آج کا دن
اسپیشل فیچر
برونو کی سزائے موت
17 فروری 1600ء کو اطالوی فلسفی، ریاضی دان اور مفکر جیورڈانو برونو کو روم کے مقام کیمپو دی فیوری میں زندہ جلا دیا گیا۔ برونو نشاۃِ ثانیہ کے ان مفکرین میں شامل تھا جنہوں نے کائنات کے بارے میں روایتی کلیسائی نظریات کو چیلنج کیا۔ وہ نکولس کوپرنیکس کے نظریہ شمسی مرکزیت کا حامی تھا اور یہ کہتا تھا کہ کائنات لامحدود ہے اور ستارے بھی اپنے اپنے نظامِ شمسی رکھتے ہیں۔ اس زمانے میں یہ خیالات کیتھولک چرچ کیلئے ناقابلِ قبول تھے۔ اسے برسوں قید رکھا گیا اور اپنے نظریات سے رجوع کرنے کا موقع دیا گیا مگر اس نے پسپائی اختیار نہ کی۔ بالآخر رومن انکوائزیشن کی عدالت نے اسے سزائے موت سنائی۔
جیفرسن صدر منتخب
17 فروری 1801ء کو امریکی ایوانِ نمائندگان نے طویل سیاسی تعطل کے بعد تھامس جیفرسن کو امریکہ کا تیسرا صدر منتخب کیا۔ 1800ء کے صدارتی انتخاب میں جیفرسن اور ان کے ساتھی امیدوار آرون بر کے ووٹ برابر ہو گئے تھے کیونکہ اس دور کے انتخابی نظام میں صدر اور نائب صدر کیلئے الگ الگ ووٹنگ کا طریقہ موجود نہیں تھا نتیجتاً فیصلہ ایوانِ نمائندگان کو کرنا پڑا۔ ایوان میں 35 مرتبہ ووٹنگ ہوئی مگر کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ بالآخر 36ویں بیلٹ پر جیفرسن کو اکثریت حاصل ہوئی۔ یہ انتقالِ اقتدار امریکی تاریخ میں اس لیے اہم ہے کہ پہلی مرتبہ ایک سیاسی جماعت سے دوسری جماعت کو پُرامن طریقے سے اقتدار منتقل ہوا۔
پہلی آبدوز کارروائی
17 فروری 1864ء کو امریکی خانہ جنگی کے دوران کنفیڈریٹ ریاستوں کی آبدوز H. L. Hunley نے یونین بحریہ کے جہازUSS Housatonic کو جنوبی کیرولائنا کے ساحل کے قریب تباہ کر دیا۔ یہ تاریخ میں پہلی بار تھا کہ کسی آبدوز نے جنگ کے دوران دشمن کے جہاز کو کامیابی سے ڈبویا۔ تاہم خود ہنلی بھی اس کارروائی کے فوراً بعد سمندر میں ڈوب گئی اور اس کا پورا عملہ ہلاک ہو گیا۔اس واقعے نے دنیا بھر کی بحری افواج کو آبدوزی جنگی حکمتِ عملی پر غور کرنے پر مجبور کیا۔
نیوز ویک کا اجرا
17 فروری 1933ء کو امریکہ میں ہفت روزہ نیوزویک کا پہلا شمارہ شائع ہوا۔ اس کی بنیاد تھامس جے سی مارٹن نے رکھی۔ ابتدا میں اس کا مقصد قارئین کو ہفتہ بھر کی اہم قومی و بین الاقوامی خبروں کا جامع خلاصہ فراہم کرنا تھا۔ جلد ہی یہ میگزین امریکی میڈیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کرنے لگا۔نیوزویک نے بیسویں صدی کے اہم واقعات جیسے دوسری عالمی جنگ، سرد جنگ، ویتنام جنگ اور سول رائٹس موومنٹ کی رپورٹنگ میں فعال کردار ادا کیا۔ اس کے تحقیقی مضامین اور عالمی تجزیے اسے ٹائم میگزین کا بڑا حریف بناتے رہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی اشاعت پرنٹ سے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی طرف منتقل ہوگئی۔
کوسووکی آزادی
17 فروری 2008ء کو کوسوو کی اسمبلی نے سربیا سے آزادی کا اعلان کیا۔ یہ اقدام بلقان کی طویل نسلی و سیاسی کشمکش کے پس منظر میں سامنے آیا۔ 1990ء کی دہائی میں یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد کوسوو میں البانوی اکثریت اور سرب اقلیت کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا تھا۔1998-99ء میں مسلح تصادم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بعد نیٹو نے مداخلت کی اور اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں انتظام قائم ہوا۔تقریباً ایک دہائی بعد کوسوو کی قیادت نے یکطرفہ طور پر آزادی کا اعلان کیا۔