آج کا دن
اسپیشل فیچر
کیوبا کی آزادی
20 مئی 1902ء کو کیوبا نے باضابطہ طور پر آزادی حاصل کی۔ اس سے پہلے کیوبا پر سپین کی حکومت تھی، لیکن امریکی ہسپانوی جنگ کے بعد امریکہ نے وہاں کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ کئی برسوں کی سیاسی کشمکش اور جدوجہد کے بعد آخرکار کیوبا ایک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔کیوبا کی آزادی لاطینی امریکہ کی تاریخ میں اہم سنگِ میل تھی۔ اگرچہ آزادی کے بعد بھی امریکہ کا اثر و رسوخ کافی عرصے تک برقرار رہا لیکن اس واقعے نے کیوبا کے عوام میں قومی شناخت اور خودمختاری کا جذبہ مستحکم کیا۔ بعد میں یہی سیاسی حالات 1959ء کے کیوبن انقلاب کی بنیاد بنے، جس کی قیادت فیڈل کاسترو نے کی۔کیوبا کی آزادی کے بعد وہاں جمہوری حکومت قائم کی گئی مگر بیرونی مداخلت کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام کے مسائل موجود رہے۔ 20 مئی کو کیوبا کی تاریخ میں آزادی اور قومی خودمختاری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
واسکو ڈے گاما کی ہندوستان آمد
20 مئی 1498ء کو پرتگالی مہم جو واسکو ڈے گاما سمندری راستے سے ہندوستان کے شہر کالی کٹ پہنچا۔ یہ واقعہ دنیا کی تاریخ میں بہت اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ پہلی مرتبہ یورپ سے ہندوستان تک براہ راست سمندری راستہ دریافت ہوا۔ اس سے پہلے یورپی تاجر ایشیا تک زمینی راستوں یا عرب تاجروں کے ذریعے پہنچتے تھے جس میں بہت وقت اور خرچ آتا تھا۔ واسکو ڈے گاما کے اس سفر نے عالمی تجارت، سیاست اور نوآبادیاتی نظام کو مکمل طور پر بدل دیا۔واسکو ڈے گاما جولائی 1497ء میں پرتگال سے روانہ ہوا تھا۔ اُس نے افریقہ کے جنوبی کنارے راس امید (Cape of Good Hope) کو عبور کیا اور بحرِ ہند کے ذریعے ہندوستان پہنچا۔ اس کامیابی کے بعد پرتگال کو مصالحہ جات کی تجارت میں بے پناہ فائدہ حاصل ہوا۔ یورپی طاقتیں براہِ راست ہندوستان اور ایشیا سے تجارت کرنے لگیں۔ بعد میں پرتگالیوں نے گوا سمیت کئی علاقوں میں اپنی حکومت بھی قائم کی۔اس واقعے کے بعد یورپی اقوام مثلاً برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ بھی ایشیا کی طرف متوجہ ہوئیں۔ اس طرح نوآبادیاتی دور کا آغاز ہوا جس نے آنے والی کئی صدیوں تک ایشیا اور افریقہ کی سیاست پر اثر ڈالا۔
مورخین کے مطابق 20 مئی 1498ء عالمی تاریخ میں تجارت، بحری سفر اور بین الاقوامی تعلقات کے نئے دور کی شروعات تھی۔
نیلی جینز کا پیٹنٹ
20 مئی 1873ء کو Levi Strauss اور Jacob Davisنے نیلی جینز کے ڈیزائن کا باقاعدہ پیٹنٹ حاصل کیا۔ یہ بظاہر ایک سادہ تجارتی واقعہ تھا لیکن بعد میں یہ دنیا کی سب سے مشہور لباس صنعتوں میں شمار ہونے لگا۔ ابتدا میں یہ پتلون مزدوروں، کان کنوں اور کسانوں کے لیے تیار کی گئی تھی کیونکہ انہیں مضبوط اور دیرپا لباس کی ضرورت تھی۔جیکب ڈیوس نے خیال پیش کیا کہ پتلون کے کمزور حصوں، خاص طور پر جیبوں کے کناروں، پر تانبے کے Rivets لگائے جائیں تاکہ کپڑا جلد نہ پھٹے۔ لیوائی سٹراس نے اس خیال کو مالی مدد فراہم کی اور دونوں نے مل کر پیٹنٹ حاصل کیا۔ یہی ڈیزائن بعد میں بلو جینزکے نام سے پوری دنیا میں مقبول ہوگیا۔اب جینز صرف مزدوروں کا لباس نہیں رہی بلکہ نوجوانوں اور عوام کا پسندیدہ لباس بن گئی، جس نے ایک کلچر کو جنم دیا۔ ہالی وڈ فلموں اور امریکی ثقافت نے بھی اس لباس کو عالمی شہرت دی۔ آج دنیا بھر میں مختلف رنگوں اور انداز کی جینز پہنی جاتی ہے لیکن اس کی اصل بنیاد 20 مئی 1873ء کے اسی پیٹنٹ میںہے۔
یہ واقعہ صنعتی ترقی، فیشن اور عالمی ثقافت کی تاریخ میں اہم مقام رکھتا ہے۔ ایک عام کام کے لباس نے بعد میں فیشن کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا۔
آشوٹز کیمپ میں قیدیوں کی آمد
20 مئی 1940ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازی جرمنی کے حراستی کیمپ آشوٹز میں پہلے قیدی لائے گئے۔ یہ کیمپ پولینڈ میں قائم کیا گیا تھا جہاںلاکھوں افراد خصوصاً یہودیوں کو قید کیا گیا اور قتل کیا گیا۔آشوٹز کیمپ ابتدا میں سیاسی قیدیوں کے لیے بنایا گیا تھا لیکن جلد ہی یہ نازی نسل پرستانہ پالیسیوں کا مرکز بن گیا۔ یہاں گیس چیمبرز بھی بنائے گئے جہاں قیدیوں کو اجتماعی طور پر قتل کیا جاتا تھا۔ اندازوں کے مطابق تقریباً گیارہ لاکھ افراد اس کیمپ میں مارے گئے جن میں زیادہ تر یہودی تھے۔ اس کے علاوہ پولش شہری، خانہ بدوش، معذور افراد اور جنگی قیدی بھی اس حراستی مرکز میں قید رہے۔20 مئی 1940ء کی تاریخ اس لیے اہم ہے کیونکہ اسی دن سے آشوٹز کے ظلم و بربریت کا باقاعدہ آغاز سمجھا جاتا ہے۔ بعد میں اتحادی افواج نے 1945ء میں اس کیمپ کو آزاد کروایا، اور دنیا کے سامنے نازی مظالم کی ہولناک حقیقت آئی۔یہ واقعہ انسانیت کے لیے ایک بڑا سبق ہے۔
چارلس لنڈبرگ کی تاریخی پرواز
20 مئی 1927ء کو امریکی ہوا باز چارلس لنڈ برگ نے دنیا کی پہلی اکیلی اور بغیر رکے بحرِ اوقیانوس عبور کرنے والی پرواز شروع کی۔ وہ نیویارک سے ایک چھوٹے جہاز میں روانہ ہوا اور تقریباً 33 گھنٹے بعد پیرس پہنچا۔ یہ ہوا بازی کی تاریخ کا ایک عظیم کارنامہ تھا۔اس زمانے میں ہوائی سفر ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا اور طویل فاصلے کی پروازیں انتہائی خطرناک سمجھی جاتی تھیں۔ لنڈبرگ نے اکیلے سفر کرکے یہ ثابت کیا کہ طویل فضائی سفر ممکن ہے۔ اس کامیابی کے بعد پوری دنیا میں ہوائی سفر کے شعبے میں زبردست ترقی ہوئی۔ لوگوں کا اعتماد بڑھا اور نئی ایئر لائنز قائم ہونے لگیں۔لنڈبرگ کی کامیابی نے امریکہ کو بھی عالمی سطح پر سائنسی اور تکنیکی طاقت کے طور پر نمایاں کیا۔ اسے عالمی شہرت ملی اور وہ قومی ہیرو بن گیا۔ اس کے جہاز کو آج بھی امریکہ کے عجائب گھر میں محفوظ رکھا گیا ہے۔20 مئی 1927ء کی یہ پرواز جدید فضائی سفر کی بنیادوں میں شمار ہوتی ہے۔ اگرچہ آج ہوائی سفر عام بات ہے، لیکن اس کامیابی نے اس میدان میں نئی راہیں کھولیں اور دنیا کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