دی شارڈ
اسپیشل فیچر
یورپ کی فضاؤں سے ہم کلام عظیم شاہکار
انسان نے جب سے تعمیرات کے فن میں مہارت حاصل کی ہے، تب سے وہ آسمان کو چھونے کی آرزو لئے نت نئی اور بلند و بالا عمارتیں تعمیر کرتا چلا آ رہا ہے۔ جدید دور میں فلک بوس عمارتیں صرف رہائش یا کاروبار کا ذریعہ نہیں رہیں بلکہ وہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی، فنی مہارت، انجینئرنگ کی صلاحیت اور شہری منصوبہ بندی کی آئینہ دار بن چکی ہیں۔ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں واقع ''دی شارڈ‘‘ بھی جدید تعمیراتی فن کا ایک ایسا ہی بے مثال شاہکار ہے، جو اپنی منفرد ساخت، شیشے سے مزین دلکش بیرونی خدوخال اور فلک بوس بلندی کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ 5 جولائی 2012ء کو افتتاح کے بعد یہ عمارت 310 میٹر (1,020 فٹ) کی بلندی کے ساتھ یورپ کی بلند ترین عمارت بن گئی اور آج بھی لندن کی شناخت سمجھی جاتی ہے۔
''دی شارڈ‘‘ دریائے ٹیمز کے جنوبی کنارے پر لندن برج کے قریب واقع ہے۔ اس مقام کا انتخاب اس لیے کیا گیا تاکہ لندن کے تاریخی اور جدید حصوں کو ایک دوسرے سے بہتر انداز میں جوڑا جا سکے۔ اس منصوبے کا مقصد صرف ایک بلند عمارت تعمیر کرنا نہیں تھا بلکہ ایسا شہری مرکز قائم کرنا تھا جہاں رہائش، تجارت، سیاحت اور تفریح کی تمام جدید سہولتیں ایک ہی مقام پر دستیاب ہوں۔
''دی شارڈ‘‘ کا ڈیزائن عالمی شہرت یافتہ اطالوی معمار رینزو پیانو نے تیار کیا۔ ان کے مطابق اس عمارت کی ساخت چرچ کے میناروں، بحری جہازوں کے بادبانوں اور آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے شیشے کے ایک نوکیلے ٹکڑے سے متاثر ہے۔ اسی مناسبت سے اس کا نام ''دی شارڈ‘‘ رکھا گیا، جس کا مطلب شیشے کا نوکیلا ٹکڑا ہے۔ عمارت کے بیرونی حصے میں ہزاروں شیشے کے پینل نصب کیے گئے ہیں جو دن کے مختلف اوقات میں سورج کی روشنی اور موسم کے مطابق اپنا رنگ بدلتے محسوس ہوتے ہیں، جس سے یہ عمارت مزید دلکش دکھائی دیتی ہے۔
تقریباً 310 میٹر بلند اس عمارت میں 95منزلیں ہیں، جن میں سے 72 منزلیں قابلِ استعمال ہیں۔ اس میں جدید دفاتر، پرتعیش رہائشی اپارٹمنٹس، عالمی معیار کا ہوٹل، اعلیٰ درجے کے ریستوران، کانفرنس ہال اور عوام کیلئے خصوصی مشاہداتی گیلری قائم کی گئی ہے۔ عمارت کی بالائی منزلوں پر موجود مشاہداتی پلیٹ فارم سے لندن شہر کا تقریباً 65کلومیٹر تک پھیلا ہوا دلکش منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ صاف موسم میں دریائے ٹیمز، لندن آئی، ٹاور برج، سینٹ پال کیتھیڈرل اور دیگر تاریخی عمارتیں نہایت خوبصورتی سے نظر آتی ہیں۔
دی شارڈ جدید انجینئرنگ کا بھی ایک شاندار نمونہ ہے۔ اس کی تعمیر میں مضبوط فولادی ڈھانچے، اعلیٰ معیار کے کنکریٹ اور توانائی بچانے والے جدید شیشے استعمال کیے گئے ہیں۔ عمارت کی بیرونی سطح اس انداز سے تیار کی گئی ہے کہ قدرتی روشنی زیادہ سے زیادہ اندر داخل ہو سکے، جبکہ حرارت کا ضیاع کم سے کم ہو۔ اس کے باعث توانائی کی بچت ہوتی ہے اور ماحول پر بھی نسبتاً کم منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دی شارڈ کو جدید اور ماحول دوست تعمیرات کی ایک کامیاب مثال بھی قرار دیا جاتا ہے۔
معاشی اعتبار سے بھی دی شارڈ نے لندن کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی تعمیر کے دوران ہزاروں افراد کو روزگار ملا، جبکہ افتتاح کے بعد بھی دفاتر، ہوٹل، ریستوران اور دیگر کاروباری مراکز میں بڑی تعداد میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے۔ دنیا بھر کی متعدد بین الاقوامی کمپنیاں یہاں اپنے دفاتر قائم کر چکی ہیں، جس سے لندن کی حیثیت ایک عالمی تجارتی مرکز کے طور پر مزید مضبوط ہوئی ہے۔
سیاحت کے میدان میں بھی ''دی شارڈ‘‘ ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ ہر سال لاکھوں ملکی اور غیر ملکی سیاح اس عمارت کا رخ کرتے ہیں۔ دن کے وقت اس کی شفاف شیشے کی دیواریں سورج کی روشنی میں چمکتی ہیں، جبکہ رات کے وقت جدید روشنیوں سے مزین یہ عمارت لندن کے افق پر ایک روشن مینار کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ کرسمس، نئے سال اور دیگر قومی تقریبات کے دوران دی شارڈ پر خصوصی روشنیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، جو شہر کی رونق میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔
اگرچہ یورپ میں وقتاً فوقتاً نئی فلک بوس عمارتیں تعمیر ہوتی رہتی ہیں، تاہم دی شارڈ اپنی منفرد شناخت، فن تعمیر، سیاحتی اہمیت اور جدید سہولتوں کے باعث آج بھی دنیا کی نمایاں عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید انجینئرنگ، تخلیقی سوچ اور مؤثر منصوبہ بندی کسی بھی شہر کو عالمی سطح پر منفرد شناخت دلا سکتی ہے۔
دی شارڈ محض شیشے اور فولاد کا ایک بلند ڈھانچہ نہیں بلکہ جدید برطانیہ کی ترقی، اختراع اور تعمیراتی مہارت کی علامت ہے۔ یہ عمارت اس حقیقت کی غماز ہے کہ جب فن، سائنس اور انجینئرنگ یکجا ہو جائیں تو انسان نہ صرف زمین پر حیرت انگیز تعمیرات تخلیق کر سکتا ہے بلکہ آسمان سے ہم کلام ہونے کا خواب بھی حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے۔