مصنوعی ذہانت کا ارتقا… 12 اہم سنگِ میل

 مصنوعی ذہانت کا ارتقا… 12 اہم سنگِ میل

اسپیشل فیچر

تحریر : سبطین احمد


مصنوعی ذہانت ( AI) اکیسویں صدی کی اہم ترین ٹیکنالوجیز میں شمار ہوتی ہے۔ آج یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے سوالات کے جواب دینے، تصاویر بنانے، زبانوں کا ترجمہ کرنے، بیماریوں کی تشخیص میں معاونت فراہم کرنے اور پیچیدہ مسائل حل کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ تاہم مصنوعی ذہانت کا یہ سفر چند سالوں کی کہانی نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط سائنسی تحقیق، تجربات، ناکامیوں اور کامیابیوں کا نتیجہ ہے۔اس سفر میں بارہ ایسے اہم مراحل آئے جنہوں نے AI کی ترقی کو نئی سمت دی۔
ابتدائی تصورات سے عملی مصنوعی ذہانت تک
مصنوعی ذہانت کی تاریخ میں پہلا اہم سنگِ میل 1950ء میں آیا جب برطانوی ریاضی دان اور کمپیوٹر سائنسدان ایلن ٹیورنگ نے اپنے مقالے میں یہ سوال اٹھایا کہ کیا مشینیں سوچ سکتی ہیں؟ انہوں نے ایک تجربہ کیا جسے بعد میں ''ٹیورنگ ٹیسٹ‘‘ کہا گیا۔ اس تصور کے مطابق اگر کوئی مشین گفتگو کے دوران انسان کی طرح جواب دے اور مبصر قابلِ اعتماد طریقے سے مشین اور انسان میں فرق نہ کر سکے تو اسے ذہانت کی ایک اہم علامت سمجھا جا سکتا ہے۔اس کے چھ سال بعد، 1956ء میں امریکہ کے ڈارٹ ماؤتھ کالج میں محققین کا ایک اہم اجتماع منعقد ہوا۔ اسی موقع پر ''مصنوعی ذہانت‘‘ کی اصطلاح کو باقاعدہ سائنسی تحقیق کے میدان کے طور پر متعارف کرانے میں اہم پیش رفت ہوئی۔ جان میکارتھی، مارون منسکی اور دیگر محققین نے اس پر غور کیا کہ مشینوں کو سیکھنے، مسائل حل کرنے اور انسانی ذہانت کے بعض پہلوؤں کی نقل کرنے کے قابل کیسے بنایا جا سکتا ہے۔1966ء میں جوزف وائزن بام نے ELIZA نامی پروگرام متعارف کرایا جو ابتدائی چیٹ بوٹس میں سے ایک تھا۔ یہ پروگرام صارف کے الفاظ میں مخصوص اشارے تلاش کرکے پہلے سے طے شدہ جوابات دیتا تھا۔ اگرچہ اس کی صلاحیتیں محدود تھیں لیکن اس نے دکھایا کہ کمپیوٹر کے ساتھ بامعنی محسوس ہونے والی گفتگو ممکن ہے۔
ناکامیوں سے مشین لرننگ تک
1974ء سے 1980ء کے درمیان AI کے شعبے کو پہلی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ محققین کے بلند دعوؤں کے باوجود کمپیوٹر اس دور میں متوقع نتائج فراہم نہیں کر پا رہے تھے نتیجتاً حکومتوں اور تحقیقی اداروں نے مالی معاونت کم کر دی۔ اس مرحلے کو ''AI winter‘‘ کہا جاتا ہے۔تاہم تحقیق مکمل طور پر بند نہیں ہوئی۔ 1980ء کے آس پاس Expert Systems نے کاروباری دنیا میں توجہ حاصل کی۔ یہ ایسے کمپیوٹر پروگرام تھے جو مخصوص شعبوں کے قواعد اور ماہرین کے علم کی بنیاد پر فیصلے کرنے میں مدد دیتے تھے۔ کارنیگی میلن یونیورسٹی میں تیار کردہ R1 سسٹم نے صنعتی استعمال کے امکانات نمایاں کیے۔