دنیا کا پہلا کمرشل پاور سٹیشن !

دنیا کا پہلا کمرشل پاور سٹیشن !

اسپیشل فیچر

تحریر : نعیم احسن


دنیائے سائنس کے سب سے بڑے موجد تھامس ایلوا ایڈیسن نے پرل سٹریٹ، لوئر مین ہٹن میں 4 ستمبر 1882ء کو پہلا مکمل کمرشل الیکٹرک لائٹنگ اینڈ پاور سسٹم قائم کیا۔ ایڈیسن کے بلب کی کامیابی نے پاور کے سورس کے لئے طلب پیدا کردی تھی اور یہ طلب ہی پرل سٹریٹ (Pearl Street)سٹیشن کی تعمیر اور جدید الیکٹرک یوٹیلٹی انڈسٹری کے قیام کا سبب بنی۔ قابل انحصار مرکزی پاور جنریشن، محفوظ اور موثر ڈسٹری بیوشن اور صارف کے لئے گیس لائٹنگ سے بھی کم قیمت پر برقی بلب کی روشنی کی فراہمی پرل سٹریٹ سٹیشن کی نمایاں ترین خصوصیات تھیں۔پرل سٹریٹ پاور سٹیشن کے قیام سے پہلے پاور انسٹالیشن کے لئے ایڈیسن کئی تجربات کر چکے تھے۔ 1880ء میں انہوں نے سٹیم شپ ’’کولمبیا‘‘ پر ایک چھوٹا سسٹم انسٹال کیا اور اسی طرح انہوںنے اپنی مینلو پارک لیب میں بھی ایک مختصر لائٹنگ سسٹم قائم کیا۔ کئی دیگر خصوصیات کے ساتھ 1881ء میں لندن میں ’’پیرس انٹرنیشنل ایکسپوزیشن‘‘ میں بھی انسٹالیشن کی۔ ان ابتدائی تجربات سے ایڈیسن کی ٹیم کو نیویارک میں پہلی مستقل انسٹالیشن کے قیام سے پہلے ہی اس تصور کو آزمانے کا موقع مل گیا۔ مثال کے طور پر مینلو پارک لیب میں ایڈیسن نے سٹیم ڈائنموز، سیفٹی فیوزز اور ریگولیٹنگ ڈیوائسز کی جانچ کی جو بعد میں پرل سٹریٹ پلانٹ میں کامیابی سے استعمال کی گئیں۔ان تجربات سے ہٹ کر بھی پرل سٹریٹ پلانٹ کی تعمیر میں کئی رکاوٹیں پیش آئیں۔ ایک بڑا مسئلہ کافی مقدار میں پاور جنریٹ کرنے کا طریقہ ڈھونڈنا تھا۔ ایڈیسن ڈائنمو (dynamo)، جسے آج ہم جنریٹر کہتے ہیں، استعمال کرنا چاہتے تھے۔ ڈائنمو ایک ایسی مشین ہے جو میکینکل انرجی کو الیکٹریکل انرجی میں تبدیل کرتی ہے۔ لیکن اس وقت تک اتنی طاقت ور ڈائنمو دستیاب نہیں تھی۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ’’جمبو ڈائنمو‘‘ تیار کی گئی۔ یہ 27 ٹن کی ایک مشین تھی جو 100 کلوواٹ بجلی پیدا کرتی تھی اور 1200 لائٹوں کے لئے کافی تھی۔ یہ پہلے سے دستیاب بڑی سے بڑی ڈائنمو سے بھی چار گنا بڑی تھی۔ پیرس ایکسپو میں ایڈیسن کے سسٹم کے پہلے مظاہرے میں پہلی مرتبہ سنگل جمبو ڈائنمو استعمال کی گئی۔ نیویارک شہر کے ایک مربع میل علاقے کو روشن کرنے کے لئے پرل سٹریٹ پاور پلانٹ میں اس طرح کی 6 جمبو ڈائنموز کی ضرورت تھی۔بجلی کی فراہمی ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ صارفین کے گھروں تک پاور پہنچانے کے لئے تاروں اور زیر زمین ٹیوبوں، جنہیں Conduits کہتے ہیں، کا نیٹ ورک تعمیر کرنا سب سے بڑا چیلنج تھا۔ نیو یارک شہر کے سیاستدان ابتدائی طور پر شکوک و شبہات کا شکار تھے اور انہوں نے لوئر مین ہٹن کی گلیوں کی کھدائی کرنے کی تجویز مسترد کردی۔ ایڈیسن کو اپنے منصوبے کی تکمیل کے لئے گلیاں کھود کر ایک لاکھ فٹ وائرنگ بچھانے کی ضرورت تھی۔ تاہم ایڈیسن نے کسی نہ کسی طور پر شہر کے میئر کو قائل کرہی لیا۔ ٹیوبوں کی انسٹالیشن پر اس پورے منصوبے میں سب سے زیادہ لاگت آئی۔ایک اور بڑا مسئلہ ایک ایسی ڈیوائس کی ضرورت تھی جو توانائی کے استعمال کا حساب کتاب رکھ سکے تاکہ صارفین سے استعمال شدہ توانائی کی قیمت وصول کی جا سکے۔ اگرچہ 18 ویں صدی کی ابتداء ہی میں ایسے آلات موجود تھے جو بجلی کے بہائو کا کھوج لگا سکتے تھے اور یہ بتا سکتے تھے کہ کتنی بجلی گزر رہی ہے لیکن ایسا کوئی آلہ نہیں تھا جو گزرتے وقت کے ساتھ اس بہائو کا ریکارڈ بھی رکھ سکے۔ 1882ء کے موسم بہار میں الیکٹریکل میٹر کا ایک کامیاب ڈیزائن تیار کرلیا گیا۔ تاہم ایڈیسن نے اپنے صارفین کو اس وقت تک بل نہیں بھیجے جب تک پورا سسٹم قابل انحصار طریقے سے چلنا نہیں شروع ہوگیا اور اس کے لئے کچھ اور وقت لگ گیا۔ دنیا کا سب سے پہلا بل بجلی انسونیا (Ansonia) براس اینڈ کاپر کمپنی کو 18 جنوری 1883ء کو بھیجا گیا اور اس بل کی رقم 50.44 ڈالر تھی۔ صارفین کو بل کے علاوہ اور بھی اخراجات برداشت کرنے پڑتے تھے جیسے بجلی کے بلب کی قیمت وہ خود ادا کرتے تھے جو کہ فی بلب 1 ڈالر تھی، 1880ء کے تناظر میں یہ قیمت کافی زیادہ تھی۔کئی طرح کی رکاوٹوں کے باوجود پرل سٹریٹ سسٹم نے کامیابی حاصل کرلی۔ ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کا شمار ان اولین دفاتر میں ہوتا ہے جنہوں نے یہ نیا سسٹم اپنایا۔ اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا، ’’آرک لائٹنگ، جو اس سے قبل الیکٹرک لائٹنگ کی واحد دستیاب صورت تھی، کے مقابلے میں اس کی روشنی بہت نرم اور ہموار ہے، اور آنکھوں کو بہت بھلی معلوم ہوتی ہے۔‘‘یہ سارا معاملہ دراصل اس طرح سے نہیں چل رہا تھا جس طرح سے ایڈیسن کو امید تھی۔ عوام اس بات سے ابھی تک ناآشنا ہیں کہ پرل سٹریٹ سسٹم کئی برسوں تک بھاری خسارے میں جاتا رہا۔ اس کی ابتدائی لاگت بہت زیادہ تھی۔ مین ہٹن رئیل اسٹیٹ کی قیمت سمیت پاور سٹیشن اور اس کی تمام تاروں، انڈر گرائونڈ ٹیوبوں اور دوسری تنصیبات پر تقریباً تین لاکھ ڈالر لاگت آئی تھی۔آپریٹنگ کے مسلسل اخراجات تعمیراتی اخراجات کے علاوہ تھے جیسے پلانٹ کے بوائلر کے لئے روزانہ کوئلے کی بڑی مقدار کی ضرورت ہوتی تھی جس سے ڈائنموز کو چلانے کے لئے بھاپ حاصل کی جاتی تھی۔ 1882ء اور 1883ء کے دوران پرل سٹریٹ پلانٹ کو چلانے کے اخراجات اس سے ہونے والی آمدنی سے کہیں زیادہ تھے تاہم 1884ء میں اس سے منافع آنے لگا۔پرل سٹریٹ پاور سٹیشن کی کامیابی ہی ایک طرح سے اس کی ناکامی کا باعث بنی۔ ایڈیسن کے سسٹم نے دوردراز جگہوں پر توانائی کی طلب پیدا کردی اور ان جگہوں تک سپلائی کا کام بہت مہنگا ثابت ہوتا تھا۔ انڈسٹری کی جانب سے لائٹنگ کے لئے استعمال ہونے والے 110 وولٹ کے علاوہ دیگر وولٹیج ز کے لئے ڈیمانڈ دن بدن بڑھنے لگی۔ ایڈیسن کے سسٹم میں ڈائریکٹ کرنٹ (DC) استعمال ہوتا تھا جو کہ نئی ڈیمانڈز کے لئے موزوں نہیںتھا۔ نکولا ٹیسلا (Nikola Tesla) اور جارج واشنگٹن ہائوس جیسے حریفوں کا خیال تھا کہ انڈسٹری کی ڈیمانڈ آلٹرنیٹنگ کرنٹ (AC) سے پوری کی جا سکتی ہے۔ ایڈیسن ڈائریکٹ کرنٹ کی محدودیت کو ماننے میں متامل تھے اور اس کا دفاع کررہے تھے۔ تاہم ان کا خیال غلط ثابت ہوا اور دنیا نے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے آلٹرنیٹنگ کرنٹ کو معیار بنا لیا۔اگرچہ اے سی پاور کا استعمال بڑھ رہا تھا لیکن پرل سٹریٹ سٹیشن کامیابی سے کام کرتا رہا۔ 2 جنوری 1890ء کی صبح اس میں آگ بھڑک اٹھی اور اس کی چھ میں سے پانچ ڈائنموز مکمل طور پر تباہ ہوگئیں-بچ جانے والا یونٹ آج بھی ’’ہنری فورڈ میوزیم‘‘ میںمحفوظ ہے اور 1980 میں امریکن سوسائٹی آف میکینکل انجینئرنگ نے اسے ’’نیشنل ہسٹوریکل میکینکل انجینئرنگ‘‘ کا اہم ترین سنگ میل قرار دیا۔ پرل سٹریٹ سٹیشن کو دوبارہ تعمیر کیا گیا اوریہ 1895ء میں استعمال پر پابندی لگنے تک کامیابی سے کام کرتا رہا۔ اس وقت تک انجینئرز کہیں زیادہ بڑے سائز کے پاور پلانٹ ڈیزائن کرچکے تھے جن سے بڑے علاقوں کو برقی رو فراہم کی جا سکتی تھی-- اور اس طرح پرل سٹریٹ متروک ہوگیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
دنیا کے حیرت انگیز جانور

