مشینیں آجر بن گئیں

مشینیں آجر بن گئیں

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد علی


مصنوعی ذہانت انسانوں کو ملازمت دینے لگیں
سائنسی جریدے ''Nature‘‘میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ نے مصنوعی ذہانت (AI) اور انسانی محنت کے تعلق کے بارے میں ایک نئی اور چونکا دینے والی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب ایسے آن لائن پلیٹ فارمز سامنے آ رہے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت کے خودکار ایجنٹس حقیقی انسانوں کو مختلف کاموں کیلئے ''ہائر‘‘ کر رہے ہیں۔ یہ رجحان ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے جہاں مشینیں نہ صرف انسانوں کیلئے کام کر رہی ہیں بلکہ خود بھی انسانوں سے کام لے رہی ہیں۔
اس رپورٹ میں خاص طور پر ایک ویب سائٹ RentAHuman.ai کا ذکر کیا گیا ہے جس کا تصور ہی غیر معمولی ہے۔ یہ پلیٹ فارم بنیادی طور پر اس خیال پر مبنی ہے کہ چونکہ مصنوعی ذہانت کا وجود ڈیجیٹل دنیا تک محدود ہے اس لیے وہ ایسے کام انجام نہیں دے سکتی جو جسمانی دنیا میں انسانی موجودگی کے متقاضی ہوں؛ چنانچہ AI ایجنٹس اس پلیٹ فارم کے ذریعے انسانوں کو مخصوص کاموں کیلئے منتخب کرتے ہیں۔ ویب سائٹ کا مرکزی پیغام بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ روبوٹس کو آپ کے جسم کی ضرورت ہے۔ابتدائی طور پر یہ کام سادہ نوعیت کے ہوتے ہیں مثلاً کسی مخصوص مقام پر جا کر ماحول کا مشاہدہ کرنا، کسی ریستوران میں کھانا چکھ کر رائے دینا، یا کسی پارک میں کبوتروں کی گنتی کرنا۔ بظاہر یہ معمولی سرگرمیاں لگتی ہیں لیکن ان کے پیچھے اصل مقصد یہ ہے کہ AI سسٹمز کو حقیقی دنیا کے بارے میں ایسا ڈیٹا فراہم کیا جائے جو آن لائن دستیاب نہیں۔
مصنوعی ذہانت لاکھوں ویب سائٹس اور ڈیٹا بیس تک رسائی رکھتی ہے لیکن وہ سڑک کی تازہ صورتحال، کسی دکان کے اصل ماحول یا کسی عمارت کے موجودہ حالات کا خود مشاہدہ نہیں کر سکتی۔اس پلیٹ فارم پر حیران کن طور پر بڑی تعداد میں افراد نے اپنے پروفائلز بنا رکھے ہیں۔ ان میں عام فری لانسرز کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں کے ماہرین اور سائنسدان بھی شامل ہیں۔ کئی افراد نے بائیولوجی، فزکس، کمپیوٹر سائنس اور دیگر سائنسی شعبوں میں اپنی مہارت درج کی ہے۔ اگرچہ اب تک زیادہ تر کام عمومی نوعیت کے ہیں لیکن یہ امکان موجود ہے کہ مستقبل میں AI ایجنٹس پیچیدہ تحقیقی یا تجرباتی نوعیت کے کام بھی انسانوں کو سونپ سکتے ہیں۔
یہ صورتحال کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل میں مصنوعی ذہانت ایک باقاعدہ ایمپلائر کا کردار ادا کرے گی؟ اگر کوئی خودکار نظام کسی انسان کو کام تفویض کرتا ہے، اس کی کارکردگی جانچتا ہے اور ادائیگی کرتا ہے تو اس تعلق کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا AI کو ایک معاشی اکائی سمجھا جائے گا یا اس کے پیچھے موجود کمپنی ذمہ دار ہو گی؟ دوسرا اہم پہلو روزگار کے مستقبل سے متعلق ہے۔ ایک عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ AI انسانی ملازمتوں کو ختم کر دے گی، لیکن اس نئے رجحان سے ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ یہاں مشینیں انسانوں کی جگہ لینے کے بجائے انسانوں پر انحصار کر رہی ہیں، گویا ایک نئی قسم کی ہائبرڈ معیشت وجود میں آ رہی ہے جہاں ڈیجیٹل ذہانت اور انسانی جسمانی صلاحیتیں مل کر کام کریں گی۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے پلیٹ فارمز کم اجرت اور غیر مستحکم کام کے نئے مواقع پیدا کریں جس سے محنت کشوں کے حقوق کا مسئلہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔
سائنسی تحقیق کے تناظر میں بھی اس رجحان کے اثرات اہم ہیں۔ اگر AI ایجنٹس تجرباتی ڈیٹا جمع کرنے کیلئے انسانوں کی خدمات حاصل کریں تو تحقیق کی رفتار تیز ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر کسی ماحولیاتی مطالعے کیلئے مختلف شہروں میں درجہ حرارت یا آلودگی کی پیمائش درکار ہو تو AI ایک ہی وقت میں سینکڑوں افراد کو مختلف مقامات پر بھیج کر معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن یہاں ڈیٹا کے معیار، شفافیت اور تصدیق کے مسائل بھی پیدا ہوں گے۔ کیا ہر فرد درست معلومات فراہم کرے گا؟ کیا AI ان نتائج کی سائنسی جانچ کر سکے گا؟اخلاقی پہلو بھی کم اہم نہیں۔ اگر AI ایجنٹس انسانی فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگیں یا لوگوں کو مخصوص نظریاتی یا تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کریں تو یہ ایک نیا خطرہ بن سکتا ہے۔ مزید برآں، اگر انسان یہ نہ جانتے ہوں کہ انہیں کام دینے والا دراصل ایک خودکار نظام ہے تو شفافیت کا مسئلہ پیدا ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے پلیٹ فارمز واضح کریں کہ کام کے پیچھے کون سی کمپنی یا ادارہ ہے اور ڈیٹا کس مقصد کیلئے استعمال ہوگا۔قانونی ڈھانچہ بھی اس نئی حقیقت کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ موجودہ لیبر قوانین انسان اور انسان یا انسان اور کمپنی کے تعلق کو مدنظر رکھتے ہیں لیکن جب ایک الگورتھم براہِ راست کام تفویض کرے تو ذمہ داری کا تعین پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اگر کسی کام کے دوران نقصان ہو جائے یا ڈیٹا کا غلط استعمال ہو تو جواب دہ کون ہوگا؟
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ اس رجحان سے ترقی پذیر ممالک کے افراد کو نئے مواقع مل سکتے ہیں۔ چونکہ آن لائن پلیٹ فارمز جغرافیائی حدود سے ماورا ہوتے ہیں اس لیے دنیا بھر کے فری لانسرز عالمی AI ایجنٹس کیلئے خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ مسابقت میں اضافہ اور معاوضے کی غیر یقینی صورتحال بھی سامنے آ سکتی ہے۔مجموعی طور پر یہ رجحان مصنوعی ذہانت کے ارتقا کا ایک نیا مرحلہ ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ AI انسانوں کی جگہ لے گی یا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ انسان اور AI کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ کام کریں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
گھوڑ ے کی حیران کن پرفارمنس:تین منٹ میں تیس کرتب

