مشینیں آجر بن گئیں

مشینیں آجر بن گئیں

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد علی


مصنوعی ذہانت انسانوں کو ملازمت دینے لگیں
سائنسی جریدے ''Nature‘‘میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ نے مصنوعی ذہانت (AI) اور انسانی محنت کے تعلق کے بارے میں ایک نئی اور چونکا دینے والی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب ایسے آن لائن پلیٹ فارمز سامنے آ رہے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت کے خودکار ایجنٹس حقیقی انسانوں کو مختلف کاموں کیلئے ''ہائر‘‘ کر رہے ہیں۔ یہ رجحان ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے جہاں مشینیں نہ صرف انسانوں کیلئے کام کر رہی ہیں بلکہ خود بھی انسانوں سے کام لے رہی ہیں۔
اس رپورٹ میں خاص طور پر ایک ویب سائٹ RentAHuman.ai کا ذکر کیا گیا ہے جس کا تصور ہی غیر معمولی ہے۔ یہ پلیٹ فارم بنیادی طور پر اس خیال پر مبنی ہے کہ چونکہ مصنوعی ذہانت کا وجود ڈیجیٹل دنیا تک محدود ہے اس لیے وہ ایسے کام انجام نہیں دے سکتی جو جسمانی دنیا میں انسانی موجودگی کے متقاضی ہوں؛ چنانچہ AI ایجنٹس اس پلیٹ فارم کے ذریعے انسانوں کو مخصوص کاموں کیلئے منتخب کرتے ہیں۔ ویب سائٹ کا مرکزی پیغام بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ روبوٹس کو آپ کے جسم کی ضرورت ہے۔ابتدائی طور پر یہ کام سادہ نوعیت کے ہوتے ہیں مثلاً کسی مخصوص مقام پر جا کر ماحول کا مشاہدہ کرنا، کسی ریستوران میں کھانا چکھ کر رائے دینا، یا کسی پارک میں کبوتروں کی گنتی کرنا۔ بظاہر یہ معمولی سرگرمیاں لگتی ہیں لیکن ان کے پیچھے اصل مقصد یہ ہے کہ AI سسٹمز کو حقیقی دنیا کے بارے میں ایسا ڈیٹا فراہم کیا جائے جو آن لائن دستیاب نہیں۔
مصنوعی ذہانت لاکھوں ویب سائٹس اور ڈیٹا بیس تک رسائی رکھتی ہے لیکن وہ سڑک کی تازہ صورتحال، کسی دکان کے اصل ماحول یا کسی عمارت کے موجودہ حالات کا خود مشاہدہ نہیں کر سکتی۔اس پلیٹ فارم پر حیران کن طور پر بڑی تعداد میں افراد نے اپنے پروفائلز بنا رکھے ہیں۔ ان میں عام فری لانسرز کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں کے ماہرین اور سائنسدان بھی شامل ہیں۔ کئی افراد نے بائیولوجی، فزکس، کمپیوٹر سائنس اور دیگر سائنسی شعبوں میں اپنی مہارت درج کی ہے۔ اگرچہ اب تک زیادہ تر کام عمومی نوعیت کے ہیں لیکن یہ امکان موجود ہے کہ مستقبل میں AI ایجنٹس پیچیدہ تحقیقی یا تجرباتی نوعیت کے کام بھی انسانوں کو سونپ سکتے ہیں۔
یہ صورتحال کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل میں مصنوعی ذہانت ایک باقاعدہ ایمپلائر کا کردار ادا کرے گی؟ اگر کوئی خودکار نظام کسی انسان کو کام تفویض کرتا ہے، اس کی کارکردگی جانچتا ہے اور ادائیگی کرتا ہے تو اس تعلق کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا AI کو ایک معاشی اکائی سمجھا جائے گا یا اس کے پیچھے موجود کمپنی ذمہ دار ہو گی؟ دوسرا اہم پہلو روزگار کے مستقبل سے متعلق ہے۔ ایک عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ AI انسانی ملازمتوں کو ختم کر دے گی، لیکن اس نئے رجحان سے ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ یہاں مشینیں انسانوں کی جگہ لینے کے بجائے انسانوں پر انحصار کر رہی ہیں، گویا ایک نئی قسم کی ہائبرڈ معیشت وجود میں آ رہی ہے جہاں ڈیجیٹل ذہانت اور انسانی جسمانی صلاحیتیں مل کر کام کریں گی۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے پلیٹ فارمز کم اجرت اور غیر مستحکم کام کے نئے مواقع پیدا کریں جس سے محنت کشوں کے حقوق کا مسئلہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔
سائنسی تحقیق کے تناظر میں بھی اس رجحان کے اثرات اہم ہیں۔ اگر AI ایجنٹس تجرباتی ڈیٹا جمع کرنے کیلئے انسانوں کی خدمات حاصل کریں تو تحقیق کی رفتار تیز ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر کسی ماحولیاتی مطالعے کیلئے مختلف شہروں میں درجہ حرارت یا آلودگی کی پیمائش درکار ہو تو AI ایک ہی وقت میں سینکڑوں افراد کو مختلف مقامات پر بھیج کر معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن یہاں ڈیٹا کے معیار، شفافیت اور تصدیق کے مسائل بھی پیدا ہوں گے۔ کیا ہر فرد درست معلومات فراہم کرے گا؟ کیا AI ان نتائج کی سائنسی جانچ کر سکے گا؟اخلاقی پہلو بھی کم اہم نہیں۔ اگر AI ایجنٹس انسانی فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگیں یا لوگوں کو مخصوص نظریاتی یا تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کریں تو یہ ایک نیا خطرہ بن سکتا ہے۔ مزید برآں، اگر انسان یہ نہ جانتے ہوں کہ انہیں کام دینے والا دراصل ایک خودکار نظام ہے تو شفافیت کا مسئلہ پیدا ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے پلیٹ فارمز واضح کریں کہ کام کے پیچھے کون سی کمپنی یا ادارہ ہے اور ڈیٹا کس مقصد کیلئے استعمال ہوگا۔قانونی ڈھانچہ بھی اس نئی حقیقت کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ موجودہ لیبر قوانین انسان اور انسان یا انسان اور کمپنی کے تعلق کو مدنظر رکھتے ہیں لیکن جب ایک الگورتھم براہِ راست کام تفویض کرے تو ذمہ داری کا تعین پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اگر کسی کام کے دوران نقصان ہو جائے یا ڈیٹا کا غلط استعمال ہو تو جواب دہ کون ہوگا؟
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ اس رجحان سے ترقی پذیر ممالک کے افراد کو نئے مواقع مل سکتے ہیں۔ چونکہ آن لائن پلیٹ فارمز جغرافیائی حدود سے ماورا ہوتے ہیں اس لیے دنیا بھر کے فری لانسرز عالمی AI ایجنٹس کیلئے خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ مسابقت میں اضافہ اور معاوضے کی غیر یقینی صورتحال بھی سامنے آ سکتی ہے۔مجموعی طور پر یہ رجحان مصنوعی ذہانت کے ارتقا کا ایک نیا مرحلہ ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ AI انسانوں کی جگہ لے گی یا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ انسان اور AI کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ کام کریں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
کوئلے کے کچرے سے قیمتی دھاتوں کا حصول

