آج کا دن
اسپیشل فیچر
خلائی شٹل چیلنجر کا حادثہ
28 جنوری 1986ء کو امریکی خلائی ایجنسی ناسا کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے سانحات میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا جب خلائی شٹل چیلنجر پرواز کے صرف 73 سیکنڈ بعد تباہ ہو گئی۔ اس حادثے میں شٹل میں سوار تمام سات خلا باز ہلاک ہو گئے۔ حادثے کی بنیادی وجہ شٹل کے سالڈ راکٹ بوسٹر میں خرابی تھی۔ اس سانحے نے ناسا کی انتظامی کمزوریوں، دباؤ میں کیے گئے فیصلوں اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کو بے نقاب کر دیا۔چیلنجر حادثے کے بعد امریکی خلائی پروگرام کو تقریباً تین سال کے لیے معطل کر دیا گیا۔
پرائیڈ اینڈ پریجوڈس کی اشاعت
28 جنوری 1813ء کو انگریزی ادب کی تاریخ کا ایک اہم دن آیا جب مشہور ناولPride and Prejudice پہلی بار شائع ہوا۔ اس ناول کی مصنفہ جین آسٹن تھیں جو اس دور میں خواتین مصنفات میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔یہ ناول انیسویں صدی کے برطانوی معاشرے میں طبقاتی فرق، شادی، خواتین کے سماجی کردار اور اخلاقی اقدار پر گہری نظر ڈالتا ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار الزبتھ بینیٹ ایک ذہین، خوددار اور آزاد خیال خاتون ہے جبکہ مسٹر ڈارسی ایک امیر مگر بظاہر مغرور شخص۔ ناول کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کس طرح غرور اور تعصب انسانی تعلقات میں غلط فہمیوں کو جنم دیتے ہیں۔
امریکی کوسٹ گارڈ کا قیام
28 جنوری 1915ء کو امریکہ میں کوسٹ گارڈ کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد امریکی ساحلی حدود کی حفاظت، سمندری قوانین کا نفاذ اور انسانی جانوں کا تحفظ تھا۔کوسٹ گارڈ نہ صرف ایک فوجی ادارہ ہے بلکہ امن کے زمانے میں یہ سول انتظامیہ کے تحت بھی کام کرتا ہے۔ جنگ کے دوران اسے امریکی بحریہ کے ماتحت کر دیا جاتا ہے۔پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکی کوسٹ گارڈ نے اہم کردار ادا کیا۔
لیگو برِک کا پیٹنٹ
28 جنوری 1958ء کو ڈنمارک کی کھلونوں کی کمپنی LEGO نے اپنی مشہور پلاسٹک برِک کا پیٹنٹ حاصل کیا۔ یہ وہی ڈیزائن تھا جس نے بعد میں دنیا بھر کے بچوں اور بڑوں میں تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیا۔لیگو کا آغاز 1932ء میں ہوا تھا مگر 1958ء کا پیٹنٹ اس کمپنی کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس ڈیزائن کی بدولت لیگو کھلونوں کو نہ صرف مضبوط بنایا جا سکا بلکہ انہیں بار بار جوڑنے اور کھولنے کی سہولت بھی حاصل ہوئی۔ لیگو نے بچوں کی تعلیم اور تخلیقی اظہار میں انقلابی کردار ادا کیا۔ دنیا بھر کے سکولوں میں لیگو کو تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ایڈورڈ ششم کی تاج پوشی
28 جنوری 1547ء کو انگلینڈ کے بادشاہ ایڈورڈ ششم کی تاج پوشی کا اعلان کیا گیا۔ وہ مشہور بادشاہ ہنری ہشتم کا بیٹا تھا اور صرف نو سال کی عمر میں تخت پر بیٹھا۔ایڈورڈ ششم کے دورِ حکومت میں انگلینڈ میں مذہبی اصلاحات کو نمایاں فروغ ملا۔ چونکہ وہ خود کم عمر تھااس لیے اصل اختیارات اس کے مشیروں کے ہاتھ میں تھے جنہوں نے چرچ آف انگلینڈ کو مزید پروٹسٹنٹ سمت میں آگے بڑھایا۔ ایڈورڈ ششم کی حکومت چھ سال پر مشتمل تھی اور وہ 15 سال کی عمر میں وفات پا گیا مگر اس کا دور انگلینڈ کی مذہبی اور سیاسی تاریخ میں گہرے اثرات چھوڑ گیا۔