صحت مند زندگی کا راز
اسپیشل فیچر
6 عادات جو زندگی بدل دیں
تیز رفتار اور مصروف طرزِ زندگی نے انسان کو سہولتوں کی بہتات تو عطا کر دی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ صحت جیسے قیمتی اثاثے کو شدید خطرات سے بھی دوچار کر دیا ہے۔ آج ہر شخص مہنگی ادویات، سپلیمنٹس اور جدید علاج کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے، حالانکہ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اچھی صحت کیلئے ہمیشہ بھاری اخراجات ضروری نہیں ہوتے۔ حالیہ تحقیق اور ویلنَس ماہرین کی آراء کے مطابق روزمرہ زندگی کی چند سادہ اور مفت سرگرمیاں ایسی ہیں جو نہ صرف جسمانی صحت کو بہتر بناتی ہیں بلکہ ذہنی سکون بھی عطاکرتی ہیں۔ یہی چھ بنیادی عادات اگر معمول کا حصہ بنا لی جائیں تو انسان خود کو زیادہ توانا، چست اور صحت مند محسوس کر سکتا ہے۔
جنوری کا مہینہ عموماً فیشن ایبل ڈائٹس، مہنگے سپا ٹرپس اور بری عادات ترک کرنے کے عزم کیلئے مشہور ہے۔ بہت سے لوگ اس مہینے کا آغاز اس نیت سے کرتے ہیں کہ وہ خود کو زیادہ صحت مند بنائیں گے۔ کوئی دوڑ لگانا شروع کرتا ہے، کوئی ویٹ لفٹنگ، تو کوئی نئے سال میں سونا باتھ کو معمول بنا لیتا ہے۔ لیکن جیسے ہی فروری قریب آتا ہے، ان میں سے بہت سی عادتیں ختم ہونے لگتی ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق چھ روزمرہ سرگرمیاں ایسی ہیں جو بغیر جیب پر بوجھ ڈالے آپ کی صحت کو تیزی سے بہتر بنا سکتی ہیں۔
وٹامن ڈی حاصل کریں
صبح کے وقت نہانے، ناشتہ کرنے، کپڑے پہننے اور وقت پر کام کیلئے نکلنے کی جلدی میں ہم میں سے اکثر صحت مند صبح کے معمول کے ایک نہایت اہم حصے دھوپ کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر صبح صرف پانچ منٹ چہرے پر دھوپ پڑنے سے نیند بہتر ہو سکتی ہے اور ذہنی دباؤ اور ڈپریشن میں کمی آ سکتی ہے۔
امریکی محققین نے دریافت کیا کہ وہ لوگ جو صبح 8 بجے سے دوپہر 12بجے کے درمیان کچھ وقت دھوپ میں گزارتے ہیں وہ رات کو جلدی سو جاتے ہیں اور ان کی نیند میں خلل بھی کم ہوتا ہے، اس کے مقابلے میں جو دھوپ جیسی نعمت کا فائدہ نہیں اٹھاتے۔یہ صرف جسمانی گھڑی کیلئے ہی فائدہ مند نہیں بلکہ وٹامن ڈی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے، جو ہمارا جسم دھوپ کی مدد سے بناتا ہے۔ وٹامن ڈی جسم کو کیلشیم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے، جو مضبوط ہڈیوں کیلئے ضروری ہے۔ اس کی کمی سے بچوں میں رکٹس اور بڑی عمر میں ہڈیاں کمزور یا بھربھری ہو سکتی ہیں۔
کھانے کے بعد چہل قدمی کریں
غذا کھانے کے بعد چلنا شاید وہ آخری چیز ہو جو آپ کرنا چاہیں لیکن ماہرین کے مطابق کھانے کے بعد مختصر چہل قدمی بھی صحت پر بہت مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ ایک تحقیق میں ظاہر ہوا کہ کھانے کے بعد مختصر چہل قدمی کرنے سے بلڈ شوگر کم ہوتی ہے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں کمی آتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانے کے 60 سے 90 منٹ بعد چلنا سب سے زیادہ مؤثر ہے کیونکہ اس وقت بلڈ شوگر کی سطح عموماً بلند ہوتی ہے۔لوگوں کو 15 منٹ کی چہل قدمی کا ہدف رکھنا چاہیے لیکن تحقیق کے مصنفین کے مطابق دو سے پانچ منٹ کی مختصر چہل قدمی بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح دن بھر مختصر حرکات بھی کیلوریز جلانے اور میٹابولزم بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