دنیا کے حیرت انگیز جانور

جنہوں نے اپنی شکل و جسامت سے گنیز بک میں جگہ بنائیدنیا میں بعض جانور اپنی منفرد شکل و انداز کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں بلکہ ریکارڈ بھی قائم کرتے ہیں۔ چاہے وہ غیر معمولی رنگت، غیرمعمولی قد یا عجیب و غریب بالوں اور نقوش کے حامل ہوں۔ ایسے جانور اپنی خصوصیات کی بدولت عالمی شہرت حاصل کرتے ہیں۔ یہ منفرد جانور کبھی تو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ بناتے ہیں، تو کبھی سوشل میڈیا پر ہزاروں دل جیت لیتے ہیں۔ ان کے حیرت انگیز انداز اور انوکھے مظاہرے انسانوں کیلئے تفریح اور حیرت کا سبب بنتے ہیں اور حیوانات کی خوبصورتی اور تنوع کی نمائندگی کرتے ہیں۔یہاں ہم کچھ ایسے ہی دلچسپ ریکارڈ توڑنے والے جانوروں پر نظر ڈالیں گے۔ ہَمفری:چھوٹا مگر طاقتوراگر آپ ایک بیل کا تصور کریں تو کیا ذہن میں آئے گا؟ کچھ بڑا، مضبوط اور ناقابلِ شکست؟ بیل اکثر فارم کے ''بادشاہ‘‘ ہوتے ہیں، لیکن کیا آپ نے کبھی منی ایچر بیل دیکھا ہے؟ 27 اپریل 2018ء کو، چھوٹے جانوروں کی دنیا کے ایک ''ستارے‘‘ کو ناپا گیا، اور صرف 67.6 سینٹی میٹر (26.6 انچ) قد کے ساتھ یہ اب تک کا سب سے چھوٹا بیل بن گیا۔ اس کا اصل نام ہائیکنز آرک جیوپیٹر (Heikens Ark Jupiter)ہے، لیکن وہ ''ہَمفری‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا قد کالونا ویٹرنری کلینک، آئیووا، امریکہ میں جانچا گیا۔یہ منی ایچر زیبو(Zebu ) نسل کا بیل ہے۔ 2017ء میں جب اس کے مالک نے جانوروں کی نیلامی میں اس کی بولی لگائی، تو قد کی بنیاد پر وہ اسے بچہ سمجھ رہے تھے، لیکن حقیقت میں وہ دو سال کا تھا اور اپنی مکمل بالغ قد تک پہنچ چکا تھا، جو ایک کچن کی کرسی سے زیادہ نہیں تھا۔ ہَمفری اپنے دن ویسے ہی گزارتا ہے جیسے کوئی اور فارم جانور، گھاس کھاتا ہے اور کھیت میں گھومتا ہے، مگر اسے باقی جانوروں سے منفرد بناتا ہے کہ وہ اب گنیز ورلڈ ریکارڈ کا حامل ہے۔گھریلو بلی کی سب سے لمبی دماگلی باری ہے ایک ایسے جانور کی جس نے ریکارڈ بک میں جگہ بنائی اور وہ بھی ایک انتہائی لمبی دُم کے ساتھ۔ امریکہ کی مسٹر پگزلے ایڈمز (Mr. Pugsley Addams) نامی یہ بلی مینکون نسل کی ہے، جو گنیز ورلڈ ریکارڈز کے دو اعزازات کی حامل ہے۔ 24 فروری 2025ء کو اس بات کی تصدیق کی گئی کہ پگزلے نہ صرف زندہ گھریلو بلیوں میں سب سے لمبی دم کا ریکارڈ رکھتی ہے بلکہ اب تک کی کسی بھی گھریلو بلی کی سب سے لمبی دم کا اعزاز بھی اسی کے نام ہے۔ یہ خوبصورت سرمئی بلی مینیسوٹا سے تعلق رکھتی ہے اور اپنی دو بہنوں وِنی اور ڈچس اور بھائی گومیز کے ساتھ رہتی ہے۔ اس خوشگوار گھرانے کی دیکھ بھال بلیوں کی شوقین امانڈا کیمرون کرتی ہیں، جنہوں نے گنیز ورلڈ ریکارڈز کو بتایا کہ پگزلے انتہائی تجسس پسند، مہم جو اور ذہین ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کی دم غیر معمولی حد تک لمبی ہے، جو 46.99 سینٹی میٹر (18.5 انچ) لمبی ہے۔قدآور اور ننھابھینسایہاں ہم ایک ہی نسل کے دو حیرت انگیز جانور پیش کر رہے ہیں، جو شکل و جسامت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ سب سے پہلے ہے ''کنگ کانگ‘‘ جو اس وقت دنیا کا سب سے قدآور بھینسے کے طور پر گنیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہے۔ یہ غیر معمولی طور پر بڑا بھینسا ایک حقیقی دیو قامت جانور ہے اور تھائی لینڈ میں واقع نن لینی فارم پر رہتا ہے۔ کنگ کانگ کی پیدائش 1 اپریل 2021ء کو ہوئی اور فارم کے مالکان نے فوراً محسوس کر لیا کہ وہ دوسرے بھینسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑا ہے۔ درحقیقت، اس کا قد اوسط بھینسے سے تقریباً 50 سینٹی میٹر زیادہ ہے۔ کیلا کھانے کا شوقین اور انسانوں کے ساتھ کھیل کود پسند کرنے والے اس بھینسے کو 15 جنوری 2025ء کو ناپا گیا، جہاں اس کا قد 186 سینٹی میٹر (6 فٹ 0.8 انچ) پایا گیا۔ یہ پیمائش اس کے کھر سے لے کر کندھوں کے اوپر والے حصے تک کی گئی۔دوسری جانب قد کے پیمانے پر ہیں رادھا، جو قد میں چھوٹی مگر بے حد دلکش ہیں، اور دنیا کی سب سے چھوٹی زندہ بھینس ہے۔ یہ مادہ مْرّہ (Murrah) نسل کی بھینس ہے، جو مالواڈی، مہاراشٹر، بھارت میں اپنے مالک کے فارم پر پیدا ہوئی، اور اسے 12 ستمبر 2025ء کو ناپا گیا۔ پیمائش کے بعد معلوم ہوا کہ اس کا قد صرف 83.8 سینٹی میٹر (2 فٹ 8 انچ) ہے، جو گنیز ورلڈ ریکارڈ کی حامل دنیا کی سب سے چھوٹی خاتون جیوَتی امگے (بھارت) کے قد سے محض چند انچ زیادہ ہے۔چھوٹے قد والا گھوڑاجب آپ گھوڑے کا تصور کرتے ہیں تو شاید لمبی ٹانگوں اور گھنی ایال والا جانور ذہن میں آئے جو سورج ڈھلتے وقت دوڑتا ہوا دکھائی دے؟ مگر یہ ننھا بادشاہ کسی بھی گھوڑے جتنا خوبصورت ہے، بس ذرا سا قد میں چھوٹا ہے۔پومْکل (Pumuckel) اس وقت دنیا کے سب سے چھوٹے زندہ نر گھوڑے کا گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر چکا ہے، اور اس نے یہ اعزاز 16 اگست 2025ء کو حاصل کیا۔جرمنی کے شہر بریکر فیلڈ میں جب اس کی پیمائش کی گئی تو اس کا قد صرف 52.6 سینٹی میٹر (21.1 انچ) نکلا۔ یہ ننھا سا مشہور گھوڑا توجہ کا شوقین ہے اور اسے تھراپی ہارس کے طور پر تربیت دی گئی ہے، جو اکثر نگہداشت کے مراکز اور اسکولوں کا دورہ کرتا ہے۔جانوروں کی دنیا میں بے شمار انواع ایسی ہیں جو اپنی جگہ منفرد اور خاص ہیں، اور ہم ان کی کہانیاں دنیا کے ساتھ بانٹنا اور ان حیرت انگیز خوبیوں کا جشن منانا پسند کرتے ہیں جو انہیں وہ بناتی ہیں جو وہ ہیں۔

