اوسا کاقلعہ
اسپیشل فیچر
‘ جاپانی تاریخ‘ عظمت اور ثقافت کا درخشاں شاہکار
تاریخ قوموں کے عروج و زوال کی داستانوں کو اپنے دامن میں سمیٹے رکھتی ہے لیکن کچھ تاریخی مقامات ایسے ہوتے ہیں جو گزرتے وقت کے ساتھ مٹتے نہیں بلکہ اپنی قوم کی غیرت، حب الوطنی اور ذوقِ تعمیر کی علامت بن کر زندہ رہتے ہیں۔ جاپان کے تاریخی شہر اوساکا میں واقع اوساکا قلعہ بھی ایسی ہی عظیم الشان اور ساحرانہ عمارت ہے، جو جاپانی تاریخ کے گرم و سرد، جنگوں کے طوفانوں اور زلزلوں کے باوجود آج بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ استادہ ہے۔ یہ قلعہ جاپان کے ماضی کا سنہری باب ہونے کے ساتھ ساتھ جاپانی قوم کی اپنے اسلاف کے کارناموں اور تہذیبی ورثوں سے بے پناہ محبت کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔
اوساکا قلعے کی تعمیر کا آغاز 1580ء کے عشرے میں جاپان کے مشہور و معروف جرنیل اور حکمران ٹوئیوٹومی ہائیڈیوشی کی سربراہی میں ہوا۔ ہائیڈیوشی کا خواب جاپان کو متحد کرنا تھا، اور اس مقصد کیلئے اس نے ایسا قلعہ بنانے کا ارادہ کیا جو اس کی طاقت، جاہ و جلال اور اختیار کی علامت ہو۔ قلعے کی بنیادیں رکھنے کے بعد جاپان بھر سے ماہر معماروں، سنگ تراشوں اور فنکاروں کو بلا کر اس کی تعمیر کا کام سونپا گیا۔
جاپان کی تاریخ میں سیاسی کشمکش اور فوجی بغاوتوں کی وجہ سے اس قلعے نے متعدد بار تباہی اور تجدید کا مرحلہ دیکھا۔ جاپانی ملٹری کے باغیوں اور مخالف دھڑوں نے کئی بار اس تاریخی قلعے میں پناہ بھی لی اور مختلف معرکوں کے دوران اس قلعے کے کچھ حصوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
1629ء سے 1868ء تک کا طویل عرصہ اس قلعے کی مرحلہ وار تعمیر و تزئین اور بحالی کا دور رہا۔ مختلف ادوار کے شہنشاہوں اور حکمرانوں نے اس کی تعمیر و آرائش میں بے پناہ دلچسپی لی اور اس کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور خوبصورت بنایا۔یہ مسلسل دیکھ بھال اور دوبارہ تعمیر کا عمل اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ زندہ قومیں اپنے اسلاف کی میراث اور تہذیبی ورثوں کا تحفظ کس طرح کرتی ہیں۔ اہل طریقہ اور اہل اقتدار کی یہی حب الوطنی تھی جس نے اس قلعے کو تاریخ کے صفحات سے مٹنے نہیں دیا۔
اگر کوئی سیاح یا تاریخ کا شائق اس عظیم قلعے کا نظارہ کرنا چاہے اور اس کے اندر داخل ہونا چاہے تو تھوڑے سے ین خرچ کر کے ایک ایسی حیرت انگیز دنیا کا تجربہ کر سکتا ہے جو عہد رفتہ کی انمٹ تصویر ہے۔
قلعے کی تعمیر میں دفاعی حکمت عملی اور جمالیاتی ذوق دونوں کا خیال رکھا گیا ہے۔ قلعے کے گرد تقریباً 30 میٹر گہری خندق بنائی گئی ہے،جس میں اتر کر اور اس کے پار نظر دوڑائیں تو بالکل نئی اور پرشکوہ دنیا سامنے آتی ہے۔
قلعے کی دیواریں عمودی ڈھلان والے بھاری پتھروں سے مل کر بنی ہیں۔ ان بڑی بڑی چٹانوں کو اتنی صفائی اور مہارت سے جوڑا گیا ہے کہ دشمن کیلئے اس پر چڑھنا ناممکن تھا۔ اندرونی عمارت کا طرزِ تعمیر اپنے دور کے شاہانہ جاہ و جلال کو ظاہر کرتا ہے۔ دیواروں پر جگہ جگہ شیروں کے مجسمے کندہ ہیں جو طاقت اور شجاعت کی علامات ہیں۔
قلعے کی چھتوں پر دلکش آرائشی اینٹیں لگائی گئی ہیں جن کی بناوٹ اور پالش میں سنہرے رنگوں کی آمیزش انتہائی بھلی اور دیدہ زیب دکھائی دیتی ہے۔ قلعے کے مرکزی ٹاور کے اندر موجود عجائب گھر آٹھ منزلوں پر مشتمل ہے جہاں جاپان کی تاریخ، نوادرات، جنگی لباس، تلواریں، خطاطی اور نادر مصوری کے نمونے رکھے گئے ہیں۔ آج جب دنیا بھر سے لاکھوں سیاح چند ین خرچ کر کے اس قلعے کی 30 میٹر گہری خندقوں، بلند و بالا فصیلوں، سنہری چھتوں اور تاریخی عجائب گھر کا نظارہ کرتے ہیں تو وہ نہ صرف جاپان کے شاندار ماضی کو سلام پیش کرتے ہیں بلکہ اس قوم کے جذبہ حب الوطنی کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اوساکا قلعہ کل بھی جاپان کا غرور تھا، آج بھی ہے اور آنے والی صدیوں میں بھی اپنے جاہ و جلال کے ساتھ یوں ہی قائم رہے گا۔