کوئلے کے کچرے سے قیمتی دھاتوں کا حصول

سائنسی پیش رفت ریر ارتھ کی پیداوار دوگنا کر سکتی ہےایک حالیہ تحقیق نے توانائی اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔ محققین نے ریئر ارتھ منزلز کو نکالنے کا ایسا جدید طریقہ وضع کیا ہے جو موجودہ طریقوں کے مقابلے میں ان معدنیات کی بازیابی کو دو سے تین گنا تک بڑھا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ یہ قیمتی عناصر کوئلے کی کانوں کے کچرے (Coal tailings) سے حاصل کیے جا سکتے ہیں، جو اَب تک ماحولیاتی بوجھ سمجھا جاتا تھا۔رئیر ارتھ، جدید ٹیکنالوجی کی بنیادیہ نایاب عناصر دراصل 17 دھاتی عناصر پر مشتمل گروپ ہے جن میں نیوڈیمیم، لینتھنم، سیریم اور دیگر عناصر شامل ہیں۔ یہ عناصر جدید معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں کی موٹریں، ونڈ ٹربائنز کے طاقتور مقناطیس، سمارٹ فونز، کمپیوٹر چپس، دفاعی نظام اور خلائی تحقیق، سب میں ان عناصر کا استعمال ناگزیر ہے۔خاص طور پر نیوڈیمیم سے بننے والے مضبوط مقناطیس قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا جب تیزی سے فوسل فیول سے گرین انرجی کی طرف بڑھ رہی ہے تو ان عناصر کی طلب میں بے مثال اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فراہمی، قیمت اور جغرافیائی کنٹرول عالمی سیاست اور معیشت میں اہم موضوع بن چکے ہیں۔روایتی کان کنی کے مسائلروایتی طریقوں سے ریئر ارتھ نکالنا نہایت مہنگا اور ماحولیاتی لحاظ سے نقصان دہ عمل ہے۔ کان کنی کے دوران زمین کی ساخت متاثر ہوتی ہے، پانی آلودہ ہو سکتا ہے اور کیمیائی فضلہ ماحول کیلئے خطرہ بنتا ہے۔ عالمی سطح پر ان عناصر کی پیداوار چند ممالک تک محدود ہے جس سے سپلائی چین غیر مستحکم ہو سکتی ہے۔اسی بنا پر سائنسدان متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں اور انہی میں سے ایک اہم ذریعہ کوئلے کی کانوں سے نکلنے والا کچرا ہے۔ یہ کچرا ڈھیروں کی صورت میں جمع رہتا ہے اور ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتا ہے مگر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں ریئر ارتھ کی قابل ذکر مقدار موجود ہوتی ہے۔اصل رکاوٹ کیا تھی؟اگرچہ کوئلے کے فضلے میں یہ عناصر موجود ہوتے ہیں لیکن وہ معدنی ڈھانچے کے اندر مضبوطی سے بند ہوتے ہیں۔ روایتی کیمیائی عمل ان تک مکمل رسائی حاصل نہیں کر پاتے جس کے باعث بازیابی کی شرح کم رہتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ یہ ذریعہ معاشی طور پر مؤثر نہیں سمجھا جاتا تھا۔نئی ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے؟امریکہ کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے اس مسئلے کا حل ایک مربوط سائنسی طریقہ کار کی صورت میں پیش کیا ہے۔ اس میں تین بنیادی مراحل شامل ہیں جن میں الکلائن پری ٹریٹمنٹ، مائیکرو ویو حرارت اور نائٹرک ایسڈ کے ذریعے اخراج شامل ہے۔ الکلائن پری ٹریٹمنٹکوئلے کے کچرے کو ایک الکلائن محلول سے گزارا جاتا ہے جو معدنی ساخت میں کیمیائی تبدیلی پیدا کرتا ہے اور اسے نسبتاً نرم اور قابلِ تحلیل بناتا ہے۔ مائیکرو ویو حرارتاس کے بعد مائیکرو ویو ہیٹنگ کی جاتی ہے۔ یہ حرارت مادے کے اندرونی حصوں تک یکساں طور پر پہنچتی ہے جس سے معدنی ذرات میں باریک مسام پیدا ہوتے ہیں اور اندر بند عناصر باہر آنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔ نائٹرک ایسڈ کے ذریعے اخراجآخری مرحلے میں نائٹرک ایسڈ استعمال کیا جاتا ہے جو پہلے سے کمزور ہو چکے معدنی ڈھانچے سے نایاب عناصر کو مؤثر انداز میں الگ کر لیتا ہے۔تحقیق کے نتائج کے مطابق اس طریقے سے عناصر کی بازیابی دو سے تین گنا تک بڑھ گئی جو کہ ایک نمایاں سائنسی کامیابی ہے۔ اگر اس طریقے کو صنعتی پیمانے پر کامیابی سے استعمال کر لیا جائے تو اس کے کئی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جیسا کہ کوئلے کے مضر فضلے کو کارآمد وسائل میں تبدیل کیا جا سکے گا۔نئی کانوں کی ضرورت کم ہو سکتی ہے، جس سے زمین اور پانی کے وسائل محفوظ رہیں گے۔عالمی سپلائی چین میں تنوع پیدا ہوگا اور چند ممالک پر انحصار کم ہو گا۔کوئلے کا کچرا دوبارہ وسائل میں تبدیل ہو کر معیشت کا حصہ بنے گا۔تاہم یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ لیبارٹری میں حاصل ہونے والی کامیابی کو صنعتی سطح پر بروئے کار لانا آسان نہیں ہوتا۔ مختلف علاقوں کے کوئلے کے فضلے کی کیمیائی ساخت مختلف ہو سکتی ہے جس کیلئے الگ الگ حکمت عملی درکار ہوگی۔ مزید یہ کہ کیمیکلز کے استعمال اور توانائی کی لاگت کو معاشی طور پر قابلِ عمل بنانا بھی ایک اہم چیلنج ہے۔دنیا بھر میں ریئر ارتھ منرلز کے حصول کیلئے نئے طریقوں پر تحقیق جاری ہے،یہ تمام کوششیں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ مستقبل کی معیشت میں وسائل کا پائیدار اور مؤثر استعمال کلیدی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ کوئلے کے کچرے سے نایاب عناصر کی مؤثر بازیابی کی یہ نئی سائنسی پیش رفت توانائی اور ٹیکنالوجی کے مستقبل کیلئے خوش آئند ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو عملی جامہ پہنانے میں مزید تحقیق اور سرمایہ کاری درکار ہے لیکن یہ واضح ہو چکا ہے کہ صنعتی فضلہ محض بوجھ نہیں بلکہ قیمتی وسائل کا ذخیرہ بھی ہو سکتا ہے۔یہ دریافت نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کی سمت ایک قدم ہے بلکہ عالمی معیشت اور گرین انرجی کے سفر میں بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

