راکٹ ٹیکنالوجی سے لیس ٹیسلا کی اڑنے والی کار
اسپیشل فیچر
ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے انسان کے ان خوابوں کو بھی حقیقت کا روپ دینے کی امید پیدا کر دی ہے، جنہیں کبھی محض سائنس فکشن کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ زمین پردوڑنے والی گاڑیوں کے بعد اب فضا میں اڑنے والی کار کا تصور بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔ دنیا کی معروف کاروباری شخصیت اور ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک اپنی اختراعی سوچ اور مستقبل بین منصوبوں کے باعث اکثر خبروں میں رہتے ہیں۔ راکٹ ٹیکنالوجی اور برقی گاڑیوں کے امتزاج سے متعلق ان کے تصورات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا مستقبل میں سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں آسمانوں میں بھی پرواز کرتی دکھائی دیں گی؟
ایلون مسک کبھی اپنی حدود سے آگے بڑھ کر نئے تجربات کرنے سے گریز نہیں کرتے، لیکن دنیا کی پہلی اڑنے والی کار متعارف کرانے کے بعد ممکن ہے کہ ان کا یہ اقدام حد سے آگے بڑھنے کے مترادف سمجھا جائے۔ ایک حیران کن ویڈیو میں ٹیسلا روڈسٹر کو الٹی سمت میں بنائے گئے ایک ریمپ پر اوپر جاتے، پھر ہوا میں قلابازی کھاتے اور زمین کی طرف گرتے دکھایا گیا ہے۔ تاہم، اسی دوران راکٹ تھرسٹرز فعال ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں گاڑی محفوظ انداز میں فضا میں معلق ہو جاتی ہے۔
مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ گاڑی اب تک کے تمام ریکارڈز توڑ دے گی اور اسے 2028ء میں مارکیٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بنیادی طور پر راکٹ کی طرح اڑ سکتی ہے۔ یہ ہوا میں قلابازیاں کھا سکتی ہے، حیران کن کرتب دکھا سکتی ہے۔گاڑی کی ہوا میں قلابازیاں کھانے کی غیر معمولی صلاحیت کے پیچھے بلندی کو کنٹرول کرنے والے نظام، تھرسٹرز اور گاڑی کے پچھلے حصے میں نصب مرکزی تھرسٹرز کا کردار ہے‘‘۔
مسک کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نئی روڈسٹر گاڑی کی مزید ویڈیوز بھی شیئر کی گئی ہیں، جن میں اس کی پرواز کی مزید حیران کن صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ایک مظاہرے میں گاڑی کو کھڑی ہوئی گاڑیوں کی ایک قطار کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کے بعد وہ اچانک فضا میں بلند ہوتی ہے، ہوا میں قلابازی کھاتی ہے اور دوسری جانب بحفاظت اتر جاتی ہے۔ایک اور مظاہرے میں روڈسٹر بغیر حرکت کیے اپنی جگہ سے اچانک فضا میں اچھلتی ہے۔ ہوا میں معلق رہتے ہوئے قلابازی کھاتی ہے اور پھر دھویں کے بادل کے درمیان آہستگی سے دوبارہ زمین پر اتر آتی ہے۔
گاڑی میں نصب راکٹ تھرسٹرز سے نکلنے والے سفید دھویں کے مرغولے خلائی جہازوں اور چاند پر اترنے والے خلائی آلات کو کنٹرول کرنے کیلئے استعمال ہونے والے ''ری ایکشن کنٹرول سسٹم‘‘ (RCS) سے مشابہ دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال اسپیس ایکس کا اسٹار شپ ہیومن لینڈنگ سسٹم ہے، جسے چاند پر خلابازوں کو اتارنے کیلئے تیار کیا جا رہا ہے۔یہ مماثلت زیادہ حیران کن نہیں، کیونکہ نئی ٹیسلا روڈسٹر کو اسپیس ایکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔
راکٹ کی مدد سے پرواز کرنے کی ان حیرت انگیز صلاحیتوں کے علاوہ، ٹیسلا کا دعویٰ ہے کہ روڈسٹر تقریباً 0.81 سیکنڈ میں صفر سے 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے، جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 230 میل فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
آسٹریلوی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق روڈسٹر کے نچلے حصے میں سکشن فین کا ایک نظام نصب ہے۔ جس سے گاڑی کو سڑک کے ساتھ مضبوطی سے جڑے رہنے میں مدد ملتی ہے۔ایلون مسک کے مطابق، گاڑی کے نچلے حصے میں نصب سکشن فین کا نظام ہی وہ ٹیکنالوجی ہے جس کی بدولت گاڑی الٹی حالت میں بھی اسٹیل کے ریمپ کے ساتھ چپکی رہ سکتی ہے۔ مسک کا کہنا ہے کہ وہ نئی اسپورٹس کار کی پیداوار 2028ء میں شروع کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔
ٹیسلا کی ویب سائٹ پر ''اپنی روڈسٹر بک کروائیں‘‘ کے عنوان سے موجود صفحے کے مطابق، صارفین کار کی بکنگ کیلئے 50 ہزار ڈالر بطور قابلِ واپسی ڈپازٹ جمع کرا سکتے ہیں۔ صارفین اڑھائی لاکھ ڈالر کے عوض تھرسٹ کی اضافی سہولت والا ماڈل بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ راکٹ کی اضافی سہولت والا ماڈل صرف مخصوص افراد کو ملے گا۔تاہم، گاڑی کی حتمی قیمت کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔ اس کی بعض خصوصیات کے سڑکوں پر قانونی استعمال کے حوالے سے بھی صورت حال واضح نہیں ہے۔ایلون مسک نے اس بارے میں کہا کہ مجھے یقین نہیں کہ یہ گاڑی ہر ملک اور ہر قانونی دائرہ اختیار میں لازماً قانونی ہوگی‘‘۔
مسک کی اڑنے والی گاڑیوں میں دلچسپی نئی نہیں۔2018ء میں انہوں نے روڈسٹر کیلئے اسپیس ایکس کے خصوصی پیکیج کا تصور پیش کیا تھا۔ اس منصوبے میں حقیقی راکٹ ٹیکنالوجی، استعمال کرنے کی تجویز تھی۔ اس وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان تھرسٹرز کی مدد سے گاڑی کی رفتار بڑھانے، اس کے کنٹرول اور سڑک پر توازن بہتر بنانے، حتیٰ کہ مختصر وقت کیلئے اسے فضا میں معلق رکھنے کی صلاحیت بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