لمبی عمر کا راز: غصے سے بچیں اور مثبت سوچ اپنائیں
اسپیشل فیچر
دنیا بھر میں لوگ طویل اور صحت مند زندگی گزارنے کے راز تلاش کرتے رہتے ہیں مگر بعض اوقات یہ راز نہایت سادہ ہوتا ہے۔ معروف امریکی اداکارDick Van Dyke جو اپنی 100 سالہ عمر کے قریب بھی متحرک اور خوش باش نظر آتے ہیں اپنی لمبی عمر کا راز ایک حیرت انگیز مگر سادہ عادت کو قرار دیتے ہیں اور وہ ہے: غصہ نہ کرنا اور مثبت رہنا۔یہ محض ایک ذاتی تجربہ نہیں بلکہ جدید سائنس بھی اس کی تائید کرتی ہے۔ڈک وان ڈائک کا کہنا ہے کہ وہ زندگی میں کبھی غصہ نہیں کرتے اور ہمیشہ مثبت سوچ کو اپناتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک عام سی بات لگتی ہے لیکن ماہرین کے مطابق اس کا انسانی صحت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مسلسل غصہ اور ذہنی دباؤ دل کی بیماریوں، فالج اور ذیابیطس جیسے امراض کے خطرات کو بڑھا دیتا ہے، جو دنیا میں قبل از وقت اموات کی بڑی وجوہات ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جو افراد اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہیں اور مثبت اندازِ فکر اپناتے ہیں وہ نہ صرف ذہنی طور پر مطمئن رہتے ہیں بلکہ جسمانی طور پر بھی زیادہ صحت مند ہوتے ہیں۔
سٹریس کے جسم پر اثرات
سائنس کے مطابق جب انسان مسلسل ذہنی دباؤ یا غصے کی حالت میں رہتا ہے تو اس کے جسم میں ایک خاص قسم کا کیمیائی ردِعمل پیدا ہوتا ہے جو دل اور خون کی نالیوں پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ حالت جسم کے خلیات کو بھی متاثر کرتی ہے، خاص طور پرٹیلومیئرز کو جو ہمارے ڈی این اے کی حفاظت کرتے ہیں۔ ٹیلومیئرز کے کمزور ہونے کا مطلب ہے کہ جسم تیزی سے بوڑھا ہونے لگتا ہے۔ اس کے برعکس پرُسکون اور مثبت ذہن رکھنے والے افراد میں یہ عمل سست ہو جاتا ہے جس سے صحت مند عمر میں اضافہ ممکن ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مثبت سوچ رکھنے والے افراد عام طور پر صحت مند عادات اپناتے ہیں۔ وہ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں، متوازن غذا کھاتے ہیں اور زندگی کے مسائل کو بہتر انداز میں ہینڈل کرتے ہیں۔خود ڈک وان ڈائک بھی بڑھاپے کے باوجود ہفتے میں کئی بار ورزش کرتے ہیں جو اُن کی جسمانی اور ذہنی صحت کو برقرار رکھنے میں مددگار ہے۔
غصہ نکالنا یا قابو کرنا؟
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ غصہ نکال دینا بہتر ہے، مگر تحقیق اس کے برعکس ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح جسم مزید تناؤ کی حالت میں رہتا ہے اور دل پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اس کے بجائے بہتر یہ ہے کہ آدمی گہری سانس لینے کی مشق کرے،دعا‘مراقبہ یا یوگا کرے،حالات کو ٹھنڈے دماغ سے سمجھے۔یہ طریقے نہ صرف غصے کو کم کرتے ہیں بلکہ مجموعی صحت پر بھی مثبت اثر ڈالتے ہیں۔
اگرچہ مثبت سوچ ایک اہم عنصر ہے لیکن لمبی عمر صرف اسی پر منحصر نہیں۔ جینیات، خوراک، ورزش اور طرزِ زندگی بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں مثلاً باقاعدہ جسمانی سرگرمی،متوازن غذا،سماجی روابط،ذہنی سکون۔یہ تمام عوامل مل کر ایک صحت مند اور طویل زندگی کی بنیاد بنتے ہیں۔ڈک وان ڈائک کی مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ لمبی عمر کے لیے کوئی پیچیدہ فارمولا ضروری نہیں۔ ایک سادہ سی عادت،غصے سے بچنا اور مثبت رہنا،انسان کی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی لا سکتی ہے۔جدید سائنس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ذہنی سکون اور خوش مزاجی نہ صرف دل کو مضبوط بناتی ہے بلکہ عمر کو بھی بڑھاتی ہے۔ اس لیے اگر ہم واقعی ایک طویل اور صحت مند زندگی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ اور رویے پر توجہ دینا ہوگی۔یاد رہے لمبی زندگی کا راز دواؤں میں نہیں بلکہ ہمارے رویے میں چھپا ہوا ہے۔