آج کا دن

آج کا دن

اسپیشل فیچر

تحریر :


کشمیر میں بھارتی فوجی مداخلت
27 اکتوبر 1947ء کو ریاست جموں وکشمیر کی تاریخ کے سیاہ دور کا آغاز ہوا جب بھارتی افواج نام نہاد الحاق کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر سری نگر میں اتریں اور ریاست پر قبضہ کر لیا ۔ بعد کے برسوں میں اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر زیرِ بحث آیا اور خطے میں جنگ بندی کی کوششیں ہوئیں تاہم بھارت اپنے غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھتے ہوئے جان بوجھ کر اقوام متحدہ کے چارٹر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر تا آ رہا ہے۔ 27 اکتوبر 1947ء کے غیر قانونی واقعے نے جنوبی ایشیا کی سیاست، سلامتی اور سفارتکاری پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ بین الاقوامی قانون بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں آبادیاتی تبدیلی بھی کی جا رہی ہے۔
جنرل ایوب خان کا اقتدار
27 اکتوبر 1958ء کو جنرل محمد ایوب خان نے صدر اسکندر مرزا کو اقتدار سے ہٹا کر ملک کی صدارت سنبھال لی۔ اس وقت پاکستان شدید سیاسی عدم استحکام، حکومتوں کی تبدیلی اور آئینی اختلافات کا سامنا کر رہا تھا۔ ملک کا پہلا آئین 1956ء میں نافذ ہوا لیکن سیاسی اداروں اور قیادت کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔7 اکتوبر 1958ء کو صدر اسکندر مرزا نے آئین منسوخ کر دیا، قومی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دیں، سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں ختم کر دیں اور ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ انہوں نے جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لا ء ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا تاہم چند ہی ہفتوں بعد دونوں میں اقتدار کی کشمکش شدت اختیار کر گئی۔ 27 اکتوبر کو ایوب خان نے اسکندر مرزا کو صدارت چھوڑنے پر مجبور کیا اورانہیں ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔
نیویارک سب وے
27 اکتوبر 1904ء کو امریکہ کے شہر نیویارک میں پہلی زیرِ زمین شہری ریلوے سروس کا افتتاح ہوا۔ یہ واقعہ جدید شہری نقل و حمل کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ افتتاح کے روز نیویارک کے میئر جارج میک کلیلن جونیئر نے پہلی نمائشی ٹرین چلائی۔ ابتدائی ریلوے لائن تقریباً 9.1 میل طویل تھی اور اس میں 28 سٹیشن شامل تھے۔ یہ لائن مین ہیٹن کے سٹی ہال سے شروع ہو کر گرینڈ سینٹرل اور ٹائمز سکوائر سے گزرتی ہوئی 145ویں سٹریٹ تک جاتی تھی۔اس منصوبے نے شہر کے مختلف علاقوں کے درمیان سفر کو آسان بنایا اور شہری زندگی، کاروبار اور رہائش کے انداز پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ آج نیویارک کا سب وے دنیا کے معروف ترین شہری ٹرانسپورٹ نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔
کیوبا میزائل بحران
27 اکتوبر 1962ء سرد جنگ کے خطرناک ترین دنوں میں سے ایک تھا۔ اس وقت امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان کیوبا میں سوویت میزائلوں کی تنصیب کے معاملے پر شدید کشیدگی جاری تھی اور امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے کیوبا کے گرد بحری ناکہ بندی نافذ کی جبکہ سوویت رہنما خروشیف کے ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری تھے۔27 اکتوبر کو بحران مزید سنگین ہو گیا جب امریکی فضائیہ کا یو2 جاسوس طیارہ کیوبا کے اوپر مار گرایا گیا اور اس کا پائلٹ میجر روڈولف اینڈرسن جونیئر ہلاک ہو گیا۔ 27 اکتوبر کو اس بحران کا خطرناک ترین دن قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس وقت کسی غلط اندازے یا غیر ارادی فوجی کارروائی کے تباہ کن نتائج نکل سکتے تھے۔
ترکمانستان کی آزادی
27 اکتوبر 1991ء کو وسطی ایشیا کی ریاست ترکمانستان نے سوویت یونین سے آزادی کا اعلان کیا۔ ترکمانستان طویل عرصے تک روسی سلطنت اور بعد ازاں سوویت نظام کا حصہ رہا۔ سوویت دور میں اسے ایک الگ سوویت جمہوریہ کی حیثیت حاصل تھی۔1991ء میں سوویت یونین میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا اور اگست میں ماسکو میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد مختلف سوویت جمہوریاؤں میں آزادی کی تحریکوں کو تقویت ملی۔ ترکمانستان میں 26 اکتوبر 1991ء کو آزادی کے معاملے پر ریفرنڈم منعقد ہوا۔97 فیصد سے زائد آبادی نے ریفرنڈم میں حصہ لیا اوررائے دہندگان میں 94 فیصد سے زائد نے آزادی کی حمایت کی۔ اگلے روز یعنی 27 اکتوبر کو ترکمانستان کی سپریم سوویت نے باضابطہ طور پر آزادی کا اعلان کر دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مصنوعی ذہانت،ترقی کی دوڑ اور تباہی کا خطرہ