ایفسس:تاریخ، تہذیب اور عظمت کا شاہکار

ایفسس:تاریخ، تہذیب اور عظمت کا شاہکار

ترکی کی سرزمین پر واقع قدیم شہر ایفسس انسانی تاریخ کے ان درخشاں ابواب میں شامل ہے جہاں وقت نے اپنی رفتار ضرور دکھائی، مگر عظمت کے نقوش ماند نہ پڑ سکے۔ بحیرہ ایجیئن کے قریب واقع یہ شہر کبھی علم و فن، تجارت و سیاست اور مذہب و تہذیب کا عالمی مرکز ہوا کرتا تھا۔ یونانی و رومی ادوار کی شاندار یادگاریں آج بھی اس بات کی گواہ ہیں کہ ایفسس صرف اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسی تہذیبی داستان ہے جو صدیوں بعد بھی انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ تاریخ کے اوراق میں ایفسس کا ذکر ایک ایسے شہر کے طور پر ملتا ہے جس نے عروج و زوال دونوں کو دیکھا، مگر اپنی عظمت کی پہچان ہمیشہ برقرار رکھی۔ایفسس ترکی کے مغربی حصے میں واقع ایک قدیم اور تاریخی شہر ہے جو کبھی یونانی اور رومی تہذیب کا ایک شاندار مرکز ہوا کرتا تھا۔ یہ شہر موجودہ ازمیر (Izmir) کے قریب واقع ہے اور آثارِ قدیمہ کے اعتبار سے دنیا کے اہم ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ ایفسس نہ صرف سیاسی و تجارتی سرگرمیوں کا مرکز تھا بلکہ علم، فن تعمیر اور مذہبی روایات میں بھی اسے غیر معمولی حیثیت حاصل تھی۔ایفسس کی بنیاد تقریباً دسویں صدی قبل مسیح میں رکھی گئی۔ ابتدا میں یہ یونانی نوآبادی کے طور پر آباد ہوا، بعد ازاں رومی سلطنت کے زیر اثر آیا اور تیزی سے ترقی کی۔ رومی دور میں ایفسس ایشیا مائنر کا سب سے بڑا اور خوشحال شہر بن گیا، جہاں آبادی لاکھوں میں بتائی جاتی ہے۔ اس زمانے میں یہ شہر بندرگاہ کی حیثیت رکھتا تھا اور مشرق و مغرب کے درمیان تجارت کا اہم سنگم تھا۔ایفسس کی سب سے مشہور عمارت لائبریری آف سیلسس(Library of Celsus) ہے، جو قدیم دنیا کی عظیم ترین کتب خانوں میں شمار ہوتی تھی۔ یہ نہ صرف علم کا خزانہ تھی بلکہ فن تعمیر کا بھی اعلیٰ نمونہ ہے۔ اس کے علاوہ گریٹ تھیٹر، جس میں تقریباً 25 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی، آج بھی اپنی شان و شوکت کی گواہی دیتا ہے۔ یہاں ڈرامے، موسیقی کے پروگرام اور عوامی اجتماعات منعقد ہوتے تھے۔ایفسس کی سب سے بڑی مذہبی پہچان معبدِ آرٹیمس (Temple of Artemis) ہے، جو قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شامل تھا۔ اگرچہ آج اس کے صرف چند آثار باقی ہیں، لیکن تاریخ میں اس معبد کو غیر معمولی عظمت حاصل رہی ہے۔ یہ معبد دیوی آرٹیمس کے نام پر بنایا گیا تھا اور دور دراز سے زائرین یہاں عبادت کیلئے آتے تھے۔ایفسس کو عیسائی تاریخ میں بھی خاص مقام حاصل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت مریم ؑ نے اپنی زندگی کے آخری ایام اسی علاقے میں گزارے۔ اسی نسبت سے ایفسس مذہبی سیاحت کا بھی اہم مرکز ہے۔ وقت کے ساتھ بندرگاہ میں مٹی بھر جانے، زلزلوں اور سیاسی تبدیلیوں کے باعث ایفسس زوال کا شکار ہوا اور بالآخر ویران ہو گیا۔ تاہم آج یہ شہر ایک کھلے عجائب گھر کی صورت میں موجود ہے، جہاں ہر سال لاکھوں سیاح آ کر قدیم تہذیب کی جھلک دیکھتے ہیں۔ مختصراً ایفسس ترکی کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے جو انسانی تہذیب، علم، فن اور مذہب کی عظمت کا آئینہ دار ہے۔ یہ شہر آج بھی ماضی کی گونج سناتا ہے اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عظیم تہذیبیں وقت کے ساتھ مٹ تو جاتی ہیں، مگر ان کے نقوش تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

