmir) کے قریب واقع ہے اور آثارِ قدیمہ کے اعتبار سے دنیا کے اہم ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ ایفسس نہ صرف سیاسی و تجارتی سرگرمیوں کا مرکز تھا بلکہ علم، فن تعمیر اور مذہبی روایات میں بھی اسے غیر معمولی حیثیت حاصل تھی۔
ایفسس کی بنیاد تقریباً دسویں صدی قبل مسیح میں رکھی گئی۔ ابتدا میں یہ یونانی نوآبادی کے طور پر آباد ہوا، بعد ازاں رومی سلطنت کے زیر اثر آیا اور تیزی سے ترقی کی۔ رومی دور میں ایفسس ایشیا مائنر کا سب سے بڑا اور خوشحال شہر بن گیا، جہاں آبادی لاکھوں میں بتائی جاتی ہے۔ اس زمانے میں یہ شہر بندرگاہ کی حیثیت رکھتا تھا اور مشرق و مغرب کے درمیان تجارت کا اہم سنگم تھا۔
ایفسس کی سب سے مشہور عمارت لائبریری آف سیلسس(Library of Celsus) ہے، جو قدیم دنیا کی عظیم ترین کتب خانوں میں شمار ہوتی تھی۔ یہ نہ صرف علم کا خزانہ تھی بلکہ فن تعمیر کا بھی اعلیٰ نمونہ ہے۔ اس کے علاوہ گریٹ تھیٹر، جس میں تقریباً 25 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی، آج بھی اپنی شان و شوکت کی گواہی دیتا ہے۔ یہاں ڈرامے، موسیقی کے پروگرام اور عوامی اجتماعات منعقد ہوتے تھے۔
ایفسس کی سب سے بڑی مذہبی پہچان معبدِ آرٹیمس (Temple of Artemis) ہے، جو قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شامل تھا۔ اگرچہ آج اس کے صرف چند آثار باقی ہیں، لیکن تاریخ میں اس معبد کو غیر معمولی عظمت حاصل رہی ہے۔ یہ معبد دیوی آرٹیمس کے نام پر بنایا گیا تھا اور دور دراز سے زائرین یہاں عبادت کیلئے آتے تھے۔ایفسس کو عیسائی تاریخ میں بھی خاص مقام حاصل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت مریم ؑ نے اپنی زندگی کے آخری ایام اسی علاقے میں گزارے۔ اسی نسبت سے ایفسس مذہبی سیاحت کا بھی اہم مرکز ہے۔
وقت کے ساتھ بندرگاہ میں مٹی بھر جانے، زلزلوں اور سیاسی تبدیلیوں کے باعث ایفسس زوال کا شکار ہوا اور بالآخر ویران ہو گیا۔ تاہم آج یہ شہر ایک کھلے عجائب گھر کی صورت میں موجود ہے، جہاں ہر سال لاکھوں سیاح آ کر قدیم تہذیب کی جھلک دیکھتے ہیں۔ مختصراً ایفسس ترکی کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے جو انسانی تہذیب، علم، فن اور مذہب کی عظمت کا آئینہ دار ہے۔ یہ شہر آج بھی ماضی کی گونج سناتا ہے اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عظیم تہذیبیں وقت کے ساتھ مٹ تو جاتی ہیں، مگر ان کے نقوش تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