مشینیں آجر بن گئیں
اسپیشل فیچر
مصنوعی ذہانت انسانوں کو ملازمت دینے لگیں
سائنسی جریدے ''Nature‘‘میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ نے مصنوعی ذہانت (AI) اور انسانی محنت کے تعلق کے بارے میں ایک نئی اور چونکا دینے والی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب ایسے آن لائن پلیٹ فارمز سامنے آ رہے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت کے خودکار ایجنٹس حقیقی انسانوں کو مختلف کاموں کیلئے ''ہائر‘‘ کر رہے ہیں۔ یہ رجحان ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے جہاں مشینیں نہ صرف انسانوں کیلئے کام کر رہی ہیں بلکہ خود بھی انسانوں سے کام لے رہی ہیں۔
اس رپورٹ میں خاص طور پر ایک ویب سائٹ RentAHuman.ai کا ذکر کیا گیا ہے جس کا تصور ہی غیر معمولی ہے۔ یہ پلیٹ فارم بنیادی طور پر اس خیال پر مبنی ہے کہ چونکہ مصنوعی ذہانت کا وجود ڈیجیٹل دنیا تک محدود ہے اس لیے وہ ایسے کام انجام نہیں دے سکتی جو جسمانی دنیا میں انسانی موجودگی کے متقاضی ہوں؛ چنانچہ AI ایجنٹس اس پلیٹ فارم کے ذریعے انسانوں کو مخصوص کاموں کیلئے منتخب کرتے ہیں۔ ویب سائٹ کا مرکزی پیغام بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ روبوٹس کو آپ کے جسم کی ضرورت ہے۔ابتدائی طور پر یہ کام سادہ نوعیت کے ہوتے ہیں مثلاً کسی مخصوص مقام پر جا کر ماحول کا مشاہدہ کرنا، کسی ریستوران میں کھانا چکھ کر رائے دینا، یا کسی پارک میں کبوتروں کی گنتی کرنا۔ بظاہر یہ معمولی سرگرمیاں لگتی ہیں لیکن ان کے پیچھے اصل مقصد یہ ہے کہ AI سسٹمز کو حقیقی دنیا کے بارے میں ایسا ڈیٹا فراہم کیا جائے جو آن لائن دستیاب نہیں۔
مصنوعی ذہانت لاکھوں ویب سائٹس اور ڈیٹا بیس تک رسائی رکھتی ہے لیکن وہ سڑک کی تازہ صورتحال، کسی دکان کے اصل ماحول یا کسی عمارت کے موجودہ حالات کا خود مشاہدہ نہیں کر سکتی۔اس پلیٹ فارم پر حیران کن طور پر بڑی تعداد میں افراد نے اپنے پروفائلز بنا رکھے ہیں۔ ان میں عام فری لانسرز کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں کے ماہرین اور سائنسدان بھی شامل ہیں۔ کئی افراد نے بائیولوجی، فزکس، کمپیوٹر سائنس اور دیگر سائنسی شعبوں میں اپنی مہارت درج کی ہے۔ اگرچہ اب تک زیادہ تر کام عمومی نوعیت کے ہیں لیکن یہ امکان موجود ہے کہ مستقبل میں AI ایجنٹس پیچیدہ تحقیقی یا تجرباتی نوعیت کے کام بھی انسانوں کو سونپ سکتے ہیں۔
یہ صورتحال کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل میں مصنوعی ذہانت ایک باقاعدہ ایمپلائر کا کردار ادا کرے گی؟ اگر کوئی خودکار نظام کسی انسان کو کام تفویض کرتا ہے، اس کی کارکردگی جانچتا ہے اور ادائیگی کرتا ہے تو اس تعلق کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا AI کو ایک معاشی اکائی سمجھا جائے گا یا اس کے پیچھے موجود کمپنی ذمہ دار ہو گی؟ دوسرا اہم پہلو روزگار کے مستقبل سے متعلق ہے۔ ایک عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ AI انسانی ملازمتوں کو ختم کر دے گی، لیکن اس نئے رجحان سے ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ یہاں مشینیں انسانوں کی جگہ لینے کے بجائے انسانوں پر انحصار کر رہی ہیں، گویا ایک نئی قسم کی ہائبرڈ معیشت وجود میں آ رہی ہے جہاں ڈیجیٹل ذہانت اور انسانی جسمانی صلاحیتیں مل کر کام کریں گی۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے پلیٹ فارمز کم اجرت اور غیر مستحکم کام کے نئے مواقع پیدا کریں جس سے محنت کشوں کے حقوق کا مسئلہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔
سائنسی تحقیق کے تناظر میں بھی اس رجحان کے اثرات اہم ہیں۔ اگر AI ایجنٹس تجرباتی ڈیٹا جمع کرنے کیلئے انسانوں کی خدمات حاصل کریں تو تحقیق کی رفتار تیز ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر کسی ماحولیاتی مطالعے کیلئے مختلف شہروں میں درجہ حرارت یا آلودگی کی پیمائش درکار ہو تو AI ایک ہی وقت میں سینکڑوں افراد کو مختلف مقامات پر بھیج کر معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن یہاں ڈیٹا کے معیار، شفافیت اور تصدیق کے مسائل بھی پیدا ہوں گے۔ کیا ہر فرد درست معلومات فراہم کرے گا؟ کیا AI ان نتائج کی سائنسی جانچ کر سکے گا؟اخلاقی پہلو بھی کم اہم نہیں۔ اگر AI ایجنٹس انسانی فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگیں یا لوگوں کو مخصوص نظریاتی یا تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کریں تو یہ ایک نیا خطرہ بن سکتا ہے۔ مزید برآں، اگر انسان یہ نہ جانتے ہوں کہ انہیں کام دینے والا دراصل ایک خودکار نظام ہے تو شفافیت کا مسئلہ پیدا ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے پلیٹ فارمز واضح کریں کہ کام کے پیچھے کون سی کمپنی یا ادارہ ہے اور ڈیٹا کس مقصد کیلئے استعمال ہوگا۔قانونی ڈھانچہ بھی اس نئی حقیقت کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ موجودہ لیبر قوانین انسان اور انسان یا انسان اور کمپنی کے تعلق کو مدنظر رکھتے ہیں لیکن جب ایک الگورتھم براہِ راست کام تفویض کرے تو ذمہ داری کا تعین پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اگر کسی کام کے دوران نقصان ہو جائے یا ڈیٹا کا غلط استعمال ہو تو جواب دہ کون ہوگا؟
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ اس رجحان سے ترقی پذیر ممالک کے افراد کو نئے مواقع مل سکتے ہیں۔ چونکہ آن لائن پلیٹ فارمز جغرافیائی حدود سے ماورا ہوتے ہیں اس لیے دنیا بھر کے فری لانسرز عالمی AI ایجنٹس کیلئے خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ مسابقت میں اضافہ اور معاوضے کی غیر یقینی صورتحال بھی سامنے آ سکتی ہے۔مجموعی طور پر یہ رجحان مصنوعی ذہانت کے ارتقا کا ایک نیا مرحلہ ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ AI انسانوں کی جگہ لے گی یا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ انسان اور AI کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ کام کریں گے۔