قومی اقلیتی ہیرو اورسول ایوارڈ

 قومی اقلیتی ہیرو اورسول ایوارڈ

اسپیشل فیچر

تحریر : شہباز گھوش


پاکستان میں اقلیتوں کے کردار کوریاستی سطح پر ہمیشہ سراہا گیا ہے۔ کھیل،سیاست ، آرمی ،صحت کا شعبہ، گلوکاری ، فن، ادب ،موسیقی و دیگر تمام شعبوں میں اقلیتوں نے اپنے کردار کو ہمیشہ انتہائی خوبصورت انداز سے نبھایا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی تاریخ اقلیتوں کے عظیم کارناموں اور منفرد کرداروں سے بھری پڑی ہے۔ ہر شعبے میں ایسے ایسے نام پیدا ہوئے ہیں، جنہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ امن و امان صلح و سلامتی خوشحالی کی بات ہو یا قربانی دینے کی اقلیتوں نے وطن عزیز کی خاطر ہمیشہ فرنٹ لائن پر اپنا کردار ادا کیا ہے اور وطن عزیز کی خاطر اپنی گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں، جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان نے اپنے شعبوں کے ذریعے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کرنے والے اقلیتی ہیروز کی خدمات اور جرات کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کیلئے اس برس بھی سول ایوارڈز دینے کا اعلان کیا ہے۔ جن میں ڈاکٹر پال جیکب بھٹی، بشپ ہمفری سرفراز پیٹر ، سائرہ پیٹر اوررضیہ نورین شامل ہیں۔
ڈاکٹر پال جیکب بھٹی فیصل آباد کی تحصیل سمندری کے قریب واقع ایک گاؤں خوشپور کے رہائشی ہیں جسے پاکستان کا ویٹی کن سٹی بھی کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر پال جیکب بھٹی نے اٹلی کی پڈوا یونیورسٹی سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی اور پاکستان و یورپ میں طب کے شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے سابق وفاقی وزیر برائے نیشنل ہارمنی و اقلیتی امور رہے اور وزیر اعظم کے مشیر برائے نیشنل ہارمنی بھی رہے ہیں۔ وہ سابق وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کے بڑے بھائی ہیں۔ وہ آل پاکستان مینارٹیز الائنس پاکستان اور شہباز بھٹی میموریل ٹرسٹ سے بطور چیئرمین وابستہ رہے اور مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی انصاف کیلئے کام کرتے رہے ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا، جو بین المذاہب ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کیلئے ان کی طویل خدمات کے اعتراف میں ہے۔
اب آتے ہیں بشپ ہمفری کی طرف ،بشپ ہمفری سرفراز پیٹر ایک مشہور مسیحی مذہبی رہنما ہیں ۔ انسانی حقوق کی ایک معتبر اور توانا آواز ہیں،چرچ آف پاکستان سے وابستگی ہے، بشپ آف پشاور کے مذہبی سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ اقلیتوں کے حقوق اور انصاف کی خاطر ہر فورم پہ آواز اٹھاتے رہے ہیں، مسیحی برادری کے حقوق، مذہبی آزادی، امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے سرگرم رہتے ہیں اقلیتوں کے مسائل اور انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے بین المذاہب ہم آہنگی پر ہمیشہ زور دیا ہے۔ ہر سو امن کا پرچار کرتے ہیں۔حکومت پاکستان نے انہیں بے سہارا اور بے آواز لوگوں کی آواز بلند کرنے اور امن کے اعتراف میں ''تمغہ امتیاز‘‘ دینے کا اعلان کیا ہے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والی سائرہ پیٹر برطانیہ میں مقیم ہیں اور گلوکاری میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔صوفیانہ کلام کو اوپرا انداز میں گانے کا ہنر بھی بخوبی جانتی ہیں۔ دنیا بھر میں گلوکاری کے ذریعے پاکستان کی ایک اچھی اور خوبصورت تصویر کو نمایاں رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکومت پاکستان نے انہیں گلوکاری کے ذریعے امن اور محبت کے پیغام کو دینا بھی میں پھیلانے کیلئے تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا ہے۔
رضیہ نورین پیشے کے لحاظ سے ایک نرس ہیں۔ گزشتہ دنوں پمز ہسپتال اسلام آباد میں نومولود بچوں کی نرسری میں لگنے والی المناک آگ میں سے ایک بچے کی جان بچائی تھی۔ نرس رضیہ کا کہنا ہے کہ میں دیگر بچوں کی بھی جان بچانا چاہتی تھی لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا، جس کا مجھے تاحیات دکھ رہے گا۔ ان کی اس بہادری اور جرات کو دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے ستارہ خدمت دینے کا اعلان کیا ہے۔جو انہیں 23مارچ کو دیا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
راکٹ ٹیکنالوجی سے لیس ٹیسلا کی اڑنے والی کار