1986ء میں مشین لرننگ کی ترقی کے لیے ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی، اس کے باوجود 1987ء سے 1993ء کے درمیان مصنوعی ذہانت کو ایک بار پھر مالی اور صنعتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایکسپرٹ سسٹمز کی کمزورویوں اور مہنگے ہارڈویئر نے سرمایہ کاروں کی دلچسپی کم کر دی۔ یہ دوسرا AI Winter تھا جس نے واضح کیا کہ محض بلند توقعات کافی نہیں؛ ٹیکنالوجی کو قابلِ اعتماد اور عملی طور پر مفید بھی ہونا چاہیے۔
ڈیپ لرننگ سے جدید AI تک
1997ء میں IBM کے شطرنج کھیلنے والے کمپیوٹر Deep Blue نے عالمی چیمپئن گیری کاسپاروف کو چھ مقابلوں کی سیریز میں شکست دے کر تاریخ رقم کی۔ اس کامیابی نے دنیا کو دکھایا کہ کمپیوٹر انتہائی پیچیدہ کھیل میں بھی عالمی سطح کے انسانی کھلاڑی کو مات دے سکتا ہے۔ اگرچہ یہ نظام مخصوص قواعد اور حسابی صلاحیتوں پر انحصار کرتا تھا لیکن اس نے مصنوعی ذہانت کی عملی قوت کو نمایاں کیا۔2012ء میںAlexNet نامی ڈیپ لرننگ ماڈل نے تصاویر کی شناخت کے مقابلے میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی میں گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) کا اہم کردار تھا۔ اس پیش رفت نے ڈیپ لرننگ کو عملی میدان میں آگے بڑھایا اور تصویر شناسی، آواز کی شناخت اور دیگر شعبوں میں نئی راہیں کھولیں۔2016ء میں گوگل ڈیپ مائنڈ کے نظام AlphaGoنے جنوبی کوریا کے ممتاز کھلاڑی لی سیڈول کو قدیم چینی کھیل ''گو‘‘ میں شکست دی۔ اس کھیل میں ممکنہ چالوں کی تعداد شطرنج کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ AlphaGo کی کامیابی نے ظاہر کیا کہ مشینیں سیکھنے، حکمتِ عملی بنانے اور پیچیدہ فیصلے کرنے کے ایسے طریقے اپنا سکتی ہیں جو پہلے ناقابلِ تصور سمجھے جاتے تھے۔2017ء میں ٹرانسفارمر (Transformer) نامی نیورل نیٹ ورک آرکیٹیکچر متعارف ہوا۔ اس نے زبان کے مختلف حصوں کے درمیان تعلقات سمجھنے اور بڑے متنی ڈیٹا سے سیکھنے کے طریقوں میں اہم تبدیلی پیدا کی۔ بعد میں یہی طرزِ تعمیر متعدد جدید زبان ماڈلز کی بنیاد بنا۔
چیٹ جی پی ٹی اور مصنوعی ذہانت کا مستقبل
نومبر 2022ء میں ChatGPT کی لانچنگ نے مصنوعی ذہانت کو عام لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔اس تبدیلی نے تعلیم، کاروبار، صحافت، طب اور سافٹ ویئر کی تیاری سمیت متعدد شعبوں میں نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی تاریخ کا بنیادی سبق یہ ہے کہ سائنسی ترقی ایک سیدھا راستہ اختیار نہیں کرتی۔ ایلن ٹیورنگ کے ابتدائی سوال سے لے کر ٹرانسفارمر ماڈلز اور ChatGPT تک ہر پیش رفت نے اگلی نسل کی ٹیکنالوجی کے لیے بنیاد فراہم کی۔ مستقبل میں AI کی کامیابی کا انحصار صرف اس کی رفتار یا ذہانت پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ اسے کتنی ذمہ داری، شفافیت اور انسانی فلاح کے اصولوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
 28 اکتوبر …ورلڈ اینی میشن ڈے

