بچوں کے دانتوں کی پراسرار بیماری
اسپیشل فیچر
بچوں کے مستقل دانت نکلتے ہی بد رنگ، کمزور اور بھربھرے ہو جاتے ہیں
بچوں کی مسکراہٹ ان کی صحت، اعتماد اور خوشی کی علامت سمجھی جاتی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں دنیا کے مختلف ممالک میں دانتوں کی ایک ایسی پراسرار بیماری تیزی سے سامنے آ رہی ہے جس نے ماہرین صحت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس بیماری کے باعث بچوں کے مستقل دانت نکلتے ہی بد رنگ، کمزور اور بھربھرے ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ معمولی دباؤ یا چبانے کے دوران بھی ٹوٹنے لگتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف صفائی کی کمی یا زیادہ میٹھا کھانے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے پس پردہ کئی پیچیدہ حیاتیاتی اور ماحولیاتی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔ ماہرین اس بیماری کی وجوہات جاننے کیلئے مسلسل تحقیق کر رہے ہیں، کیونکہ اگر بروقت اس کی تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو بچوں کی خوراک، بولنے کی صلاحیت، اعتماد اور مجموعی صحت پر دیرپا منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس بڑھتے ہوئے طبی مسئلے نے والدین، دانتوں کے ڈاکٹروں اور محققین سب کو ایک نئے چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچوں کی ایک بڑی تعداد دانتوں کی ایک کم معروف بیماری کا شکار ہو رہی ہے، جس کے باعث ان کے دانت زرد، کمزور اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس بیماری کو ''مولر اِنسائزر ہائپو منرلائزیشن‘‘ (molar incisor hypomineralisation ) کہا جاتا ہے۔ اس میں دانتوں کی حفاظتی بیرونی تہہ، یعنی اینیمل (Enamel)، مناسب طور پر مضبوط نہیں بن پاتی، جس کے نتیجے میں دانت کمزور ہو جاتے ہیں اور ان میں کیڑا لگنے یا ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس بیماری کو عام طور پر ''چاک جیسے دانت‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ متاثرہ دانت معمول سے زیادہ نرم اور بھربھرے ہوتے ہیں۔ اس کی علامات اس وقت ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں جب تقریباً چھ سال کی عمر سے بچے کے مستقل دانت نکلتے ہیں۔ شدید نوعیت کے مریضوں میں دانت اتنے نازک ہو جاتے ہیں کہ نکلنے کے صرف چند ماہ بعد ہی ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بچوں کو برسوں تک دانتوں کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں بار بار فلنگ کروانا، دانت نکلوانا اور طویل المدتی و مہنگا علاج شامل ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ بیماری دانت صاف نہ کرنے، زیادہ چینی کھانے یا روزمرہ کی ناقص عادات کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ اس کی اصل وجہ زندگی کے ابتدائی مراحل میں دانتوں کے اینیمل کی تشکیل میں خرابی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گزشتہ چند دہائیوں میں دانتوں کی صفائی سے متعلق عام خرابیوں اور کیڑے لگنے کے واقعات میں کمی آئی ہے، لیکن ''مولر اِنسائزر ہائپو منرلائزیشن‘‘ (MIH) کی تشخیص پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہونے لگی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بیماری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس بیماری کو پہلی بار 1980ء کی دہائی میں شناخت کیا گیا تھا، لیکن آج اندازاً ہر چھ میں سے ایک بچہ اس عارضے کا شکار ہے۔ اسکینڈے نیوین ممالک میں صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ ناروے کے سائنسدانوں کی حالیہ تحقیق کے مطابق اس خطے میں تقریباً ہر تین میں سے ایک بچہ اس بیماری سے متاثر ہے۔
برطانوی ماہرین دندان سازی کا کہنا ہے کہ ان کے کلینکس میں ''مولر اِنسائزر ہائپو منرلائزیشن‘‘ کے شکار بچوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ بیماری بچوں کیلئے کھانا کھانے، مشروبات پینے اور یہاں تک کہ دانت صاف کرنے کے عمل کو بھی انتہائی تکلیف دہ بنا سکتی ہے۔ تاہم سائنس دان اب تک اس بیماری کی اصل وجہ جاننے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔
شیفیلڈ یونیورسٹی میں بچوں کے دانتوں کی ماہر اور پروفیسر ڈاکٹر ہیلن راڈ کا کہنا ہے کہ ہمیں ابھی تک معلوم نہیں کہ یہ بیماری کیوں ہو رہی ہے۔ اس کا تعلق بچوں کے دانتوں کی صفائی یا دیکھ بھال سے نہیں، کیونکہ یہ دانت پیدائش کے وقت ہی بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ جب تقریباً چھ سال کی عمر میں مستقل دانت نکلتے ہیں تو وہ پہلے ہی بد رنگ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں، مگر ہم اس کی واضح وجہ بیان نہیں کر سکتے۔
اسی طرح نیوکاسل یونیورسٹی میں بچوں کے دانتوں کے کلینیکل لیکچرر اور برٹش سوسائٹی آف پیڈیاٹرک ڈینٹسٹری کے ترجمان پروفیسر گریگ ٹیلر کے مطابق اصل مسئلہ دانتوں میں موجود معدنیات کی مقدار سے متعلق ہے۔ دانتوں کی بیرونی حفاظتی تہہ، جسے اینیمل کہا جاتا ہے، انسانی جسم کا سب سے مضبوط مادہ ہے۔ یہ زیادہ تر معدنیات، خصوصاً کیلشیم اور فاسفیٹ، پر مشتمل ہوتی ہے۔ لیکن ''ایم آئی ایچ‘‘سے متاثرہ بچوں میں اینیمل میں ان معدنیات کی مقدار معمول سے کم جبکہ پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اس وجہ سے اینیمل کمزور، نرم اور زیادہ مسام دار (Porous) بن جاتا ہے۔ متاثرہ دانتوں کے چھوٹے چھوٹے حصے آسانی سے ٹوٹ کر الگ ہو سکتے ہیں، جبکہ ان کا رنگ بھی اردگرد کے صحت مند دانتوں سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ رنگ دھبے دار سفید، کریمی، زرد یا بھورے رنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
طبی تعریف کے مطابق ''مولر اِنسائزر ہائپو منرلائزیشن‘‘ سب سے پہلے مستقل داڑھوں (پہلی مولر) کو متاثر کرتی ہے، جو عموماً بچے کی چھ سال کی عمر میں نکلتی ہیں۔ اس کے بعد تقریباً ایک سال کے اندر سامنے کے اوپری مستقل دانت (اِنسائزر) بھی اس بیماری سے متاثر ہو سکتے ہیں۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر متاثرہ بچے کے تمام متعلقہ دانت اس بیماری کا شکار ہوں۔