راکٹ ٹیکنالوجی سے لیس ٹیسلا کی اڑنے والی کار

ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے انسان کے ان خوابوں کو بھی حقیقت کا روپ دینے کی امید پیدا کر دی ہے، جنہیں کبھی محض سائنس فکشن کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ زمین پردوڑنے والی گاڑیوں کے بعد اب فضا میں اڑنے والی کار کا تصور بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔ دنیا کی معروف کاروباری شخصیت اور ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک اپنی اختراعی سوچ اور مستقبل بین منصوبوں کے باعث اکثر خبروں میں رہتے ہیں۔ راکٹ ٹیکنالوجی اور برقی گاڑیوں کے امتزاج سے متعلق ان کے تصورات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا مستقبل میں سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں آسمانوں میں بھی پرواز کرتی دکھائی دیں گی؟ ایلون مسک کبھی اپنی حدود سے آگے بڑھ کر نئے تجربات کرنے سے گریز نہیں کرتے، لیکن دنیا کی پہلی اڑنے والی کار متعارف کرانے کے بعد ممکن ہے کہ ان کا یہ اقدام حد سے آگے بڑھنے کے مترادف سمجھا جائے۔ ایک حیران کن ویڈیو میں ٹیسلا روڈسٹر کو الٹی سمت میں بنائے گئے ایک ریمپ پر اوپر جاتے، پھر ہوا میں قلابازی کھاتے اور زمین کی طرف گرتے دکھایا گیا ہے۔ تاہم، اسی دوران راکٹ تھرسٹرز فعال ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں گاڑی محفوظ انداز میں فضا میں معلق ہو جاتی ہے۔ مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ گاڑی اب تک کے تمام ریکارڈز توڑ دے گی اور اسے 2028ء میں مارکیٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بنیادی طور پر راکٹ کی طرح اڑ سکتی ہے۔ یہ ہوا میں قلابازیاں کھا سکتی ہے، حیران کن کرتب دکھا سکتی ہے۔گاڑی کی ہوا میں قلابازیاں کھانے کی غیر معمولی صلاحیت کے پیچھے بلندی کو کنٹرول کرنے والے نظام، تھرسٹرز اور گاڑی کے پچھلے حصے میں نصب مرکزی تھرسٹرز کا کردار ہے‘‘۔مسک کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نئی روڈسٹر گاڑی کی مزید ویڈیوز بھی شیئر کی گئی ہیں، جن میں اس کی پرواز کی مزید حیران کن صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ایک مظاہرے میں گاڑی کو کھڑی ہوئی گاڑیوں کی ایک قطار کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کے بعد وہ اچانک فضا میں بلند ہوتی ہے، ہوا میں قلابازی کھاتی ہے اور دوسری جانب بحفاظت اتر جاتی ہے۔ایک اور مظاہرے میں روڈسٹر بغیر حرکت کیے اپنی جگہ سے اچانک فضا میں اچھلتی ہے۔ ہوا میں معلق رہتے ہوئے قلابازی کھاتی ہے اور پھر دھویں کے بادل کے درمیان آہستگی سے دوبارہ زمین پر اتر آتی ہے۔گاڑی میں نصب راکٹ تھرسٹرز سے نکلنے والے سفید دھویں کے مرغولے خلائی جہازوں اور چاند پر اترنے والے خلائی آلات کو کنٹرول کرنے کیلئے استعمال ہونے والے ''ری ایکشن کنٹرول سسٹم‘‘ (RCS) سے مشابہ دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی ایک مثال اسپیس ایکس کا اسٹار شپ ہیومن لینڈنگ سسٹم ہے، جسے چاند پر خلابازوں کو اتارنے کیلئے تیار کیا جا رہا ہے۔یہ مماثلت زیادہ حیران کن نہیں، کیونکہ نئی ٹیسلا روڈسٹر کو اسپیس ایکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔راکٹ کی مدد سے پرواز کرنے کی ان حیرت انگیز صلاحیتوں کے علاوہ، ٹیسلا کا دعویٰ ہے کہ روڈسٹر تقریباً 0.81 سیکنڈ میں صفر سے 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے، جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 230 میل فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔آسٹریلوی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق روڈسٹر کے نچلے حصے میں سکشن فین کا ایک نظام نصب ہے۔ جس سے گاڑی کو سڑک کے ساتھ مضبوطی سے جڑے رہنے میں مدد ملتی ہے۔ایلون مسک کے مطابق، گاڑی کے نچلے حصے میں نصب سکشن فین کا نظام ہی وہ ٹیکنالوجی ہے جس کی بدولت گاڑی الٹی حالت میں بھی اسٹیل کے ریمپ کے ساتھ چپکی رہ سکتی ہے۔ مسک کا کہنا ہے کہ وہ نئی اسپورٹس کار کی پیداوار 2028ء میں شروع کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔ٹیسلا کی ویب سائٹ پر ''اپنی روڈسٹر بک کروائیں‘‘ کے عنوان سے موجود صفحے کے مطابق، صارفین کار کی بکنگ کیلئے 50 ہزار ڈالر بطور قابلِ واپسی ڈپازٹ جمع کرا سکتے ہیں۔ صارفین اڑھائی لاکھ ڈالر کے عوض تھرسٹ کی اضافی سہولت والا ماڈل بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ راکٹ کی اضافی سہولت والا ماڈل صرف مخصوص افراد کو ملے گا۔تاہم، گاڑی کی حتمی قیمت کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔ اس کی بعض خصوصیات کے سڑکوں پر قانونی استعمال کے حوالے سے بھی صورت حال واضح نہیں ہے۔ایلون مسک نے اس بارے میں کہا کہ مجھے یقین نہیں کہ یہ گاڑی ہر ملک اور ہر قانونی دائرہ اختیار میں لازماً قانونی ہوگی‘‘۔مسک کی اڑنے والی گاڑیوں میں دلچسپی نئی نہیں۔2018ء میں انہوں نے روڈسٹر کیلئے اسپیس ایکس کے خصوصی پیکیج کا تصور پیش کیا تھا۔ اس منصوبے میں حقیقی راکٹ ٹیکنالوجی، استعمال کرنے کی تجویز تھی۔ اس وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان تھرسٹرز کی مدد سے گاڑی کی رفتار بڑھانے، اس کے کنٹرول اور سڑک پر توازن بہتر بنانے، حتیٰ کہ مختصر وقت کیلئے اسے فضا میں معلق رکھنے کی صلاحیت بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔

اوسا کاقلعہ

اوسا کاقلعہ

‘ جاپانی تاریخ‘ عظمت اور ثقافت کا درخشاں شاہکارتاریخ قوموں کے عروج و زوال کی داستانوں کو اپنے دامن میں سمیٹے رکھتی ہے لیکن کچھ تاریخی مقامات ایسے ہوتے ہیں جو گزرتے وقت کے ساتھ مٹتے نہیں بلکہ اپنی قوم کی غیرت، حب الوطنی اور ذوقِ تعمیر کی علامت بن کر زندہ رہتے ہیں۔ جاپان کے تاریخی شہر اوساکا میں واقع اوساکا قلعہ بھی ایسی ہی عظیم الشان اور ساحرانہ عمارت ہے، جو جاپانی تاریخ کے گرم و سرد، جنگوں کے طوفانوں اور زلزلوں کے باوجود آج بھی پوری شان و شوکت کے ساتھ استادہ ہے۔ یہ قلعہ جاپان کے ماضی کا سنہری باب ہونے کے ساتھ ساتھ جاپانی قوم کی اپنے اسلاف کے کارناموں اور تہذیبی ورثوں سے بے پناہ محبت کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔اوساکا قلعے کی تعمیر کا آغاز 1580ء کے عشرے میں جاپان کے مشہور و معروف جرنیل اور حکمران ٹوئیوٹومی ہائیڈیوشی کی سربراہی میں ہوا۔ ہائیڈیوشی کا خواب جاپان کو متحد کرنا تھا، اور اس مقصد کیلئے اس نے ایسا قلعہ بنانے کا ارادہ کیا جو اس کی طاقت، جاہ و جلال اور اختیار کی علامت ہو۔ قلعے کی بنیادیں رکھنے کے بعد جاپان بھر سے ماہر معماروں، سنگ تراشوں اور فنکاروں کو بلا کر اس کی تعمیر کا کام سونپا گیا۔ جاپان کی تاریخ میں سیاسی کشمکش اور فوجی بغاوتوں کی وجہ سے اس قلعے نے متعدد بار تباہی اور تجدید کا مرحلہ دیکھا۔ جاپانی ملٹری کے باغیوں اور مخالف دھڑوں نے کئی بار اس تاریخی قلعے میں پناہ بھی لی اور مختلف معرکوں کے دوران اس قلعے کے کچھ حصوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ 1629ء سے 1868ء تک کا طویل عرصہ اس قلعے کی مرحلہ وار تعمیر و تزئین اور بحالی کا دور رہا۔ مختلف ادوار کے شہنشاہوں اور حکمرانوں نے اس کی تعمیر و آرائش میں بے پناہ دلچسپی لی اور اس کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور خوبصورت بنایا۔یہ مسلسل دیکھ بھال اور دوبارہ تعمیر کا عمل اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ زندہ قومیں اپنے اسلاف کی میراث اور تہذیبی ورثوں کا تحفظ کس طرح کرتی ہیں۔ اہل طریقہ اور اہل اقتدار کی یہی حب الوطنی تھی جس نے اس قلعے کو تاریخ کے صفحات سے مٹنے نہیں دیا۔اگر کوئی سیاح یا تاریخ کا شائق اس عظیم قلعے کا نظارہ کرنا چاہے اور اس کے اندر داخل ہونا چاہے تو تھوڑے سے ین خرچ کر کے ایک ایسی حیرت انگیز دنیا کا تجربہ کر سکتا ہے جو عہد رفتہ کی انمٹ تصویر ہے۔قلعے کی تعمیر میں دفاعی حکمت عملی اور جمالیاتی ذوق دونوں کا خیال رکھا گیا ہے۔ قلعے کے گرد تقریباً 30 میٹر گہری خندق بنائی گئی ہے،جس میں اتر کر اور اس کے پار نظر دوڑائیں تو بالکل نئی اور پرشکوہ دنیا سامنے آتی ہے۔ قلعے کی دیواریں عمودی ڈھلان والے بھاری پتھروں سے مل کر بنی ہیں۔ ان بڑی بڑی چٹانوں کو اتنی صفائی اور مہارت سے جوڑا گیا ہے کہ دشمن کیلئے اس پر چڑھنا ناممکن تھا۔ اندرونی عمارت کا طرزِ تعمیر اپنے دور کے شاہانہ جاہ و جلال کو ظاہر کرتا ہے۔ دیواروں پر جگہ جگہ شیروں کے مجسمے کندہ ہیں جو طاقت اور شجاعت کی علامات ہیں۔ قلعے کی چھتوں پر دلکش آرائشی اینٹیں لگائی گئی ہیں جن کی بناوٹ اور پالش میں سنہرے رنگوں کی آمیزش انتہائی بھلی اور دیدہ زیب دکھائی دیتی ہے۔ قلعے کے مرکزی ٹاور کے اندر موجود عجائب گھر آٹھ منزلوں پر مشتمل ہے جہاں جاپان کی تاریخ، نوادرات، جنگی لباس، تلواریں، خطاطی اور نادر مصوری کے نمونے رکھے گئے ہیں۔ آج جب دنیا بھر سے لاکھوں سیاح چند ین خرچ کر کے اس قلعے کی 30 میٹر گہری خندقوں، بلند و بالا فصیلوں، سنہری چھتوں اور تاریخی عجائب گھر کا نظارہ کرتے ہیں تو وہ نہ صرف جاپان کے شاندار ماضی کو سلام پیش کرتے ہیں بلکہ اس قوم کے جذبہ حب الوطنی کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اوساکا قلعہ کل بھی جاپان کا غرور تھا، آج بھی ہے اور آنے والی صدیوں میں بھی اپنے جاہ و جلال کے ساتھ یوں ہی قائم رہے گا۔