گھوڑ ے کی حیران کن پرفارمنس:تین منٹ میں تیس کرتب

دنیا بھر میں جانوروں کی ذہانت اور ان کی تربیت کے حیرت انگیز مظاہرے ہمیشہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے رہے ہیں، مگر حال ہی میں ایک گھوڑے نے اپنے غیر معمولی کرتب دکھا کر سب کو حیران کر دیا۔ صرف تین منٹ کے مختصر وقت میں تیس سے زائد کرتب پیش کرنے والا یہ گھوڑا نہ صرف اپنی فطری صلاحیتوں کا مظہر ہے بلکہ اس کے ٹرینر کی محنت، مہارت اور لگن کا بھی واضح ثبوت ہے۔ یہ شاندار مظاہرہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ مناسب تربیت اور مثبت رویے کے ذریعے جانوروں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو کس حد تک نکھارا جا سکتا ہے۔امریکہ کی ریاست نارتھ کیرولائنا کے علاقے بولیویا میں ایک خوبصورت سفید گھوڑے نے اپنے باصلاحیت مالک کے ساتھ مل کر ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا۔ اس گھوڑے نے صرف تین منٹ سے بھی کم وقت میں سب سے زیادہ کرتب دکھانے کا اعزاز حاصل کیا، جب اس نے بہترین تربیت کے ذریعے درجنوں کامیاب حرکات پیش کیں۔لورین زیپیڈا(Lauryn Zepeda) اور ان کے 19 سالہ گھوڑے گرینگو (Gringo)نے 5 مارچ کو یہ مشکل ریکارڈ توڑا۔ اس ذہین گھوڑے نے رقص کیا، گیند کو ٹھوکر ماری اور یہاں تک کہ سیلفی کیلئے پوز بھی دیا، جس کے نتیجے میں اس نے صرف 2 منٹ اور 47 سیکنڈ میں 38 حیرت انگیز کرتب مکمل کیے۔یہ جوڑی گزشتہ دس برسوں سے مختلف شوز میں ایک ساتھ حصہ لے رہی ہے، اور ان کے درمیان مضبوط ہم آہنگی برسوں کے اعتماد، محبت اور توجہ کا نتیجہ ہے۔ گرینگو دراصل جنگل میں پیدا ہوا تھا، مگر لورین نے اسے ایک سرکاری ادارے سے گود لے کر جدید انداز میں تربیت دی، جس میں انعامات کا استعمال کیا گیا،بالکل اسی طرح جیسے کتوں کو سکھایا جاتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ لورین نے ہمیشہ گھوڑے کو اپنی مرضی کا اختیار دیا، مگر گرینگو کو پرفارم کرنا واقعی پسند ہے، خاص طور پر جب اسے تعریف اور انعام ملے۔لورین نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریکارڈ ہمارے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ گھوڑوں کی دنیا میں ہمارا تربیتی طریقہ روایتی نہیں ہے۔ کلکر ٹریننگ اور مثبت حوصلہ افزائی کو عام طور پر کتوں کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ گھوڑوں کے ساتھ بھی نہایت مؤثر ثابت ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ جب ہم پرفارم کرتے ہیں تو ہم ایک اہم پیغام دینا چاہتے ہیں کہ تربیت کے متبادل اور انسان دوست طریقے بھی موجود ہیںاور گھوڑے صرف سواری تک محدود نہیں، بلکہ وہ اس سے بڑھ کر بھی بامعنی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ریکارڈ توڑنے کی تیاری کے دوران، لورین اور گرینگو نے کئی ماہ تک تربیت کی، ہر کرتب کو چھوٹے اور قابلِ انتظام حصوں میں سیکھا، اور آخرکار سب کو یکجا کیا۔لورین نے بتایاکہ گرینگو کیلئے یہ کبھی محنت محسوس نہیں ہوئی، یہ بس کھیل تھا۔ جبکہ مجھے اس کی ذمہ داری کا احساس ہوتا، اس کیلئے یہ صرف ساتھ گزارا گیا وقت تھا، کچھ ایسا جو اسے واقعی پسند ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی محنت کا ہمیشہ انعام ملتا ہے، جس سے یہ تجربہ اس کیلئے مزید خوشگوار بن جاتا ہے۔یہ بات بھی گرینگو کیلئے آسانی پیدا کرتی ہے کہ وہ ایک کھلے فارم میں مکمل آزادی کے ساتھ رہتا ہے،وہ ہر وقت باہر ہوتا ہے اور جب چاہے گھاس اور پناہ گاہ تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ جب دل چاہتا ہے، وہ ایک''چھوٹے ریوڑ‘‘ کے دیگر جانوروں کے ساتھ کرتب پیش کرتا ہے، اور باقی وقت اپنی مرضی سے کیچڑ میں کھیلتا ہے اور لورین سے اپنا پسندیدہ انعام مانگتا ہے۔جب یہ جوڑی مقابلے کیلئے تیار ہوئی، تو لورین نے گرینگو کیلئے 36 کرتبوں کی فہرست تیار کی،ساتھ ہی آٹھ اضافی کرتب بھی شامل کیے تاکہ مقابلے کے دن سب کچھ منظم اور ترتیب وار ہو۔ ان کرتبوں میں حرکت کے اشارے شامل تھے، جیسے ایک ٹانگ اٹھانا یا سر جھکانا اور ساتھ ہی سامان کے ساتھ کرتب بھی، جیسے جھنڈا لہرانا یا گھنٹی بجانا۔ لورین نے کہاکہ ہمارے تربیتی سیشنز مختصر اور انعامات کے ساتھ رکھے جاتے ہیں تاکہ وہ ہمیشہ جوش اور دلچسپی کے ساتھ حصہ لے۔ میں یقین رکھتی ہوں کہ میں اس کی توجہ قائم رکھ سکتی ہوں کیونکہ وہ واقعی ہمارے کام سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ میں بہت سوچ سمجھ کر کبھی اسے زیادہ محنت نہیں کراتی۔

زندگی کا اصول!

زندگی کا اصول!

