کامیابی کی دوڑ اور بڑھتا ہوا حسد
اسپیشل فیچر
انسانی معاشرہ بظاہر ترقی، خوشحالی اور باہمی تعاون کی بنیاد پر قائم دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے باطن میں بعض منفی جذبات بھی پائے جاتے ہیں جو فرد اور سماج دونوں کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ انہی میں سے ایک خطرناک جذبہ حسد ہے، جو دل کی گہرائیوں میں جنم لے کر رفتہ رفتہ انسان کے سکون، تعلقات اور اخلاقی قدروں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ حسد وہ کیفیت ہے جس میں انسان دوسروں کی نعمت، کامیابی یا خوش حالی کو دیکھ کر دل میں تنگی محسوس کرتا اور اس کے زوال کی تمنا کرنے لگتا ہے۔
حسد دراصل وہ کیفیت ہے جس میں انسان دوسروں کی کامیابی یا خوش حالی دیکھ کر دل میں تنگی محسوس کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ نعمت اس سے چھن جائے۔ یہ جذبہ بظاہر معمولی دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اثرات نہایت گہرے اور تباہ کن ہوتے ہیں۔ جب معاشرے میں کامیابی کا معیار صرف دولت، شہرت اور ظاہری چمک دمک بن جائے تو لوگ اپنی ذات کا موازنہ دوسروں سے کرنے لگتے ہیں۔ یہی تقابل رفتہ رفتہ احساسِ کمتری اور پھر حسد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید ہوا دی ہے۔ لوگ اپنی زندگی کے بہترین لمحات، کامیابیاں اور آسائشیں نمایاں انداز میں پیش کرتے ہیں، جبکہ مشکلات اور ناکامیاں پس منظر میں رہتی ہیں۔ نتیجتاً دیکھنے والا اپنی عام سی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ ہر انسان کا سفر مختلف ہے اور ہر کامیابی کے پیچھے ایک طویل جدوجہد پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب یہ شعور کمزور پڑتا ہے تو دل میں حسد کے بیج اگنے لگتے ہیں۔
حسد نہ صرف دوسروں کیلئے نقصان دہ ہے بلکہ حسد کرنے والے کیلئے بھی ایک اندرونی عذاب ہے۔ یہ دل کا سکون چھین لیتا ہے، ذہنی دباؤ میں اضافہ کرتا ہے اور انسان کو مسلسل بے چینی میں مبتلا رکھتا ہے۔ حسد کرنے والا کبھی مطمئن نہیں رہتا، کیونکہ اسے ہر جگہ کوئی نہ کوئی خود سے آگے نظر آتا ہے۔ یوں وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں استعمال کرنے کے بجائے منفی خیالات میں الجھا رہتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس بڑھتے ہوئے حسد کا علاج کیا ہے؟ سب سے پہلے ہمیں کامیابی کے مفہوم کو درست کرنا ہوگا۔ کامیابی صرف دولت یا شہرت کا نام نہیں، بلکہ کردار کی بلندی، اطمینانِ قلب اور معاشرے کیلئے مفید ہونا بھی کامیابی ہے۔ جب ہم اپنی توجہ دوسروں سے ہٹا کر اپنی ذات کی بہتری پر مرکوز کریں گے تو حسد کی گنجائش کم ہو جائے گی۔
شکر گزاری بھی حسد کا مؤثر علاج ہے۔ جو شخص اپنی نعمتوں پر غور کرتا اور ان پر شکر ادا کرتا ہے، وہ دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر جلنے کے بجائے ان کے لیے خوش ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح مثبت سوچ، خود اعتمادی اور محنت پر یقین انسان کو اندر سے مضبوط بناتے ہیں۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ ہر کسی کا نصیب اور وقت مختلف ہے تو وہ تقابل کے جال سے نکل آتا ہے۔
والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری بھی اہم ہے کہ وہ بچوں کو صرف اوّل آنے یا دوسروں سے آگے بڑھنے کی تعلیم نہ دیں، بلکہ اخلاق، برداشت اور دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونے کا درس بھی دیں۔ اگر معاشرے میں تعاون اور ہمدردی کی فضا قائم ہو تو کامیابی کی دوڑ صحت مند مقابلے میں بدل سکتی ہے۔