طنز و مزاح:میں ایک شاعر ہوں

طنز و مزاح:میں ایک شاعر ہوں

ابھی ہوش سنبھالا ہی تھا کہ گھر میں شعر و شاعری کے چرچے سنے۔ مشاعروں کے کھیل کھیلے۔ اور آخر پندرہ برس کی عمر ہوگئی کہ پہلی غزل اس شان سے مشاعرے میں پڑھی ہے کہ گھر پر پڑی بوڑھیوں نے نظر اتاری اور باہر اس فن کے بڑے بڑے مشاقوں نے اعتراف کیا کہ صاحبزادے نے پالنے ہی میں پیر دکھائے ہیں۔ مطلب یہ کہ شاعری کی ابتدا اسی عمر میں ہوئی جس کے متعلق شاعر کہہ گیا ہے کہ:برس پندرہ یا کہ سولہ کا سنجوانی کی راتیں امنگوں کے دنداد جو ملی تو حوصلے اور بڑھ گئے۔ اب دن رات بس ایک ہی مشغلہ ہے غزل گوئی اور غزل سرائی۔ جس مشاعرے میں پہنچ گئے بس جھنڈے گاڑ آئے۔ اپنے سامنے کسی کا چراغ نہ جلنے دیا۔ جس طرح، میں غزل کہہ دی اس کو اپنا لیا۔ خاص شہرت حاصل کی گرہ لگانے میں۔ قصہ کوتاہ کچھ ہی دنوں میں مقامی مشاعروں کے علاوہ دور دور سے بلاوے آنے لگے۔ آج یہاں مشاعرہ ہے تو کل وہاں، آج اس شہر میں کل اس شہر میں۔ یہ سچ ہے کہ اس طرح تعلیم ضرور ناقص رہ گئی۔ مگر شاعر ہونا مسلم ہوگیا۔ آواز میں قیامت کا سوز تھا۔ اور دھن بنانے کا سلیقہ خداداد تھا۔ پھر کلام کی لطافتیں۔مختصر یہ کہ سب کچھ مل جل کر مشاعرہ لوٹنے میں مدد دیتا تھا۔ ایک نمائش کے مشاعرہ میں تو تمغہ تک دیا گیا تھا۔ اخباروں میں تصویریں چھاپی گئیں۔ رسالوں کے ایڈیٹروں نے بڑی منت کے خطوط لکھے کہ میں اپنا تازہ کلام بھیجوں۔ بے شمار رسالے اور اخبار مفت آنے لگے۔ اور ان میں میرا کلام بڑے امتیاز کے ساتھ چھپنے لگا۔ بڑے بڑے سالانہ نمبروں میں صرف میری غزل کو جلی حروف میں اور خوشنما حاشیہ کے اندر ایک پورے صفحے میں چھاپا گیا۔ مختصر یہ کہ آپ کی دعا سے شہرت اور مقبولیت کی کوئی کمی نہ رہی۔ یہاں تک کہ کچھ ہی دنوں کے بعد مشق اس قدر بڑھ گئی اور کلام میں کچھ خدا کے فضل سے ایسی پختگی پیدا ہوگئی کہ بہت سے نوجوان اپنی اپنی غزلیں اصلاح کیلئے لانے لگے۔ اور اب ضرورت اس کی پیش آئی کہ ذرا اس فن کا مطالعہ بھی کرلیا جائے کہ یہ فاعلاتن فاعلات آخر کیا بلا ہوتی ہے۔یہ سچ ہے کہ پیدائشی اور فطری شاعروں کیلئے ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ مگر شاگردوں کے سمجھانے اور استاد بننے کیلئے معلومات حاصل ہونا ضروری ہوتا ہے۔ بہرحال اس سلسلہ میں جتنی کتابیں دیکھیں اتنی ہی طبیعت الجھی کہ یہ ہے کیا خرافات۔ آخر ایک کتابوں کا سیٹ مل گیا۔ شاعری کی پہلی کتاب۔ دوسری کتاب۔ تیسری کتاب۔ ان کتابوں کو سلسلہ وار پڑھنے سے خود تو کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ مگر دوسروں کو سمجھانے کا مواد ضرور مل گیا اور اب شاگردوں کی غزلوں پر اصلاح کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ان شاگردوں کا مشاعروں میں چمکنا تھا کہ شاگردوں کی تعداد دن دونی رات چوگنی ترقی کرنے لگی۔ یہاں تک کہ عالم یہ ہوگیا کہ ہر مشاعرے کے دن درجنوں شاگرد حلقہ باندھے بیٹھے ہیں۔ اور میں ان کی غزل لکھوا رہا ہوں کہ یہ مطلع تم لکھ لو اور یہ شعر تم لکھ لو۔ شاگردوں سے اور کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو، مگر اتنا ضرور ہوتا ہے کہ خود اپنے کو اوّل تو اساتذہ کی صف میں جگہ ملتی ہے۔ دوسرے استاد کی غزل پر یہ شاگرد داد کا وہ شور مچاتے ہیں کہ مشاعرہ ہی سر پر اٹھالیتے ہیں۔ اور اگر کبھی کوئی بدخواہ اعتراض کربیٹھے تو یہی شاگرد مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ گویا استاد کی اچھی خاصی طاقت ہوتے ہیں یہ شاگرد۔گھر میں اللہ کے فضل و کرم سے کھانے پینے کی کوئی کمی نہ تھی۔ وثیقہ بندھا ہوا تھا۔ اور باپ دادا بھی اتنا چھوڑ گئے تھے کہ چار کو کھلا کر کھا سکیں۔ لہٰذا فکر معاش کا تو کوئی ذکر ہی نہیں۔ لے دے کے بس فکر سخن ہی تھی، شاگردوں کو بھی کبھی کسی خدمت کا کوئی موقع نہ دیا۔ بلکہ ان ہی کی جو خدمت ہوسکی وہ کی۔ یعنی مفت کی غزلوں کے علاوہ اکثر مفت کی روٹیاں بھی مل جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ ایک تنبولی شاگرد نے پانوں کی ڈھولی کی قیمت لینے سے انکار کردیا۔ نتیجہ یہ کہ اگلے مشاعرے میں نہ صرف یہ کہ نہایت زوردار غزل کہہ کر ان کو دی بلکہ ان کا ریل ٹکٹ بھی خود ہی خریدا۔ان ہی حالات میں زندگی بڑے مزے میں بسر ہو رہی تھی کہ ایک دم سے وہ انقلاب آگیا۔ جس نے ساری دنیا زیر وزبر کرکے رکھ دی۔گھر گیا، گرہستی گئی، وثیقہ گیا۔ مختصر یہ کہ آپ ''واحد حاضر‘‘ رہ گئے۔ اور باقی سب کچھ ''جمع غائب‘‘ اور تو اور کھانے پینے کے لالے پڑگئے۔ پردیس میں نہ کوئی جان نہ پہچان۔ ایک نفسا نفسی کا عالم۔ سب کو اپنی اپنی پڑی ہے۔ مہاجرین میں کچھ جانی پہچانی شکلیں بھی نظر آئیں مگر سب کو اپنی اپنی فکر، اور یہاں یہ عالم کہ روزبروز حالت پتلی ہوتی جارہی ہے۔ سرچھپانے کو تو خیر ایک آگ لگی ہوئی عمارت کے دوپسماندہ کمرے مل گئے۔ مگر پیٹ کی آگ بجھانے کی سبیل نظر نہ آتی تھی۔

آج تم یاد بے حساب آئے! طافو: ’’کنگ آف ردھم‘‘ (2024-1945ء)

آج تم یاد بے حساب آئے! طافو: ’’کنگ آف ردھم‘‘ (2024-1945ء)