آپ اپنی کار دس پندرہ میل پہاڑ کے اوپر لے جا سکتے ہیں لیکن آپ کو یقین ہوتا ہے کہ چوٹی پر پہنچنے کے بعد پھر اترائی ہی اترائی ہے۔ یہ یقین اس لیے ہوتا ہے کہ آپ قدرت کے رازوں سے واقف ہیں اور پہاڑ کے خراج کو سمجھتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی کار مسلسل اوپر ہی اوپر نہیں جا سکتی، نہ ہی نیچے ہی نیچے جا سکتی ہے۔ یہ صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔آپ کی زندگی میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ چینی فلسفے والے اس کو ین اور یانگ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہم لوگوں سے زندگی میں یہی غلطی ہوتی ہے کہ ہم لوگ متبادل کے راز کو پکڑتے نہیں ہیں، جو شخص آگے پیچھے جاتی لہر پر سوار نہیں ہوتا وہ ایک ہی مقام پر رک کر رہ جاتا ہے۔ (گلائیڈر جہازوں کے پائلٹ اس راز کو خوب سمجھتے ہیں) وہ یہی سمجھتا رہتا ہے کہ پہاڑ پہ اوپر ہی اوپر جانا زندگی سے نیچے آنا موت ہے۔ وہ زندگی بھر ایک نفسیاتی لڑائی لڑتا رہتا ہے اور ساری زندگی مشکلات میں گزار دیتا ہے۔ایک سمجھدار انسان جب زندگی کے سفر پر نکلتا ہے تو آسان راستہ اختیار کرتا ہے۔ وہ بلندی پر جانے کا پروگرام بنا کر نہیں نکلتا کہ نشیب میں اترنے کے خوف سے کانپتا رہے وہ تو بس سفر پر نکلتا ہے اور راستے سے جھگڑا نہیں کرتا۔ جو جھگڑا نہیں کرتا، وہ منزل پر جلد پہنچ جاتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

کولمبیا خلائی شٹل کی لانچنگ ''کولمبیا خلائی شٹل‘‘ ناسا کی مدد سے بھیجی جانے والی خلائی شٹل تھی۔'' کولمبیا ‘‘خلا میں اڑان بھرنے والی پانچ خلائی شٹلز میں سے پہلی تھی۔ اپریل 1981ء میں اس شٹل نے اپنی پہلی پرواز پر خلائی شٹل لانچ وہیکل کا آغاز کیا۔اپنے 22سالہ آپریشن کے دوران کولمبیا نے خلائی شٹل پروگرام کے تحت28مشن مکمل کئے۔اس دوران اس نے خلا میں 300دن گزارے اور زمین کے گرد4ہزار سے زائد مدار مکمل کئے۔چین میں بدترین آتشزدگی1894ء میں چین کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز شنگھائی میں ہزاروں عمارتوں کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر جبکہ ہزاروں کی تعداد میں جاں بحق ہوئے۔ اس حادثے کو چین کی تاریخ کے بدترین حادثات میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے پہلے اوربعد میں اتنے بڑے پیمانے پر چین میں کھی آگ نہیں لگی ۔فن لینڈ :سرکاری کرنسی متعارف1860ء میں فن لینڈ کے مختلف علاقوں میں فنش مارکا کو سرکاری کرنسی کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ یہ اعلان اس دور میں ایک اہم معاشی پیش رفت سمجھا جاتا تھا، کیونکہ اس سے پہلے فن لینڈ میں مختلف غیر ملکی کرنسیاں رائج تھیں۔ نئی کرنسی کے نفاذ کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا اور مالیاتی نظام کو منظم بنانا تھا۔ اس اقدام نے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا بلکہ فن لینڈ کی قومی شناخت کو بھی مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔''عالم نسواں‘‘ جریدہ کا آغاز 4 اپریل 1913ء کو سلطنت عثمانیہ میں پہلی بار ''عالم نسواں‘‘ نامی ایک جریدہ شائع کیا گیا۔ اس جریدے کا مقصد حقوق نسواں اور ان کی شخصی آزادی کو فروغ دینا اور ان کی سماجی زندگی کو پروان چڑھانا تھا۔اس دور میں سلطنت عثمانیہ اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہی تھی۔ حقوق نسواں پر زور دینا بھی انہی اقدامات میں سے ایک تھا تاکہ سلطنت کا ایک بہتر چہرہ دنیا کو دکھایا جا سکے۔مارٹن لوتھرکنگ جونیئر کا قتل1968 ء میں آج کے دن سیاہ فام امریکی پادری اورمساوی حقوق کے علمبردار مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کو قتل کیاگیا۔مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے اپنی تمام زندگی سیاہ فام امریکیوں کے مساوی حقوق کیلئے جدو جہد کرتے ہوئے گزار دی۔ مارٹن عدم برداشت اور نسل پرستانہ نظریات کے شدید مخالف تھے۔اس جدو جہد کے دوران مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے خود بھی بہت سی مشکلات اٹھائیں ،کبھی انہیں قید کیا گیا تو کبھی قتل کرنے کی دھمکی دی گئی ۔ 1964ء میں انہیں اپنی جدو جہد کی بدولت نوبل امن انعام سے بھی نوازا گیا۔ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا افتتاح1973ء میں نیویارک شہر میں واقع ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز (ٹوئن ٹاورز) کا باضابطہ طور پر افتتاح کیا گیا۔ یہ عظیم الشان عمارتیں اس وقت دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں شمار ہوتی تھیں اور جدید تعمیراتی مہارت کا شاہکار سمجھی جاتی تھیں۔ ان ٹاورز کا مقصد عالمی تجارت کو فروغ دینا اور کاروباری سرگرمیوں کیلئے ایک مرکزی مقام فراہم کرنا تھا۔ افتتاح کے بعد یہ عمارتیں نہ صرف نیویارک کی پہچان بن گئیں بلکہ عالمی سطح پر بھی معاشی سرگرمیوں کی علامت قرار پائیں، جہاں دنیا بھر سے لوگ تجارت اور کاروبار کیلئے آتے تھے۔