برونو کی سزائے موت17 فروری 1600ء کو اطالوی فلسفی، ریاضی دان اور مفکر جیورڈانو برونو کو روم کے مقام کیمپو دی فیوری میں زندہ جلا دیا گیا۔ برونو نشاۃِ ثانیہ کے ان مفکرین میں شامل تھا جنہوں نے کائنات کے بارے میں روایتی کلیسائی نظریات کو چیلنج کیا۔ وہ نکولس کوپرنیکس کے نظریہ شمسی مرکزیت کا حامی تھا اور یہ کہتا تھا کہ کائنات لامحدود ہے اور ستارے بھی اپنے اپنے نظامِ شمسی رکھتے ہیں۔ اس زمانے میں یہ خیالات کیتھولک چرچ کیلئے ناقابلِ قبول تھے۔ اسے برسوں قید رکھا گیا اور اپنے نظریات سے رجوع کرنے کا موقع دیا گیا مگر اس نے پسپائی اختیار نہ کی۔ بالآخر رومن انکوائزیشن کی عدالت نے اسے سزائے موت سنائی۔ جیفرسن صدر منتخب 17 فروری 1801ء کو امریکی ایوانِ نمائندگان نے طویل سیاسی تعطل کے بعد تھامس جیفرسن کو امریکہ کا تیسرا صدر منتخب کیا۔ 1800ء کے صدارتی انتخاب میں جیفرسن اور ان کے ساتھی امیدوار آرون بر کے ووٹ برابر ہو گئے تھے کیونکہ اس دور کے انتخابی نظام میں صدر اور نائب صدر کیلئے الگ الگ ووٹنگ کا طریقہ موجود نہیں تھا نتیجتاً فیصلہ ایوانِ نمائندگان کو کرنا پڑا۔ ایوان میں 35 مرتبہ ووٹنگ ہوئی مگر کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ بالآخر 36ویں بیلٹ پر جیفرسن کو اکثریت حاصل ہوئی۔ یہ انتقالِ اقتدار امریکی تاریخ میں اس لیے اہم ہے کہ پہلی مرتبہ ایک سیاسی جماعت سے دوسری جماعت کو پُرامن طریقے سے اقتدار منتقل ہوا۔ پہلی آبدوز کارروائی 17 فروری 1864ء کو امریکی خانہ جنگی کے دوران کنفیڈریٹ ریاستوں کی آبدوز H. L. Hunley نے یونین بحریہ کے جہازUSS Housatonic کو جنوبی کیرولائنا کے ساحل کے قریب تباہ کر دیا۔ یہ تاریخ میں پہلی بار تھا کہ کسی آبدوز نے جنگ کے دوران دشمن کے جہاز کو کامیابی سے ڈبویا۔ تاہم خود ہنلی بھی اس کارروائی کے فوراً بعد سمندر میں ڈوب گئی اور اس کا پورا عملہ ہلاک ہو گیا۔اس واقعے نے دنیا بھر کی بحری افواج کو آبدوزی جنگی حکمتِ عملی پر غور کرنے پر مجبور کیا۔نیوز ویک کا اجرا17 فروری 1933ء کو امریکہ میں ہفت روزہ نیوزویک کا پہلا شمارہ شائع ہوا۔ اس کی بنیاد تھامس جے سی مارٹن نے رکھی۔ ابتدا میں اس کا مقصد قارئین کو ہفتہ بھر کی اہم قومی و بین الاقوامی خبروں کا جامع خلاصہ فراہم کرنا تھا۔ جلد ہی یہ میگزین امریکی میڈیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کرنے لگا۔نیوزویک نے بیسویں صدی کے اہم واقعات جیسے دوسری عالمی جنگ، سرد جنگ، ویتنام جنگ اور سول رائٹس موومنٹ کی رپورٹنگ میں فعال کردار ادا کیا۔ اس کے تحقیقی مضامین اور عالمی تجزیے اسے ٹائم میگزین کا بڑا حریف بناتے رہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی اشاعت پرنٹ سے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی طرف منتقل ہوگئی۔کوسووکی آزادی 17 فروری 2008ء کو کوسوو کی اسمبلی نے سربیا سے آزادی کا اعلان کیا۔ یہ اقدام بلقان کی طویل نسلی و سیاسی کشمکش کے پس منظر میں سامنے آیا۔ 1990ء کی دہائی میں یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد کوسوو میں البانوی اکثریت اور سرب اقلیت کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا تھا۔1998-99ء میں مسلح تصادم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بعد نیٹو نے مداخلت کی اور اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں انتظام قائم ہوا۔تقریباً ایک دہائی بعد کوسوو کی قیادت نے یکطرفہ طور پر آزادی کا اعلان کیا۔