مصنوعی ذہانت،ترقی کی دوڑ اور تباہی کا خطرہ

مصنوعی ذہانت (AI) اکیسویں صدی کی انقلابی ٹیکنالوجی بن کر ابھری ہے جس نے انسانی زندگی، معیشت، تعلیم، صحت، صنعت اور عالمی سیاست کے بنیادی تصورات کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ چند لمحوں میں پیچیدہ سوالات کے جواب دینا، بڑی مقدار میں معلومات کا تجزیہ کرنا، بیماریوں کی تشخیص میں مدد فراہم کرنا اور ایسے کام انجام دینا جو پہلے کئی گھنٹوں یا دنوں میں مکمل ہوتے تھے، اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے ممکن ہو رہا ہے۔ تاہم اس غیر معمولی ترقی کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی موجود ہے: کیا انسان اپنی تخلیق کردہ اس ٹیکنالوجی کو محفوظ رکھنے اور اس کے ممکنہ نقصانات کو روکنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے؟ سائنسی جریدے 'لائیو سائنس ‘میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں یونیورسٹی آف باتھ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اخِل بھردواج نے اسی سوال پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیاں ایک دوسرے کے ساتھ ایسی مسابقت میں الجھی ہوئی ہیں جہاں کسی ایک کی غیر ذمہ داری دوسروں کو بھی خطرات کی پروا کیے بغیر آگے بڑھنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صنعت کو جوہری توانائی کے شعبے کے تجربات سے سبق سیکھنا چاہیے، جہاں بڑے خطرات سے نمٹنے کے لیے نگرانی، باہمی تعاون اور حفاظتی ضوابط کا ایک نظام تشکیل دیا گیا۔ ترقی کی دوڑ اور اجتماعی خطراتمصنوعی ذہانت کی دنیا میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان مقابلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ہر ادارہ زیادہ طاقتور، تیز رفتار اور بہتر صلاحیتوں کے حامل ماڈل تیار کرکے مارکیٹ میں اپنی برتری قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس مقابلے کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ تحقیق میں سرمایہ کاری بڑھتی ہے اور نئی سہولتیں تیزی سے سامنے آتی ہیں۔ لیکن جب تجارتی مفادات اور سبقت حاصل کرنے کی خواہش حفاظتی اقدامات پر غالب آ جائے تو یہی دوڑ سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔فرض کریں کہ ایک کمپنی مصنوعی ذہانت کے کسی نئے نظام کو مکمل حفاظتی جانچ کے بغیر متعارف کرا دیتی ہے۔ اگر اس سے اسے کاروباری فائدہ حاصل ہوتا ہے تو حریف اداروں پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنے نظام جلد مارکیٹ میں لائیں۔ اس صورت میں ہر کمپنی یہ سوچ سکتی ہے کہ اگر اس نے احتیاط کے باعث تاخیر کی تو وہ مقابلے میں پیچھے رہ جائے گی۔ نتیجتاً انفرادی فیصلوں کا مجموعی اثر پوری صنعت اور معاشرے کے لیے خطرناک بن سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کو بجلی کے نیٹ ورک، پانی کی فراہمی، مالیاتی اداروں اور صحت کے شعبے میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر ان سسٹمز میں تکنیکی خرابی پیدا ہو، انہیں غلط معلومات فراہم کی جائیں یا ان کی صلاحیتوں کا غلط استعمال ہو تو نتائج محض مالی نقصان تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہاں اصل مسئلہ ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں بلکہ اس ترقی کے ساتھ ذمہ داری، احتیاط اور جوابدہی کو یقینی بنانا ہے۔جوہری صنعت سے کیا سبق ملتا ہے؟جوہری توانائی کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد حاصل کرنے کے لیے حفاظتی انتظامات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جوہری توانائی بجلی پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہے لیکن اس کے غلط استعمال یا حفاظتی نظام میں ناکامی کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے وقت کے ساتھ اس شعبے میں نگرانی، تربیت، تکنیکی معیارات اور بین الاقوامی تعاون کو بنیادی اہمیت حاصل ہوئی۔1979ء میں امریکہ کے تھری مائل آئی لینڈ جوہری بجلی گھر میں پیش آنے والے حادثے نے واضح کیا کہ آلات کے ڈیزائن میں خامیاں، انتباہی نظام کی کمزوریاں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی ناکافی تربیت بڑے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔اسی طرح 1986ء میں چرنوبل کا حادثہ جوہری توانائی کے شعبے کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس حادثے نے دنیا کو دکھایا کہ کسی ایک ادارے کی ناکامی کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔مصنوعی ذہانت اور جوہری توانائی میں فرق ضرور ہے مگرد دونوں شعبوں میں ایک بنیادی مماثلت موجود ہے، کہ کسی ایک فریق کی غلطی دوسروں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ نگرانی، شفافیت اور جوابدہی مصنوعی ذہانت کی صنعت میں خود ضابطہ کاری کا تصور اسی ضرورت سے جنم لیتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کمپنیاں صرف حکومتی قوانین کا انتظار کرنے کے بجائے اپنے لیے مشترکہ حفاظتی اصول بنائیں، ایک دوسرے کے سسٹمز کا جائزہ لیں اور ممکنہ خطرات کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کریں۔اخِل بھردواج کے مطابق اے آئی کے جدید اور طاقتور ماڈلز کو عام استعمال میں لانے سے پہلے آزادانہ جانچ، باہمی جائزے اور حفاظتی معیارات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا ئے۔ اگر کوئی سسٹم خطرناک صلاحیتوں کا حامل ہو تو اس کی خامیوں اور ممکنہ نقصانات کا جائزہ اس کے وسیع پیمانے پر استعمال سے پہلے لیا جانا چاہیے۔اس مقصد کے لیے آزاد ماہرین اورتھرڈ پارٹیز کو کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ کمپنیاں خود اپنی کارکردگی کا جائزہ لے کر اسے محفوظ قرار دینے تک محدود نہ رہیں۔حکومتوں اور عالمی برادری کی ذمہ داریمصنوعی ذہانت کی ترقی کسی ایک ملک یا کمپنی تک محدود نہیں، اس کے اثرات عالمی معیشت، قومی سلامتی اور انسانی زندگی کے متعدد شعبوں تک پھیل سکتے ہیں؛ چنانچہ اس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے قومی قوانین کے ساتھعالمی تعاون بھی ضروری ہے۔حکومتوں کو ایسے ضوابط متعارف کرانے چاہئیں جو کمپنیوں کو خطرات کی نشاندہی اور سنگین واقعات کی رپورٹنگ کا پابند بنائیں۔ آزادانہ نگرانی کے اداروں کو مناسب اختیارات دیے جائیں جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کا واضح نظام موجود ہو۔

آڈیو ویژول ہرٹیج کا عالمی دن

آڈیو ویژول ہرٹیج کا عالمی دن

ماضی کی آوازیں ،تاریخ کے محفوظ نقوشہر قوم کی تاریخ محض کتابوں، تحریری دستاویزات اور تاریخی عمارتوں میں محفوظ نہیں ہوتی ، اس کا ایک بڑا حصہ تصاویر، فلموں، ریڈیو نشریات، ٹیلی ویژن پروگراموں، آڈیو ریکارڈنگز اور دیگر آڈیو ویژول میڈیم میں موجود ہوتا ہے۔ یہ ذرائع ماضی کے واقعات، معاشرتی تبدیلیوں، تہذیبی روایات اور انسانی تجربات کو اس انداز میں محفوظ کرتے ہیں کہ آنے والی نسلیں نہ صرف تاریخ کو پڑھ سکیں بلکہ اسے دیکھ اور سن بھی سکیں۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ہر سال 27 اکتوبر کو عالمی یومِ سمعی و بصری ورثہ(World Day for Audiovisual Heritage) منایا جاتا ہے جس کا مقصد دنیا کے آڈیو ویژول ہرٹیج کے تحفظ، اس کی اہمیت اور اس تک عوام کی رسائی کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔یہ دن اقوامِ متحدہ کے ادارہ یونیسکو کی کوششوں سے عالمی سطح پر منایا جاتا ہے جبکہ آڈیو ویژول آرکائیوز کی بین الاقوامی رابطہ کونسل (CCAAA) بھی اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس دن کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ فلموں، آوازوں اور ویڈیو ریکارڈنگز کی صورت میں محفوظ انسانی یادداشت کو ضائع ہونے سے بچانا عالمی ثقافتی ذمہ داری ہے۔ آڈیو ویژول ہرٹیج، تاریخ کا زندہ ریکارڈ آڈیو ویژول ہرٹیج میں فلمیں، پرانی تصاویر، ریڈیوپروگرام، سیاسی و سماجی رہنماؤں کی تقاریر،انٹر ویو، دستاویزی فلمیں، موسیقی، لوک کہانیاں، ٹیلی ویژن نشریات اور دیگر صوتی و بصری ریکارڈ شامل ہیں۔ یہ مواد کسی معاشرے کے تاریخی، ثقافتی، سیاسی اور سماجی ارتقا کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔تحریری تاریخ کسی واقعے کی تفصیلات بیان کرتی ہے لیکن ویڈیو ریکارڈنگ اس واقعے کے مناظر، لوگوں کے تاثرات اور ماحول کی کیفیت بھی سامنے لے آتی ہے۔ اسی طرح کسی بزرگ کی آواز میں ریکارڈ کی گئی لوک داستان، کسی تاریخی شخصیت کی تقریر یا کسی اہم واقعے کی ریڈیو رپورٹ اپنے دور کی زبان، طرزِ اظہار اور اجتماعی احساسات کی عکاسی کرتی ہے۔یہ ریکارڈ محققین، مؤرخین، صحافیوں، طلبہ اور عام شہریوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کی مدد سے نہ صرف ماضی کے واقعات کی تحقیق کی جا سکتی ہے بلکہ ان ادوار کے بارے میں موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے اور تاریخی حقائق کی جانچ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ڈیجیٹل دور میں تاریخی ریکارڈ جدید ٹیکنالوجی نے آڈیو ویژول مواد کی تیاری، نقل اور ترسیل کو آسان بنا دیا ہے لیکن اس کے باوجود تاریخی ریکارڈ کا تحفظ ایک بڑا چیلنج ہے۔ پرانی فلمیں وقت گزرنے کے ساتھ خراب ہو سکتی ہیں، مقناطیسی ٹیپوں پر محفوظ آوازیں اور ویڈیوز اپنی اصل کیفیت کھو سکتی ہیں جبکہ پرانے آلات کی عدم دستیابی کے باعث کئی ریکارڈنگز کو دوبارہ چلانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ نمی، درجہ حرارت میں تبدیلی، گردوغبار، ناقص سٹوریج اور قدرتی آفات بھی تاریخی مواد کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ڈیجیٹل مواد کو بھی محفوظ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ فائلیں خراب ہو سکتی ہیں، سٹوریج کے آلات ناکارہ ہو سکتے ہیں اور پرانے ڈیجیٹل فارمیٹس مستقبل میں ناقابلِ استعمال ہو سکتے ہیں۔اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ تاریخی ریکارڈ کو مناسب ماحول میں محفوظ کیا جائے، اس کی ڈیجیٹل کاپیز تیار کی جائیں اور ان کاپیز کو مختلف محفوظ مقامات پر رکھا جائے۔ ساتھ ہی فائلوں کی باقاعدہ جانچ، مستند معلومات کے ساتھ درجہ بندی اور جدید فارمیٹس میں منتقلی کا مستقل انتظام بھی ضروری ہے۔ محض ریکارڈ محفوظ کر لینا کافی نہیں، اس کی صداقت، پس منظر اور تاریخی اہمیت کو برقرار رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ پاکستان کا آڈیو ویژول ورثہ پاکستان کا آڈیو ویژول ورثہ نہایت متنوع اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ تحریکِ پاکستان کے مناظر، قیامِ پاکستان سے متعلق تقاریر، ابتدائی قومی نشریات، تاریخی سیاسی اجتماعات، پرانی دستاویزی فلمیں، علاقائی موسیقی، لوک داستانیں اور مختلف خطوں کی ثقافتی تقریبات ہمارے اجتماعی ماضی کا اہم حصہ ہیں۔ریڈیو پاکستان کی پرانی نشریات، پاکستان ٹیلی ویژن کے ابتدائی پروگرام، قومی رہنماؤں کی تقاریر اور مختلف علاقوں کی زبانوں میں ریکارڈ کی گئی لوک موسیقی میں ایسا قیمتی مواد موجودہے جو آنے والی نسلوں کے لیے تاریخی اور علمی سرمایہ ہے۔ اسی طرح ملک کے مختلف خطوں کی روایات، لوک ادب، ثقافتی تقریبات اور بزرگوں کی زبانی تاریخ کو ریکارڈ کرنا بھی ضروری ہے تاکہ علاقائی شناخت اور تہذیبی تنوع محفوظ رہ سکے۔ پرانی فلموں اور آڈیو ٹیپس کی کیٹلاگنگ، ان کی ڈیجیٹل منتقلی اور محققین کے لیے مناسب رسائی فراہم کرنا اس عمل کے بنیادی تقاضے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اور ورثے کا تحفظڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت نے آڈیو ویژول ورثے کے تحفظ کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ جدید سسٹمز کے ذریعے پرانی ریکارڈنگز میں شور کم کیا جا سکتا ہے، تصاویر کی مرمت کی جا سکتی ہے، آوازوں کو تلاش کرنا آسان بنایا جا سکتا ہے اور تاریخی مواد کو دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ تاہم ان سہولتوں کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی تصویر، آواز یا ویڈیو میں ایسی تبدیلیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں جو اصل تاریخی حقیقت کو مسخ کر دیں۔اس لیے اصل ریکارڈ کو محفوظ رکھنا، ڈیجیٹل تبدیلیوں کی وضاحت کرنا اور ہر مواد کے ماخذ کی تصدیق کرنا ناگزیر ہے۔ورلڈ ڈے آف آڈیو ویژول ہرٹیج ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماضی کی آوازیں اور تصاویر محض پرانی یادگاریں نہیں بلکہ انسانی تہذیب کی مشترکہ امانت ہیں۔ اگر آج ان کی حفاظت کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو کل ہماری تاریخ کے کئی اہم باب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو سکتے ہیں۔

راکٹ ٹیکنالوجی سے لیس ٹیسلا کی اڑنے والی کار

راکٹ ٹیکنالوجی سے لیس ٹیسلا کی اڑنے والی کار

ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے انسان کے ان خوابوں کو بھی حقیقت کا روپ دینے کی امید پیدا کر دی ہے، جنہیں کبھی محض سائنس فکشن کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ زمین پردوڑنے والی گاڑیوں کے بعد اب فضا میں اڑنے والی کار کا تصور بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔ دنیا کی معروف کاروباری شخصیت اور ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک اپنی اختراعی سوچ اور مستقبل بین منصوبوں کے باعث اکثر خبروں میں رہتے ہیں۔ راکٹ ٹیکنالوجی اور برقی گاڑیوں کے امتزاج سے متعلق ان کے تصورات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا مستقبل میں سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں آسمانوں میں بھی پرواز کرتی دکھائی دیں گی؟ ایلون مسک کبھی اپنی حدود سے آگے بڑھ کر نئے تجربات کرنے سے گریز نہیں کرتے، لیکن دنیا کی پہلی اڑنے والی کار متعارف کرانے کے بعد ممکن ہے کہ ان کا یہ اقدام حد سے آگے بڑھنے کے مترادف سمجھا جائے۔ ایک حیران کن ویڈیو میں ٹیسلا روڈسٹر کو الٹی سمت میں بنائے گئے ایک ریمپ پر اوپر جاتے، پھر ہوا میں قلابازی کھاتے اور زمین کی طرف گرتے دکھایا گیا ہے۔ تاہم، اسی دوران راکٹ تھرسٹرز فعال ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں گاڑی محفوظ انداز میں فضا میں معلق ہو جاتی ہے۔ مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ گاڑی اب تک کے تمام ریکارڈز توڑ دے گی اور اسے 2028ء میں مارکیٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بنیادی طور پر راکٹ کی طرح اڑ سکتی ہے۔ یہ ہوا میں قلابازیاں کھا سکتی ہے، حیران کن کرتب دکھا سکتی ہے۔گاڑی کی ہوا میں قلابازیاں کھانے کی غیر معمولی صلاحیت کے پیچھے بلندی کو کنٹرول کرنے والے نظام، تھرسٹرز اور گاڑی کے پچھلے حصے میں نصب مرکزی تھرسٹرز کا کردار ہے‘‘۔مسک کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نئی روڈسٹر گاڑی کی مزید ویڈیوز بھی شیئر کی گئی ہیں، جن میں اس کی پرواز کی مزید حیران کن صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ایک مظاہرے میں گاڑی کو کھڑی ہوئی گاڑیوں کی ایک قطار کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کے بعد وہ اچانک فضا میں بلند ہوتی ہے، ہوا میں قلابازی کھاتی ہے اور دوسری جانب بحفاظت اتر جاتی ہے۔ایک اور مظاہرے میں روڈسٹر بغیر حرکت کیے اپنی جگہ سے اچانک فضا میں اچھلتی ہے۔ ہوا میں معلق رہتے ہوئے قلابازی کھاتی ہے اور پھر دھویں کے بادل کے درمیان آہستگی سے دوبارہ زمین پر اتر آتی ہے۔گاڑی میں نصب راکٹ تھرسٹرز سے نکلنے والے سفید دھویں کے مرغولے خلائی جہازوں اور چاند پر اترنے والے خلائی آلات کو کنٹرول کرنے کیلئے استعمال ہونے والے ''ری ایکشن کنٹرول سسٹم‘‘ (RCS) سے مشابہ دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال اسپیس ایکس کا اسٹار شپ ہیومن لینڈنگ سسٹم ہے، جسے چاند پر خلابازوں کو اتارنے کیلئے تیار کیا جا رہا ہے۔یہ مماثلت زیادہ حیران کن نہیں، کیونکہ نئی ٹیسلا روڈسٹر کو اسپیس ایکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔راکٹ کی مدد سے پرواز کرنے کی ان حیرت انگیز صلاحیتوں کے علاوہ، ٹیسلا کا دعویٰ ہے کہ روڈسٹر تقریباً 0.81 سیکنڈ میں صفر سے 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے، جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 230 میل فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔آسٹریلوی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق روڈسٹر کے نچلے حصے میں سکشن فین کا ایک نظام نصب ہے۔ جس سے گاڑی کو سڑک کے ساتھ مضبوطی سے جڑے رہنے میں مدد ملتی ہے۔ایلون مسک کے مطابق، گاڑی کے نچلے حصے میں نصب سکشن فین کا نظام ہی وہ ٹیکنالوجی ہے جس کی بدولت گاڑی الٹی حالت میں بھی اسٹیل کے ریمپ کے ساتھ چپکی رہ سکتی ہے۔ مسک کا کہنا ہے کہ وہ نئی اسپورٹس کار کی پیداوار 2028ء میں شروع کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔ٹیسلا کی ویب سائٹ پر ''اپنی روڈسٹر بک کروائیں‘‘ کے عنوان سے موجود صفحے کے مطابق، صارفین کار کی بکنگ کیلئے 50 ہزار ڈالر بطور قابلِ واپسی ڈپازٹ جمع کرا سکتے ہیں۔ صارفین اڑھائی لاکھ ڈالر کے عوض تھرسٹ کی اضافی سہولت والا ماڈل بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ راکٹ کی اضافی سہولت والا ماڈل صرف مخصوص افراد کو ملے گا۔تاہم، گاڑی کی حتمی قیمت کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔ اس کی بعض خصوصیات کے سڑکوں پر قانونی استعمال کے حوالے سے بھی صورت حال واضح نہیں ہے۔ایلون مسک نے اس بارے میں کہا کہ مجھے یقین نہیں کہ یہ گاڑی ہر ملک اور ہر قانونی دائرہ اختیار میں لازماً قانونی ہوگی‘‘۔مسک کی اڑنے والی گاڑیوں میں دلچسپی نئی نہیں۔2018ء میں انہوں نے روڈسٹر کیلئے اسپیس ایکس کے خصوصی پیکیج کا تصور پیش کیا تھا۔ اس منصوبے میں حقیقی راکٹ ٹیکنالوجی، استعمال کرنے کی تجویز تھی۔ اس وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان تھرسٹرز کی مدد سے گاڑی کی رفتار بڑھانے، اس کے کنٹرول اور سڑک پر توازن بہتر بنانے، حتیٰ کہ مختصر وقت کیلئے اسے فضا میں معلق رکھنے کی صلاحیت بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔

اوسا کاقلعہ

اوسا کاقلعہ

‘ جاپانی تاریخ‘ عظمت اور ثقافت کا درخشاں شاہکارتاریخ قوموں کے عروج و زوال کی داستانوں کو اپنے دامن میں سمیٹے رکھتی ہے لیکن کچھ تاریخی مقامات ایسے ہوتے ہیں جو گزرتے وقت کے ساتھ مٹتے نہیں بلکہ اپنی قوم کی غیرت، حب الوطنی اور ذوقِ تعمیر کی علامت بن کر زندہ رہتے ہیں۔ جاپان کے تاریخی شہر اوساکا میں واقع اوساکا قلعہ بھی ایسی ہی عظیم الشان اور ساحرانہ عمارت ہے، جو جاپانی تاریخ کے گرم و سرد، جنگوں کے طوفانوں اور زلزلوں کے باوجود آج بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ استادہ ہے۔ یہ قلعہ جاپان کے ماضی کا سنہری باب ہونے کے ساتھ ساتھ جاپانی قوم کی اپنے اسلاف کے کارناموں اور تہذیبی ورثوں سے بے پناہ محبت کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔اوساکا قلعے کی تعمیر کا آغاز 1580ء کے عشرے میں جاپان کے مشہور و معروف جرنیل اور حکمران ٹوئیوٹومی ہائیڈیوشی کی سربراہی میں ہوا۔ ہائیڈیوشی کا خواب جاپان کو متحد کرنا تھا، اور اس مقصد کیلئے اس نے ایسا قلعہ بنانے کا ارادہ کیا جو اس کی طاقت، جاہ و جلال اور اختیار کی علامت ہو۔ قلعے کی بنیادیں رکھنے کے بعد جاپان بھر سے ماہر معماروں، سنگ تراشوں اور فنکاروں کو بلا کر اس کی تعمیر کا کام سونپا گیا۔ جاپان کی تاریخ میں سیاسی کشمکش اور فوجی بغاوتوں کی وجہ سے اس قلعے نے متعدد بار تباہی اور تجدید کا مرحلہ دیکھا۔ جاپانی ملٹری کے باغیوں اور مخالف دھڑوں نے کئی بار اس تاریخی قلعے میں پناہ بھی لی اور مختلف معرکوں کے دوران اس قلعے کے کچھ حصوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ 1629ء سے 1868ء تک کا طویل عرصہ اس قلعے کی مرحلہ وار تعمیر و تزئین اور بحالی کا دور رہا۔ مختلف ادوار کے شہنشاہوں اور حکمرانوں نے اس کی تعمیر و آرائش میں بے پناہ دلچسپی لی اور اس کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور خوبصورت بنایا۔یہ مسلسل دیکھ بھال اور دوبارہ تعمیر کا عمل اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ زندہ قومیں اپنے اسلاف کی میراث اور تہذیبی ورثوں کا تحفظ کس طرح کرتی ہیں۔ اہل طریقہ اور اہل اقتدار کی یہی حب الوطنی تھی جس نے اس قلعے کو تاریخ کے صفحات سے مٹنے نہیں دیا۔اگر کوئی سیاح یا تاریخ کا شائق اس عظیم قلعے کا نظارہ کرنا چاہے اور اس کے اندر داخل ہونا چاہے تو تھوڑے سے ین خرچ کر کے ایک ایسی حیرت انگیز دنیا کا تجربہ کر سکتا ہے جو عہد رفتہ کی انمٹ تصویر ہے۔قلعے کی تعمیر میں دفاعی حکمت عملی اور جمالیاتی ذوق دونوں کا خیال رکھا گیا ہے۔ قلعے کے گرد تقریباً 30 میٹر گہری خندق بنائی گئی ہے،جس میں اتر کر اور اس کے پار نظر دوڑائیں تو بالکل نئی اور پرشکوہ دنیا سامنے آتی ہے۔ قلعے کی دیواریں عمودی ڈھلان والے بھاری پتھروں سے مل کر بنی ہیں۔ ان بڑی بڑی چٹانوں کو اتنی صفائی اور مہارت سے جوڑا گیا ہے کہ دشمن کیلئے اس پر چڑھنا ناممکن تھا۔ اندرونی عمارت کا طرزِ تعمیر اپنے دور کے شاہانہ جاہ و جلال کو ظاہر کرتا ہے۔ دیواروں پر جگہ جگہ شیروں کے مجسمے کندہ ہیں جو طاقت اور شجاعت کی علامات ہیں۔ قلعے کی چھتوں پر دلکش آرائشی اینٹیں لگائی گئی ہیں جن کی بناوٹ اور پالش میں سنہرے رنگوں کی آمیزش انتہائی بھلی اور دیدہ زیب دکھائی دیتی ہے۔ قلعے کے مرکزی ٹاور کے اندر موجود عجائب گھر آٹھ منزلوں پر مشتمل ہے جہاں جاپان کی تاریخ، نوادرات، جنگی لباس، تلواریں، خطاطی اور نادر مصوری کے نمونے رکھے گئے ہیں۔ آج جب دنیا بھر سے لاکھوں سیاح چند ین خرچ کر کے اس قلعے کی 30 میٹر گہری خندقوں، بلند و بالا فصیلوں، سنہری چھتوں اور تاریخی عجائب گھر کا نظارہ کرتے ہیں تو وہ نہ صرف جاپان کے شاندار ماضی کو سلام پیش کرتے ہیں بلکہ اس قوم کے جذبہ حب الوطنی کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اوساکا قلعہ کل بھی جاپان کا غرور تھا، آج بھی ہے اور آنے والی صدیوں میں بھی اپنے جاہ و جلال کے ساتھ یوں ہی قائم رہے گا۔

 قومی اقلیتی ہیرو اورسول ایوارڈ

قومی اقلیتی ہیرو اورسول ایوارڈ

پاکستان میں اقلیتوں کے کردار کوریاستی سطح پر ہمیشہ سراہا گیا ہے۔ کھیل،سیاست ، آرمی ،صحت کا شعبہ، گلوکاری ، فن، ادب ،موسیقی و دیگر تمام شعبوں میں اقلیتوں نے اپنے کردار کو ہمیشہ انتہائی خوبصورت انداز سے نبھایا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی تاریخ اقلیتوں کے عظیم کارناموں اور منفرد کرداروں سے بھری پڑی ہے۔ ہر شعبے میں ایسے ایسے نام پیدا ہوئے ہیں، جنہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ امن و امان صلح و سلامتی خوشحالی کی بات ہو یا قربانی دینے کی اقلیتوں نے وطن عزیز کی خاطر ہمیشہ فرنٹ لائن پر اپنا کردار ادا کیا ہے اور وطن عزیز کی خاطر اپنی گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں، جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان نے اپنے شعبوں کے ذریعے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کرنے والے اقلیتی ہیروز کی خدمات اور جرات کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کیلئے اس برس بھی سول ایوارڈز دینے کا اعلان کیا ہے۔ جن میں ڈاکٹر پال جیکب بھٹی، بشپ ہمفری سرفراز پیٹر ، سائرہ پیٹر اوررضیہ نورین شامل ہیں۔ڈاکٹر پال جیکب بھٹی فیصل آباد کی تحصیل سمندری کے قریب واقع ایک گاؤں خوشپور کے رہائشی ہیں جسے پاکستان کا ویٹی کن سٹی بھی کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر پال جیکب بھٹی نے اٹلی کی پڈوا یونیورسٹی سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی اور پاکستان و یورپ میں طب کے شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے سابق وفاقی وزیر برائے نیشنل ہارمنی و اقلیتی امور رہے اور وزیر اعظم کے مشیر برائے نیشنل ہارمنی بھی رہے ہیں۔ وہ سابق وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کے بڑے بھائی ہیں۔ وہ آل پاکستان مینارٹیز الائنس پاکستان اور شہباز بھٹی میموریل ٹرسٹ سے بطور چیئرمین وابستہ رہے اور مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی انصاف کیلئے کام کرتے رہے ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا، جو بین المذاہب ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کیلئے ان کی طویل خدمات کے اعتراف میں ہے۔ اب آتے ہیں بشپ ہمفری کی طرف ،بشپ ہمفری سرفراز پیٹر ایک مشہور مسیحی مذہبی رہنما ہیں ۔ انسانی حقوق کی ایک معتبر اور توانا آواز ہیں،چرچ آف پاکستان سے وابستگی ہے، بشپ آف پشاور کے مذہبی سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ اقلیتوں کے حقوق اور انصاف کی خاطر ہر فورم پہ آواز اٹھاتے رہے ہیں، مسیحی برادری کے حقوق، مذہبی آزادی، امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے سرگرم رہتے ہیں اقلیتوں کے مسائل اور انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے بین المذاہب ہم آہنگی پر ہمیشہ زور دیا ہے۔ ہر سو امن کا پرچار کرتے ہیں۔حکومت پاکستان نے انہیں بے سہارا اور بے آواز لوگوں کی آواز بلند کرنے اور امن کے اعتراف میں ''تمغہ امتیاز‘‘ دینے کا اعلان کیا ہے۔کراچی سے تعلق رکھنے والی سائرہ پیٹر برطانیہ میں مقیم ہیں اور گلوکاری میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔صوفیانہ کلام کو اوپرا انداز میں گانے کا ہنر بھی بخوبی جانتی ہیں۔ دنیا بھر میں گلوکاری کے ذریعے پاکستان کی ایک اچھی اور خوبصورت تصویر کو نمایاں رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکومت پاکستان نے انہیں گلوکاری کے ذریعے امن اور محبت کے پیغام کو دینا بھی میں پھیلانے کیلئے تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا ہے۔رضیہ نورین پیشے کے لحاظ سے ایک نرس ہیں۔ گزشتہ دنوں پمز ہسپتال اسلام آباد میں نومولود بچوں کی نرسری میں لگنے والی المناک آگ میں سے ایک بچے کی جان بچائی تھی۔ نرس رضیہ کا کہنا ہے کہ میں دیگر بچوں کی بھی جان بچانا چاہتی تھی لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا، جس کا مجھے تاحیات دکھ رہے گا۔ ان کی اس بہادری اور جرات کو دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے ستارہ خدمت دینے کا اعلان کیا ہے۔جو انہیں 23مارچ کو دیا جائے گا۔

طنز و مزاح:میں ایک شاعر ہوں

طنز و مزاح:میں ایک شاعر ہوں

ابھی ہوش سنبھالا ہی تھا کہ گھر میں شعر و شاعری کے چرچے سنے۔ مشاعروں کے کھیل کھیلے۔ اور آخر پندرہ برس کی عمر ہوگئی کہ پہلی غزل اس شان سے مشاعرے میں پڑھی ہے کہ گھر پر پڑی بوڑھیوں نے نظر اتاری اور باہر اس فن کے بڑے بڑے مشاقوں نے اعتراف کیا کہ صاحبزادے نے پالنے ہی میں پیر دکھائے ہیں۔ مطلب یہ کہ شاعری کی ابتدا اسی عمر میں ہوئی جس کے متعلق شاعر کہہ گیا ہے کہ:برس پندرہ یا کہ سولہ کا سنجوانی کی راتیں امنگوں کے دنداد جو ملی تو حوصلے اور بڑھ گئے۔ اب دن رات بس ایک ہی مشغلہ ہے غزل گوئی اور غزل سرائی۔ جس مشاعرے میں پہنچ گئے بس جھنڈے گاڑ آئے۔ اپنے سامنے کسی کا چراغ نہ جلنے دیا۔ جس طرح، میں غزل کہہ دی اس کو اپنا لیا۔ خاص شہرت حاصل کی گرہ لگانے میں۔ قصہ کوتاہ کچھ ہی دنوں میں مقامی مشاعروں کے علاوہ دور دور سے بلاوے آنے لگے۔ آج یہاں مشاعرہ ہے تو کل وہاں، آج اس شہر میں کل اس شہر میں۔ یہ سچ ہے کہ اس طرح تعلیم ضرور ناقص رہ گئی۔ مگر شاعر ہونا مسلم ہوگیا۔ آواز میں قیامت کا سوز تھا۔ اور دھن بنانے کا سلیقہ خداداد تھا۔ پھر کلام کی لطافتیں۔مختصر یہ کہ سب کچھ مل جل کر مشاعرہ لوٹنے میں مدد دیتا تھا۔ ایک نمائش کے مشاعرہ میں تو تمغہ تک دیا گیا تھا۔ اخباروں میں تصویریں چھاپی گئیں۔ رسالوں کے ایڈیٹروں نے بڑی منت کے خطوط لکھے کہ میں اپنا تازہ کلام بھیجوں۔ بے شمار رسالے اور اخبار مفت آنے لگے۔ اور ان میں میرا کلام بڑے امتیاز کے ساتھ چھپنے لگا۔ بڑے بڑے سالانہ نمبروں میں صرف میری غزل کو جلی حروف میں اور خوشنما حاشیہ کے اندر ایک پورے صفحے میں چھاپا گیا۔ مختصر یہ کہ آپ کی دعا سے شہرت اور مقبولیت کی کوئی کمی نہ رہی۔ یہاں تک کہ کچھ ہی دنوں کے بعد مشق اس قدر بڑھ گئی اور کلام میں کچھ خدا کے فضل سے ایسی پختگی پیدا ہوگئی کہ بہت سے نوجوان اپنی اپنی غزلیں اصلاح کیلئے لانے لگے۔ اور اب ضرورت اس کی پیش آئی کہ ذرا اس فن کا مطالعہ بھی کرلیا جائے کہ یہ فاعلاتن فاعلات آخر کیا بلا ہوتی ہے۔یہ سچ ہے کہ پیدائشی اور فطری شاعروں کیلئے ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ مگر شاگردوں کے سمجھانے اور استاد بننے کیلئے معلومات حاصل ہونا ضروری ہوتا ہے۔ بہرحال اس سلسلہ میں جتنی کتابیں دیکھیں اتنی ہی طبیعت الجھی کہ یہ ہے کیا خرافات۔ آخر ایک کتابوں کا سیٹ مل گیا۔ شاعری کی پہلی کتاب۔ دوسری کتاب۔ تیسری کتاب۔ ان کتابوں کو سلسلہ وار پڑھنے سے خود تو کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ مگر دوسروں کو سمجھانے کا مواد ضرور مل گیا اور اب شاگردوں کی غزلوں پر اصلاح کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ان شاگردوں کا مشاعروں میں چمکنا تھا کہ شاگردوں کی تعداد دن دونی رات چوگنی ترقی کرنے لگی۔ یہاں تک کہ عالم یہ ہوگیا کہ ہر مشاعرے کے دن درجنوں شاگرد حلقہ باندھے بیٹھے ہیں۔ اور میں ان کی غزل لکھوا رہا ہوں کہ یہ مطلع تم لکھ لو اور یہ شعر تم لکھ لو۔ شاگردوں سے اور کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو، مگر اتنا ضرور ہوتا ہے کہ خود اپنے کو اوّل تو اساتذہ کی صف میں جگہ ملتی ہے۔ دوسرے استاد کی غزل پر یہ شاگرد داد کا وہ شور مچاتے ہیں کہ مشاعرہ ہی سر پر اٹھالیتے ہیں۔ اور اگر کبھی کوئی بدخواہ اعتراض کربیٹھے تو یہی شاگرد مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ گویا استاد کی اچھی خاصی طاقت ہوتے ہیں یہ شاگرد۔گھر میں اللہ کے فضل و کرم سے کھانے پینے کی کوئی کمی نہ تھی۔ وثیقہ بندھا ہوا تھا۔ اور باپ دادا بھی اتنا چھوڑ گئے تھے کہ چار کو کھلا کر کھا سکیں۔ لہٰذا فکر معاش کا تو کوئی ذکر ہی نہیں۔ لے دے کے بس فکر سخن ہی تھی، شاگردوں کو بھی کبھی کسی خدمت کا کوئی موقع نہ دیا۔ بلکہ ان ہی کی جو خدمت ہوسکی وہ کی۔ یعنی مفت کی غزلوں کے علاوہ اکثر مفت کی روٹیاں بھی مل جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ ایک تنبولی شاگرد نے پانوں کی ڈھولی کی قیمت لینے سے انکار کردیا۔ نتیجہ یہ کہ اگلے مشاعرے میں نہ صرف یہ کہ نہایت زوردار غزل کہہ کر ان کو دی بلکہ ان کا ریل ٹکٹ بھی خود ہی خریدا۔ان ہی حالات میں زندگی بڑے مزے میں بسر ہو رہی تھی کہ ایک دم سے وہ انقلاب آگیا۔ جس نے ساری دنیا زیر وزبر کرکے رکھ دی۔گھر گیا، گرہستی گئی، وثیقہ گیا۔ مختصر یہ کہ آپ ''واحد حاضر‘‘ رہ گئے۔ اور باقی سب کچھ ''جمع غائب‘‘ اور تو اور کھانے پینے کے لالے پڑگئے۔ پردیس میں نہ کوئی جان نہ پہچان۔ ایک نفسا نفسی کا عالم۔ سب کو اپنی اپنی پڑی ہے۔ مہاجرین میں کچھ جانی پہچانی شکلیں بھی نظر آئیں مگر سب کو اپنی اپنی فکر، اور یہاں یہ عالم کہ روزبروز حالت پتلی ہوتی جارہی ہے۔ سرچھپانے کو تو خیر ایک آگ لگی ہوئی عمارت کے دوپسماندہ کمرے مل گئے۔ مگر پیٹ کی آگ بجھانے کی سبیل نظر نہ آتی تھی۔