سرن میں نئی دریافت

سرن میں نئی دریافت

تجرباتی اور نظریاتی طبیعیات کیلئے اہم پیش رفتحالیہ دنوںسائنسی دنیا میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جب یورپ میں قائم دنیا کی سب سے بڑی پارٹیکل فزکس لیبارٹری سرن (CERN) کے سائنسدانوں نے کائنات کے بنیادی ذرات کی دنیا میں ایک بالکل نیا ذرہ دریافت کیا ہے۔ یہ دریافت اُس وقت سامنے آئی جب لارج ہیڈرون کولائیڈر کے ایک جدید اور حساس ترین ڈیٹیکٹر کو اَپ گریڈ کرنے کے بعد نئے تجربات کیے گئے۔یہ نیا ذرہ ایک خاص قسم کا baryons ہے جسے زی سی سی پلس (ZCC ) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ دو بھاری چارم کوارکس اور ایک ڈاؤن کوارک پر مشتمل ہے۔ عام پروٹون دو اَپ اور ایک ڈاؤن کوارک سے بنتا ہے مگر اس نئے ذرے کی ساخت میں دو بھاری کوارکس ہونے کے باعث اس کا وزن عام پروٹون سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔سائنسدانوں کے مطابق یہ دریافت لارج ہیڈرون کولائیڈر کے اپ گریڈ کے بعد کی جانے والی پہلی بڑی سائنسی کامیابی ہے۔ ایل ایچ سی بی (LHCb) ڈیٹیکٹر کو 2023ء میں اَپ گریڈ کیا گیا تھا تاکہ یہ پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتاری اور درستگی کے ساتھ ذرات کے تصادم سے پیدا ہونے والے نایاب ذرات کو شناخت کر سکے۔ اسی جدیدیت نے سائنسدانوں کو یہ نیا ذرہ تلاش کرنے کے قابل بنایا۔ایل ایچ سی میں پروٹونز کو روشنی کی رفتار کے قریب رفتار سے آپس میں ٹکرایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں انتہائی کم وقت کے لیے نئے ذرات بنتے ہیں۔ یہ ذرات عموماً لمحوں میں ٹوٹ جاتے ہیں مگر ان کے بکھرنے سے پیدا ہونے والے دیگر ذرات کے آثار کا تجزیہ کر کے سائنسدان ان کی موجودگی کا پتہ لگاتے ہیں۔ زی سی سی پلس بھی اسی طرح کے عمل سے سامنے آیا۔ تحقیق کے مطابق یہ ذرہ محض چند فیمٹو سیکنڈز تک زندہ رہتا ہے۔ ایک فیمٹو سیکنڈ ایک سیکنڈ کے ایک ہزار کھربویں حصے کے برابر ہوتا ہے۔ اتنی قلیل زندگی کے باوجود سائنسدان اس کے بکھرنے کے انداز سے اس کی خصوصیات کا درست اندازہ لگانے میں کامیاب رہے۔اس دریافت کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ ایک نیا ذرہ ملا ہے بلکہ اس لیے بھی کہ یہ کوانٹم کرومو ڈائنامکس (QCD) جیسے نظریات کی جانچ میں مدد دے گا۔ QCDوہ بنیادی نظریہ ہے جو بتاتا ہے کہ کوارکس کس طرح ایک دوسرے سے جڑ کر بیریونز اور میسونز جیسے ذرات بناتے ہیں۔ چونکہ زی سی سی پلس میں دو بھاری کوارکس موجود ہیں اس لیے یہ سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ بھاری کوارکس ایک دوسرے کے ساتھ کیسے تعامل کرتے ہیں اور مادے کی ساخت میں ان کا کردار کیا ہے۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب اس فیملی کا کوئی ذرہ دریافت ہوا ہو۔ 2017ء میں سائنسدانوں نے ایک اور مشابہ ذرہ زی سی سی پلس پلس دریافت کیا تھا جس میں دو چارم کوارکس کے ساتھ ایک اپ کوارک شامل تھا۔ تاہم زی سی سی پلس پلس کے مقابلے میں نیا دریافت ہونے والا ذرہ زیادہ غیر مستحکم ہے اور بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ فرق بھی سائنسدانوں کے لیے تحقیق کا ایک نیا میدان کھولتا ہے۔LHCB تجربے کے ترجمان کے مطابق یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ اپ گریڈ کے بعد تجرباتی آلات کی حساسیت اور صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جدید ڈیٹیکٹرز اب ایک سیکنڈ میں کروڑوں تصاویر لینے کے قابل ہیں جس سے نایاب ترین ذرات کی تلاش بھی ممکن ہو گئی ہے۔اگرچہ یہ دریافت ہگز بوزون کی دریافت جیسی تاریخی نہیں سمجھی جا رہی تاہم بنیادی فزکس کے ماہرین اسے ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ اس قسم کی دریافتیں مادے کی ساخت کو سمجھنے، بنیادی قوتوں کی نوعیت جاننے اور کائنات کی ابتداکے رازوں تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔یہ تحقیق اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ایل ایچ سی اور اس کے جدید ڈیٹیکٹرز مستقبل میں مزید حیران کن انکشافات کر سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کو توقع ہے کہ آنے والے برسوں میں مزید ایسے نایاب ذرات دریافت ہوں گے جو کائنات کی بنیادی ساخت اور قوتوں کے بارے میں ہمارے علم کو مزید گہرا کریں گے۔یہ نیا ذرہ نہ صرف تجرباتی طبیعیات کے لیے اہم ہے بلکہ نظریاتی طبیعیات کے لیے بھی قیمتی ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ ہر نئی دریافت سائنسی نظریات کی جانچ کا موقع دیتی ہے اور یہ دیکھنے میں مدد کرتی ہے کہ موجودہ ماڈلز کہاں تک درست ہیں اور کہاں نئی فزکس کی ضرورت ہے۔ مختصر یہ کہ زی سی سی پلس کی دریافت ایک اور قدم ہے اس سمت میں جس سے انسان کائنات کے بنیادی رازوں کو سمجھنے کے قریب پہنچ رہا ہے۔ یہ دریافت اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ سائنسی تحقیق ایک مسلسل عمل ہے، جہاں ہر نیا جواب درجنوں نئے سوالات کو جنم دیتا ہے۔

