سائنس نے ایک اور راز سے پردہ اٹھا دیااہرامِ مصر صدیوں سے انسانی عقل و فہم کو حیران کرتے چلے آ رہے ہیں، مگر حالیہ سائنسی انکشاف نے اس حیرت کو ایک نئی جہت دے دی ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق عظیم اہرام کے نیچے تقریباً چار ہزار فٹ کی گہرائی میں ایک خفیہ اور وسیع میگا اسٹرکچر کی موجودگی کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس نے ماہرین آثارِ قدیمہ اور سائنس دانوں کو ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ قدیم مصری تہذیب کی سائنسی اور تعمیراتی صلاحیتیں ہمارے اندازوں سے کہیں بڑھ کر تھیں۔ یہ دریافت نہ صرف اہرام کے مقصد اور ساخت سے متعلق پرانے نظریات کو چیلنج کر رہی ہے بلکہ انسانی تاریخ کے ایک نئے اور پراسرار باب کے دروازے بھی کھول رہی ہے۔جوئے روگن(Joe Rogan) کے پوڈ کاسٹ میں شریک مہمان نے ایسے متنازع اسکینز پر گفتگو کی جن میں عظیم اہرام مصر کے نیچے ایک وسیع و عریض زیر زمین ڈھانچے کی موجودگی ظاہر ہوتی ہے، جو قدیم تاریخ سے متعلق تصورات کو یکسر بدل سکتا ہے۔ یہ اسکین اطالوی سائنس دان فلیپو بیونڈی( Filippo Biondi ) اور خفری پروجیکٹ ٹیم نے سنتھیٹک اپرچر ریڈار (synthetic aperture radar)کی مدد سے کیے، جو ایک جدید سیٹلائٹ امیجنگ ٹیکنالوجی ہے اور زمین کے اندرونی خدو خال کو ریڈیو لہروں کے ذریعے نقشہ بند کرتی ہے۔اٹلی اور امریکہ کی مختلف سیٹلائٹس سے حاصل کردہ 200 سے زائد اسکینز میں یکساں نتائج سامنے آئے، جن سے پتا چلتا ہے کہ تقریباً 65فٹ قطر کے بڑے ستون موجود ہیں جو پیچ دار شکل میں لپٹے ہوئے ہیں اور تقریباً 4ہزار فٹ گہرائی تک جاتے ہیں۔ بیونڈی کے مطابق یہ ستون تینوں اہرام اور اسفنکس (Sphinx) کے نیچے موجود 260 فٹ لمبے اور چوڑے مکعب کمروں پر ختم ہوتے ہیں، جنہیں انہوں نے ''انتہائی بڑے چیمبرز‘‘ قرار دیا۔اسکینز میں تقریباً 2ہزار فٹ گہرائی تک جانے والی شافٹس (عمودی راستے) بھی دکھائے گئے جو 10 فٹ اونچے افقی راستوں سے جڑتے ہیں۔ اس بنیاد پر بیونڈی کا خیال ہے کہ اہرام شاید مقبرے نہیں بلکہ قدیم زمانے کے توانائی گھر (پاور پلانٹس) یا ایسی کمپن پیدا کرنے والی مشینیں ہو سکتی ہیں جو روحانی یا جسم سے باہر تجربات کیلئے استعمال ہوتی ہوں۔جو ئے روگن نے بھی ان انکشافات کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے کہاکہ یہ مقبرے نہیں ہیں۔ اگر یہ ڈیٹا درست ہوا تو اہرام صرف ''برفانی پہاڑ کی نوک‘‘ ثابت ہوں گے۔بیونڈی نے ان زیر زمین ڈھانچوں کی عمر 18ہزار سے 20ہزار سال بتائی اور انہیں زیپ ٹیپی (Zep Tepi) یعنی اس اساطیری ''پہلے زمانے‘‘ سے جوڑا جب دیوتاؤں کی حکومت تھی اور تہذیب کا آغاز ہوا۔ انہوں نے قدیم سمندری پانی کے سیلاب سے پیدا ہونے والے نمکیاتی آثار کو بھی ایک عظیم طوفان کی علامت قرار دیا، جو اس نظریے کو تقویت دیتے ہیں کہ اہرام کے نیچے ایک نہایت قدیم اور ترقی یافتہ تہذیب کے آثار موجود ہو سکتے ہیں۔