28 اکتوبر …ورلڈ اینی میشن ڈے

تخیل، فن اور ٹیکنالوجی کے امتزاج کا عالمی دندنیا میں بعض فنون ایسے ہیں جو زبان، رنگ و نسل اور جغرافیائی سرحدوں کی پابندیوں سے آزاد ہو کر انسانی ذہنوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اینیمیشن بھی ایسا ہی ایک فن ہے جو بے جان تصاویر کو حرکت، خیالات کو کردار اور تخیل کو ایک ایسی بصری حقیقت میں تبدیل کر دیتا ہے جسے بچے، نوجوان اور بڑے یکساں دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔ کارٹون فلموں سے لے کر جدید سنیما، ویڈیو گیمز، تعلیمی پروگراموں، اشتہارات اور ڈیجیٹل میڈیا تک اینیمیشن نے انسانی زندگی کے متعدد شعبوں میں اپنی اہمیت منوا لی ہے۔ اسی فن کی تاریخی خدمات، تخلیقی امکانات اور مستقبل کے امکانات کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال 28 اکتوبر کو International Animation Day منایا جاتا ہے۔یہ محض تفریحی فلموں اور کارٹون کرداروں کا جشن نہیں بلکہ ان فنکاروں، مصوروں، ہدایت کاروں، تکنیکی ماہرین اور تخلیق کاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع بھی ہے جن کی محنت سے تصاویر حرکت کرتی، کہانیاں جنم لیتی اور پیچیدہ خیالات لوگوں کیلئے قابلِ فہم بنتے ہیں۔تاریخی پس منظرانٹر نیشنل اینیمیشن ڈے کی تاریخ انیسویں صدی کے آخری عشرے سے جڑی ہوئی ہے۔ 28 اکتوبر 1892ء کو فرانسیسی موجد اور فنکار ایمیل ریناؤڈ (Émile Reynaud) نے پیرس کے گریوین میوزیم میں اپنے ایجاد کردہ آلے تھیٹر آپٹیک (Theatre Optique) کے ذریعے متحرک تصاویر کی ایک نمائش پیش کی۔ اس واقعے کو اینیمیشن کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جاتا ہے۔ ریناؤڈ کے اس آلے میں ہاتھ سے تیار کردہ تصاویر کو ایک مخصوص طریقے سے ترتیب دے کر روشنی، آئینوں اور پروجیکشن کی مدد سے پردے پر دکھایا جاتا تھا۔ تصاویر کو تیزی سے یکے بعد دیگرے پیش کرنے سے دیکھنے والوں کو حرکت کا احساس ہوتا تھا۔ اس زمانے میں نہ تو کمپیوٹر تھے اور نہ ڈیجیٹل کیمرے لیکن انسانی تخیل اور سائنسی تجربے نے ایسی بصری تفریح کی بنیاد رکھ دی جو آنے والی صدیوں میں ایک وسیع صنعت کی شکل اختیار کرنے والی تھی۔ریناؤڈ کی یہ کاوش اس لیے بھی اہم تھی کہ اس نے متحرک تصاویر کو محض ایک تکنیکی تجربے کے بجائے عوامی تفریح اور کہانی سنانے کے مؤثر وسیلے کے طور پر پیش کیا۔ یہی تصور آگے چل کر اینیمیٹڈ فلموں، کارٹون سیریز اور جدید ڈیجیٹل تخلیقات کی ترقی میں اہم ثابت ہوا۔انٹرنیشنل اینیمیٹڈ فلم ایسوسی ایشن(ASIFA) نے 2002ء میں 28 اکتوبر کو اینیمیشن ڈے کے طور پر منانے کا آغاز کیا۔ اس کا بنیادی مقصد اینیمیشن کے فن کو دنیا بھر میں فروغ دینا، مختلف ممالک کے فنکاروں کے درمیان تعاون بڑھانا اور عوام کو اس فن کی تاریخ اور امکانات سے روشناس کرانا تھا۔ اس کے بعد یہ دن نمائشوں، فلمی پروگراموں، ورکشاپس اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے منایا جانے لگا۔اینیمیشن کیا ہے؟اینیمیشن دراصل ایسا تخلیقی عمل ہے جس میں تصاویر، اشکال، کرداروں یا اشیا کو اس انداز میں یکے بعد دیگرے دکھایا جاتا ہے کہ وہ حرکت کرتے ہوئے محسوس ہوں۔ روایتی اینیمیشن میں ہر منظر ہاتھ سے بنایا جاتا تھا جبکہ جدید دور میں کمپیوٹر سافٹ ویئر، 3D ماڈلنگ اور ڈیجیٹل تکنیکوں نے اس عمل کو زیادہ متنوع اور مؤثر بنا دیا ہے۔اینیمیشن کی مختلف اقسام میں2D اینیمیشن، 3Dاینیمیشن، سٹاپ موشن، کٹھ پتلیوں کی مدد سے تیار کردہ متحرک فلمیں اور کمپیوٹر سے تخلیق کردہ مناظر شامل ہیں۔ ہر طریقے کی اپنی خصوصیات اور تخلیقی امکانات ہیں۔آج کسی فلم میں خیالی دنیا کی تخلیق، کسی اشتہار میں مصنوعات کی خصوصیات کی وضاحت، کسی تعلیمی ویڈیو میں انسانی جسم کے پیچیدہ نظام کی تشریح یا کسی ویڈیو گیم میں حقیقت سے قریب کرداروں کی حرکت، یہ سب اینیمیشن کے مختلف استعمال ہیں۔ اس طرح اینیمیشن فن اور سائنس کے درمیان ایک مضبوط رابطہ قائم کرتی ہے۔ تعلیم اور آگاہی میں کرداراینیمیشن کی مقبولیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ مشکل معلومات کو آسان اور دلچسپ انداز میں پیش کر سکتی ہے۔ بچوں کے لیے بنائے جانے والے تعلیمی پروگراموں میں حروفِ تہجی، اعداد، سائنسی تصورات، اخلاقی اقدار اور سماجی رویوں کو کہانیوں اور کرداروں کے ذریعے سمجھایا جاتا ہے۔اسی طرح طبی تعلیم میں انسانی جسم کے اندرونی نظام، انجینئرنگ میں مشینوں کے طریقہ کار اور سائنس میں ایسے مظاہر کی وضاحت کے لیے اینیمیشن استعمال ہوتی ہے جنہیں براہِ راست دیکھنا مشکل ہوتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی آلودگی، قدرتی آفات اور صحتِ جیسے موضوعات پر آگاہی پیدا کرنے میں بھی متحرک تصاویر مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔اینیمیشن کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے سمجھنے کے لیے کسی مخصوص زبان پر مکمل عبور ضروری نہیں۔ مناسب بصری علامتوں، کرداروں اور مناظر کے ذریعے مختلف زبانیں بولنے والے افراد تک بھی پیغام پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہی خصوصیت اسے عالمی رابطے اور ثقافتی تبادلے کا مؤثر ذریعہ بناتی ہے۔اینیمیشن میں مہارت حاصل کرنے اور اسے بطور پیشہ اپنانے کے لیے آپ کو چند سافٹ ویئرز سیکھنے ہوں گے جیسا کہ 3D اینیمیشن اور ماڈلنگ کے لیےAutodesk Maya؍Blender (بلینڈر بالکل مفت ہے)۔ موشن گرافکس اور وی ایف ایکس کے لیےAdobe After Effects اور2Dکارٹون اور اینیمیشن کے لیے Adobe Animate ؍Toon Boom Harmony۔

آج کا دن

آج کا دن

ہارورڈ کالج کا قیام28 اکتوبر 1636ء کو امریکی ریاست میساچوسٹس کی نوآبادیاتی اسمبلی نے ایک تعلیمی ادارے کے قیام کے لیے مالی وسائل مختص کیے جس سے ہارورڈ کالج کی بنیاد پڑی۔ یہ ادارہ بعد میں ہارورڈ یونیورسٹی کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہوا۔ہارورڈ کے قیام کا بنیادی مقصد ایسے افراد تیار کرنا تھا جو مذہبی، تعلیمی اور سماجی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔ 1638ء میں جان ہارورڈ نامی ایک مذہبی رہنما نے اپنے اثاثوں اور کتابوں کا ایک اہم حصہ اس ادارے کے لیے وقف کیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں ادارے کا نام ہارورڈ رکھا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ کالج ایک بڑی یونیورسٹی میں تبدیل ہوا اور سائنس، طب، قانون، سیاست، معاشیات اور ادب سمیت متعدد شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔آزادی کے مجسمے کا افتتاح28 اکتوبر 1886ء کو امریکہ کے صدر گروور کلیولینڈنے نیویارک میں آزادی کے مجسمے(Statue of Liberty)کا باضابطہ افتتاح کیا۔ یہ مجسمہ فرانس کی طرف سے امریکہ کو تحفے کے طور پر پیش کیا گیا تھا جس کا مقصد آزادی، جمہوریت اور دوستی کے مشترکہ اصولوں کو اجاگر کرنا تھا۔Liberty Enlightening the World کے عنوان سے یہ یادگار دنیا بھر میں آزادی اور انسانی وقار کی علامت بن گئی۔ اس کی تعمیر فرانسیسی مجسمہ ساز فریڈرک آؤگست بارتھولدی نے کی جبکہ اس کا ڈھانچہ مشہور انجینئر ایفل (Eiffel) نے تیار کیا۔ وقت کے ساتھ یہ امریکہ کی قومی پہچان بن گئی۔ 1984 ء میں اقوام متحدہ نے اسے عالمی ورثہ قرار دیا۔مارچ آن روم 28 اکتوبر 1922ء کو فاشسٹ رہنما بینیٹو مسولینی نے اپنی پارٹی کے ہزاروں کارکنان کے ہمراہ اٹلی کے دارالحکومت روم کی طرف مارچ کیا۔ یہ مظاہرہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے تھا جس کے نتیجے میں بادشاہ وکٹر ایمینوئل سوم نے حکومت برطرف کر کے مسولینی کو وزیراعظم مقرر کر دیا۔ یہ دن اٹلی میں فاشزم کے آغاز کاثابت ہوا جس نے آنے والے برسوں میں یورپ کی سیاست پر گہرے اثرات ڈالے۔ مسولینی کی آمرانہ حکومت نے اٹلی کو نازی جرمنی کے قریب کیا اور بالآخر ملک دوسری جنگِ عظیم میں شامل ہو گیا۔ ''مارچ آن روم ‘‘کو آج بھی انتہا پسند سیاست کے ابھرنے کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے جو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کس طرح جمہوری نظام کمزور قیادت کے باعث آمریت میں بدل سکتا ہے۔کیوبا میزائل بحران کاخاتمہ28 اکتوبر 1962ء کو سوویت رہنما نکیتا خروشیف نے اعلان کیا کہ سوویت یونین کیوبا میں نصب کیے گئے میزائل واپس لے گا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی کیوبن میزائل بحران ختم ہوا، جو دنیا کو ایٹمی جنگ کے قریب لے آیا تھا۔ بحران اس وقت شروع ہوا جب امریکہ نے کیوبا میں سوویت بیلسٹک میزائل تنصیبات کا سراغ لگایا۔ صدر جان ایف کینیڈی نے بحری ناکہ بندی کا حکم دیا جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ 13 دن تک دنیا بھر میں خوف و ہراس کا عالم رہا۔ بالآخر خفیہ مذاکرات کے ذریعے معاہدہ طے پایا کہ سوویت یونین کیوبا سے میزائل ہٹائے گا اور امریکہ ترکی سے اپنے میزائل واپس لے گا۔ یہ بحران سرد جنگ کے دوران سفارتی فہم و فراست کی ایک کامیاب مثال بن گیا ۔جس نے عالمی سطح پر ایٹمی پالیسیوں پر گہرے اثرات ڈالے۔انڈونیشیا کا یومِ نوجوانان28 اکتوبر 1928ء کو انڈونیشیا کے نوجوانوں نے جکارتہ میں منعقدہ یوتھ کانگرس میں ایک تاریخی عہد کیا جسے (Sumpah Pemuda) یعنی ''نوجوانوں کا عہد‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس عہد میں نوجوانوں نے اعلان کیا کہ ہم ایک قوم، ایک وطن اور ایک زبان رکھتے ہیں ۔اس اتحاد نے انڈونیشیا کی قومی تحریک کو نئی جان بخشی۔ اُس وقت ملک ڈچ نوآبادیاتی تسلط میں تھا مگر نوجوانوں کے اس اتحاد نے آزادی کی راہ ہموار کی۔ یہی نظریہ بعد ازاں 1945 ء میں آزادی کے اعلان کی بنیاد بنا۔ آج بھی 28 اکتوبر کو انڈونیشیا میں یومِ نوجوانان کے طور پر منایا جاتا ہے جو حب الوطنی، اتحاد اور زبان و ثقافت کے احترام کی یاد دلاتا ہے۔

مصنوعی ذہانت،ترقی کی دوڑ اور تباہی کا خطرہ

مصنوعی ذہانت،ترقی کی دوڑ اور تباہی کا خطرہ

مصنوعی ذہانت (AI) اکیسویں صدی کی انقلابی ٹیکنالوجی بن کر ابھری ہے جس نے انسانی زندگی، معیشت، تعلیم، صحت، صنعت اور عالمی سیاست کے بنیادی تصورات کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ چند لمحوں میں پیچیدہ سوالات کے جواب دینا، بڑی مقدار میں معلومات کا تجزیہ کرنا، بیماریوں کی تشخیص میں مدد فراہم کرنا اور ایسے کام انجام دینا جو پہلے کئی گھنٹوں یا دنوں میں مکمل ہوتے تھے، اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے ممکن ہو رہا ہے۔ تاہم اس غیر معمولی ترقی کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی موجود ہے: کیا انسان اپنی تخلیق کردہ اس ٹیکنالوجی کو محفوظ رکھنے اور اس کے ممکنہ نقصانات کو روکنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے؟ سائنسی جریدے 'لائیو سائنس ‘میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں یونیورسٹی آف باتھ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اخِل بھردواج نے اسی سوال پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیاں ایک دوسرے کے ساتھ ایسی مسابقت میں الجھی ہوئی ہیں جہاں کسی ایک کی غیر ذمہ داری دوسروں کو بھی خطرات کی پروا کیے بغیر آگے بڑھنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صنعت کو جوہری توانائی کے شعبے کے تجربات سے سبق سیکھنا چاہیے، جہاں بڑے خطرات سے نمٹنے کے لیے نگرانی، باہمی تعاون اور حفاظتی ضوابط کا ایک نظام تشکیل دیا گیا۔ ترقی کی دوڑ اور اجتماعی خطراتمصنوعی ذہانت کی دنیا میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان مقابلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ہر ادارہ زیادہ طاقتور، تیز رفتار اور بہتر صلاحیتوں کے حامل ماڈل تیار کرکے مارکیٹ میں اپنی برتری قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس مقابلے کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ تحقیق میں سرمایہ کاری بڑھتی ہے اور نئی سہولتیں تیزی سے سامنے آتی ہیں۔ لیکن جب تجارتی مفادات اور سبقت حاصل کرنے کی خواہش حفاظتی اقدامات پر غالب آ جائے تو یہی دوڑ سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔فرض کریں کہ ایک کمپنی مصنوعی ذہانت کے کسی نئے نظام کو مکمل حفاظتی جانچ کے بغیر متعارف کرا دیتی ہے۔ اگر اس سے اسے کاروباری فائدہ حاصل ہوتا ہے تو حریف اداروں پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنے نظام جلد مارکیٹ میں لائیں۔ اس صورت میں ہر کمپنی یہ سوچ سکتی ہے کہ اگر اس نے احتیاط کے باعث تاخیر کی تو وہ مقابلے میں پیچھے رہ جائے گی۔ نتیجتاً انفرادی فیصلوں کا مجموعی اثر پوری صنعت اور معاشرے کے لیے خطرناک بن سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کو بجلی کے نیٹ ورک، پانی کی فراہمی، مالیاتی اداروں اور صحت کے شعبے میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر ان سسٹمز میں تکنیکی خرابی پیدا ہو، انہیں غلط معلومات فراہم کی جائیں یا ان کی صلاحیتوں کا غلط استعمال ہو تو نتائج محض مالی نقصان تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہاں اصل مسئلہ ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں بلکہ اس ترقی کے ساتھ ذمہ داری، احتیاط اور جوابدہی کو یقینی بنانا ہے۔جوہری صنعت سے کیا سبق ملتا ہے؟جوہری توانائی کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد حاصل کرنے کے لیے حفاظتی انتظامات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جوہری توانائی بجلی پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہے لیکن اس کے غلط استعمال یا حفاظتی نظام میں ناکامی کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے وقت کے ساتھ اس شعبے میں نگرانی، تربیت، تکنیکی معیارات اور بین الاقوامی تعاون کو بنیادی اہمیت حاصل ہوئی۔1979ء میں امریکہ کے تھری مائل آئی لینڈ جوہری بجلی گھر میں پیش آنے والے حادثے نے واضح کیا کہ آلات کے ڈیزائن میں خامیاں، انتباہی نظام کی کمزوریاں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی ناکافی تربیت بڑے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔اسی طرح 1986ء میں چرنوبل کا حادثہ جوہری توانائی کے شعبے کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس حادثے نے دنیا کو دکھایا کہ کسی ایک ادارے کی ناکامی کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔مصنوعی ذہانت اور جوہری توانائی میں فرق ضرور ہے مگرد دونوں شعبوں میں ایک بنیادی مماثلت موجود ہے، کہ کسی ایک فریق کی غلطی دوسروں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ نگرانی، شفافیت اور جوابدہی مصنوعی ذہانت کی صنعت میں خود ضابطہ کاری کا تصور اسی ضرورت سے جنم لیتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کمپنیاں صرف حکومتی قوانین کا انتظار کرنے کے بجائے اپنے لیے مشترکہ حفاظتی اصول بنائیں، ایک دوسرے کے سسٹمز کا جائزہ لیں اور ممکنہ خطرات کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کریں۔اخِل بھردواج کے مطابق اے آئی کے جدید اور طاقتور ماڈلز کو عام استعمال میں لانے سے پہلے آزادانہ جانچ، باہمی جائزے اور حفاظتی معیارات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا ئے۔ اگر کوئی سسٹم خطرناک صلاحیتوں کا حامل ہو تو اس کی خامیوں اور ممکنہ نقصانات کا جائزہ اس کے وسیع پیمانے پر استعمال سے پہلے لیا جانا چاہیے۔اس مقصد کے لیے آزاد ماہرین اورتھرڈ پارٹیز کو کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ کمپنیاں خود اپنی کارکردگی کا جائزہ لے کر اسے محفوظ قرار دینے تک محدود نہ رہیں۔حکومتوں اور عالمی برادری کی ذمہ داریمصنوعی ذہانت کی ترقی کسی ایک ملک یا کمپنی تک محدود نہیں، اس کے اثرات عالمی معیشت، قومی سلامتی اور انسانی زندگی کے متعدد شعبوں تک پھیل سکتے ہیں؛ چنانچہ اس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے قومی قوانین کے ساتھعالمی تعاون بھی ضروری ہے۔حکومتوں کو ایسے ضوابط متعارف کرانے چاہئیں جو کمپنیوں کو خطرات کی نشاندہی اور سنگین واقعات کی رپورٹنگ کا پابند بنائیں۔ آزادانہ نگرانی کے اداروں کو مناسب اختیارات دیے جائیں جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کا واضح نظام موجود ہو۔

آڈیو ویژول ہرٹیج کا عالمی دن

آڈیو ویژول ہرٹیج کا عالمی دن

ماضی کی آوازیں ،تاریخ کے محفوظ نقوشہر قوم کی تاریخ محض کتابوں، تحریری دستاویزات اور تاریخی عمارتوں میں محفوظ نہیں ہوتی ، اس کا ایک بڑا حصہ تصاویر، فلموں، ریڈیو نشریات، ٹیلی ویژن پروگراموں، آڈیو ریکارڈنگز اور دیگر آڈیو ویژول میڈیم میں موجود ہوتا ہے۔ یہ ذرائع ماضی کے واقعات، معاشرتی تبدیلیوں، تہذیبی روایات اور انسانی تجربات کو اس انداز میں محفوظ کرتے ہیں کہ آنے والی نسلیں نہ صرف تاریخ کو پڑھ سکیں بلکہ اسے دیکھ اور سن بھی سکیں۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ہر سال 27 اکتوبر کو عالمی یومِ سمعی و بصری ورثہ(World Day for Audiovisual Heritage) منایا جاتا ہے جس کا مقصد دنیا کے آڈیو ویژول ہرٹیج کے تحفظ، اس کی اہمیت اور اس تک عوام کی رسائی کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔یہ دن اقوامِ متحدہ کے ادارہ یونیسکو کی کوششوں سے عالمی سطح پر منایا جاتا ہے جبکہ آڈیو ویژول آرکائیوز کی بین الاقوامی رابطہ کونسل (CCAAA) بھی اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس دن کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ فلموں، آوازوں اور ویڈیو ریکارڈنگز کی صورت میں محفوظ انسانی یادداشت کو ضائع ہونے سے بچانا عالمی ثقافتی ذمہ داری ہے۔ آڈیو ویژول ہرٹیج، تاریخ کا زندہ ریکارڈ آڈیو ویژول ہرٹیج میں فلمیں، پرانی تصاویر، ریڈیوپروگرام، سیاسی و سماجی رہنماؤں کی تقاریر،انٹر ویو، دستاویزی فلمیں، موسیقی، لوک کہانیاں، ٹیلی ویژن نشریات اور دیگر صوتی و بصری ریکارڈ شامل ہیں۔ یہ مواد کسی معاشرے کے تاریخی، ثقافتی، سیاسی اور سماجی ارتقا کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔تحریری تاریخ کسی واقعے کی تفصیلات بیان کرتی ہے لیکن ویڈیو ریکارڈنگ اس واقعے کے مناظر، لوگوں کے تاثرات اور ماحول کی کیفیت بھی سامنے لے آتی ہے۔ اسی طرح کسی بزرگ کی آواز میں ریکارڈ کی گئی لوک داستان، کسی تاریخی شخصیت کی تقریر یا کسی اہم واقعے کی ریڈیو رپورٹ اپنے دور کی زبان، طرزِ اظہار اور اجتماعی احساسات کی عکاسی کرتی ہے۔یہ ریکارڈ محققین، مؤرخین، صحافیوں، طلبہ اور عام شہریوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کی مدد سے نہ صرف ماضی کے واقعات کی تحقیق کی جا سکتی ہے بلکہ ان ادوار کے بارے میں موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے اور تاریخی حقائق کی جانچ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ڈیجیٹل دور میں تاریخی ریکارڈ جدید ٹیکنالوجی نے آڈیو ویژول مواد کی تیاری، نقل اور ترسیل کو آسان بنا دیا ہے لیکن اس کے باوجود تاریخی ریکارڈ کا تحفظ ایک بڑا چیلنج ہے۔ پرانی فلمیں وقت گزرنے کے ساتھ خراب ہو سکتی ہیں، مقناطیسی ٹیپوں پر محفوظ آوازیں اور ویڈیوز اپنی اصل کیفیت کھو سکتی ہیں جبکہ پرانے آلات کی عدم دستیابی کے باعث کئی ریکارڈنگز کو دوبارہ چلانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ نمی، درجہ حرارت میں تبدیلی، گردوغبار، ناقص سٹوریج اور قدرتی آفات بھی تاریخی مواد کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ڈیجیٹل مواد کو بھی محفوظ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ فائلیں خراب ہو سکتی ہیں، سٹوریج کے آلات ناکارہ ہو سکتے ہیں اور پرانے ڈیجیٹل فارمیٹس مستقبل میں ناقابلِ استعمال ہو سکتے ہیں۔اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ تاریخی ریکارڈ کو مناسب ماحول میں محفوظ کیا جائے، اس کی ڈیجیٹل کاپیز تیار کی جائیں اور ان کاپیز کو مختلف محفوظ مقامات پر رکھا جائے۔ ساتھ ہی فائلوں کی باقاعدہ جانچ، مستند معلومات کے ساتھ درجہ بندی اور جدید فارمیٹس میں منتقلی کا مستقل انتظام بھی ضروری ہے۔ محض ریکارڈ محفوظ کر لینا کافی نہیں، اس کی صداقت، پس منظر اور تاریخی اہمیت کو برقرار رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ پاکستان کا آڈیو ویژول ورثہ پاکستان کا آڈیو ویژول ورثہ نہایت متنوع اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ تحریکِ پاکستان کے مناظر، قیامِ پاکستان سے متعلق تقاریر، ابتدائی قومی نشریات، تاریخی سیاسی اجتماعات، پرانی دستاویزی فلمیں، علاقائی موسیقی، لوک داستانیں اور مختلف خطوں کی ثقافتی تقریبات ہمارے اجتماعی ماضی کا اہم حصہ ہیں۔ریڈیو پاکستان کی پرانی نشریات، پاکستان ٹیلی ویژن کے ابتدائی پروگرام، قومی رہنماؤں کی تقاریر اور مختلف علاقوں کی زبانوں میں ریکارڈ کی گئی لوک موسیقی میں ایسا قیمتی مواد موجودہے جو آنے والی نسلوں کے لیے تاریخی اور علمی سرمایہ ہے۔ اسی طرح ملک کے مختلف خطوں کی روایات، لوک ادب، ثقافتی تقریبات اور بزرگوں کی زبانی تاریخ کو ریکارڈ کرنا بھی ضروری ہے تاکہ علاقائی شناخت اور تہذیبی تنوع محفوظ رہ سکے۔ پرانی فلموں اور آڈیو ٹیپس کی کیٹلاگنگ، ان کی ڈیجیٹل منتقلی اور محققین کے لیے مناسب رسائی فراہم کرنا اس عمل کے بنیادی تقاضے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اور ورثے کا تحفظڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت نے آڈیو ویژول ورثے کے تحفظ کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ جدید سسٹمز کے ذریعے پرانی ریکارڈنگز میں شور کم کیا جا سکتا ہے، تصاویر کی مرمت کی جا سکتی ہے، آوازوں کو تلاش کرنا آسان بنایا جا سکتا ہے اور تاریخی مواد کو دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ تاہم ان سہولتوں کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی تصویر، آواز یا ویڈیو میں ایسی تبدیلیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں جو اصل تاریخی حقیقت کو مسخ کر دیں۔اس لیے اصل ریکارڈ کو محفوظ رکھنا، ڈیجیٹل تبدیلیوں کی وضاحت کرنا اور ہر مواد کے ماخذ کی تصدیق کرنا ناگزیر ہے۔ورلڈ ڈے آف آڈیو ویژول ہرٹیج ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماضی کی آوازیں اور تصاویر محض پرانی یادگاریں نہیں بلکہ انسانی تہذیب کی مشترکہ امانت ہیں۔ اگر آج ان کی حفاظت کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو کل ہماری تاریخ کے کئی اہم باب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو سکتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

کشمیر میں بھارتی فوجی مداخلت 27 اکتوبر 1947ء کو ریاست جموں وکشمیر کی تاریخ کے سیاہ دور کا آغاز ہوا جب بھارتی افواج نام نہاد الحاق کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر سری نگر میں اتریں اور ریاست پر قبضہ کر لیا ۔ بعد کے برسوں میں اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر زیرِ بحث آیا اور خطے میں جنگ بندی کی کوششیں ہوئیں تاہم بھارت اپنے غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھتے ہوئے جان بوجھ کر اقوام متحدہ کے چارٹر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر تا آ رہا ہے۔ 27 اکتوبر 1947ء کے غیر قانونی واقعے نے جنوبی ایشیا کی سیاست، سلامتی اور سفارتکاری پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ بین الاقوامی قانون بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں آبادیاتی تبدیلی بھی کی جا رہی ہے۔ جنرل ایوب خان کا اقتدار27 اکتوبر 1958ء کو جنرل محمد ایوب خان نے صدر اسکندر مرزا کو اقتدار سے ہٹا کر ملک کی صدارت سنبھال لی۔ اس وقت پاکستان شدید سیاسی عدم استحکام، حکومتوں کی تبدیلی اور آئینی اختلافات کا سامنا کر رہا تھا۔ ملک کا پہلا آئین 1956ء میں نافذ ہوا لیکن سیاسی اداروں اور قیادت کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔7 اکتوبر 1958ء کو صدر اسکندر مرزا نے آئین منسوخ کر دیا، قومی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دیں، سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں ختم کر دیں اور ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ انہوں نے جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لا ء ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا تاہم چند ہی ہفتوں بعد دونوں میں اقتدار کی کشمکش شدت اختیار کر گئی۔ 27 اکتوبر کو ایوب خان نے اسکندر مرزا کو صدارت چھوڑنے پر مجبور کیا اورانہیں ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔ نیویارک سب وے 27 اکتوبر 1904ء کو امریکہ کے شہر نیویارک میں پہلی زیرِ زمین شہری ریلوے سروس کا افتتاح ہوا۔ یہ واقعہ جدید شہری نقل و حمل کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ افتتاح کے روز نیویارک کے میئر جارج میک کلیلن جونیئر نے پہلی نمائشی ٹرین چلائی۔ ابتدائی ریلوے لائن تقریباً 9.1 میل طویل تھی اور اس میں 28 سٹیشن شامل تھے۔ یہ لائن مین ہیٹن کے سٹی ہال سے شروع ہو کر گرینڈ سینٹرل اور ٹائمز سکوائر سے گزرتی ہوئی 145ویں سٹریٹ تک جاتی تھی۔اس منصوبے نے شہر کے مختلف علاقوں کے درمیان سفر کو آسان بنایا اور شہری زندگی، کاروبار اور رہائش کے انداز پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ آج نیویارک کا سب وے دنیا کے معروف ترین شہری ٹرانسپورٹ نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ کیوبا میزائل بحران27 اکتوبر 1962ء سرد جنگ کے خطرناک ترین دنوں میں سے ایک تھا۔ اس وقت امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان کیوبا میں سوویت میزائلوں کی تنصیب کے معاملے پر شدید کشیدگی جاری تھی اور امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے کیوبا کے گرد بحری ناکہ بندی نافذ کی جبکہ سوویت رہنما خروشیف کے ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری تھے۔27 اکتوبر کو بحران مزید سنگین ہو گیا جب امریکی فضائیہ کا یو2 جاسوس طیارہ کیوبا کے اوپر مار گرایا گیا اور اس کا پائلٹ میجر روڈولف اینڈرسن جونیئر ہلاک ہو گیا۔ 27 اکتوبر کو اس بحران کا خطرناک ترین دن قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس وقت کسی غلط اندازے یا غیر ارادی فوجی کارروائی کے تباہ کن نتائج نکل سکتے تھے۔ ترکمانستان کی آزادی 27 اکتوبر 1991ء کو وسطی ایشیا کی ریاست ترکمانستان نے سوویت یونین سے آزادی کا اعلان کیا۔ ترکمانستان طویل عرصے تک روسی سلطنت اور بعد ازاں سوویت نظام کا حصہ رہا۔ سوویت دور میں اسے ایک الگ سوویت جمہوریہ کی حیثیت حاصل تھی۔1991ء میں سوویت یونین میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا اور اگست میں ماسکو میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد مختلف سوویت جمہوریاؤں میں آزادی کی تحریکوں کو تقویت ملی۔ ترکمانستان میں 26 اکتوبر 1991ء کو آزادی کے معاملے پر ریفرنڈم منعقد ہوا۔97 فیصد سے زائد آبادی نے ریفرنڈم میں حصہ لیا اوررائے دہندگان میں 94 فیصد سے زائد نے آزادی کی حمایت کی۔ اگلے روز یعنی 27 اکتوبر کو ترکمانستان کی سپریم سوویت نے باضابطہ طور پر آزادی کا اعلان کر دیا۔

