دنیا میں قدرتی مظاہر کی ایک طویل فہرست ہے جو انسان کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے، مگر آتش فشاں ان میں سب سے زیادہ خوفناک اور پُرہیبت سمجھے جاتے ہیں۔ زمین کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی آگ جب اچانک لاوے، راکھ اور دھوئیں کی صورت میں باہر آتی ہے تو یہ منظر نہ صرف ہولناک ہوتا ہے بلکہ انسان کو قدرت کی بے پناہ قوت کا بھی احساس دلاتا ہے۔ ہوائی جزیرے پر واقع کیلاویا آتش فشاں (Kilauea Volcano) دنیا کے سب سے زیادہ متحرک اور مشہور آتش فشائوں میں شمار ہوتا ہے۔ حال ہی میں کیلاویا ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک سو فٹ سے بھی زائد بلند لاوا اگلنے کے منظر نے دنیا کو ایک بار پھر حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ آتش فشاں بارہا لاوا اگل چکا ہے اور اپنے اردگرد کے علاقوں کو متاثر کر رہا ہے۔کیلاویا آتش فشاں امریکی ریاست ہوائی کے بگ آئی لینڈ پر واقع ہے اور یہ دنیا کے فعال ترین آتش فشاں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ ماہرین ارضیات کے مطابق کیلاویا گزشتہ کئی صدیوں سے وقفے وقفے سے پھٹتا آ رہا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں زیادہ تر لاوا کا بہاؤ نسبتاً آہستہ رفتار سے ہوتا ہے، تاہم اس کے باوجود یہ اردگرد کی بستیوں، سڑکوں، جنگلات اور زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔تاریخی ریکارڈ کے مطابق کیلاویا کی باقاعدہ آتش فشانی سرگرمی کا آغاز انیسویں صدی کے اوائل میں ہوا، جب 1823ء میں اس کے بڑے پیمانے پر پھٹنے کی اطلاع ملی۔ اس کے بعد سے یہ آتش فشاں متعدد بار متحرک ہو چکا ہے۔ 2018ء میں کیلاویا کے شدید دھماکوں اور لاوے کے بہاؤ نے ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونے پر مجبور کر دیا تھا، جبکہ سیکڑوں عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھیں۔ یہ واقعہ کیلاویا کی تاریخ کا سب سے تباہ کن دور تصور کیا جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلاویا دراصل ایک شیلڈ وولکینو (Shield Volcano) ہے، یعنی ایسا آتش فشاں جس کی شکل شیلڈ کی مانند ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے یہاں دھماکہ خیز آتش فشانی سرگرمی کے بجائے زیادہ تر لاوا آہستہ آہستہ بہتا ہوا دیکھا جاتا ہے۔ تاہم بعض اوقات دباؤ میں اضافے کے باعث دھماکے بھی ہو سکتے ہیں، جو خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔کیلاویا کی سرگرمیوں کا سائنسی مطالعہ امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) اور دیگر تحقیقی ادارے مسلسل کر رہے ہیں۔ جدید آلات کے ذریعے زمین کے اندر ہونے والی حرکات، گیسوں کے اخراج اور درجہ حرارت میں تبدیلیوں کی نگرانی کی جاتی ہے تاکہ کسی بڑے دھماکے کی پیشگی اطلاع دی جا سکے۔ ماہرین کے مطابق آتش فشاں کی پیش گوئی مکمل طور پر ممکن تو نہیں، تاہم مسلسل نگرانی سے خطرات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔کیلاویا آتش فشاں سائنسی تحقیق کیلئے ایک اہم تجربہ گاہ بھی ہے۔ زمین کی ساخت، میگما کے بہاؤ اور آتش فشانی عمل کو سمجھنے میں کیلاویا نے سائنسدانوں کو قیمتی معلومات فراہم کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے محققین ہوائی کا رخ کرتے ہیں تاکہ اس آتش فشاں کا براہِ راست مشاہدہ کر سکیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کیلاویا آتش فشاں سیاحت کے لحاظ سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہر سال لاکھوں سیاح یہاں آتے ہیں۔ حکام کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات کئے جاتے ہیں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق آتش فشانی سرگرمی جہاں ایک طرف تباہی لاتی ہے، وہیں دوسری طرف زمین کی زرخیزی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ لاوا کے ٹھنڈا ہونے کے بعد بننے والی مٹی معدنیات سے بھرپور ہوتی ہے، جو زراعت کیلئے انتہائی موزوں سمجھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہوائی کی زمین دنیا کی زرخیز ترین زمینوں میں شمار ہوتی ہے۔کیلاویا کی تازہ سرگرمیوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسان جدید ٹیکنالوجی کے باوجود قدرت کے سامنے بے بس ہے۔ جب بھی یہ متحرک ہوتا ہے حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی جاتی ہے، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے اور مسلسل آگاہی مہم چلائی جاتی ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کیلاویا آتش فشاں صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ زمین کے اندرونی نظام کا ایک زندہ ثبوت ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارا سیارہ مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے اور انسان کو چاہیے کہ وہ قدرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔ کیلاویا کی ہر نئی سرگرمی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں چھپی طاقت آج بھی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے اور کسی بھی وقت اپنا اظہار کر سکتی ہے۔