کینو: ذائقے اور توانائی کا امتراج

کینو: ذائقے اور توانائی کا امتراج

نارنجی رنگ کا یہ پھل نباتات کے خاندان اسپند یا سداب (Rutaceae) کی جنس ترنج سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی جنس میں انگور، لیموں، نارنگی، مالٹا، ترنج، چکوترا وغیرہ شامل ہیں۔ اس جنس کے درخت اور بیلیں رسیلے پھلوں کی وجہ سے گرم علاقوں میں کاشت کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کینو، مالٹے وغیرہ کا وطن جنوب مشرقی ایشیا ہے۔ وہاں سے یہ ترشا وہ پھل پوری دنیا میں پھیلے۔ اب سپین، امریکا، برازیل اور جنوبی افریقہ میں کینوں کے وسیع باغات ہیں۔ پاکستان میں سرگودھا، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ میں کینو اور اس کے رشتے داروں کے بڑے بڑے باغات ہیں۔ جنس ترنج میں موسمی بھی شامل ہے جس میں ترشی سب سے کم ہوتی ہے۔ ترشا وہ پھلوں کے پودے بلندی پر نہیں اگتے کیونکہ سردی انہیں مار ڈالتی ہے۔ ترشاوہ پھل رنگت، چھلکے کی موٹائی، رس کی مقدار، مٹھاس اور خوشبو کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان کی جسامت کا انحصار جغرافیائی حالات اور آب و ہوا پر بھی ہے۔ علاوہ ازیں گرم آب و ہوا کے پھل زیادہ کھٹے ہوتے ہیں۔ کینو کا درخت 35 فٹ تک ہو سکتا ہے۔ کینو یا مالٹے کا رس محلل کاربوہائیڈریٹ، نامیاتی تیزاب ، وٹامن سی، وٹامن بی کمپلیکس، نمکیات اور دیگر غذائیات پر مشتمل ہوتا ہے۔ معدنیات میں چونا، فاسفورس اور لوہا موجود ہیں۔ کینو کی غذائی قوت پر اگر غور کیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ یہ پھل بھی انسان کیلئے قدرت کے اعلیٰ ترین تحائف میں سے ایک ہے۔ ایک شیریں کینو کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا رس معدے میں جا کر جذب ہو جاتا ہے۔ معدے پر کوئی بار نہیں پڑتا، گویا رس ہضم شدہ غذا ہے جسے بس منہ کے ذریعہ معدہ میں ڈال لینا کافی ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کینو میں ایسی غذائیت نہیں ہوتی جیسی روٹی وغیرہ میں ہوتی ہے۔ اس لیے کینو کے استعمال سے جسم میں توانائی پیدا نہیں ہوتی۔ یہ خیال محج ناواقفیت کی بنا پر ہے اور خصوصاً اس وجہ سے کہ پھل کے رس کا بار معدہ پر پڑتا معلوم نہیں ہوتا۔ ماہرین غذا کی تحقیق ہے کہ ایک بڑے شیریں کینو کا رس ہمارے جسم کو اتنی قوت بخشتا ہے جتنی کہ ڈبل روٹی کا نصف ٹکڑا۔ فرق صرف یہ ہے کہ روٹی کئی گھنٹے میں ہضم ہو کر جسم کو قوت دیتی ہے اور کینو کا رس معدے میں پہنچتے ہی جسم کے کام آتا ہے، یہی سبب ہے کہ اسے کمزور مریض کی غذا میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔ یہ خیال رہے کہ کینو جتنا شیریں ہو گا اتنی ہی زیادہ اس میں غذائی قوت ہو گی۔ دودھ کو ہضم کرنے کیلئے معدہ کو کام کرنا پڑتا ہے مگر کینو کا رس فوراً ہضم ہوتا ہے۔ کینو کی اس خصوصیت نے اسے دودھ سے بھی زیادہ مفید بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان مریضوں کو جنہیں دودھ ہضم نہیں ہوتا، کینو کا رس دیتے ہیں۔ کینو کے رس میں بہت سے معدنی نمکیات پائے جاتے ہیں خصوصاً چونا وغیرہ جس کے استعمال سے تیزابیت رفع ہوتی ہے۔ تیزابیت کی شکایت عموماً ان لوگوں کو زیادہ پیدا ہوتی ہے جو غذا میں گوشت زیادہ کھاتے اور بیٹھے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کیلئے کینو کا استعمال غایت درجہ مفید رہتا ہے۔ کینو کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ آنتوں میں ناقص غذا سے جو سستی پیدا ہو جاتی ہے، اسے رفع کرتا ہے۔ چنانچہ دائمی قبض کے مریضوں کیلئے رات کو سوتے وقت اور صبح اٹھتے ہی ایک یا دو کینو کھانا نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔ سہ پہر کے وقت بھی کینو کھانا قبض کیلئے مفید ہے۔

