آج تم یاد بے حساب آئے!مرزا اسد اللہ غالب اُردو شاعری کا اہم ترین نام(1869-1797)
اسپیشل فیچر
٭... 27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔اصل نام اسد اللہ بیگ خان تھا۔جہانِ سخن میں غالب کے تخلص سے مشہور ہوئے۔ آبا ؤ اجداد کا پیشہ سپہ گری تھا۔
٭... لڑکپن سے ہی شعر کہنا شروع کر دیئے تھے۔
٭... شادی کے بعد غالب دہلی منتقل ہوگئے، جہاں انھوں نے ایک ایرانی باشندے عبد الصمد سے فارسی کی تعلیم حاصل کی۔
٭...غالب اردو اور فارسی میں شعر کہتے تھے۔
٭...نقادوں کے مطابق غالب پہلے شاعر تھے جنھوں نے اردو شاعری کو ذہن عطا کیا۔
٭...1855ء میں بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے دربار میں استاد مقرر ہوئے۔ دربار سے نجم الدولہ، دبیرُ الملک اور نظام جنگ کے خطابات عطا ہوئے۔
٭...غالب نے سہل ممتنع اور سادہ و رواں بحروں میں مضامین کو اس خوبی اور عمدگی سے باندھا کہ آج بھی ہر خاص و عام میں مقبول ہیں۔
٭... شاعری کے ساتھ نثر نگاری میں نئے اسلوب کو متعارف کروایا۔ ان کے خطوط ان کی نثر نگاری کا عمدہ نمونہ اور مثال ہیں۔
٭...مرزا غالب پر ہندوستان اور پاکستان میں کئی فلمیں بھی بنائی گئیں اور ٹی وی ڈرامے بھی۔
٭...غالب کی اردو اور فارسی غزلیات کی تشریح و توضیح پر کم و بیش 150 سے زائد کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔
٭...15 فروری 1869ء کو دہلی میں وفات پائی۔
منتخب اشعار
عشق نے غالب نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
............
پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا
............
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
............
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے
............
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
............
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
............
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
............
عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب
کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
٭٭٭
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
٭٭٭
وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں