مصنوعی ذہانت،ترقی کی دوڑ اور تباہی کا خطرہ
اسپیشل فیچر
مصنوعی ذہانت (AI) اکیسویں صدی کی انقلابی ٹیکنالوجی بن کر ابھری ہے جس نے انسانی زندگی، معیشت، تعلیم، صحت، صنعت اور عالمی سیاست کے بنیادی تصورات کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ چند لمحوں میں پیچیدہ سوالات کے جواب دینا، بڑی مقدار میں معلومات کا تجزیہ کرنا، بیماریوں کی تشخیص میں مدد فراہم کرنا اور ایسے کام انجام دینا جو پہلے کئی گھنٹوں یا دنوں میں مکمل ہوتے تھے، اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے ممکن ہو رہا ہے۔ تاہم اس غیر معمولی ترقی کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی موجود ہے: کیا انسان اپنی تخلیق کردہ اس ٹیکنالوجی کو محفوظ رکھنے اور اس کے ممکنہ نقصانات کو روکنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے؟ سائنسی جریدے 'لائیو سائنس ‘میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں یونیورسٹی آف باتھ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اخِل بھردواج نے اسی سوال پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیاں ایک دوسرے کے ساتھ ایسی مسابقت میں الجھی ہوئی ہیں جہاں کسی ایک کی غیر ذمہ داری دوسروں کو بھی خطرات کی پروا کیے بغیر آگے بڑھنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صنعت کو جوہری توانائی کے شعبے کے تجربات سے سبق سیکھنا چاہیے، جہاں بڑے خطرات سے نمٹنے کے لیے نگرانی، باہمی تعاون اور حفاظتی ضوابط کا ایک نظام تشکیل دیا گیا۔
ترقی کی دوڑ اور اجتماعی خطرات
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان مقابلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ہر ادارہ زیادہ طاقتور، تیز رفتار اور بہتر صلاحیتوں کے حامل ماڈل تیار کرکے مارکیٹ میں اپنی برتری قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس مقابلے کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ تحقیق میں سرمایہ کاری بڑھتی ہے اور نئی سہولتیں تیزی سے سامنے آتی ہیں۔ لیکن جب تجارتی مفادات اور سبقت حاصل کرنے کی خواہش حفاظتی اقدامات پر غالب آ جائے تو یہی دوڑ سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔فرض کریں کہ ایک کمپنی مصنوعی ذہانت کے کسی نئے نظام کو مکمل حفاظتی جانچ کے بغیر متعارف کرا دیتی ہے۔ اگر اس سے اسے کاروباری فائدہ حاصل ہوتا ہے تو حریف اداروں پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنے نظام جلد مارکیٹ میں لائیں۔ اس صورت میں ہر کمپنی یہ سوچ سکتی ہے کہ اگر اس نے احتیاط کے باعث تاخیر کی تو وہ مقابلے میں پیچھے رہ جائے گی۔ نتیجتاً انفرادی فیصلوں کا مجموعی اثر پوری صنعت اور معاشرے کے لیے خطرناک بن سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کو بجلی کے نیٹ ورک، پانی کی فراہمی، مالیاتی اداروں اور صحت کے شعبے میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر ان سسٹمز میں تکنیکی خرابی پیدا ہو، انہیں غلط معلومات فراہم کی جائیں یا ان کی صلاحیتوں کا غلط استعمال ہو تو نتائج محض مالی نقصان تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہاں اصل مسئلہ ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں بلکہ اس ترقی کے ساتھ ذمہ داری، احتیاط اور جوابدہی کو یقینی بنانا ہے۔
جوہری صنعت سے کیا سبق ملتا ہے؟
جوہری توانائی کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد حاصل کرنے کے لیے حفاظتی انتظامات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جوہری توانائی بجلی پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہے لیکن اس کے غلط استعمال یا حفاظتی نظام میں ناکامی کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے وقت کے ساتھ اس شعبے میں نگرانی، تربیت، تکنیکی معیارات اور بین الاقوامی تعاون کو بنیادی اہمیت حاصل ہوئی۔1979ء میں امریکہ کے تھری مائل آئی لینڈ جوہری بجلی گھر میں پیش آنے والے حادثے نے واضح کیا کہ آلات کے ڈیزائن میں خامیاں، انتباہی نظام کی کمزوریاں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی ناکافی تربیت بڑے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔اسی طرح 1986ء میں چرنوبل کا حادثہ جوہری توانائی کے شعبے کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس حادثے نے دنیا کو دکھایا کہ کسی ایک ادارے کی ناکامی کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔مصنوعی ذہانت اور جوہری توانائی میں فرق ضرور ہے مگرد دونوں شعبوں میں ایک بنیادی مماثلت موجود ہے، کہ کسی ایک فریق کی غلطی دوسروں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
نگرانی، شفافیت اور جوابدہی
مصنوعی ذہانت کی صنعت میں خود ضابطہ کاری کا تصور اسی ضرورت سے جنم لیتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کمپنیاں صرف حکومتی قوانین کا انتظار کرنے کے بجائے اپنے لیے مشترکہ حفاظتی اصول بنائیں، ایک دوسرے کے سسٹمز کا جائزہ لیں اور ممکنہ خطرات کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کریں۔اخِل بھردواج کے مطابق اے آئی کے جدید اور طاقتور ماڈلز کو عام استعمال میں لانے سے پہلے آزادانہ جانچ، باہمی جائزے اور حفاظتی معیارات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا ئے۔ اگر کوئی سسٹم خطرناک صلاحیتوں کا حامل ہو تو اس کی خامیوں اور ممکنہ نقصانات کا جائزہ اس کے وسیع پیمانے پر استعمال سے پہلے لیا جانا چاہیے۔اس مقصد کے لیے آزاد ماہرین اورتھرڈ پارٹیز کو کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ کمپنیاں خود اپنی کارکردگی کا جائزہ لے کر اسے محفوظ قرار دینے تک محدود نہ رہیں۔
حکومتوں اور عالمی برادری کی ذمہ داری
مصنوعی ذہانت کی ترقی کسی ایک ملک یا کمپنی تک محدود نہیں، اس کے اثرات عالمی معیشت، قومی سلامتی اور انسانی زندگی کے متعدد شعبوں تک پھیل سکتے ہیں؛ چنانچہ اس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے قومی قوانین کے ساتھعالمی تعاون بھی ضروری ہے۔حکومتوں کو ایسے ضوابط متعارف کرانے چاہئیں جو کمپنیوں کو خطرات کی نشاندہی اور سنگین واقعات کی رپورٹنگ کا پابند بنائیں۔ آزادانہ نگرانی کے اداروں کو مناسب اختیارات دیے جائیں جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کا واضح نظام موجود ہو۔