گلو بل فریز: سردی کی عالمی لہر نے زندگی کو کیسے بدل دیا
اسپیشل فیچر
زمین کی تاریخ میں کئی ایسے دور گزرے ہیں جنہوں نے زندگی کے دھارے کو یکسر بدل دیا مگر آج سے تقریباً 44.5کروڑ سال پہلے آنے والا شدید عالمی سرد دور (Global Freeze) ان میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس دور میں پیش آنے والا لیٹ آرڈووِیشین ماس ایکسٹنکشن (Late Ordovician Mass Extinction) زمین کی ابتدائی بڑی معدومیوں میں سے ایک تھا جس نے سمندری حیات کے تقریباً 85 فیصد حصے کو ختم کر دیا۔ تاہم حیران کن طور پر یہی تباہی بعد ازاں ایک نئی ارتقائی کامیابی کی بنیاد بنی جس کے نتیجے میں جبڑے رکھنے والے فقاری جانوروں (Jawed Vertebrates) کا عروج ممکن ہوا۔
جب زمین اچانک منجمد ہو گئی
آرڈووِیشین دور (48.6 تا 44.3 کروڑ سال قبل) کے اختتام پر زمین نے اچانک ایک بڑی موسمی کروٹ لی۔ جنوبی نصف کرے میں واقع عظیم براعظم گونڈوانا پر وسیع گلیشیئر پھیل گئے۔ سمندروں کا پانی برف میں تبدیل ہونے لگا جس کے باعث کم گہرے سمندر سکڑ گئے۔ اس تبدیلی کو ماہرین آئس ہاؤس کلائمیٹ کہتے ہیں۔ اسی دوران سمندری کیمیائی توازن بگڑ گیا، آکسیجن کی کمی اور سلفر کی زیادتی نے سمندری حیات کے لیے حالات مزید جان لیوا بنا دیے نتیجتاً وہ دنیا جس میں زندگی کا بڑا حصہ سمندروں پر مشتمل تھا شدید بحران کا شکار ہو گئی۔
معدومی کے دو بڑے مرحلے
سائنسدانوں کے مطابق یہ معدومی اچانک نہیں آئی بلکہ دو مراحل میں وقوع پذیر ہوئی۔ پہلے مرحلے میں شدید سردی اور گلیشیئروں کے پھیلاؤ نے سمندری مسکن تباہ کر دیے۔ چند ملین سال بعد جب حالات کچھ بہتر ہونے لگے تو دوسرا مرحلہ آیا۔ اس بار برف پگھلی، سمندر کی سطح بلند ہوئی مگر گرم اور کم آکسیجن والے پانی نے اُن انواع کو بھی ختم کر دیا جو سرد ماحول سے مطابقت پیدا کر چکی تھیں۔اس تباہی سے پہلے زمین کی سمندری دنیا حیرت انگیز حد تک متنوع تھی۔ لمپری نماکونوڈونٹ اپنی بڑی بڑی آنکھوں کے ساتھ سمندروں میں تیرتے تھے، ٹرائیلوبائٹس سمندر کی تہہ پر رینگتے دکھائی دیتے تھے جبکہ دیوہیکل سی سکارپینز اور پانچ میٹر لمبے خول والے نوٹیلائڈز سمندروں کے طاقتور شکاری تھے۔ اس ماحول میں جبڑے والے ابتدائی فقاری جانور موجود تو تھے مگر تعداد میں کم اور نسبتاً غیر نمایاں۔
پناہ گاہیں اور ارتقا کا نیا موقع
اوکی ناوا انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی تازہ تحقیق جو Science Advances میں شائع ہوئی بتاتی ہے کہ اس تباہی کے دوران کچھ خطے ریفیو جیا بن گئے یعنی ایسی محفوظ پناہ گاہیں جہاں چند انواع باقی رہ سکیں۔یہاں جبڑے والے فقاری جانوروں کو ایک غیر متوقع برتری حاصل ہوئی۔ تحقیق کے مطابق یہی گروہ ان محدود مگر نسبتاً محفوظ علاقوں میں زندہ رہا اور آہستہ آہستہ تنوع اختیار کرنے لگا۔
200 سالہ فوسل ریکارڈ کا نیا تجزیہ
تحقیق کے لیے سائنسدانوں نے گزشتہ 200 برسوں کے فوسل ڈیٹا کو یکجا کر کے ایک نیا جامع ڈیٹا بیس تیار کیا۔ اس تجزیے سے واضح ہوا کہ معدومی کے بعد اگرچہ فوری طور پر بحالی نہیں ہوئی مگر کئی ملین سالوں میں جبڑے والے فقاری جانوروں کی اقسام میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ تحقیق کے مرکزی مصنف وہائی ہیگی وارا کے مطابق یہ اضافہ براہِ راست معدومی کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا نتیجہ تھا۔
جغرافیہ نے ارتقا کو کیسے شکل دی؟
تحقیق کا ایک اہم پہلو حیاتی جغرافیہ ہے۔ سائنسدانوں نے پہلی بار یہ جانچا کہ معدومی سے پہلے اور بعد میں انواع زمین کے مختلف خطوں میں کیسے پھیلیں۔ خاص طور پر موجودہ جنوبی چین کا خطہ نہایت اہم ثابت ہوا جہاں جبڑے والی ابتدائی مچھلیوں کے مکمل فوسلز ملے ہیں جو جدید شارک سے قریبی تعلق رکھتی ہیں۔ یہی خطہ بعد میں عالمی سطح پر فقاری جانوروں کے پھیلاؤ کا مرکز بنا۔ارتقائی حیاتیات کا ایک پرانا سوال یہ ہے کہ آیا جبڑا کسی نئے ماحولیاتی کردار کے حصول کے لیے بنا یا پہلے ماحول دستیاب تھا اور بعد میں ارتقائی تبدیلی آئی؟اس تحقیق کے مطابق پہلے خالی ماحولیاتی جگہیں پیدا ہوئیں جو معدوم ہونے والی انواع نے چھوڑ دی تھیں۔ ان جگہوں کو پُر کرنے کے عمل میں جبڑے والے جانوروں نے بتدریج ارتقائی برتری حاصل کی۔
مکمل صفایا نہیں ترتیب نو
اہم بات یہ ہے کہ یہ معدومی مکمل صفایا نہیں تھی۔ کئی بغیر جبڑ والے فقاری جانور آئندہ چارکروڑ سال تک سمندروں میں غالب رہے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ جبڑے والے جانور زیادہ مؤثر ثابت ہوئے اور بالآخر غالب آ گئے۔سائنسدان اس عمل کو ڈائیورسٹی ری سیٹ سائیکل کہتے ہیں یعنی قدرتی آفات کے بعد زندگی کا نیا مگر مانوس انداز میں دوبارہ ابھرنا۔
آج کے لیے کیا سبق؟
پروفیسر لارن سالان کے مطابق یہ تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ شدید ماحولیاتی تبدیلیاں صرف تباہی نہیں لاتیں بلکہ بعض اوقات نئی ارتقائی راہیں کھولتی ہیں۔آج جب دنیا ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے تو زمین کی قدیم تاریخ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ زندگی کس طرح بحرانوں سے گزر کر خود کو نئے سانچوں میں ڈھالتی ہے۔