سمندروں کی نگرانی مصنوعی ذہانت کے سپرد
اسپیشل فیچر
نئی ٹیکنالوجی''فی یو 1.0‘‘ سے موسمیاتی تبدیلی کی بروقت پیشگوئی ممکن
مصنوعی ذہانت کے میدان میں چین نے ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اسمارٹ سمندری پیش گوئی کیلئے ایک جدید اور انقلابی اے آئی ماڈل متعارف کرا دیا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف سائنسی و تکنیکی دنیا میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے بلکہ عالمی سطح پر ماحولیاتی تحفظ، سمندری وسائل کے بہتر استعمال اور قدرتی آفات سے بروقت بچاؤ کے امکانات کو بھی نئی جہت فراہم کرتی ہے۔ سمندر، جو زمین کے موسمی نظام میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، اب جدید ڈیجیٹل ذہانت کی مدد سے زیادہ درست اور قابلِ اعتماد انداز میں سمجھے اور پیش گوئی کیے جا سکیں گے۔ یہ ماڈل موسمیاتی تبدیلی، سمندری طوفانوں، لہروں اور درجہ حرارت میں آنے والی تبدیلیوں کی پیشگی اطلاع دے کر انسانی جان و مال کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں چین نے ایک اور نمایاں سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ سمندری تحقیق اور موسمی پیش گوئی کے شعبے میں ایک جدید اور انقلابی مصنوعی ذہانت ماڈل ''فی یو۔1.0‘‘ (Feiyu-1.0) کا باضابطہ اجرا جنوبی چین کے شہر گوانگژو میں کیا گیا، جسے ماہرین مستقبل کی سمندری پیش گوئی کا نیا رخ قرار دے رہے ہیں۔ یہ ماڈل نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ماحولیاتی تحفظ، قدرتی آفات سے نمٹنے اور سمندری وسائل کے مؤثر استعمال کے حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
''فی یو۔1.0‘‘ دراصل ایک دو طرفہ مربوط ہواو سمندر (Air-Sea Coupled) مصنوعی ذہانت ماڈل ہے، جسے خصوصی طور پر بحیرہ جنوبی چین کی جغرافیائی، موسمی اور سمندری خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ اس ماڈل کی تیاری میں چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے تحت کام کرنے والے ساؤتھ چائنا سی انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانولوجی اور چائنا یونیورسٹی آف پیٹرولیم (ایسٹ چائنا) نے مشترکہ طور پر تحقیق اور جدت کا مظاہرہ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، روایتی سمندری پیش گوئی کے ماڈلز عموماً پیچیدہ ڈیٹا، محدود رفتار اور کم درستگی جیسے مسائل کا شکار رہے ہیں، تاہم ''فی یو۔1.0‘‘ ان تمام کمزوریوں پر قابو پانے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ اس ماڈل میں جدید مصنوعی ذہانت الگورتھمز کو استعمال کرتے ہوئے سمندر اور فضا کے باہمی تعلق کو بیک وقت سمجھنے اور پیش گوئی کرنے کی صلاحیت پیدا کی گئی ہے، جو اسے دیگر ماڈلز سے ممتاز بناتی ہے۔
''فی یو۔1.0‘‘ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی یہ صلاحیت ہے کہ یہ سمندر کی سطح کے درجہ حرارت، پانی میں نمکیات، سمندری دھاراؤں اور بڑے پیمانے پر سمندری گردش کو نہایت درست انداز میں ظاہر کر سکتا ہے۔ یہی عوامل سمندری موسم، طوفانوں اور ماحولیاتی نظام پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ماڈل کی پیش گوئیاں نہ صرف زیادہ درست ہیں بلکہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رفتاری سے دستیاب ہو سکتی ہیں۔
اس جدید اے آئی ماڈل کے استعمال کے امکانات انتہائی وسیع ہیں۔ موسمیات کے شعبے میں فی یو۔1.0 طوفانوں، سمندری آندھیوں اور شدید موسمی تبدیلیوں کی بروقت پیش گوئی کر کے قدرتی آفات سے بچاؤ کے اقدامات کو مؤثر بنا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے ساحلی علاقوں میں رہنے والے افراد کو پیشگی خبردار کیا جا سکتا ہے، جس سے انسانی جانوں اور املاک کے نقصان کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ماہی گیری کے شعبے میں بھی یہ ماڈل ایک نعمت ثابت ہو سکتا ہے۔ ''فی یو۔1.0‘‘ ماہی گیروں کو محفوظ سمندری حالات کے بارے میں درست معلومات فراہم کر کے ان کی روزی روٹی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سمندری حادثات کے خطرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اسی طرح بحری جہاز رانی اور سمندری تجارت کیلئے بھی یہ ماڈل راستوں کی حفاظت اور موسمی خطرات سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ''فی یو۔1.0‘‘ کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ ماڈل پانی کے درجہ حرارت اور نمکیات جیسے عوامل کی نقل (Simulation) کر کے مرجانی چٹانوں (Coral Reefs) اور ماحولیاتی نظاموں پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے بروقت انتباہات جاری کر کے ان قیمتی قدرتی وسائل کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات ممکن ہو سکیں گے، جو موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہیں۔
''فی یو۔ 1.0‘‘ کی ایک اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ یہ متحرک سمندری علمی نقشے (Dynamic Ocean Knowledge Graphs) تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ نقشے نہ صرف ماہرین اور محققین کیلئے مفید ہیں بلکہ عام لوگوں کو بھی سمندروں کے پیچیدہ نظام کو آسان انداز میں سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح یہ ماڈل سائنسی تحقیق کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
افتتاحی تقریب کے موقع پر موجود ماہرین اور سائنس دانوں نے اس بات پر زور دیا کہ ''فی یو۔1.0‘‘ محض ایک تکنیکی ایجاد نہیں بلکہ ذہین سمندری پیش گوئی کا ایک نیا تصور ہے۔ ان کے مطابق یہ ماڈل مستقبل میں عالمی سطح پر سمندری تحقیق، موسمیاتی مطالعات اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے، جس سے بین الاقوامی تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی، سمندری آلودگی اور قدرتی آفات جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں ''فی یو۔1.0‘‘ جیسے جدید اے آئی ماڈلز نہ صرف سائنسی ترقی کی علامت ہیں بلکہ انسانیت کیلئے ایک امید کی کرن بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ چین کی یہ پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو اگر درست سمت میں استعمال کیا جائے تو قدرتی نظام کو سمجھنے اور محفوظ بنانے میں انقلابی کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ ''فی یو۔1.0‘‘ سمندری سائنس اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج کی ایک شاندار مثال ہے، جو مستقبل میں نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کے لیے سمندروں کے بہتر، محفوظ اور پائیدار استعمال کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