صفر:جو کچھ نہ ہو کر بھی سب کچھ ہے
اسپیشل فیچر
ریاضی کی دنیا میں اگر کسی ایک عدد کو سب سے زیادہ انقلابی قرار دیا جائے تو وہ بلا شبہ صفر ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا ہندسہ ہے جس کی اپنی کوئی مقدار نہیں مگر حقیقت میں یہی ''کچھ نہ ہونے‘‘ کا تصور انسانی تاریخ کی سب سے بڑی فکری جست ثابت ہوا۔ صفر نے نہ صرف حساب کے طریقے بدلے بلکہ سائنس، معیشت، ٹیکنالوجی اور حتیٰ کہ فلسفے پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔
صفر سے پہلے کی دنیا
یہ بات جاننا دلچسپ ہے کہ انسانی تہذیب ہزاروں برس تک صفر کے بغیر چلتی رہی۔ قدیم مصری، یونانی اور رومی گنتی کے نظام رکھتے تھے مگر ان میں صفر کا کوئی باقاعدہ تصور موجود نہیں تھا۔ رومن اعداد میں آج بھی صفر نہیں پایا جاتا، اسی وجہ سے ان کے ذریعے بڑے حساب یا پیچیدہ ریاضیاتی مسائل حل کرنا نہایت مشکل تھا۔ اس دور میں لوگ اشیا کو گنتے تو تھے مگر ''کچھ نہ ہونے‘‘ کو ایک عدد کی شکل میں سمجھنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔
ایک فکری انقلاب
صفر کا باقاعدہ تصور پہلی بار برصغیر میں ابھرا۔ ساتویں صدی میں بھارتی ریاضی دان برہما گپتا نے صفر کو محض ایک خالی جگہ یا علامت نہیں بلکہ ایک مکمل عدد کے طور پر متعارف کرایا۔ انہوں نے صفر کے ساتھ جمع، تفریق اور دیگر حسابی اصول بھی وضع کیے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ریاضی محض گنتی سے نکل کر ایک منظم علم کی صورت اختیار کرنے لگی۔بعد ازاں یہی تصور مسلم دنیاتک پہنچا۔ مسلم ریاضی دانوں خصوصاً الخوارزمی نے ہندوستانی عددی نظام کو اپنایا، اس میں بہتری پیدا کی اور اسے یورپ تک منتقل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں رائج اعداد کو ''ہندوعربی اعداد‘‘ کہا جاتا ہے۔
عددی نظام کی بنیاد
صفر کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس نے مقاماتی عددی نظام کو ممکن بنایا۔ مثال کے طور پر 101 اور 11 میں فرق صرف صفر کی وجہ سے ہے۔ صفر یہ بتاتا ہے کہ کسی خاص مقام پر کوئی قدر موجود نہیں، مگر اس کے باوجود وہ مقام اہم ہے۔ اگر صفر نہ ہو تو نہ ہزار بن سکتے ہیں، نہ لاکھ، نہ کروڑ اور نہ ہی اعشاری نظام وجود میں آ سکتا ہے۔بینکاری، حساب کتاب، تجارت، بجٹ سازی اور قومی معیشتیں سب اسی نظام پر قائم ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ صفر کے بغیر جدید معیشت کا تصور بھی ممکن نہیں۔
مثبت اور منفی اعداد کا توازن
صفر ریاضی میں توازن کا نقطہ ہے۔ یہ مثبت اور منفی اعداد کے درمیان حدِ فاصل قائم کرتا ہے۔ نفع اور نقصان، گرمی اور سردی، سطح سمندر سے اوپر اور نیچے یہ سب تصورات صفر کے بغیر ادھورے ہیں۔ اگر صفر نہ ہوتا تو منفی اعداد محض ایک خیالی تصور رہ جاتے اور الجبرا جیسا اہم علم کبھی پروان نہ چڑھ پاتا۔
مساواتوں اور مسائل کا حل
ریاضی اور طبیعیات کے بیشتر مسائل آخرکار صفر پر آ کر ختم ہوتے ہیں۔ مساواتوں کا حل عموماً یہ تلاش کرنا ہوتا ہے کہ کسی مقدار کی قیمت صفر کب بنتی ہے۔ گراف میں دو لکیروں کا نقطہ تقاطع کسی شے کا رک جانا یا کسی قوت کا ختم ہونا،یہ سب صفر کے ذریعے ہی بیان کیے جاتے ہیں۔
سائنس اور کیلکولس میں صفر
جدید سائنس، خاص طور پر کیلکولس صفر کے تصور کے بغیر نامکمل ہے۔ رفتاریاتبدیلی کی شرح اس بات پر منحصر ہے کہ کوئی مقدار صفر کے کتنے قریب پہنچ رہی ہے۔ طبیعیات کے قوانین، انجینئرنگ کے فارمولے اور خلائی سائنس سب صفر کے گرد گھومتے ہیں۔
ڈیجیٹل دنیا کی بنیاد
آج کی ڈیجیٹل دنیا صفر کے بغیر ناقابلِ تصور ہے۔ کمپیوٹر، موبائل فون، انٹرنیٹ، اے آئی یہ سب بائنری سسٹم پر کام کرتے ہیں جس کی بنیاد دو ہندسوں پر ہے: 0 اور 1۔ صفر یہاں ''آف‘‘ کی علامت ہے جبکہ ایک ''آن‘‘ کو ظاہر کرتا ہے۔ یوں صفر نے جدید ٹیکنالوجی کو جنم دینے میں مرکزی کردار ادا کیا۔صفر محض ریاضی کا عدد نہیں بلکہ ایک گہرا فلسفیانہ تصور بھی ہے۔ یہ ''عدم‘‘، ''خلا‘‘ اور ''خالی پن‘‘ کی نمائندگی کرتا ہے۔ بہت سی تہذیبیں ''کچھ نہ ہونے‘‘ کے تصور سے خوف زدہ تھیں مگر صفر نے انسان کو سکھایا کہ عدم بھی معنی رکھتا ہے اور بعض اوقات ''کچھ نہ ہونا‘‘ ہی سب سے بڑی حقیقت ہوتا ہے۔صفر نے گنتی کو علم میں، حساب کو سائنس میں اور معلومات کو ٹیکنالوجی میں بدل دیا۔ یہ وہ خاموش عدد ہے جس کے بغیر جدید دنیا کا پہیہ ایک لمحے کو بھی نہیں گھوم سکتا۔ بظاہر کچھ نہ ہونے والا یہ ہندسہ درحقیقت انسانی ذہانت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔یقیناً صفر وہ عدد ہے جس نے ''کچھ نہیں‘‘ کو '' سب کچھ ‘‘بنا دیا۔