منہ سے سانس لینے سے گریز کریں
منہ کے ذریعے سانس لینا طویل عرصے سے نیند میں خلل ڈالنے کیلئے جانا جاتا ہے۔ نئی تحقیق بتاتی ہے کہ یہ عادت موٹاپا، ڈیمنشیا، گنٹھیا (arthritis) اور بعض اقسام کے کینسر کے خطرے کو بھی بڑھا سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ منہ کے ذریعے سانس لینے سے منہ خشک ہو جاتا ہے جس سے نقصان دہ بیکٹیریا پھیلنے کیلئے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔
گھاس کو پیروں سے چھوئیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر ننگے پیروں کھڑے ہونا جسمانی اور ذہنی طور پر بہتر محسوس ہوتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ گھاس، ریت یا مٹی پر ننگے پیروں وقت گزارنا، جسے اکثر گراؤنڈنگ (grounding) کہا جاتا ہے، اعصابی نظام کو پرسکون کرنے، تناؤ کم کرنے اور نیند بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
کھانے کے دوران فون رکھ دیں
کھانے کے دوران فون دیکھنے کی عادت وزن بڑھنے سے منسلک پائی گئی ہے۔ محققین نے دریافت کیا کہ مرد اور خواتین نے جب کھاتے وقت فون دیکھا، تو انہوں نے تقریباً 15 فیصد زیادہ کیلوریز کھائیں اور زیادہ چکنائی والا کھانا بھی تناول کیا۔ ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ جو لوگ دوپہر کے کھانے کے دوران فون استعمال کرتے تھے، وہ ان لوگوں کے مقابلے میں شام تک زیادہ تھکے ہوئے محسوس کرتے تھے جو چہل قدمی کرتے یا کتاب پڑھتے تھے۔ ماہرین کے مطابق آہستہ کھائیں اور سکرینز کے بغیر کھانا کھائیں تو ''ریسٹ اینڈ ڈائجسٹ‘‘ اعصابی نظام فعال ہوتا ہے، جس سے ہاضمہ بہتر اور بھوک منظم ہوتی ہے۔
سونے کے وقت کو بحال کریں
نیند صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ نیند کی کمی کئی جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل سے جڑی ہوئی ہے، جن میں بلند فشار خون، دل کی بیماریاں، ڈیمنشیا اور ڈپریشن شامل ہیں۔ بالغ افراد کو عموماً رات میں تقریباً سات سے نو گھنٹے سونے کا مشورہ دیا جاتا ہے حالانکہ یہ ہر شخص کیلئے مختلف ہو سکتا ہے۔ پھر بھی ہم میں سے بہت سے لوگ زیادہ تر وقت نیند کی کمی کے ساتھ گزارتے ہیں۔ تقریباً 70 فیصد بالغ افراد ہر رات مطلوبہ نیند حاصل نہیں کرتے۔ تقریباً 75 لاکھ افراد ہر رات پانچ گھنٹوں سے کم سوتے ہیں۔ خراب نیند کی عادات کو درست کرنے کیلئے ماہرین کا کہنا ہے کہ بیڈ ٹائم روٹین دوبارہ قائم کریں۔ معیاری نیند مدافعتی نظام، موڈ، اور مجموعی صحت بہتر بنانے کا سب سے تیز طریقہ ہے اور اس پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوتا۔