راکٹ ٹیکنالوجی سے لیس ٹیسلا کی اڑنے والی کار

راکٹ ٹیکنالوجی سے لیس ٹیسلا کی اڑنے والی کار

ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے انسان کے ان خوابوں کو بھی حقیقت کا روپ دینے کی امید پیدا کر دی ہے، جنہیں کبھی محض سائنس فکشن کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ زمین پردوڑنے والی گاڑیوں کے بعد اب فضا میں اڑنے والی کار کا تصور بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔ دنیا کی معروف کاروباری شخصیت اور ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک اپنی اختراعی سوچ اور مستقبل بین منصوبوں کے باعث اکثر خبروں میں رہتے ہیں۔ راکٹ ٹیکنالوجی اور برقی گاڑیوں کے امتزاج سے متعلق ان کے تصورات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا مستقبل میں سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں آسمانوں میں بھی پرواز کرتی دکھائی دیں گی؟ ایلون مسک کبھی اپنی حدود سے آگے بڑھ کر نئے تجربات کرنے سے گریز نہیں کرتے، لیکن دنیا کی پہلی اڑنے والی کار متعارف کرانے کے بعد ممکن ہے کہ ان کا یہ اقدام حد سے آگے بڑھنے کے مترادف سمجھا جائے۔ ایک حیران کن ویڈیو میں ٹیسلا روڈسٹر کو الٹی سمت میں بنائے گئے ایک ریمپ پر اوپر جاتے، پھر ہوا میں قلابازی کھاتے اور زمین کی طرف گرتے دکھایا گیا ہے۔ تاہم، اسی دوران راکٹ تھرسٹرز فعال ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں گاڑی محفوظ انداز میں فضا میں معلق ہو جاتی ہے۔ مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ گاڑی اب تک کے تمام ریکارڈز توڑ دے گی اور اسے 2028ء میں مارکیٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بنیادی طور پر راکٹ کی طرح اڑ سکتی ہے۔ یہ ہوا میں قلابازیاں کھا سکتی ہے، حیران کن کرتب دکھا سکتی ہے۔گاڑی کی ہوا میں قلابازیاں کھانے کی غیر معمولی صلاحیت کے پیچھے بلندی کو کنٹرول کرنے والے نظام، تھرسٹرز اور گاڑی کے پچھلے حصے میں نصب مرکزی تھرسٹرز کا کردار ہے‘‘۔مسک کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نئی روڈسٹر گاڑی کی مزید ویڈیوز بھی شیئر کی گئی ہیں، جن میں اس کی پرواز کی مزید حیران کن صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ایک مظاہرے میں گاڑی کو کھڑی ہوئی گاڑیوں کی ایک قطار کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کے بعد وہ اچانک فضا میں بلند ہوتی ہے، ہوا میں قلابازی کھاتی ہے اور دوسری جانب بحفاظت اتر جاتی ہے۔ایک اور مظاہرے میں روڈسٹر بغیر حرکت کیے اپنی جگہ سے اچانک فضا میں اچھلتی ہے۔ ہوا میں معلق رہتے ہوئے قلابازی کھاتی ہے اور پھر دھویں کے بادل کے درمیان آہستگی سے دوبارہ زمین پر اتر آتی ہے۔گاڑی میں نصب راکٹ تھرسٹرز سے نکلنے والے سفید دھویں کے مرغولے خلائی جہازوں اور چاند پر اترنے والے خلائی آلات کو کنٹرول کرنے کیلئے استعمال ہونے والے ''ری ایکشن کنٹرول سسٹم‘‘ (RCS) سے مشابہ دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال اسپیس ایکس کا اسٹار شپ ہیومن لینڈنگ سسٹم ہے، جسے چاند پر خلابازوں کو اتارنے کیلئے تیار کیا جا رہا ہے۔یہ مماثلت زیادہ حیران کن نہیں، کیونکہ نئی ٹیسلا روڈسٹر کو اسپیس ایکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔راکٹ کی مدد سے پرواز کرنے کی ان حیرت انگیز صلاحیتوں کے علاوہ، ٹیسلا کا دعویٰ ہے کہ روڈسٹر تقریباً 0.81 سیکنڈ میں صفر سے 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے، جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 230 میل فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔آسٹریلوی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق روڈسٹر کے نچلے حصے میں سکشن فین کا ایک نظام نصب ہے۔ جس سے گاڑی کو سڑک کے ساتھ مضبوطی سے جڑے رہنے میں مدد ملتی ہے۔ایلون مسک کے مطابق، گاڑی کے نچلے حصے میں نصب سکشن فین کا نظام ہی وہ ٹیکنالوجی ہے جس کی بدولت گاڑی الٹی حالت میں بھی اسٹیل کے ریمپ کے ساتھ چپکی رہ سکتی ہے۔ مسک کا کہنا ہے کہ وہ نئی اسپورٹس کار کی پیداوار 2028ء میں شروع کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔ٹیسلا کی ویب سائٹ پر ''اپنی روڈسٹر بک کروائیں‘‘ کے عنوان سے موجود صفحے کے مطابق، صارفین کار کی بکنگ کیلئے 50 ہزار ڈالر بطور قابلِ واپسی ڈپازٹ جمع کرا سکتے ہیں۔ صارفین اڑھائی لاکھ ڈالر کے عوض تھرسٹ کی اضافی سہولت والا ماڈل بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ راکٹ کی اضافی سہولت والا ماڈل صرف مخصوص افراد کو ملے گا۔تاہم، گاڑی کی حتمی قیمت کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔ اس کی بعض خصوصیات کے سڑکوں پر قانونی استعمال کے حوالے سے بھی صورت حال واضح نہیں ہے۔ایلون مسک نے اس بارے میں کہا کہ مجھے یقین نہیں کہ یہ گاڑی ہر ملک اور ہر قانونی دائرہ اختیار میں لازماً قانونی ہوگی‘‘۔مسک کی اڑنے والی گاڑیوں میں دلچسپی نئی نہیں۔2018ء میں انہوں نے روڈسٹر کیلئے اسپیس ایکس کے خصوصی پیکیج کا تصور پیش کیا تھا۔ اس منصوبے میں حقیقی راکٹ ٹیکنالوجی، استعمال کرنے کی تجویز تھی۔ اس وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان تھرسٹرز کی مدد سے گاڑی کی رفتار بڑھانے، اس کے کنٹرول اور سڑک پر توازن بہتر بنانے، حتیٰ کہ مختصر وقت کیلئے اسے فضا میں معلق رکھنے کی صلاحیت بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