فیراری کی نئی الیکٹرک کار ’’لوسے‘‘
اسپیشل فیچر
ایپل کار کے خواب کی عملی جھلک
دنیا کی آٹو موبائل صنعت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں رفتار اور طاقت کے ساتھ ساتھ پائیداری، ذہانت اور ڈیزائن کی نفاست بھی فیصلہ کن اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ اسی بدلتے ہوئے منظرنامے میں ''فیراری‘‘ (Ferrari) نے اپنی پہلی مکمل الیکٹرک سپورٹس کار متعارف کرانے کی تیاری کر لی ہے، جسے ''فیراری لوسے‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ''لوسے‘‘ یعنی روشنی اور بظاہر یہ نام محض علامتی نہیں بلکہ ایک نئے عہد کی علامت ہے، جہاں روایتی انجن کی گرج کے بجائے برقی طاقت کی خاموش رفتار مستقبل کی سمت متعین کرے گی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس گاڑی کے ڈیزائن میں ٹیکنالوجی کی دنیا کی ایک عظیم شخصیت کا تخلیقی لمس شامل ہے۔ سر جونی آئیو ( Sir Jony Ive) جنہیں جدید صنعتی ڈیزائن کا معمار سمجھا جاتا ہے، اس منصوبے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہی ڈیزائنر جنہوں نے ''ایپل‘‘ (Apple) کی معروف مصنوعات کو نئی بصری شناخت دی اور سادگی کو جدت کا استعارہ بنا دیا۔ ان کی سوچ ہمیشہ اس اصول کے گرد گھومتی رہی ہے کہ بہترین ڈیزائن وہ ہے جو کم سے کم اجزا کے ساتھ زیادہ سے زیادہ فعالیت فراہم کرے۔ یہی فلسفہ اب ایک اطالوی سپر کار کی دنیا میں داخل ہو رہا ہے۔ طویل انتظار کے بعد متوقع ایپل کار اگرچہ حقیقت کا روپ نہ دھار سکی، تاہم ٹیکنالوجی کی دنیا کے اس خواب کا عکس اب فیراری (Ferrari) کی پہلی مکمل الیکٹرک سپورٹس کار ''فیراری لوسے‘‘ میں دکھائی دینے والا ہے۔
ڈیزائن میں ایپل کی جھلک
اس شاندار گاڑی کے اندرونی ڈیزائن کے پیچھے وہی تخلیقی ذہن کارفرما ہے جس نے ''ایپل‘‘ (Apple) کی معروف مصنوعات کو نئی شناخت دی یعنی سر جانی آئیو ( Sir Jony Ive)۔ میک سے لے کر آئی فون تک، سادگی، نفاست اور فعالیت کو یکجا کرنا اُن کا امتیاز رہا ہے۔ یہی فلسفہ ''فیراری لوسے‘‘ کے کیبن میں بھی نمایاں ہے، جہاں ایلومینیم کے باریک تراشے گئے حصے اور شیشے کی نفیس تکمیل ایک پرتعیش فضا پیدا کرتے ہیں۔
سر آئیو کے متعارف کردہ ''یونی باڈی‘‘ ڈیزائن کی یاد دلاتا ہوا اندرونی ڈھانچہ ایک مربوط، مضبوط اور ہم آہنگ تاثر دیتا ہے۔ کنٹرول پینل اور شفٹر میں استعمال ہونے والا مضبوط شیشہ جدید اسمارٹ فونز کی ٹیکنالوجی کی بازگشت سناتا ہے، جس سے گاڑی کا اندرونی حصہ مستقبل کی جھلک پیش کرتا ہے۔
فعالیت اور تحفظ کا امتزاج
فیراری کے مطابق گاڑی کے ہر جزو کو صارف کے تجربے اور فعالیت کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اسپیڈومیٹر اور دیگر آلات پر مشتمل ڈیش بورڈ اسٹیئرنگ وہیل کے ساتھ مربوط ہے، تاکہ موڑ کاٹتے وقت بھی ڈرائیور کی نظر ہمیشہ اہم معلومات پر مرکوز رہے۔ بظاہر اینالاگ دکھائی دینے والے ڈسپلے درحقیقت باریک OLED اسکرینز ہیں جو شفاف اور روشن گرافکس فراہم کرتے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ جہاں جدید الیکٹرک گاڑیاں بڑے ٹچ اسکرینز پر انحصار کرتی ہیں، وہیں ''فیراری لوسے‘‘ اس رجحان سے ہٹ کر متوازن راستہ اختیار کرتی ہے۔ ایک چھوٹا، آئی پیڈ نما ڈسپلے بال ساکٹ پر نصب ہے، جو ڈرائیور یا مسافر کی جانب جھکایا جا سکتا ہے۔ اسے پام ریسٹ کے ساتھ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ ڈرائیور بغیر نگاہ ہٹائے کنٹرولز استعمال کر سکے۔ یوں ''کگنیٹو لوڈ‘‘ کم ہوتا ہے اور توجہ سڑک پر برقرار رہتی ہے۔
حالیہ مطالعات نے بھی اشارہ کیا ہے کہ بڑے ٹچ اسکرین انٹرفیس ڈرائیونگ کے دوران توجہ منتشر کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں فیراری کا یہ فیصلہ نہ صرف ڈیزائن کا جرات مندانہ قدم ہے بلکہ ممکنہ طور پر حفاظتی اعتبار سے بھی اہم پیش رفت ہے۔
فزیکل کنٹرولز کی واپسی
سر آئیو کے ایپل دور میں بٹنوں کی کمی کو جدت کی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر ''فیراری لوسے‘‘ اس کے برعکس ایک نئی سمت دکھاتی ہے۔ اسٹیئرنگ وہیل اور کنٹرول پینل پر بڑے دھاتی ڈائلز، سوئچ اور بٹن نمایاں ہیں۔ حتیٰ کہ ریئر ویو مرر کے قریب اوور ہیڈ پینل میں فوگ لائٹس، ڈی مسٹرز اور لانچ کنٹرولز کیلئے علیحدہ سوئچ نصب ہیں۔ یہ سب کچھ ڈرائیونگ کے عملی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔
حتمی رونمائی کا انتظار
فی الحال فیراری نے انجن، بیٹری کی گنجائش اور بیرونی ڈیزائن سے متعلق تفصیلات کو راز میں رکھا ہوا ہے۔ تاہم ابتدائی جھلک سے اندازہ ہوتا ہے کہ ''فیراری لوسے‘‘ محض ایک الیکٹرک گاڑی نہیں بلکہ ڈیزائن، ٹیکنالوجی اور کارکردگی کے امتزاج کی نئی تعریف ثابت ہو سکتی ہے۔
موٹرنگ اور ایپل کے شائقین اب مئی کی متوقع رونمائی کے منتظر ہیں، جب یہ ''روشنی‘‘ واقعی سڑکوں پر اترے گی اور دیکھا جائے گا کہ کیا یہ خواب حقیقت سے بھی زیادہ دلکش ثابت ہوتا ہے۔