یہ کمپلیکس تین اہراموں خوفو، خفرع اور منقرع پر مشتمل ہے، جو تقریباً 4,500 سال قبل شمالی مصر میں دریائے نیل کے مغربی کنارے ایک چٹانی سطح مرتفع پر تعمیر کیے گئے تھے۔ تاہم خفرع اہرام پر تحقیق کرنے والی ٹیم کا ماننا ہے کہ یہ ڈھانچے اس سے کہیں زیادہ قدیم ہیں اور ان کے نیچے ایک ایسا زیر زمین جہان چھپا ہوا ہے جسے کسی گمشدہ تہذیب نے تعمیر کیا تھا۔ اس تنازع کی بنیادی وجہ استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کی ساکھ ہے۔ بیونڈی کے مطابق انہوں نے یہ ٹیکنالوجی اطالوی فوج کیلئے خفیہ منصوبوں کے دوران تیار کی اور بعدازاں اسے موصل ڈیم اور اٹلی کی گرانڈ ساسو لیبارٹری جیسے حساس مقامات پر بھی آزمایا گیا۔یہ ٹیکنالوجی پیٹنٹ شدہ، ہم مرتبہ جانچ شدہ اور نہایت درستگی کیلئے تیار کی گئی ہے، لیکن جب اس کا اطلاق ان اہرام پر کیا گیا تو شدید ردعمل سامنے آیا۔ معروف ماہر آثارقدیمہ ڈاکٹر زاہی حواس نے ان اسکینز کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب بکواس ہے۔بیونڈی نے اعتراف کیا کہ ابتدا میں وہ اور ان کے ساتھی آرمانڈو میئی خود بھی نتائج پر یقین نہیں کر پا رہے تھے اور انہوں نے تقریباً چھ ماہ تک ڈیٹا روک کر رکھا کیونکہ انہیں شبہ تھا کہ یہ پروسیسنگ کے دوران پیدا ہونے والی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔بیونڈی کے مطابق: میری رائے یہ تھی کہ یہ حقیقی نہیں۔ میں سمجھ رہا تھا کہ شاید یہ شور یا ہماری پروسیسنگ کے طریقہ کار کی وجہ سے بننے والے آرٹی فیکٹس ہیں۔ بالآخر مختلف سیٹلائٹ نظاموں اور معیارات سے تصدیق ہوئی، جن میں اٹلی کے گرانڈ ساسو پارٹیکل کولائیڈر کی درست نقشہ بندی بھی شامل ہے، جو ایک پہاڑ کے اندر تقریباً 4,600 فٹ گہرائی میں واقع ہے۔ بیونڈی کا کہنا ہے کہ مختلف ڈیٹا سیٹس میں یکسانیت ہی وہ عنصر تھا جس نے انہیں یقین دلایا کہ یہ نتائج حقیقی ہیں۔ابتدا میں ٹیم نے صرف اٹلی کے سیٹلائٹس کے ڈیٹا پر انحصار کیا، لیکن بعد ازاں نتائج کی تصدیق کیلئے انہوں نے امریکی کمپنی ''کپیلا سپیس‘‘ (Capella Space) کے سیٹلائٹس اور دیگر ذرائع سے بھی تجزیہ کیا، تاکہ مختلف ذرائع سے یکساں شواہد حاصل کیے جا سکیں۔ بیونڈی نے کہاکہ جب ہمیں امریکی سیٹلائٹس استعمال کرتے ہوئے بھی وہی نتائج ملے اور دیگر سیٹلائٹس سے بھی ہمیشہ ایک جیسے نتائج سامنے آئے، تو ہم نے انہیں منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا۔مجموعی طور پر 200 سے زائد اسکینز میں ایک جیسے ساختی نمونے سامنے آئے۔جوئے روگن نے نشاندہی کی کہ یہ ٹیکنالوجی پہلے ہی دیگر مقامات پر درست ثابت ہو چکی ہے، جن میں اٹلی کی زیر زمین گران ساسو لیبارٹری کی نہایت درست نقشہ بندی بھی شامل ہے، جو ایک پہاڑ کے اندر تقریباً 4,600 فٹ گہرائی میں واقع ہے۔