٭... 1945 میں لاہور کے ایک موسیقار گھرانے میں پیدا ہوئے،اصل نام الطاف حسین تھا، استاد طافو خان کے نام سے شہرت پائی۔٭... طبلہ نوازی پرانہیں کمال مہارت حاصل تھی۔انہیں موسیقی کے حلقوں میں ''طبلہ کا بادشاہ ‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔٭... 1970 میں اپنے کریئر کا آغاز پنجابی فلم ''انورا‘‘‘ سے کیا اور پہلی ہی فلم سے شائقین کے دل موہ لیے۔٭...موسیقار طافو کا فلمی کریئر 50برسوں پر محیط ہے۔اس دوران انہوں نے دو سو سے زائد فلموں کی موسیقی مرتب کی۔٭...پنجابی اور اردوفلموں کے 600 سے زائد گیت بنائے۔٭...متعدد نامور گلوکاروں کو بھی متعارف کرایا۔٭... میڈیم نور جہاں نے ان کے ان گنت گیت گائے۔ طافو خان انہیں ماں کا درجہ دیتے تھے ۔٭...2023ء میں حکومت کی طرف سے انہیں ''پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ سے نوازا گیا۔٭...طویل علالت کے بعد 26اکتوبر 2024ء کو ان کا انتقال ہوا۔مقبول گیت(1)سن وے بلوری اکھ والیا(2)اک بات کہو ں دلدارا(3)کی دم دا بھروسہ یار(4)سونے دی نتھلی، اصلی تے نقلی(5) میں ہوں وفا تو ہے جان وفا (6)نہ جا میرے دلربا(7) مجھے تم بھول نہ جانا (8) پردیسی سجناں پلکوں پہ تیری(9) دوروں دوروں آنکھیاں مارے منڈا پٹواری دا (10) بڑے تیکھے مزاج سوہنے یار دے (11) بدلے گی دنیا ساتھی (12) منڈا شہر لاہور دا میرے دل دے تیر چلاے(13)ڈھول مکھناں پیار تیرا ہر دم یاد رکھنا (14) لاج محبتاں دی رکھ وے (15) اکھ جدوں کردی اے وار (16) تینوں مجرم کواں گی اج تیرے سمنے (17) تم کو قسم محبوب میرے(18) دلو من لاء تیری بن گئی (19) ساتھی مجھے مل گیا(20) کنڈلہ دے وال والیا

آج کا دن

آج کا دن

ونڈوز8متعارف26 اکتوبر 2012ء کو امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے اپنے نئے آپریٹنگ سسٹم ''ونڈوز 8‘‘ کو باضابطہ طور پر عوام کیلئے جاری کر دیا۔ اس موقع پر کمپنی نے اسے نئے کمپیوٹرز پر بھی دستیاب بنایا۔ ونڈوز 8 مائیکروسافٹ کے مقبول آپریٹنگ سسٹمز میں ایک اہم اضافہ تھا، جسے جدید کمپیوٹرز اور ٹچ اسکرین آلات کے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا تھا۔پاکستان میں شدید زلزلہ26 اکتوبر 2015ء کو پاکستان میں ایک تباہ کن زلزلہ آیا جس کی شدت 7.5 ریکٹر اسکیل ریکارڈ کی گئی۔ اس زلزلے کا مرکز افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے علاقے ہندوکش پہاڑوں میں زمین کے اندر تقریباً 210 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔پاکستان میں 400 سے زائد افراد جاں بحق اور 2500 سے زیادہ زخمی ہوئے۔اسرائیل اردن معاہدہ26اکتوبر1994ء کو اسرائیل اور اردن کے درمیان46 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے بعد ایک امن معاہدہ ہوا۔ معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب میں امریکی صدر کلنٹن نے بھی شرکت کی۔ دونوں ممالک کے درمیان امن قائم کرنے کے علاوہ اس معاہدے نے زمین اور پانی کے تنازعات کو بھی حل کیا۔پاکستان نے پہلا ٹیسٹ جیتا1952ء میں پاکستان نے بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا اور اپنی پہلی ٹیسٹ سیریز بھارت کے خلاف کھیلی۔ سیریز کا دوسرا میچ لکھنؤ میں 23 سے 26 اکتوبر تک کھیلا گیا، جس میں اسے فتح حاصل ہوئی۔پاکستان نے یہ میچ ایک اننگز اور 43 رنز سے جیتا ۔ پاکستانی بائولر فضل محمود نے اس میچ میں12 وکٹیں حاصل کیں۔ ہنگری کا انقلاب26اکتوبر1956ء کو ہنگری میں ایک انقلاب کی شروعات ہوئی۔اس دوران مظاہرین اور سوویت فوجیوں کی بداپسٹ کی گلیوں میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ایک اندازے کے مطابق اس انقلاب کے دوران3سے 5ہزار افراد ہلاک ہوئے اور ان کی لاشیں کئی روز تک گلیوں اور سڑکوں پر پڑی رہیں۔ کیلیفورنیا کی آگکیلیفورنیا کی آگ کا سلسلہ سانتا ایناونڈز سے شروع ہوا جس نے تقریباً2 لاکھ 80 ہزار 278 ایکٹر رقبہ اور1232 مکانات کو جلا کر راکھ کر دیا۔ایک ہفتے کے دوران 15افراد ہلاک ہوئے،اس آگ کو کیلیفورنیا کی تاریخ کی سب سے خوفناک آتشزدگی سمجھا جاتا ہے۔ہونڈوراس سمندری طوفانجدید دور کا سب سے مہلک طوفان 26 اکتوبر 1998ء کووسطی امریکہ کے متعدد ممالک سے ٹکرایا۔بہت سے علاقے سیلاب میں ڈوب گئے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق اس طوفان میں تقریباً3ہزار افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ہزاروں افراد کو اپنے گھر چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں منتقل ہونا پڑا۔