نوجوان کیا کھاتے ہیں؟

نوجوان کیا کھاتے ہیں؟

ذہنی صحت پر حیران کن اثرات ،ایک سائنسی جائزہجدید دور میں نوجوانوں کی زندگی جہاں ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور تعلیمی دباؤ کے گرد گھومتی ہے وہیں ایک اور اہم مگر نظرانداز پہلو اْن کی خوراک ہے۔ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے یہ انکشاف کیا ہے کہ نوجوانوں کی خوراک ان کی ذہنی صحت پر ہماری توقعات سے کہیں زیادہ گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔یہ تحقیق، جو برطانیہ کی سوانسی یونیورسٹی کے ماہرین نے کی ہے، نشاندہی کرتی ہے کہ صحت مند غذا اور ذہنی سکون کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے جبکہ غیر معیاری خوراک ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن کو بڑھا سکتی ہے۔ تحقیق میں تقریباً 19 مختلف مطالعات کا جائزہ لیا گیا جن میں ایک واضح رجحان سامنے آیا اور وہ یہ کہ بہتر خوراک کا نتیجہ کم ڈپریشن جبکہ غیر صحت بخش خوراک کا نتیجہ زیادہ ذہنی دباؤ ہے۔یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک مسلسل سامنے آنے والا سائنسی رجحان ہے اور دیگر مطالعات بھی اسی نتیجے کی تائید کرتے ہیں کہ جو نوجوان زیادہ سبزیاں، پھل اور متوازن غذا استعمال کرتے ہیں ان میں ذہنی مسائل کم ہوتے ہیں جبکہ جنک فوڈ اور میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال ڈپریشن اور اینگزائٹی کا سبب بنتا ہے۔ ایک دلچسپ پہلو یہ سامنے آیا کہ صرف وٹامن یا سپلیمنٹس لینے سے واضح فائدہ ثابت نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر وٹامن ڈی کے حوالے سے کچھ مثبت نتائج ضرور ملے مگر وہ مستقل نہیں تھے۔اس کے برعکس مکمل غذا کا مجموعی معیار زیادہ اہم ثابت ہوا ہے یعنی متوازن خوراک اورقدرتی اجزا کا استعمال اورپراسیسڈ فوڈ سے پرہیز،یہ مجموعی طور پر ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں زیادہ مؤثر ہے۔ ماہرین کے مطابق نوجوانی وہ مرحلہ ہے جب دماغ تیزی سے نشوونما پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمر میں خوراک کے اثرات زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔اگر اس دور میں غذا غیر متوازن ہو تودماغی کیمیائی عمل متاثر ہو سکتے ہیں،جذباتی توازن بگڑ سکتا ہے،ذہنی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق یہ وہ ونڈو آف اپرچونٹی ہے جہاں بہتر خوراک کے ذریعے مستقبل کی ذہنی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ جنک فوڈ اور ذہنی مسائلتحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جنک فوڈ خاص طور پر وہ خوراک جو چکنائی اور چینی سے بھرپور ہو نہ صرف جسم بلکہ دماغ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ایسی غذاڈپریشن کے امکانات بڑھاتی ہے،یادداشت کو متاثر کرتی ہے، توجہ اور سیکھنے کی صلاحیت کم کرتی ہے۔کچھ مطالعات میں یہ بھی دیکھا گیا کہ کم معیار کی غذا لینے والے نوجوانوں میں ڈپریشن کا خطرہ 80 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ گٹ برین کنکشنجدید سائنس ایک اور اہم پہلو پر زور دیتی ہے جسے گٹ برین ایکسس کہا جاتا ہے۔خوراک ہمارے معدے اور آنتوں میں موجود بیکٹیریا کو متاثر کرتی ہے جو براہِ راست دماغی افعال سے جڑے ہوتے ہیں۔ناقص غذا کے اثرات نیوروٹرانسمیٹرز (جیسے سیروٹونن) کی پیداوار متاثر،سوزش (inflammation) میں اضافہ اورموڈ میں بگاڑ کا سبب بنتے ہیں اوریہ عوامل ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ کھانے کی عادات بھی اہمصرف یہ نہیں کہ نوجوان کیا کھاتے ہیں بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ وہ کیسے کھاتے ہیں۔تحقیقات کے مطابق ناشتہ نہ کرنا ذہنی مسائل بڑھا سکتا ہے،فیملی کے ساتھ کھانا کھانا ذہنی سکون دیتا ہے،بے ترتیب کھانے کی عادات منفی اثر ڈالتی ہیں، یعنی خوراک کا معیار اور انداز دونوں اہم ہیں۔ سماجی و معاشی عوامل کا کرداریہ تعلق اتنا سادہ بھی نہیں جتنا لگتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کئی عوامل اس پر اثر انداز ہوتے ہیں جیسا کہ معاشی حیثیت،صنفی فرق، خاندانی ماحول۔مثلاً کم آمدنی والے خاندانوں میں صحت مند خوراک تک رسائی کم ہوتی ہے جس سے ذہنی صحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ سائنسدان ابھی بھی اس تعلق کو مکمل طور پر ''سبب اور نتیجہ‘‘ کے طور پر ثابت نہیں کر سکے۔یعنی کیا خراب غذا ذہنی مسائل پیدا کرتی ہے یاکیا ذہنی مسائل خراب کھانے کی عادات پیدا کرتے ہیں؟اس سوال کا مکمل جواب ابھی باقی ہے، اسی لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ جیسا کھاؤ گے ویسا سوچو گےتاہم یہ تحقیق ایک اہم پیغام ضرور دیتی ہے کہ نوجوانوں کی ذہنی صحت صرف نفسیاتی یا سماجی مسئلہ نہیں بلکہ غذائی مسئلہ بھی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل ذہنی طور پر مضبوط ہو ڈپریشن اور اینگزائٹی سے محفوظ رہے، بہتر فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھے تو ہمیں ان کی خوراک پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی۔متوازن غذا، قدرتی اجزا اور صحت مند کھانے کی عادات نہ صرف جسم بلکہ ذہن کو بھی طاقت دیتی ہیں ،اوریہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آپ جو کھاتے ہیں وہی آپ کی سوچ، مزاج اور ذہنی کیفیات کو تشکیل دیتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