سمندروں کی نگرانی مصنوعی ذہانت کے سپرد

سمندروں کی نگرانی مصنوعی ذہانت کے سپرد

نئی ٹیکنالوجی''فی یو 1.0‘‘ سے موسمیاتی تبدیلی کی بروقت پیشگوئی ممکنمصنوعی ذہانت کے میدان میں چین نے ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اسمارٹ سمندری پیش گوئی کیلئے ایک جدید اور انقلابی اے آئی ماڈل متعارف کرا دیا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف سائنسی و تکنیکی دنیا میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے بلکہ عالمی سطح پر ماحولیاتی تحفظ، سمندری وسائل کے بہتر استعمال اور قدرتی آفات سے بروقت بچاؤ کے امکانات کو بھی نئی جہت فراہم کرتی ہے۔ سمندر، جو زمین کے موسمی نظام میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، اب جدید ڈیجیٹل ذہانت کی مدد سے زیادہ درست اور قابلِ اعتماد انداز میں سمجھے اور پیش گوئی کیے جا سکیں گے۔ یہ ماڈل موسمیاتی تبدیلی، سمندری طوفانوں، لہروں اور درجہ حرارت میں آنے والی تبدیلیوں کی پیشگی اطلاع دے کر انسانی جان و مال کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں چین نے ایک اور نمایاں سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ سمندری تحقیق اور موسمی پیش گوئی کے شعبے میں ایک جدید اور انقلابی مصنوعی ذہانت ماڈل ''فی یو۔1.0‘‘ (Feiyu-1.0) کا باضابطہ اجرا جنوبی چین کے شہر گوانگژو میں کیا گیا، جسے ماہرین مستقبل کی سمندری پیش گوئی کا نیا رخ قرار دے رہے ہیں۔ یہ ماڈل نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ماحولیاتی تحفظ، قدرتی آفات سے نمٹنے اور سمندری وسائل کے مؤثر استعمال کے حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔''فی یو۔1.0‘‘ دراصل ایک دو طرفہ مربوط ہواو سمندر (Air-Sea Coupled) مصنوعی ذہانت ماڈل ہے، جسے خصوصی طور پر بحیرہ جنوبی چین کی جغرافیائی، موسمی اور سمندری خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ اس ماڈل کی تیاری میں چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے تحت کام کرنے والے ساؤتھ چائنا سی انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانولوجی اور چائنا یونیورسٹی آف پیٹرولیم (ایسٹ چائنا) نے مشترکہ طور پر تحقیق اور جدت کا مظاہرہ کیا ہے۔ماہرین کے مطابق، روایتی سمندری پیش گوئی کے ماڈلز عموماً پیچیدہ ڈیٹا، محدود رفتار اور کم درستگی جیسے مسائل کا شکار رہے ہیں، تاہم ''فی یو۔1.0‘‘ ان تمام کمزوریوں پر قابو پانے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ اس ماڈل میں جدید مصنوعی ذہانت الگورتھمز کو استعمال کرتے ہوئے سمندر اور فضا کے باہمی تعلق کو بیک وقت سمجھنے اور پیش گوئی کرنے کی صلاحیت پیدا کی گئی ہے، جو اسے دیگر ماڈلز سے ممتاز بناتی ہے۔''فی یو۔1.0‘‘ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی یہ صلاحیت ہے کہ یہ سمندر کی سطح کے درجہ حرارت، پانی میں نمکیات، سمندری دھاراؤں اور بڑے پیمانے پر سمندری گردش کو نہایت درست انداز میں ظاہر کر سکتا ہے۔ یہی عوامل سمندری موسم، طوفانوں اور ماحولیاتی نظام پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ماڈل کی پیش گوئیاں نہ صرف زیادہ درست ہیں بلکہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رفتاری سے دستیاب ہو سکتی ہیں۔اس جدید اے آئی ماڈل کے استعمال کے امکانات انتہائی وسیع ہیں۔ موسمیات کے شعبے میں فی یو۔1.0 طوفانوں، سمندری آندھیوں اور شدید موسمی تبدیلیوں کی بروقت پیش گوئی کر کے قدرتی آفات سے بچاؤ کے اقدامات کو مؤثر بنا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے ساحلی علاقوں میں رہنے والے افراد کو پیشگی خبردار کیا جا سکتا ہے، جس سے انسانی جانوں اور املاک کے نقصان کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ماہی گیری کے شعبے میں بھی یہ ماڈل ایک نعمت ثابت ہو سکتا ہے۔ ''فی یو۔1.0‘‘ ماہی گیروں کو محفوظ سمندری حالات کے بارے میں درست معلومات فراہم کر کے ان کی روزی روٹی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سمندری حادثات کے خطرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اسی طرح بحری جہاز رانی اور سمندری تجارت کیلئے بھی یہ ماڈل راستوں کی حفاظت اور موسمی خطرات سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ''فی یو۔1.0‘‘ کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ ماڈل پانی کے درجہ حرارت اور نمکیات جیسے عوامل کی نقل (Simulation) کر کے مرجانی چٹانوں (Coral Reefs) اور ماحولیاتی نظاموں پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے بروقت انتباہات جاری کر کے ان قیمتی قدرتی وسائل کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات ممکن ہو سکیں گے، جو موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہیں۔''فی یو۔ 1.0‘‘ کی ایک اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ یہ متحرک سمندری علمی نقشے (Dynamic Ocean Knowledge Graphs) تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ نقشے نہ صرف ماہرین اور محققین کیلئے مفید ہیں بلکہ عام لوگوں کو بھی سمندروں کے پیچیدہ نظام کو آسان انداز میں سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح یہ ماڈل سائنسی تحقیق کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔افتتاحی تقریب کے موقع پر موجود ماہرین اور سائنس دانوں نے اس بات پر زور دیا کہ ''فی یو۔1.0‘‘ محض ایک تکنیکی ایجاد نہیں بلکہ ذہین سمندری پیش گوئی کا ایک نیا تصور ہے۔ ان کے مطابق یہ ماڈل مستقبل میں عالمی سطح پر سمندری تحقیق، موسمیاتی مطالعات اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے، جس سے بین الاقوامی تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے۔یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی، سمندری آلودگی اور قدرتی آفات جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں ''فی یو۔1.0‘‘ جیسے جدید اے آئی ماڈلز نہ صرف سائنسی ترقی کی علامت ہیں بلکہ انسانیت کیلئے ایک امید کی کرن بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ چین کی یہ پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو اگر درست سمت میں استعمال کیا جائے تو قدرتی نظام کو سمجھنے اور محفوظ بنانے میں انقلابی کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ ''فی یو۔1.0‘‘ سمندری سائنس اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج کی ایک شاندار مثال ہے، جو مستقبل میں نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کے لیے سمندروں کے بہتر، محفوظ اور پائیدار استعمال کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