ڈیجیٹل دنیا کا سب سے بڑا بحران

ڈیجیٹل دنیا کا سب سے بڑا بحران

70 فیصد انٹرنیٹ کی بندش، دنیا بھر میں ہنگامی حالتکیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک ہی دن میں دنیا بھر کی 70فیصد سے زائد ویب سائٹس یا تو بند ہونے پر مجبور ہو جائیں یا سائبر حملوں کے شدید خطرے کی زد میں آ جائیں؟ یہ حالیہ ڈیجیٹل بحران اس وقت پیدا ہوا جب انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے میں کچھ ایسی سنگین نقائص اور کمزوریاں سامنے آئیں جن سے پہلے دنیا غافل تھی۔ اس واقعہ نے نہ صرف عالمی سطح پر کاروباری اداروں، حکومتوں اور عام صارفین کو ہلا کر رکھ دیا، بلکہ یہ بھی واضح کر دیا کہ ہماری ڈیجیٹل سکیورٹی کتنی نازک ڈور سے بندھی ہے۔ جیسے ہی یہ خامیاں آشکار ہوئیں، دنیا بھر کی بڑی بڑی ٹیک کمپنیوں میں ہنگامی بنیادوں پر حفاظتی اقدامات کرنے کی دوڑ شروع ہو گئی ہے۔ 21اکتوبر کو دنیا بھر میں سرکاری پورٹلزاور ہزاروں ویب سائٹس بند ہو گئیں، کیونکہ ویب سائٹ آپریٹرز دو انتہائی اہم سوفٹ ویئر خامیوں سے بچاؤ کیلئے ہنگامی اقدامات کر رہے تھے۔ یہ خلل ''پی ایچ پی‘‘ (PHP) نامی پروگرامنگ لینگویج میں موجود کمزوریوں کے باعث پیدا ہوا، جو دنیا کی تقریباً 70 فیصد ویب سائٹس کو چلانے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ حملے کے خدشات کے پیش نظر نیدرلینڈز، فن لینڈ، فرانس اور ڈنمارک سمیت کئی ممالک میں ویب سائٹس اور آن لائن خدمات کو عارضی طور پر آف لائن کر دیا گیا۔امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (NSA) اور ایف بی آئی (FBI) نے پی ایچ پی استعمال کرنے والی تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ اگر وہ سکیورٹی اپ ڈیٹس فوری طور پر انسٹال نہیں کر سکتیں، تو وہ متاثرہ سسٹمز کو آف لائن کر دیں۔ امریکہ کی بڑی ویب سائٹس اور آن لائن سروسز، بشمول ایٹسی (Etsy)، ویکیپیڈیا (Wikipedia) اور ناسا (NASA) پی ایچ پی پر مبنی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہیں، جو شاپنگ، معلومات اور سرکاری خدمات میں اس سافٹ ویئر کی وسیع رسائی کو ظاہر کرتی ہے۔ یورپ، آسٹریلیا، جاپان اور برطانیہ کی سائبر سکیورٹی ایجنسیوں نے بھی پی ایچ پی صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپ ڈیٹ کریں یا فکسز (Fixes) لگانے تک متاثرہ ویب سائٹس کو آف لائن کر دیں۔ان خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہیکرز کسی پاس ورڈ یا اکاؤنٹ کے بغیر متاثرہ سرورز کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک کامیاب حملہ مجرموں کو سرور پر ذخیرہ شدہ معلومات چوری کرنے یا کسی قابلِ اعتماد ویب سائٹ کو اس کے وزٹرز پر حملے کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور سکیورٹی کی خدمات فراہم کرنے والے ادارے ''کلاؤڈ فلیئر‘‘ (Cloudflare) نے سائبر حملوں کے شواہد کی اطلاع دی ہے، جبکہ دوسری جانب ویب سائٹ آپریٹرز سکیورٹی فکسز (Security Fixes) انسٹال کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ڈروپال ایسوسی ایشن(Drupal Association) کی عبوری چیف ایگزیکٹو ٹفنی فیرس(Tiffany Farriss) کے مطابق ''پچھلے 20 سالوں میں جاری ہونے والے ''پی ایچ پی‘‘ کے کسی بھی ورژن کو استعمال کرنے والے تمام سرورز اس خطرے کی زد میں ہیں۔ یہ مسئلہ انٹرنیٹ کے ایک بہت بڑے حصے کو متاثر کرتا ہے‘‘۔ انٹرنیٹ انٹیلی جنس فرم ''سینسز‘‘ (Censys) کے اعداد و شمار کے مطابق، 26 لاکھ ہوسٹس میں سے تقریباً 15 لاکھ نے رپورٹ کیا ہے کہ وہ پی ایچ پی کا ایسا ورژن چلا رہے ہیں جس کی اصلاح کیلئے فی الحال کوئی اپ ڈیٹ موجود نہیں ہے۔ یہ دونوں خامیاں اس بات سے متعلق ہیں کہ پی ایچ پی سرور کی میموری کو کس طرح ہینڈل کرتا ہے۔ ان میں سے ایک خامی میموری کا مسئلہ پیش آنے پر سافٹ ویئر کو معلومات کی غلط پروسیسنگ پر مجبور کر سکتی ہے، جبکہ دوسری خامی سافٹ ویئر کو میموری کی اس معلومات کو دوبارہ استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے جو پہلے ہی جاری کی جا چکی ہو۔اگرچہ سائبر سکیورٹی پلیٹ فارم ''پیچ سٹیک‘‘ (Patchstack) کا کہنا ہے کہ اسے سائبر حملوں کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں، لیکن ان حملوں کی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق پی ایچ پی کی دیکھ بھال کرنے والی سکیورٹی ٹیم نے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے پیچز (Patches) جاری کر دیے ہیں۔ اب ویب سائٹ آپریٹرز کو ہیکرز سے پہلے ان اپ ڈیٹس کو انسٹال کرنے کی ریس کا سامنا ہے، کیونکہ ہیکرز مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ان اپ ڈیٹس کا تجزیہ کر کے ان سسٹمز پر حملے کرنے کا طریقہ ڈھونڈ سکتے ہیں جو ابھی تک غیر محفوظ ہیں۔ ان کمزوریوں کو دریافت کرنے والی سکیورٹی کمپنی ''کیلف‘‘ (Calif) کے چیف ایگزیکٹو تھائی ڈونگ نے ''دی وال سٹریٹ جرنل‘‘ کو بتایا کہ ٹوئٹر (ایکس) پر کوئی بھی شخص ان پیچز کو اٹھا کر اس پر AI کا استعمال کر سکتا ہے اور حملے کا کوئی طریقہ پوسٹ کر سکتا ہے۔اس کے بعد ایک آفت یا تباہی مچ جائے گی۔یورپی یونین کی تکنیکی سائبر سیکیورٹی مشاوارتی باڈی ''سرٹ ای یو‘‘ (CERT-EU) کے مطابق ''تنظیموں کو چاہیے کہ جب تک اصلاحی اپ ڈیٹ (Fix) دستیاب نہ ہو، وہ انٹرنیٹ سے منسلک ایپلی کیشنز کو پبلک نیٹ ورکس سے الگ کرنے پر غور کریں۔نیدرلینڈز میں، قومی سائبر سکیورٹی سینٹر کی پیروی کرتے ہوئے متعدد تنظیموں نے عوام کی رسائی والی ویب سائٹس کو آف لائن کر دیا۔ان میں روٹرڈیم کی بندرگاہ، سرکاری پورٹل Overheid.nl، قومی فٹبال ایسوسی ایشن (KNVB)، ملک کی پانچ بڑی سیاسی جماعتوں کی ویب سائٹس اور متعدد ہسپتالوں کی ویب سائٹس شامل تھیں۔ڈنمارک کی میونسپل آئی ٹی کمپنی ''کومبٹ‘‘ (Kombit) کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے قومی اسکول کمیونیکیشن پلیٹ فارم سمیت متعدد خدمات کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔یہ خلل فن لینڈ میں اور بھی زیادہ وسیع تھا، جہاں سرکاری آئی ٹی سروسز فراہم کرنے والے ادارے ''والٹوری‘‘ (Valtori) نے کہا کہ حفاظتی تدبیر کے طور پر حکومت کی عوامی نیٹ ورک خدمات کو آف لائن کر دیا گیا ہے۔فرانس کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اپ ڈیٹ کا انتظار کرتے ہوئے مقامی حکومتی انتظامی ویب سائٹس کو عارضی طور پر آف لائن کر دیا گیا ہے۔ کنگز کالج لندن کے وزٹنگ سینئر ریسرچ فیلو، لوکاس اولیجونک کا کہنا ہے کہ حال ہی میں بڑھنے والے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کیے جانے والے ہیکنگ کے حملے اس خطرے کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔پی ایچ پی (PHP) ایک ایسی پروگرامنگ لینگویج ہے جو ویب سائٹس کو چلانے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ جب کوئی وزٹر کوئی پیج لوڈ کرتا ہے، تو PHP چلانے والا سرور مواد کو یکجا کرتا ہے اور اسے براؤزر پر بھیجتا ہے۔