آگ کیا ہے؟عام سی شے، حیران کن سائنسی عمل
اسپیشل فیچر
آگ کو انسان صدیوں سے جانتا اور استعمال کرتا آ رہا ہے۔ کھانا پکانے سے لے کر صنعت، جنگ اور روزمرہ زندگی میں، آگ انسانی تہذیب کا بنیادی حصہ رہی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جس آگ کو ہم ایک ''چیز‘‘ یا ''شے‘‘ سمجھتے ہیں، سائنسی اعتبار سے وہ کسی ٹھوس، مائع یا گیس کی صورت میں موجود ہی نہیں۔ دراصل آگ کوئی مادہ نہیں بلکہ ایک کیمیائی عمل ہے اور یہی حقیقت اسے عام فہم تصورات سے کہیں زیادہ عجیب بنا دیتی ہے۔
عام طور پر ہم آگ کو شعلوں، روشنی اور حرارت کی شکل میں دیکھتے ہیں اس لیے یہ گمان ہوتا ہے کہ آگ بھی ہوا یا گیس کی طرح کوئی مادہ ہے مگر سائنس کہتی ہے کہ آگ نہ تو مادہ ہے اور نہ ہی اسے کسی برتن میں بند کیا جا سکتا ہے۔ آگ دراصل جلنے کا عمل ہے جسے سائنسی زبان میں Combustion کہا جاتا ہے۔ یہ وہ کیمیائی ردعمل ہے جس میں کوئی ایندھن آکسیجن کے ساتھ تیزی سے مل کر حرارت اور روشنی پیدا کرتا ہے۔
فائر ٹرائینگل؟
سائنسدان آگ کے بارے میں سمجھانے کے لیے ایک سادہ مگر اہم تصور پیش کرتے ہیں جسے فائر ٹرائینگل کہا جاتا ہے۔ اس کے تین بنیادی عناصر ہیں: ایندھن، یعنی وہ شے جو جل سکتی ہو، جیسے لکڑی، کوئلہ، تیل یا گیس۔ آکسیجن ،ہوا میں موجود آکسیجن جلنے کے عمل کے لیے لازمی ہے، اور حرارت یعنی ابتدائی توانائی جو جلنے کے عمل کو شروع کرتی ہے جیسے چنگاری یا شعلہ۔ اگر ان تین میں سے ایک بھی عنصر ختم کر دیا جائے تو آگ بجھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آگ بجھانے کے لیے کبھی پانی، کبھی ریت اور کبھی فوم استعمال کیا جاتا ہے تاکہ آکسیجن یا حرارت کا سلسلہ ٹوٹ جائے۔
شعلے اصل میں کیا ہوتے ہیں؟
ہم جو آگ کے شعلے دیکھتے ہیں وہ دراصل خود آگ نہیں بلکہ جلنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گرم گیسیں ہوتی ہیں۔ جب لکڑی یا موم بتی جلتی ہے تو اس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ، پانی کے بخارات اور دیگر گیسیں بنتی ہیں۔ یہ گیسیں اوپر کی طرف اٹھتی ہیں اور ان میں موجود باریک کاربن ذرات (Soot) جب بہت زیادہ گرم ہو جاتے ہیں تو چمکنے لگتے ہیں۔
یہی چمک ہمیں زرد یا نارنجی شعلے کی صورت میں دکھائی دیتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مکمل جلنے کی صورت میں، جیسے گیس کے چولہے پر شعلہ نیلا ہوتا ہے کیونکہ وہاں کاربن ذرات نہیں بنتے بلکہ گیس صاف طور پر جلتی ہے۔
کیا آگ پلازما ہے؟
کبھی کبھار یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آیا آگ کو پلازما کہا جا سکتا ہے یا نہیں۔ پلازما مادے کی ایک خاص حالت ہوتی ہے جس میں ایٹم اپنے الیکٹران کھو دیتے ہیں۔ عام آگ جیسے لکڑی یا موم بتی کی آگ اتنی گرم نہیں ہوتی کہ اسے مکمل پلازما کہا جائے تاہم بہت زیادہ درجہ حرارت پر مثلاً سورج یا ویلڈنگ آرک میں آگ پلازما کی کچھ خصوصیات ضرور اختیار کر لیتی ہے۔
آگ اور مادہ کا تعلق
آگ خود مادہ نہیں مگر یہ مادے کو تبدیل ضرور کرتی ہے۔ جلنے کے بعد لکڑی راکھ میں بدل جاتی ہے، گیسیں فضا میں شامل ہو جاتی ہیں اور توانائی حرارت و روشنی کی شکل میں خارج ہو جاتی ہے۔ اس طرح آگ دراصل مادے کو ختم نہیں کرتی بلکہ اسے ایک حالت سے دوسری حالت میں بدل دیتی ہے، جو توانائی کے قانونِ تحفظ کی بہترین مثال ہے۔
زمین پر آگ کیوں ممکن ہے؟
آگ جیسی ہمیں زمین پر نظر آتی ہے وہ کائنات میں بہت نایاب ہے۔ اس کی بنیادی وجہ زمین کے ماحول میں آکسیجن کی وافر مقدار ہے جو پودوں اور دیگر جانداروں کی بدولت ممکن ہوئی۔ اگر زمین پر زندگی نہ ہوتی تو شاید آگ بھی وجود میں نہ آتی۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان کہتے ہیں کہ آگ بالواسطہ طور پر زندگی کی مرہونِ منت ہے۔
خلا میں آگ کا عجیب رویہ
خلا میں جہاں کششِ ثقل نہیں ہوتی آگ کا رویہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہاں شعلے اوپر کی طرف نہیں اٹھتے بلکہ گول شکل اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ گرم گیسیں اوپر نہیں جا سکتیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آگ کا ظاہری انداز ماحول پر بہت زیادہ منحصر ہوتا ہے۔آگ جسے ہم ایک عام اور روزمرہ کی چیز سمجھتے ہیں، درحقیقت ایک پیچیدہ اور حیرت انگیز سائنسی عمل ہے۔ یہ نہ کوئی ٹھوس شے ہے نہ مائع اور نہ ہی مکمل گیس بلکہ یہ توانائی کے اخراج کا وہ مظاہرہ ہے جو ایندھن اور آکسیجن کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے۔ آگ کو سمجھنا ہمیں نہ صرف سائنس کے بنیادی اصولوں سے روشناس کراتا ہے بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ کائنات میں بہت سی چیزیں ویسی نہیں ہوتیں جیسی ہمیں نظر آتی ہیں۔