قومی اقلیتی ہیرو اورسول ایوارڈ
اسپیشل فیچر
پاکستان میں اقلیتوں کے کردار کوریاستی سطح پر ہمیشہ سراہا گیا ہے۔ کھیل،سیاست ، آرمی ،صحت کا شعبہ، گلوکاری ، فن، ادب ،موسیقی و دیگر تمام شعبوں میں اقلیتوں نے اپنے کردار کو ہمیشہ انتہائی خوبصورت انداز سے نبھایا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی تاریخ اقلیتوں کے عظیم کارناموں اور منفرد کرداروں سے بھری پڑی ہے۔ ہر شعبے میں ایسے ایسے نام پیدا ہوئے ہیں، جنہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ امن و امان صلح و سلامتی خوشحالی کی بات ہو یا قربانی دینے کی اقلیتوں نے وطن عزیز کی خاطر ہمیشہ فرنٹ لائن پر اپنا کردار ادا کیا ہے اور وطن عزیز کی خاطر اپنی گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں، جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان نے اپنے شعبوں کے ذریعے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کرنے والے اقلیتی ہیروز کی خدمات اور جرات کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کیلئے اس برس بھی سول ایوارڈز دینے کا اعلان کیا ہے۔ جن میں ڈاکٹر پال جیکب بھٹی، بشپ ہمفری سرفراز پیٹر ، سائرہ پیٹر اوررضیہ نورین شامل ہیں۔
ڈاکٹر پال جیکب بھٹی فیصل آباد کی تحصیل سمندری کے قریب واقع ایک گاؤں خوشپور کے رہائشی ہیں جسے پاکستان کا ویٹی کن سٹی بھی کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر پال جیکب بھٹی نے اٹلی کی پڈوا یونیورسٹی سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی اور پاکستان و یورپ میں طب کے شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے سابق وفاقی وزیر برائے نیشنل ہارمنی و اقلیتی امور رہے اور وزیر اعظم کے مشیر برائے نیشنل ہارمنی بھی رہے ہیں۔ وہ سابق وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کے بڑے بھائی ہیں۔ وہ آل پاکستان مینارٹیز الائنس پاکستان اور شہباز بھٹی میموریل ٹرسٹ سے بطور چیئرمین وابستہ رہے اور مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی انصاف کیلئے کام کرتے رہے ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا، جو بین المذاہب ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کیلئے ان کی طویل خدمات کے اعتراف میں ہے۔
اب آتے ہیں بشپ ہمفری کی طرف ،بشپ ہمفری سرفراز پیٹر ایک مشہور مسیحی مذہبی رہنما ہیں ۔ انسانی حقوق کی ایک معتبر اور توانا آواز ہیں،چرچ آف پاکستان سے وابستگی ہے، بشپ آف پشاور کے مذہبی سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ اقلیتوں کے حقوق اور انصاف کی خاطر ہر فورم پہ آواز اٹھاتے رہے ہیں، مسیحی برادری کے حقوق، مذہبی آزادی، امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے سرگرم رہتے ہیں اقلیتوں کے مسائل اور انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے بین المذاہب ہم آہنگی پر ہمیشہ زور دیا ہے۔ ہر سو امن کا پرچار کرتے ہیں۔حکومت پاکستان نے انہیں بے سہارا اور بے آواز لوگوں کی آواز بلند کرنے اور امن کے اعتراف میں ''تمغہ امتیاز‘‘ دینے کا اعلان کیا ہے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والی سائرہ پیٹر برطانیہ میں مقیم ہیں اور گلوکاری میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔صوفیانہ کلام کو اوپرا انداز میں گانے کا ہنر بھی بخوبی جانتی ہیں۔ دنیا بھر میں گلوکاری کے ذریعے پاکستان کی ایک اچھی اور خوبصورت تصویر کو نمایاں رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ حکومت پاکستان نے انہیں گلوکاری کے ذریعے امن اور محبت کے پیغام کو دینا بھی میں پھیلانے کیلئے تمغہ امتیاز دینے کا اعلان کیا ہے۔
رضیہ نورین پیشے کے لحاظ سے ایک نرس ہیں۔ گزشتہ دنوں پمز ہسپتال اسلام آباد میں نومولود بچوں کی نرسری میں لگنے والی المناک آگ میں سے ایک بچے کی جان بچائی تھی۔ نرس رضیہ کا کہنا ہے کہ میں دیگر بچوں کی بھی جان بچانا چاہتی تھی لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا، جس کا مجھے تاحیات دکھ رہے گا۔ ان کی اس بہادری اور جرات کو دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے ستارہ خدمت دینے کا اعلان کیا ہے۔جو انہیں 23مارچ کو دیا جائے گا۔