زنانہ خط و کتابت

زنانہ خط و کتابت

مری پیاری امی، مری جان امی! بعد ادائے ادب کے عرض یہ ہے کہ یہاں ہر طرح سے خیریت ہے اور خیر و عافیت آپ کی خداوند کریم سے نیک مطلوب ہے۔ صورت احوال یہ ہے کہ یہاں سب خیریت سے ہیں۔ والا نامہ آپ کا صادر ہوا۔ دل کو از حد خوشی ہوئی۔ چچا جان کے خسر صاحب کے انتقالِ پُر ملال کی خبر سن کر دل کو از حد قلق ہوا۔ جب سے یہ خبر سنی ہے چچی جان دھاروں رو رہی ہیں۔ خلیفہ جی یہ سناؤنی لے کر پہنچے تو کسی سے اتنا نہ ہوا کہ ان کی دعوت ہی کر دیتا۔ میں نے سوچا کہ اگر ذرا سی الکسی ہو گئی تو خاندان بھر میں تھڑی تھڑی ہو جائے گی۔فوراً خادمہ کو لے کر باورچی خانے پہنچی۔ اس نے جھپاک جھپاک آٹا گوندھا لیکن سالن قدرے تیز آنچ پر پک گئے، چنانچہ پھل پھلواری سے خلیفہ جی کی تواضع کی۔ بہت خوش ہوا۔ تائی صاحبہ نے خوان بھجوا کر حاتم کو شرمندہ کرنے کی کوشش کی۔ دوسرے روز ناشتے پر بھی بلوایا۔ اوچھے کے ہوئے تیتر باہر باندھوں کت بھیتر۔ تائی صاحبہ بھی ہمیشہ اسی طرح کرتی رہتی ہیں، رنگ میں بھنگ ڈال دیتی ہیں۔ الفت بیا آئی تھیں۔ تائی صاحبہ کا فرمانا ہے کہ یہ بچپن سے بہری ہیں۔ بہری وہری کچھ نہیں۔ وہ فقط سنتی نہیں ہیں۔ کیا مجال جو آگے سے کوئی ایک لفظ بول جائے۔گو دل نہیں چاہ رہا تھا لیکن آپ کے ارشاد کے مطابق ہم سب ممانی جان سے ملنے گئے۔ وہاں پہنچے تو سارا کنبہ کہیں گیا ہوا تھا، چنانچہ چڑیا گھر دیکھنے چلے گئے۔ ایک نیا جانور آیا ہے، زیبرا کہلاتا ہے۔ بالکل گدھے کا سپورٹس ماڈل معلوم ہوتا ہے۔ اچھا ہی ہوا کہ دیکھ لیا ورنہ ممانی جان کی طعن آمیز گفتگو سننی پڑتی۔ پڑھائی زوروں سے ہو رہی ہے۔ پچھلے ہفتے ہمارے کالج میں مس سید آئی تھیں جنہیں ولایت سے کئی ڈگریاں ملی ہیں۔ بڑی قابل عورت ہیں۔ انہوں نے '' مشرقی عورت اور پردہ '' پر لیکچر دیا۔ ہال میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ مس سید نے شنائل کا ہلکا گلابی جوڑا پہن رکھا تھا۔ قمیض پر کلیوں کے سادہ نقش اچھے لگ رہے تھے۔ گلے میں گہرا سرخ پھول نہایت خوبصورتی سے ٹانکا گیا تھا۔ شیفون کے آبی دوپٹے کا کام مجھے بڑا پسند آیا۔ بیضوی بوٹے جوڑوں میں کاڑھے ہوئے تھے۔ ہر دوسری قطار کلیوں کی تھی۔ ہر چوتھی قطار میں دو پھول کے بعد ایک کلی کم ہو جاتی تھی۔ دوپٹے کا پلو سادہ تھا لیکن بھلا معلوم ہو رہا تھا۔ مس سید نے بھاری سینڈل کی جگہ لفٹی پہن رکھی تھی۔ کانوں میں ایک ایک نگ کے ہلکے پھلکے آویزے تھے۔ تراشیدہ بال بڑی استادی سے پرم کئے ہوئے تھے۔ جب آئیں تو کوٹی کی خوشبو سے سب کچھ معطر ہو گیا۔ لیکن مجھے ان کی شکل پسند نہیں آئی۔ ایک آنکھ دوسری سے کچھ چھوٹی ہے۔ مسکراتی ہیں تو دانت برے معلوم ہوتے ہیں۔ ویسے بھی عمر رسیدہ ہیں۔ ہوں گی ہم لڑکیوں سے کم از کم پانچ سال بڑی۔آپ یہ سن کر پھولی نہ سمائیں گی کہ آپ کی پیاری بیٹی امورِ خانہ داری پر کتاب لکھ رہی ہوں۔ مجھے بڑا غصہ آتا تھا جب لوگوں کو یہ کہتے سنتی تھی کہ پڑھی لکھی لڑکیاں گھر کا کام کاج نہیں کر سکتیں چنانچہ میں نے آزمودہ ترکیبیں لکھی ہیں۔ نمونے کے طور پر چند ترکیبیں نقل کرتی ہوں۔لذیذ آرنج سکواش تیار کرناآرنج سکواش کی بوتل لو۔ یہ دیکھ لو کہ بوتل آرنج سکواش ہی کی ہے کسی اور چیز کی تو نہیں، ورنہ نتائج خاطر خواہ برآمد نہ ہوں گے۔ دوسری ضروری بات یہ ہے کہ مہمانوں اور گلاسوں کی تعداد ایک ہونی چاہئے۔ گلاسوں کو پہلے صابن سے دھلوا لینا اشد ضروری ہے۔ بعد ازیں سکواش کو بڑی حفاظت سے گلاس میں انڈیلو اور پانی کی موزوں مقدار کا اضافہ کرو۔ مرکب کو چمچے سے تقریباً نصف منٹ ہلائیں۔ نہایت روح افزا آرنج سکواش تیار ہو گا۔موسم کے مطابق برف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے (لیکن برف کو صابن سے دھلوا لینا نہایت ضروری ہے)مزیدار فروٹ سلاد تیار کرنا مہمانوں کے یک لخت آ جانے پر ایک ملازم کو جلدی سے بازار بھیج کر کچھ بالائی اور ایک ٹین پھلوں کا منگاؤ۔ اس کے آنے سے قبل ایک بڑی قاب کو صابن سے دھلوا لینا چاہئے۔ بعض اوقات فروٹ سلاد میں اور طرح کی خوشبو آنے لگتی ہے۔ اب ٹین کھولنے کا اوزار لے کر ٹین کا ڈھکنا کھولنا شروع کرو اور خیال رکھو کہ کہیں انگلی نہ کٹنے پائے۔ بہتر ہو گا کہ ٹین اور اوزار نوکر کو دے دو۔ اب پھلوں کو ڈبے سے نکال کر حفاظت سے قاب میں ڈالو اور بالائی کی ہلکی ہلکی تہہ جما لو۔ نہایت مزیدار اور مفرح فروٹ سلاد تیار ہے۔ ایک خوشخبری دینا تو بھول ہی گئی آپ کی پیاری بیٹی اس سال فارسی میں کالج میں دوم آئی ہے۔ یہ سب آپ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے ورنہ لونڈی کس لائق ہے۔ اب خط ختم کرتی ہوں۔ میری طرف سے بزرگوں کی خدمت میں آداب۔ بچوں کو بہت بہت پیار۔ ہم عمروں کو ' سلام علیک‘۔ ناچیزآپ کی بیٹی

حکایت سعدیؒ:عیب ڈھونڈنا

حکایت سعدیؒ:عیب ڈھونڈنا

بیان کیا جاتا ہے، ایک فقیہہ نے اپنے باپ سے کہا یہ مقرر باتیں تو بہت لچھے دار کرتے ہیں لیکن ان کا عمل ان کے قول کے مطابق نہیں ہوتا۔ دوسروں کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ دنیا سے دل نہیں لگانا چاہیے لیکن خود مال و دولت جمع کرنے کی فکر سے فارغ نہیں ہوتے۔ باپ نے کہا: اے بیٹے ! اس خیال کو ذہن سے نکال دے کہ جب تک کوئی عالم با عمل نہیں ملے گا تو نصیحت پر کان نہ دھرے گا بھلائی اور نیکی کی بات جہاں سے بھی سنے اسے قبول کر۔ اس نابینا شخص جیسا بن جانا مناسب نہیں جو کیچڑ میں پھنس گیا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے برادران اسلام جلد سے میرے لیے ایک چراغ روشن کر دو۔ اس کی یہ بات سنی تو ایک خاتون نے کہا کہ جب تجھے چراغ ہی دکھائی نہیں دیتا تو اس کی روشنی سے کسی طرح فائدہ حاصل کرے گا؟ اے بیٹے ! واعظ کی محفل بازار کی دکان کی طرح ہے کہ جب تک نقد قیمت ادانہ کی جائے جنس ہاتھ نہیں آتی۔ اسی طرح عالم کے ساتھ عقیدت شرط اوّل ہے۔ دل میں عقیدت نہ ہو گی تو اس کی بات دل پر اثر نہ کرے گی۔ نصیحت تو دیوار پر بھی لکھی ہوئی ہو تو قابل قبول ہوتی ہے۔ہر نصیحت بگوش ہوش سنو دیکھو دیوار پر لکھا کیا ہےیہ نہ دیکھو کہ کون کہتا ہے غور اس پر کرو کہا کیا ہےحضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں اصلاح نفس کیلئے یہ زریں گر بتایا ہے کہ جن لوگوں سے کچھ حاصل کرنا ہو ان میں عیب تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ علم حاصل کرنے کا انحصار تو کلیہ عقیدت اور ادب پر ہے۔ نصیحت بھی اس وقت تک دل پر اثر نہیں کرتی جب تک سننے والا عقیدت سے نہ سنے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ہمہ وقت ذہن میں رکھنے کے قابل ہے کہ بے عیب ذات تو صرف اللہ پاک کی ہے۔ عیب ڈھونڈ نے کی نظر سے دیکھا جائے تو اچھے اچھے آدمی میں بھی کوئی خامی نکل آئے گی۔

