آج کا دن
اسپیشل فیچر
افغانستان کاہولناک زلزلہ
31اگست 2025ء کومشرقی افغانستان میں آنے والے ایک ہولناک اور شدید زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں 1400 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ زلزلے سے متعدد دیہات، مکانات اور عمارتیں منہدم ہوئیں جبکہ ہزاروں افراد متاثر اور بڑی تعداد میں زخمی ہو گئی۔ قدرتی آفت کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی اور ریسکیو کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اسپتالوں اور امدادی مراکز میں ہنگامی انتظامات کیے گئے، جبکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارکنوں نے بھرپور کوششیں جاری رکھیں۔
ملائیشیا کی آزادی
1957ء میں آج کے روز ملائیشیا نے برطانیہ کی نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی حاصل کی۔کوالالمپور کے میدانِ آزادی میں ایک عظیم الشان تقریب منعقد ہوئی جس میں برطانوی پرچم اتارا گیا اور ملائیشیا کا قومی پرچم لہرایا گیا۔ اس دن تْنکو عبد الرحمن ملک کے پہلے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ یہ دن آج بھی یومِ آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔یہ ملک دنیا کا 43 واں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔
روسی فوج کی واپسی
1994ء میں آج کے روز روس نے ایسٹونیا سے اپنی فوجی دستوں کا انخلا مکمل کیا۔ یہ اقدام روس اور ایسٹونیا کے درمیان تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ کئی مذاکرات اور طویل سفارتی کوششوں کے بعد روس نے اپنی فوجیں وہاں سے نکال لیں۔ اس انخلا سے ایسٹونیا کی خودمختاری اور آزادی مزید مستحکم ہوئی، جبکہ روس کے ساتھ اس کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
الآئمہ پل حادثہ
31اگست2005ء کو بغداد،عراق میں دریائے دجلہ پربنائے گئے الآئمہ پل پر بھگدڑ مچنے سے 953 افراد ہلاک ہوئے۔ بھگدڑ کے وقت لاکھوں زائرین مسجد الکاظمیہ کی طرف مارچ کر رہے تھے۔ بھگدڑ کی وجہ یہ افواہ بنی کہ مزار کے قریب خودکش دھماکہ ہوا ہے۔تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہجوم میں موجود ایک شخص نے دوسرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دھماکہ خیز مواد لے کر جا رہا ہے۔
ایس ایس ایڈمرل سمندر برد
ایس ایس ایڈمرل کو مارچ1925ء میں آپریشنل کیا گیااور یہ ایک مسافر بردار بحری جہاز تھا۔ 31 اگست 1986ء کو یہ جہاز روسی بندرگاہ کے قریب ایک بہت بڑے کیرئیر سے ٹکرا کرسمندر کی گہرائیوں میں چلا گیا۔ مجموعی طور پر جہاز میں1234افراد سوار تھے جس میں سے 423 ہلاک ہوگئے جبکہ دیگر کو بچا لیا گیا۔اس حادثے کو بحری جہازوں کے بڑے حادثات میں شمار کیا جاتا ہے۔
پنسلوینیا ائیر لائن حادثہ
31 اگست 1940ء کو پنسلوینیا سینٹرل ایئر لائنز کی فلائٹ ٹرپ 19 واشنگٹن سے ڈیٹرائٹ کیلئے طے شدہ پرواز تھی۔ جب جہاز6ہزار فٹ پر پرواز کر رہا تھا تواسے شدید طوفان کا سامنا کرنا پڑا۔ عینی شاہدین کے مطابق آسمانی بجلی کی ایک بڑی چمک دیکھی گئی جس کے کچھ ہی دیر بعد جہاز کریش کر گیا۔ ہلاک ہونے والے 21 مسافروں میں عملے کے 4 ارکان اور امریکی سینیٹر ارنسٹ لنڈین بھی شامل تھے۔