ماؤنٹ رش مور

ماؤنٹ رش مور

چار صدور، ایک پہاڑ ، قومی وحدت کی داستاندنیا میں کچھ یادگاریں ایسی ہوتی ہیں جو محض پتھر یا اینٹوں کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ پوری قوم کی تاریخ، نظریات اور جدوجہد کی علامت بن جاتی ہیں۔ امریکہ کی ریاست ساؤتھ ڈکوٹا کی بلیک ہلز پہاڑیوں میں واقع ماؤنٹ رش مور بھی ایسی ہی ایک عظیم الشان یادگار ہے، جہاں پہاڑ کی بلند و بالا چٹانوں پر چار امریکی صدور کے چہرے تراش کر انہیں ابدی دوام بخشا گیا ہے۔ یہ سنگی شاہکار نہ صرف فن تعمیر اور مجسمہ سازی کا نادر نمونہ ہے بلکہ امریکی قومی تشخص، جمہوری اقدار اور تاریخی ارتقا کی بھرپور عکاسی بھی کرتا ہے۔امریکہ کی ریاست ساؤتھ ڈکوٹا کی بلیک ہلز پہاڑیوں میں واقع ماؤنٹ رش مور دنیا کے مشہور ترین قومی یادگاروں میں شمار ہوتا ہے۔یہ مشہور قومی یادگار پہاڑ کی گرینائٹ چٹان کو تراش کر بنائی گئی ہے۔ جس پر چار ممتاز صدورجارج واشنگٹن (George Washington)، تھومس جیفرسن (Thomas Jefferson)، تھیوڈور روز ویلٹ(Theodore Roosevelt) اور ابراہم لنکن(Abraham Lincoln) کے 60 فٹ (18 میٹر) بلند سروں کی نقش گری کی گئی ہے۔ ان صدور کا انتخاب بالترتیب قوم کی بنیاد، توسیع، ترقی اور تحفظ کی نمائندگی کے طور پر کیا گیا۔یہ عظیم الشان سنگی مجسمے نہ صرف امریکہ کی سیاسی تاریخ کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ قومی وحدت، جمہوریت اور آزادی کی علامت بھی سمجھے جاتے ہیں۔ماؤنٹ رش مور ہر سال دو ملین (20 لاکھ) سے زائد سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یادگاری پارک کا رقبہ 1,278 ایکڑ (تقریباً 2 مربع میل) پر محیط ہے، جبکہ پہاڑ کی بلندی سطح سمندر سے 5725 فٹ (1745 میٹر) ہے۔بورگلم (Borglum)نے ماؤنٹ رش مور کا انتخاب جزوی طور پر اس لیے کیا کیونکہ یہ جنوب مشرق کی سمت رخ کیے ہوئے ہے، جس سے زیادہ سے زیادہ دھوپ حاصل ہوتی ہے۔ اس یادگار کا خیال ساؤتھ ڈکوٹا کے ریاستی مورخ ڈوان رابنسن نے پیش کیا تھا۔ ابتدا میں رابنسن چاہتے تھے کہ اس مجسمے میں امریکی مغرب کے ہیروز جیسے لیوس(Lewis) اور کلارک(Clark)، ان کی رہنما ساکاگاویہ (Sacagawea)، ریڈ کلاؤڈ( Red Cloud)، بفیلو بل کوڈی (Buffalo Bill Cody)اور کریزی ہارس(Crazy Horse) کو شامل کیا جائے۔ تاہم بورگلم نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ یادگار علاقائی کے بجائے قومی سطح کی ہونی چاہیے اور یوں چار صدور کا انتخاب کیا گیا۔ساؤتھ ڈکوٹا سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر پیٹر نوربیک نے اس منصوبے کی سرپرستی کی اور وفاقی فنڈنگ حاصل کی۔ تعمیراتی کام 1927ء میں شروع ہوا اور صدور کے چہرے 1934ء سے 1939ء کے درمیان مکمل کیے گئے۔ مارچ 1941ء میں بورگلم کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے لنکن نے تعمیراتی منصوبے کی قیادت سنبھالی۔ ابتدا میں ہر صدر کو سر سے کمر تک دکھانے کا ارادہ تھا، مگر فنڈز کی کمی کے باعث 31 اکتوبر 1941ء کو تعمیر روک دی گئی، اور صرف جارج واشنگٹن کے مجسمے میں ٹھوڑی سے نیچے کچھ تفصیل موجود ہے۔ماؤنٹ رش مور کی یہ یادگار اس زمین پر تعمیر کی گئی جو 1870ء کی دہائی میں سیوکس قوم ( Sioux Nation) سے لے لی گئی تھی۔ سیوکس آج بھی اس زمین کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 1980ء میں امریکی سپریم کورٹ نے'' United States v. Sioux Nation of Indians‘‘ مقدمے میں فیصلہ دیا کہ بلیک ہلز کا قبضہ غیر منصفانہ تھا اور بطور معاوضہ 102 ملین ڈالر دینے کا حکم دیا۔ تاہم سیوکس قوم نے رقم لینے سے انکار کرتے ہوئے زمین کی واپسی کا مطالبہ برقرار رکھا ہے۔ یہی تنازع آج بھی جاری ہے، جس کے باعث بعض ناقدین اس یادگار کو ‘‘منافقت کا مزار'' بھی قرار دیتے ہیں۔مجموعی طور پر ماؤنٹ رش مور ایک ایسا فن پارہ ہے جو سنگِ گراں میں تراشی گئی تاریخ کی کتاب کی مانند ہے۔ یہ یادگار آنے والی نسلوں کو ماضی کی جدوجہد، قیادت اور قومی تعمیر کے اسباق یاد دلاتی رہے گی۔