اسلامی جمہوریہ ایران کا قیامیکم اپریل 1979ء ایران کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن دن تھا جب عوامی ریفرنڈم کے نتیجے میں ایران کو باضابطہ طور پر اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا۔ یہ ریفرنڈم اس انقلاب کا منطقی نتیجہ تھا جو 1978-79ء میں محمد رضا پہلوی کی حکومت کے خلاف برپا ہوا۔ آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک نے بادشاہت کا خاتمہ کر کے مذہبی بنیادوں پر قائم نظام کی بنیاد رکھی۔ریفرنڈم میں ایرانی عوام سے ایک سادہ سوال پوچھا گیا: کیا آپ اسلامی جمہوریہ چاہتے ہیں؟ سرکاری نتائج کے مطابق تقریباً 98 فیصد ووٹرز نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ اس تبدیلی نے نہ صرف ایران کی داخلی سیاست کو بدل دیا بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ یکم اپریل ایران میں یومِ جمہوریہ اسلامی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہسپانوی خانہ جنگی کا خاتمہیکم اپریل 1939ء کو ہسپانوی خانہ جنگی باضابطہ طور پر ختم ہو گئی جب جنرل فرانسسکو فرانکو کی افواج نے فتح کا اعلان کیا۔ یہ جنگ 1936ء میں شروع ہوئی تھی اور اس میں جمہوری حکومت کے حامیوں (ریپبلکنز) اور قوم پرستوں (نیشنلٹس) کے درمیان شدید لڑائی ہوئی۔فرانکو کی قیادت میں قوم پرستوں کو جرمنی اور اٹلی کی فاشسٹ حکومتوں کی حمایت حاصل تھی جبکہ ریپبلکنز کو سوویت یونین اور بین الاقوامی رضاکاروں کی مدد حاصل تھی۔ یکم اپریل کو فرانکو نے اعلان کیا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔اس فتح کے بعد سپین میں ایک طویل آمریت کا آغاز ہوا جو 1975ء میں فرانکو کی موت تک جاری رہی۔ بی بی سی کا اپریل فولیکم اپریل 1957ء کو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ایک مشہور اپریل فول مذاق کیا جسے تاریخ کے کامیاب ترین میڈیا ہوکس میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام میں دکھایا گیا کہ سوئٹزرلینڈ میں سپیگٹی کے درخت اُگتے ہیں اور لوگ ان سے سپیگٹی توڑ رہے ہیں۔یہ رپورٹ بی بی سی کے پروگرام پینوراما میں نشر ہوئی جو عام طور پر سنجیدہ اور تحقیقی پروگرام سمجھا جاتا تھا۔ اس وجہ سے بہت سے ناظرین نے اس خبر کو سچ مان لیا۔ نشر ہونے کے بعد بی بی سی کو سینکڑوں فون کالز موصول ہوئیں جن میں لوگوں نے پوچھا کہ وہ سپیگٹی کا درخت کیسے اُگا سکتے ہیں۔یہ واقعہ میڈیا کی طاقت اور عوام کے اعتماد کی ایک دلچسپ مثال ہے۔ اس نے یہ بھی ظاہر کیا کہ کس طرح معلومات کی تصدیق کے بغیر لوگ کسی بھی خبر کو سچ مان سکتے ہیں۔ فارو جزائر کی خود مختاری یکم اپریل 1948ء کو ڈنمارک کے زیر انتظام فارو جزائر کو خود مختار حیثیت دی گئی۔ یہ شمالی بحر اوقیانوس میں واقع ایک جزیرہ نما علاقہ ہے جہاں کے عوام نے طویل عرصے تک خود حکمرانی کے لیے جدوجہد کی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد فارو کے عوام میں قومی شناخت کا شعور مزید مضبوط ہوا۔ 1946ء میں ایک ریفرنڈم بھی ہوا جس میں معمولی اکثریت نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا تاہم ڈنمارک نے مکمل آزادی دینے کے بجائے ایک سمجھوتہ کیا۔ اس کے نتیجے میں 1948ء کا ہوم رول ایکٹ نافذ کیا گیا جو یکم اپریل سے مؤثر ہوا۔اس قانون کے تحت فارو جزائر کو داخلی معاملات پر مکمل اختیار دیا گیا جبکہ خارجہ امور اور دفاع ڈنمارک کے پاس رہے۔