کوئلے کے کچرے سے قیمتی دھاتوں کا حصول
اسپیشل فیچر
سائنسی پیش رفت ریر ارتھ کی پیداوار دوگنا کر سکتی ہے
ایک حالیہ تحقیق نے توانائی اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی امید پیدا کر دی ہے۔ محققین نے ریئر ارتھ منزلز کو نکالنے کا ایسا جدید طریقہ وضع کیا ہے جو موجودہ طریقوں کے مقابلے میں ان معدنیات کی بازیابی کو دو سے تین گنا تک بڑھا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ یہ قیمتی عناصر کوئلے کی کانوں کے کچرے (Coal tailings) سے حاصل کیے جا سکتے ہیں، جو اَب تک ماحولیاتی بوجھ سمجھا جاتا تھا۔
رئیر ارتھ، جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد
یہ نایاب عناصر دراصل 17 دھاتی عناصر پر مشتمل گروپ ہے جن میں نیوڈیمیم، لینتھنم، سیریم اور دیگر عناصر شامل ہیں۔ یہ عناصر جدید معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں کی موٹریں، ونڈ ٹربائنز کے طاقتور مقناطیس، سمارٹ فونز، کمپیوٹر چپس، دفاعی نظام اور خلائی تحقیق، سب میں ان عناصر کا استعمال ناگزیر ہے۔خاص طور پر نیوڈیمیم سے بننے والے مضبوط مقناطیس قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا جب تیزی سے فوسل فیول سے گرین انرجی کی طرف بڑھ رہی ہے تو ان عناصر کی طلب میں بے مثال اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فراہمی، قیمت اور جغرافیائی کنٹرول عالمی سیاست اور معیشت میں اہم موضوع بن چکے ہیں۔
روایتی کان کنی کے مسائل
روایتی طریقوں سے ریئر ارتھ نکالنا نہایت مہنگا اور ماحولیاتی لحاظ سے نقصان دہ عمل ہے۔ کان کنی کے دوران زمین کی ساخت متاثر ہوتی ہے، پانی آلودہ ہو سکتا ہے اور کیمیائی فضلہ ماحول کیلئے خطرہ بنتا ہے۔ عالمی سطح پر ان عناصر کی پیداوار چند ممالک تک محدود ہے جس سے سپلائی چین غیر مستحکم ہو سکتی ہے۔اسی بنا پر سائنسدان متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں اور انہی میں سے ایک اہم ذریعہ کوئلے کی کانوں سے نکلنے والا کچرا ہے۔ یہ کچرا ڈھیروں کی صورت میں جمع رہتا ہے اور ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتا ہے مگر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں ریئر ارتھ کی قابل ذکر مقدار موجود ہوتی ہے۔
اصل رکاوٹ کیا تھی؟
اگرچہ کوئلے کے فضلے میں یہ عناصر موجود ہوتے ہیں لیکن وہ معدنی ڈھانچے کے اندر مضبوطی سے بند ہوتے ہیں۔ روایتی کیمیائی عمل ان تک مکمل رسائی حاصل نہیں کر پاتے جس کے باعث بازیابی کی شرح کم رہتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ یہ ذریعہ معاشی طور پر مؤثر نہیں سمجھا جاتا تھا۔
نئی ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے؟
امریکہ کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے اس مسئلے کا حل ایک مربوط سائنسی طریقہ کار کی صورت میں پیش کیا ہے۔ اس میں تین بنیادی مراحل شامل ہیں جن میں الکلائن پری ٹریٹمنٹ، مائیکرو ویو حرارت اور نائٹرک ایسڈ کے ذریعے اخراج شامل ہے۔
الکلائن پری ٹریٹمنٹ
کوئلے کے کچرے کو ایک الکلائن محلول سے گزارا جاتا ہے جو معدنی ساخت میں کیمیائی تبدیلی پیدا کرتا ہے اور اسے نسبتاً نرم اور قابلِ تحلیل بناتا ہے۔
مائیکرو ویو حرارت
اس کے بعد مائیکرو ویو ہیٹنگ کی جاتی ہے۔ یہ حرارت مادے کے اندرونی حصوں تک یکساں طور پر پہنچتی ہے جس سے معدنی ذرات میں باریک مسام پیدا ہوتے ہیں اور اندر بند عناصر باہر آنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔
نائٹرک ایسڈ کے ذریعے اخراج
آخری مرحلے میں نائٹرک ایسڈ استعمال کیا جاتا ہے جو پہلے سے کمزور ہو چکے معدنی ڈھانچے سے نایاب عناصر کو مؤثر انداز میں الگ کر لیتا ہے۔تحقیق کے نتائج کے مطابق اس طریقے سے عناصر کی بازیابی دو سے تین گنا تک بڑھ گئی جو کہ ایک نمایاں سائنسی کامیابی ہے۔ اگر اس طریقے کو صنعتی پیمانے پر کامیابی سے استعمال کر لیا جائے تو اس کے کئی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جیسا کہ کوئلے کے مضر فضلے کو کارآمد وسائل میں تبدیل کیا جا سکے گا۔نئی کانوں کی ضرورت کم ہو سکتی ہے، جس سے زمین اور پانی کے وسائل محفوظ رہیں گے۔عالمی سپلائی چین میں تنوع پیدا ہوگا اور چند ممالک پر انحصار کم ہو گا۔کوئلے کا کچرا دوبارہ وسائل میں تبدیل ہو کر معیشت کا حصہ بنے گا۔تاہم یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ لیبارٹری میں حاصل ہونے والی کامیابی کو صنعتی سطح پر بروئے کار لانا آسان نہیں ہوتا۔ مختلف علاقوں کے کوئلے کے فضلے کی کیمیائی ساخت مختلف ہو سکتی ہے جس کیلئے الگ الگ حکمت عملی درکار ہوگی۔ مزید یہ کہ کیمیکلز کے استعمال اور توانائی کی لاگت کو معاشی طور پر قابلِ عمل بنانا بھی ایک اہم چیلنج ہے۔
دنیا بھر میں ریئر ارتھ منرلز کے حصول کیلئے نئے طریقوں پر تحقیق جاری ہے،یہ تمام کوششیں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ مستقبل کی معیشت میں وسائل کا پائیدار اور مؤثر استعمال کلیدی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ کوئلے کے کچرے سے نایاب عناصر کی مؤثر بازیابی کی یہ نئی سائنسی پیش رفت توانائی اور ٹیکنالوجی کے مستقبل کیلئے خوش آئند ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو عملی جامہ پہنانے میں مزید تحقیق اور سرمایہ کاری درکار ہے لیکن یہ واضح ہو چکا ہے کہ صنعتی فضلہ محض بوجھ نہیں بلکہ قیمتی وسائل کا ذخیرہ بھی ہو سکتا ہے۔یہ دریافت نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کی سمت ایک قدم ہے بلکہ عالمی معیشت اور گرین انرجی کے سفر میں بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