کامیابی کی دوڑ اور بڑھتا ہوا حسد

کامیابی کی دوڑ اور بڑھتا ہوا حسد

انسانی معاشرہ بظاہر ترقی، خوشحالی اور باہمی تعاون کی بنیاد پر قائم دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے باطن میں بعض منفی جذبات بھی پائے جاتے ہیں جو فرد اور سماج دونوں کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ انہی میں سے ایک خطرناک جذبہ حسد ہے، جو دل کی گہرائیوں میں جنم لے کر رفتہ رفتہ انسان کے سکون، تعلقات اور اخلاقی قدروں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ حسد وہ کیفیت ہے جس میں انسان دوسروں کی نعمت، کامیابی یا خوش حالی کو دیکھ کر دل میں تنگی محسوس کرتا اور اس کے زوال کی تمنا کرنے لگتا ہے۔حسد دراصل وہ کیفیت ہے جس میں انسان دوسروں کی کامیابی یا خوش حالی دیکھ کر دل میں تنگی محسوس کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ نعمت اس سے چھن جائے۔ یہ جذبہ بظاہر معمولی دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اثرات نہایت گہرے اور تباہ کن ہوتے ہیں۔ جب معاشرے میں کامیابی کا معیار صرف دولت، شہرت اور ظاہری چمک دمک بن جائے تو لوگ اپنی ذات کا موازنہ دوسروں سے کرنے لگتے ہیں۔ یہی تقابل رفتہ رفتہ احساسِ کمتری اور پھر حسد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید ہوا دی ہے۔ لوگ اپنی زندگی کے بہترین لمحات، کامیابیاں اور آسائشیں نمایاں انداز میں پیش کرتے ہیں، جبکہ مشکلات اور ناکامیاں پس منظر میں رہتی ہیں۔ نتیجتاً دیکھنے والا اپنی عام سی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ ہر انسان کا سفر مختلف ہے اور ہر کامیابی کے پیچھے ایک طویل جدوجہد پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب یہ شعور کمزور پڑتا ہے تو دل میں حسد کے بیج اگنے لگتے ہیں۔حسد نہ صرف دوسروں کیلئے نقصان دہ ہے بلکہ حسد کرنے والے کیلئے بھی ایک اندرونی عذاب ہے۔ یہ دل کا سکون چھین لیتا ہے، ذہنی دباؤ میں اضافہ کرتا ہے اور انسان کو مسلسل بے چینی میں مبتلا رکھتا ہے۔ حسد کرنے والا کبھی مطمئن نہیں رہتا، کیونکہ اسے ہر جگہ کوئی نہ کوئی خود سے آگے نظر آتا ہے۔ یوں وہ اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں استعمال کرنے کے بجائے منفی خیالات میں الجھا رہتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اس بڑھتے ہوئے حسد کا علاج کیا ہے؟ سب سے پہلے ہمیں کامیابی کے مفہوم کو درست کرنا ہوگا۔ کامیابی صرف دولت یا شہرت کا نام نہیں، بلکہ کردار کی بلندی، اطمینانِ قلب اور معاشرے کیلئے مفید ہونا بھی کامیابی ہے۔ جب ہم اپنی توجہ دوسروں سے ہٹا کر اپنی ذات کی بہتری پر مرکوز کریں گے تو حسد کی گنجائش کم ہو جائے گی۔شکر گزاری بھی حسد کا مؤثر علاج ہے۔ جو شخص اپنی نعمتوں پر غور کرتا اور ان پر شکر ادا کرتا ہے، وہ دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر جلنے کے بجائے ان کے لیے خوش ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح مثبت سوچ، خود اعتمادی اور محنت پر یقین انسان کو اندر سے مضبوط بناتے ہیں۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ ہر کسی کا نصیب اور وقت مختلف ہے تو وہ تقابل کے جال سے نکل آتا ہے۔والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری بھی اہم ہے کہ وہ بچوں کو صرف اوّل آنے یا دوسروں سے آگے بڑھنے کی تعلیم نہ دیں، بلکہ اخلاق، برداشت اور دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونے کا درس بھی دیں۔ اگر معاشرے میں تعاون اور ہمدردی کی فضا قائم ہو تو کامیابی کی دوڑ صحت مند مقابلے میں بدل سکتی ہے۔

کرکٹ!

کرکٹ!

