خواتین،لڑکیاں اور سائنس
اسپیشل فیچر
عالمی دن کا مقصد اور اہمیت؟
ہر سال 11 فروری کو دنیا بھر میں سائنس میں خواتین اور لڑکیوں کا بین الاقوامی دن منایا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جانب سے متعین اس دن کا مقصد سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی(STEM ) کے شعبوں میں خواتین اور لڑکیوں کی شمولیت کا فروغ اور انہیں مساوی مواقع فراہم کرنا ہے ۔یہ دن اس بات پر زور دیتا ہے کہ خواتین نہ صرف سائنس کی ترقی میں حصہ لے سکتی ہیں بلکہ اختراعات اور نئی سوچ کے ذریعے معاشرتی اور قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔سائنس اور ٹیکنالوجی نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ چاہے وہ طب کے شعبے میں نئی ادویات ہوں، کمپیوٹر سائنس، ماحولیاتی تحقیق یا مصنوعی ذہانت، ہر شعبے میں خواتین کی شمولیت سے نئی اختراعات اور تخلیقی حل سامنے آتے ہیں۔تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جب کسی ٹیم میں صنفی تنوع ہوتا ہے تو مسائل کے حل میں نئے زاویے اور خیالات آتے ہیں۔ لیکن دنیا کے کئی حصوں میں خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں، خواتین اور لڑکیوں کو اب بھی STEM کے شعبوں میں محدود مواقع ملتے ہیں جس کی وجہ معاشرتی روایات، تعلیم میں عدم مساوات اور پیشہ ورانہ رکاوٹیں ہیں۔
خواتین سائنسدان، چیلنجز اور کامیابیاں
پاکستان میں خواتین کی تعلیم اور سائنس میں شمولیت میں نمایاں بہتری آئی ہے لیکن اب بھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ شہروں میں یونیورسٹیز میں لڑکیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور وہ فزکس، کیمسٹری، بائیالوجی، کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ پاکستان کی خواتین سائنسدانوں نے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر تحقیق اور اختراعات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پاکستان میں خواتین سائنسدانوں کے لیے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں جیسا کہ خواتین کے لیے خصوصی تعلیمی وظائف،نجی یونیورسٹیز کے پروگرامز، STEM میں تربیت اور تحقیق کے مواقع،غیر سرکاری تنظیموں کی ورکشاپس، لڑکیوں میں سائنس میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے کیمپس اور سیمینارز۔ ان اقدامات کا مقصد لڑکیوں اور خواتین کو نہ صرف تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے بلکہ انہیں اپنے کیریئر میں آگے بڑھنے کی ترغیب دینا بھی ہے۔
موجودہ چیلنجز
پاکستان میں اب بھی کئی مسائل خواتین کی سائنس میں شمولیت میں رکاوٹ ہیں۔ مثال کے طور پردیہی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم محدود ہے، معاشرتی قدریں اور روایات خواتین کے پیشہ ورانہ کردار کو محدود کرتی ہیںSTEM شعبوں میں لڑکیوں کی نمائندگی ابھی بھی کم ہے ۔ان چیلنجز کا حل والدین اور معاشرے کی آگاہی، تعلیمی اصلاحات اور لڑکیوں کے لیے مواقع پیدا کرنا ہے۔
عالمی دن کا پیغام اور اثر
سائنس میں خواتین اور لڑکیوں کا بین الاقوامی دن کا مقصد نوجوان لڑکیوں میں اعتماد پیدا کرنا اور انہیں یہ باور کرانا ہے کہ وہ سائنس میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔دنیا بھر میں ہر سال سیمینارز، ورکشاپس، نمائشیں اور پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ لڑکیاں کامیاب خواتین سائنسدانوں سے سیکھ سکیں۔ پاکستان میں بھی کئی یونیورسٹیز اور تعلیمی ادارے اس دن کو مناتے ہیں اور طالبات کی کامیابیوں کو نمایاں کرتے ہیں۔
پاکستان میں مستقبل کے مواقع
پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم، تحقیقی مواقع اور STEM میں کیریئر بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔اس مقصد کے لیے سکولوں اور کالجز میں خصوصی پروگرامز،سائنس میلے اور نمائشیں،نوجوان سائنسدانوں کے لیے انعامات اور سپورٹ سے سائنس میں نئے آئیڈیاز کی حوصلہ افزائی ہو گی اور مضبوط، ترقی یافتہ اور مساوی معاشرہ قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ خواتین اور لڑکیاں سائنس میں نہ صرف حصہ دار ہیں بلکہ مستقبل کی تخلیق میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ پاکستان میں نوجوان لڑکیوں کو سپورٹ اور تربیت دے کر ہم ایک روشن، ترقی یافتہ اور مساوی معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔11 فروری ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ خواتین سائنسدانوں کی محنت اور کامیابیوں کو تسلیم کرنا اور آئندہ نسلوں کے لیے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