آج تم یاد بے حساب آئے!ماسٹر عبداللہ لازوال دھنوں کے تخلیق کار (1994-1932ء)
اسپیشل فیچر
٭... مایہ ناز موسیقار ماسٹر عبداللہ 1931ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔
٭... صف اوّل کے پاکستانی فلمساز و ہدایتکارانور کمال پاشا کی 1962ء میں ریلیز ہونے والی فلم ''سورج مکھی‘‘سے کریئر کا آغاز کیا۔
٭...1964ء میں فلم ''واہ بھئی واہ‘‘ کی موسیقی ترتیب دی، اس فلم کے نغمات کی مقبولیت نے انہیں بھی شہرت بخشی۔
٭...ان کی موسیقی سے سجی فلم ''ملنگی‘‘ 1965ء میں ریلیز ہوئی جسے شاہکار پنجابی فلم کا درجہ حاصل ہے۔ اس فلم کی زبردست کامیابی میں ماسٹر عبداللہ کے شاندار سنگیت کا بڑا ہاتھ تھا۔ خاص طور پر میڈم نور جہاں کا گیا ہوا نغمہ ''ماہی وے سانوں بھل نہ جانویں‘‘ آج تک اپنی مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
٭... 1968ء میں اردو فلم ''کمانڈر‘‘ کی موسیقی ترتیب دی، جس میں رونا لیلیٰ کا گایا ہوا گیت ''جان من اتنا بتادو محبت، محبت ہے کیا‘‘ بہت مقبول ہوا۔
٭...1968ء میں ہی فلم ''زندگی‘‘ کی موسیقی دی اور اس فلم کے گیتوں نے بہت مقبولیت حاصل کی۔
٭...مشہور پنجابی فلم ''لاڈو‘‘ میں بھی ان کی موسیقی کو بہت پسند کیا گیا اور اس فلم کے گیت کلاسک کا درجہ رکھتے ہیں۔
٭...فلم ''ضدی‘‘ کا خوبصورت میوزک دینے پر انہیں نگار ایوارڈ سے نوازاگیا۔
٭... 1975ء میں اقبال کشمیری کی فلم ''شریف بدمعاش‘‘ کی موسیقی دی، اس فلم کے تمام نغمات سپرہٹ ہوئے۔
٭...ان کی دیگر قابل ذکر فلموں میں ''دنیا پیسے دی، امام دین گوہاویہ، رنگی، وارث، ہرفن مولا، دل ناں دا، کش مکش، بدلہ اور نظام‘‘ شامل ہیں۔
٭...اپنے30 سالہ فلمی کریئر میں 51 فلموں میں میوزک کمپوز کیا ، جن میں 10 اردو اور 41 پنجابی فلمیں شامل تھیں۔
٭...ماسٹر عبداللہ نے زیادہ تر پنجابی فلموں کی موسیقی دی اور ان کے بے شمار گیتوں نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔
٭... وہ صرف پنجابی گیتوں کے ہی نہیں بلکہ اردو نغمات کے بھی لاجواب موسیقار تھے۔
٭... ماسٹر عبداللہ کا اسلوبِ موسیقی سب سے جدا تھا۔ ان کی یہی انفرادیت ان کی سب سے بڑی خوبی بن گئی۔
٭...مشہور گلوکار اسدامانت علی خان کو موسیقار ماسٹر عبداللہ نے بریک دیا تھا، ان کی موسیقی میں اسدنے گیت ''تیرے روپ کا پجاری‘‘گایا تھا۔ اس گیت کی مقبولیت نے ان کا کریئر بنانے میں اہم کردارادا کیا۔
٭...31 جنوری1994ء کو پاکستان کا یہ بے مثل سنگیت کار موت کی وادی میں اتر گیا ۔
ماسٹر عبداللہ کے سپر ہٹ گیٹ
٭:جانے والی چیز کا غم کیا کریں
٭:ماہی وے سانوں بھل نہ جاویں
٭:اج تیرے پنڈ نوں سلام کر چلیاں
٭:کی بھروسہ دم دا اے دنیا فانی
٭:چل چلیے ، دنیا دی اوس نکرے
٭:پھکی پے گئی چن تاریاں دی لوہ
٭:جان من ، اتنا بتا دو ، محبت ہے کیا
٭:میرا محبوب ہے کہ جان بہار آیا ہے
٭:یہ سفر تیرے میرے پیار کا
٭:میرا دلبر ، میرا دلدار توں ویں
٭:سجناں دی دید لئی ، مرنا قبول اے
٭:تیرے پچھے پچھے آنا ، اسان پیار نبھانا
٭:مل گئی ٹھنڈک نگاہوں کو
٭:تیرے پیار دا میں کیتا اقرار
٭:میں کھولاں کہیڑی کتاب نوں
٭:اکھیاں وے راتیں سون نہ دیندیاں
٭:ڈنگ پیار دا سینے تے کھا کے
٭:چوڑا میری بانہہ دا چھنک دا اے
٭:جواب دے ، بے وفا زمانے
٭:امیروں کے خدا ، تو ہی غریبوں کا خدا ہے
٭:جب بھی تیرا نام لیا
٭:شکر دوپہر پپلی دے تھلے
٭:اللہ دی سونہہ ، تو نئیں دسدا
٭:آنکھوں میں اشک ، درد ہے دل میں
٭:کچھ آہیں ہیں ، کچھ آنسو ہیں( زندگی )