مرزا کو کرکٹ سے کتنی دلچسپی اور اس کی باریکیوں سے کس حد تک واقفیت ہے، ہمیں اس کا تھوڑابہت اندازہ پانچ سال قبل ہوا۔ ٹسٹ کا چوتھا دن تھا اور ایک سلو بولر بولنگ کر رہا تھا۔ اس کی کلائی ایک ادنیٰ اشارے، انگلیوں کی ایک خفیف سی حرکت پر گیند ناچ ناچ اٹھتی اور تماشائی ہر گیند پر کرسیوں سے اٹھ اٹھ کر داد دیتے اور داد دے کر باری باری ایک دوسرے کی گود میں بیٹھ جاتے۔ ہمارے پاس ہی ایک میم کے پیچھے کرسی پر آلتی پالتی مارے بیٹھا، بوڑھا پارسی تک، اپنے پوپلے منہ سے سیٹی بجا بجا کر بولر کا دل بڑھا رہا تھا۔ ادھر اسٹیڈیم کے باہر درختوں کی پھننگوں سے لٹکے ہوئے شائقین ہاتھ چھوڑ چھوڑ کر تالیاں بجاتے اور کپڑے جھاڑ کر پھر درختوں پر چڑھ جاتے تھے۔ ہر شخص کی نظریں گیند پر گڑی ہوئی تھیں۔ ایک بارگی بڑے زور سے تالیاں بجنے لگیں۔''ہائے! بڑے غضب کی گگلی ہے!‘‘ ہم نے جوش سے مرزا کا ہاتھ دبا کر کہا۔''نہیں یار! مدراسن ہے!‘‘ مرزا نے دانت بھینچ کر جواب دیا۔ہم نے پلٹ کر دیکھا تو مرزا ہی کی رائے صحیح نکلی، بلکہ بہت خوب نکلی۔ان کی دلچسپی کا اندازہ اس اہتمام سے بھی ہوتا ہے جو پچھلے تین برس سے ان کے معمولات میں داخل ہو چکا ہے۔ اب وہ بڑے چائو سے لدے پھندے ٹسٹ میچ دیکھنے جاتے ہیں۔ ڈیڑھ دو سیر بھنی مونگ پھلی، بیٹری کا ریڈیو اور تھرماس! (اس زمانے میں ٹرانزسٹر عام نہیں ہوئے تھے) یہاں ہم نے ناشتے دان، سگریٹ، دھوپ کی عینک اور اسپرو کی ٹکیوں کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ یہ تو ان لوازمات میں سے ہیں جن کے بغیر کوئی دور اندیش آدمی کھیل دیکھنے کاقصد نہیں کرتا۔ یوں تو تازہ اخبار بھی ساتھ ہوتا ہے مگر وہ اس سے چھتری کا کام لیتے ہیں۔ خود نہیں پڑھتے البتہ پیچھے بیٹھنے والے بار بار صفحہ الٹنے کی درخواست کرتے رہتے ہیں۔ دن بھر ریڈیو سے چمٹے کمنٹری سنتے رہتے ہیں بلکہ ہمارا خیال ہے کہ انہیں کمنٹری سننے سے زیادہ سنانے میں لطف آتا ہے۔ البتہ کمنٹری آنا بند ہو جائے تو کھیل بھی دیکھ لیتے ہیں۔ یا پھر اس وقت سر اٹھاکر فیلڈ کی طرف دیکھتے ہیں جب ریڈیو پر تالیوں کی آواز سے کانوں کے پردے پھٹنے لگیں۔ میچ کسی اور شہر میں ہورہا ہو تو گھر بیٹھے کمنٹری کے جوشیلے حصوں کوٹیپ پر ریکارڈ کرلیتے ہیں اور آئندہ ٹسٹ تک اسے سنا سنا کر اپنا اور دوسرے مسلمان بھائیوں کاخون کھولاتے رہتے ہیں۔جاہلوں کا ذکرنہیں، بڑے بڑوں کوہم نے اس خوش فہمی میں مبتلا دیکھا کہ زیادہ نہ کم پورے بائیس کھلاڑی کرکٹ کھیلتے ہیں۔ ہم قواعد و ضوابط سے واقف نہیں لیکن جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، اسی کی قسم کھاکر عرض کرتے ہیں کہ در حقیقت کرکٹ صرف ایک ہی شخص کھیلتا ہے۔ مگر اس کھیل میں یہ وصف ہے کہ بقیہ اکیس حضرات سارے سارے دن اس مغالطے میں مگن رہتے ہیں کہ وہ بھی کھیل رہے ہیں۔ حالانکہ ہوتا یہ ہے کہ یہ حضرات شام تک سارس کی طرح کھڑے کھڑے تھک جاتے ہیں اور گھر پہنچ کر اس تکان کو تندرستی سمجھ کر پڑ رہتے ہیں۔مرزا کہتے ہیں (ناممکن ہے کرکٹ کا ذکر ہواور بار بارمرزا کی دہائی نہ دینی پڑے) کہ کھیل، علی الخصوص کرکٹ، سے طبیعت میں ہار جیت سے بے نیازی کا جذبہ پید ا ہوتا ہے۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ جیتنے کیلئے واقعی کاوش و مزادلت درکار ہے۔ لیکن ہارنے کیلئے مشق و مہارت کی چنداں ضرورت نہیں کہ یہ مشکل مخالف ٹیم بالعموم خود آسان کر دیتی ہے۔اچھے اسکولوں میں شروع ہی سے تربیت دی جاتی ہے کہ جس طرح مرغابی پر پانی کی بوند نہیں ٹھیرتی، اسی طرح اچھے کھلاڑی پر ناکامی کا کوئی اثر نہیں ہونا چاہئے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ بعض کمزور طبیعتیں اس نصیحت کا اس قدر اثر لیتی ہیں کہ ہر قسم کے نتائج سے بے پروا ہو جاتی ہیں۔لیکن اگر ہم کھلے خزانے یہ اعتراف کر لیں کہ ہمیں جیت سے رنج اور ہار سے خوشی نہیں ہوتی تو کون سی عیب کی بات ہے؟ انگلستان کا بادشاہ ولیم فاتح اس سلسلہ میں کمال کی بے ساختگی و صاف دلی کی ایک مردہ مثال قائم کر گیا ہے جو آج بھی بعضوں کے نزدیک لائق توجہ وتقلید ہے۔ ہوا یہ کہ ایک دفعہ جب وہ شطرنج کی بازی ہار گیا تو آؤ دیکھا نہ تاؤ جھٹ چوبی بساط جیتنے والے کے سر پر دے ماری، جس سے اس گستاخ کی موت واقع ہو گئی۔ مورخین اس باب میں خاموش ہیں، مگر قیاس کہتا ہے کہ درباریوں نے یوں بات بنائی ہوگی، ''سرکار! یہ تو بہت ہی کم ظرف نکلا۔ جیت کی ذرا تاب نہ لا سکا۔ شادی مرگ ہو گیا‘‘۔یہی قصہ ایک دن نمک مرچ لگا کرہم نے مرزا کوسنایا۔ بگڑ گئے، کہنے لگے، ''آپ بڑافلسفہ چھانٹتے ہیں مگر یہ ایک فلسفی ہی کا قول ہے کہ کوئی قوم سیاسی عظمت کی حامل نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس نے کسی نہ کسی عہد میں اپنے کھیل کا لوہا نہ منوایا ہو‘‘۔ہم نے چھیڑا، ''مگر قومیں پٹ پٹ کرہی ہیکڑ ہوتی ہیں‘‘۔قوموں کو جہاں کا تہاں چھوڑ کر ذاتیات پر اتر ائے، جس شخص نے عمر بھراپنے دامن صحت کو ہرقسم کی کسرت اور کھیل سے بچائے رکھا، وہ غریب کھیل کی اسپرٹ کو کیا جانے،میں جانتا ہوں، تم جیسے تھڑو لے محض ہار کے ڈر سے نہیں کھیلتے۔ ایسا ہی ہے تو پرسوں صبح بغدادی جمخانہ آجائو، پھر تمہیں دکھائیں کرکٹ کیا ہوتا ہے‘‘۔