آج کا دن

آج کا دن

ٹیلی ویژن کی نمائش1926ء میں آج کے دن دنیا ٹیلی ویژن سے متعارف ہوئی۔ جس کا سہرا جان لوگی بیئرڈ نامی ایک برطانوی سائنس دان کو جاتا ہے جس نے پہلی بار عوام کے سامنے ٹی وی پیش کیا۔ پہلی بار اس ٹی وی پر نشریات دھندلی نظر آئیں۔ جنہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیئرڈ نے ٹھیک کیا۔ 1930ء سے ٹی وی کی باقاعدہ فروخت شروع ہوئی جو کہ 20ویں اور 21ویں صدی کی اہم ترین ایجادات میں شامل ہوئی۔عثمانیوں کا امن معاہدہ1699ء میں 26 جنوری کو عثمانیوں نے آسٹریا، وینس اور پولستان کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کئے۔ جس کے تحت سلطنت عثمانیہ کو یورپ کے بیشتر قابض علاقوں کو چھوڑنا پڑا تھا۔ اس معاہدے کے بعد عثمانیوں نے دوبارہ سے ان علاقوں کو تسخیر کرنے کیلئے سیاسی کوششیں شروع کیں۔ 1517ء میں قائم ہونے والی خلافت عثمانیہ کا اختتام 1924ء میں ہوا۔ یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ مشی گن امریکی ریاست بنا26 جنوری 1837ء کو مشی گن کو باضابطہ طور پر ریاستہائے متحدہ امریکا کی 26ویں ریاست کے طور پر یونین میں شامل کیا گیا۔ اس سے قبل مشی گن ایک علاقہ تھا۔ ریاست بننے کے بعد مشی گن نے تیزی سے ترقی کی اور صنعت، زراعت اور تجارت میں اہم مقام حاصل کیا۔ بعد ازاں یہ ریاست آٹوموبائل انڈسٹری کا مرکز بنی اور امریکی معیشت میں نمایاں کردار ادا کیا۔آسٹریلیا : یورپی آبادکاری آسٹریلیا میں یورپی آبادکاری کا آغاز 26 جنوری 1788 کو ہوا، جب برطانیہ کے پہلے بحری قافلے نے ''سڈنی کوو‘‘ (Sydney Cove) کے مقام پر لنگر انداز کیا۔ اس قافلے کو ''فرسٹ فلیٹ‘‘کہا جاتا ہے، جو 1500 برطانوی قیدیوں، فوجیوں اور عملے پر مشتمل تھا۔ 1770ء میں کیپٹن جیمز کک نے آسٹریلیا کے مشرقی ساحل کو دریافت کیا اور اسے برطانیہ کی ملکیت قرار دیا۔ برطانیہ نے آسٹریلیا کو بطور سزا یافتہ قیدیوں کی نوآبادیاتی بستی کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔دنیا کا سب سے بڑا ہیرا 1905ء میں آج کے روز جنوبی افریقہ میں دنیا کا سب سے بڑا ہیرا ''کلینن ڈائمنڈ‘‘ دریافت ہوا۔ یہ ہیرا آج تک کا سب سے بڑا خام ہیرا ہے، جس کا وزن 3106 قیراط (تقریباً 621 گرام) تھا۔اس ہیرے کا نام کان کے مالک سر تھامس کلینن ( Thomas Cullinan Sir ) کے نام پر رکھا گیا۔یہ ہیرا بعد میں 9 بڑے اور100 چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا گیا۔بڑے ٹکڑے آج بھی برطانوی شاہی خاندان کی ملکیت ہیں۔ خلائی مشن ''رینجر 3‘‘ کی روانگی26 جنوری 1962ء کو امریکا نے چاند کے مطالعہ کیلئے خلائی مشن رینجر 3 روانہ کیا۔ اس مشن کا مقصد چاند کی سطح کے قریب سے تصاویر حاصل کرنا اور سائنسی معلومات جمع کرنا تھا۔ تکنیکی خرابیوں کے باعث رینجر 3 اپنے مقررہ ہدف تک نہ پہنچ سکا۔ اگرچہ یہ مشن کامیاب نہ ہو سکا، لیکن اس نے مستقبل کے قمری مشنز کیلئے قیمتی تجربات اور تکنیکی اصلاحات کی بنیاد فراہم کی، جو بعد میں چاند تک کامیاب رسائی کا سبب بنیں۔