آج کا دن
اسپیشل فیچر
ہارورڈ کالج کا قیام
28 اکتوبر 1636ء کو امریکی ریاست میساچوسٹس کی نوآبادیاتی اسمبلی نے ایک تعلیمی ادارے کے قیام کے لیے مالی وسائل مختص کیے جس سے ہارورڈ کالج کی بنیاد پڑی۔ یہ ادارہ بعد میں ہارورڈ یونیورسٹی کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہوا۔ہارورڈ کے قیام کا بنیادی مقصد ایسے افراد تیار کرنا تھا جو مذہبی، تعلیمی اور سماجی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔ 1638ء میں جان ہارورڈ نامی ایک مذہبی رہنما نے اپنے اثاثوں اور کتابوں کا ایک اہم حصہ اس ادارے کے لیے وقف کیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں ادارے کا نام ہارورڈ رکھا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ کالج ایک بڑی یونیورسٹی میں تبدیل ہوا اور سائنس، طب، قانون، سیاست، معاشیات اور ادب سمیت متعدد شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
آزادی کے مجسمے کا افتتاح
28 اکتوبر 1886ء کو امریکہ کے صدر گروور کلیولینڈنے نیویارک میں آزادی کے مجسمے(Statue of Liberty)کا باضابطہ افتتاح کیا۔ یہ مجسمہ فرانس کی طرف سے امریکہ کو تحفے کے طور پر پیش کیا گیا تھا جس کا مقصد آزادی، جمہوریت اور دوستی کے مشترکہ اصولوں کو اجاگر کرنا تھا۔Liberty Enlightening the World کے عنوان سے یہ یادگار دنیا بھر میں آزادی اور انسانی وقار کی علامت بن گئی۔ اس کی تعمیر فرانسیسی مجسمہ ساز فریڈرک آؤگست بارتھولدی نے کی جبکہ اس کا ڈھانچہ مشہور انجینئر ایفل (Eiffel) نے تیار کیا۔ وقت کے ساتھ یہ امریکہ کی قومی پہچان بن گئی۔ 1984 ء میں اقوام متحدہ نے اسے عالمی ورثہ قرار دیا۔
مارچ آن روم
28 اکتوبر 1922ء کو فاشسٹ رہنما بینیٹو مسولینی نے اپنی پارٹی کے ہزاروں کارکنان کے ہمراہ اٹلی کے دارالحکومت روم کی طرف مارچ کیا۔ یہ مظاہرہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے تھا جس کے نتیجے میں بادشاہ وکٹر ایمینوئل سوم نے حکومت برطرف کر کے مسولینی کو وزیراعظم مقرر کر دیا۔ یہ دن اٹلی میں فاشزم کے آغاز کاثابت ہوا جس نے آنے والے برسوں میں یورپ کی سیاست پر گہرے اثرات ڈالے۔ مسولینی کی آمرانہ حکومت نے اٹلی کو نازی جرمنی کے قریب کیا اور بالآخر ملک دوسری جنگِ عظیم میں شامل ہو گیا۔ ''مارچ آن روم ‘‘کو آج بھی انتہا پسند سیاست کے ابھرنے کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے جو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کس طرح جمہوری نظام کمزور قیادت کے باعث آمریت میں بدل سکتا ہے۔
کیوبا میزائل بحران کاخاتمہ
28 اکتوبر 1962ء کو سوویت رہنما نکیتا خروشیف نے اعلان کیا کہ سوویت یونین کیوبا میں نصب کیے گئے میزائل واپس لے گا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی کیوبن میزائل بحران ختم ہوا، جو دنیا کو ایٹمی جنگ کے قریب لے آیا تھا۔ بحران اس وقت شروع ہوا جب امریکہ نے کیوبا میں سوویت بیلسٹک میزائل تنصیبات کا سراغ لگایا۔ صدر جان ایف کینیڈی نے بحری ناکہ بندی کا حکم دیا جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ 13 دن تک دنیا بھر میں خوف و ہراس کا عالم رہا۔ بالآخر خفیہ مذاکرات کے ذریعے معاہدہ طے پایا کہ سوویت یونین کیوبا سے میزائل ہٹائے گا اور امریکہ ترکی سے اپنے میزائل واپس لے گا۔ یہ بحران سرد جنگ کے دوران سفارتی فہم و فراست کی ایک کامیاب مثال بن گیا ۔جس نے عالمی سطح پر ایٹمی پالیسیوں پر گہرے اثرات ڈالے۔
انڈونیشیا کا یومِ نوجوانان
28 اکتوبر 1928ء کو انڈونیشیا کے نوجوانوں نے جکارتہ میں منعقدہ یوتھ کانگرس میں ایک تاریخی عہد کیا جسے (Sumpah Pemuda) یعنی ''نوجوانوں کا عہد‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس عہد میں نوجوانوں نے اعلان کیا کہ ہم ایک قوم، ایک وطن اور ایک زبان رکھتے ہیں ۔اس اتحاد نے انڈونیشیا کی قومی تحریک کو نئی جان بخشی۔ اُس وقت ملک ڈچ نوآبادیاتی تسلط میں تھا مگر نوجوانوں کے اس اتحاد نے آزادی کی راہ ہموار کی۔ یہی نظریہ بعد ازاں 1945 ء میں آزادی کے اعلان کی بنیاد بنا۔ آج بھی 28 اکتوبر کو انڈونیشیا میں یومِ نوجوانان کے طور پر منایا جاتا ہے جو حب الوطنی، اتحاد اور زبان و ثقافت کے احترام کی یاد دلاتا ہے۔