دنیا کا پہلا کمرشل پاور سٹیشن !

دنیا کا پہلا کمرشل پاور سٹیشن !

اسپیشل فیچر

تحریر : نعیم احسن


دنیائے سائنس کے سب سے بڑے موجد تھامس ایلوا ایڈیسن نے پرل سٹریٹ، لوئر مین ہٹن میں 4 ستمبر 1882ء کو پہلا مکمل کمرشل الیکٹرک لائٹنگ اینڈ پاور سسٹم قائم کیا۔ ایڈیسن کے بلب کی کامیابی نے پاور کے سورس کے لئے طلب پیدا کردی تھی اور یہ طلب ہی پرل سٹریٹ (Pearl Street)سٹیشن کی تعمیر اور جدید الیکٹرک یوٹیلٹی انڈسٹری کے قیام کا سبب بنی۔ قابل انحصار مرکزی پاور جنریشن، محفوظ اور موثر ڈسٹری بیوشن اور صارف کے لئے گیس لائٹنگ سے بھی کم قیمت پر برقی بلب کی روشنی کی فراہمی پرل سٹریٹ سٹیشن کی نمایاں ترین خصوصیات تھیں۔پرل سٹریٹ پاور سٹیشن کے قیام سے پہلے پاور انسٹالیشن کے لئے ایڈیسن کئی تجربات کر چکے تھے۔ 1880ء میں انہوں نے سٹیم شپ ’’کولمبیا‘‘ پر ایک چھوٹا سسٹم انسٹال کیا اور اسی طرح انہوںنے اپنی مینلو پارک لیب میں بھی ایک مختصر لائٹنگ سسٹم قائم کیا۔ کئی دیگر خصوصیات کے ساتھ 1881ء میں لندن میں ’’پیرس انٹرنیشنل ایکسپوزیشن‘‘ میں بھی انسٹالیشن کی۔ ان ابتدائی تجربات سے ایڈیسن کی ٹیم کو نیویارک میں پہلی مستقل انسٹالیشن کے قیام سے پہلے ہی اس تصور کو آزمانے کا موقع مل گیا۔ مثال کے طور پر مینلو پارک لیب میں ایڈیسن نے سٹیم ڈائنموز، سیفٹی فیوزز اور ریگولیٹنگ ڈیوائسز کی جانچ کی جو بعد میں پرل سٹریٹ پلانٹ میں کامیابی سے استعمال کی گئیں۔ان تجربات سے ہٹ کر بھی پرل سٹریٹ پلانٹ کی تعمیر میں کئی رکاوٹیں پیش آئیں۔ ایک بڑا مسئلہ کافی مقدار میں پاور جنریٹ کرنے کا طریقہ ڈھونڈنا تھا۔ ایڈیسن ڈائنمو (dynamo)، جسے آج ہم جنریٹر کہتے ہیں، استعمال کرنا چاہتے تھے۔ ڈائنمو ایک ایسی مشین ہے جو میکینکل انرجی کو الیکٹریکل انرجی میں تبدیل کرتی ہے۔ لیکن اس وقت تک اتنی طاقت ور ڈائنمو دستیاب نہیں تھی۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ’’جمبو ڈائنمو‘‘ تیار کی گئی۔ یہ 27 ٹن کی ایک مشین تھی جو 100 کلوواٹ بجلی پیدا کرتی تھی اور 1200 لائٹوں کے لئے کافی تھی۔ یہ پہلے سے دستیاب بڑی سے بڑی ڈائنمو سے بھی چار گنا بڑی تھی۔ پیرس ایکسپو میں ایڈیسن کے سسٹم کے پہلے مظاہرے میں پہلی مرتبہ سنگل جمبو ڈائنمو استعمال کی گئی۔ نیویارک شہر کے ایک مربع میل علاقے کو روشن کرنے کے لئے پرل سٹریٹ پاور پلانٹ میں اس طرح کی 6 جمبو ڈائنموز کی ضرورت تھی۔بجلی کی فراہمی ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ صارفین کے گھروں تک پاور پہنچانے کے لئے تاروں اور زیر زمین ٹیوبوں، جنہیں Conduits کہتے ہیں، کا نیٹ ورک تعمیر کرنا سب سے بڑا چیلنج تھا۔ نیو یارک شہر کے سیاستدان ابتدائی طور پر شکوک و شبہات کا شکار تھے اور انہوں نے لوئر مین ہٹن کی گلیوں کی کھدائی کرنے کی تجویز مسترد کردی۔ ایڈیسن کو اپنے منصوبے کی تکمیل کے لئے گلیاں کھود کر ایک لاکھ فٹ وائرنگ بچھانے کی ضرورت تھی۔ تاہم ایڈیسن نے کسی نہ کسی طور پر شہر کے میئر کو قائل کرہی لیا۔ ٹیوبوں کی انسٹالیشن پر اس پورے منصوبے میں سب سے زیادہ لاگت آئی۔ایک اور بڑا مسئلہ ایک ایسی ڈیوائس کی ضرورت تھی جو توانائی کے استعمال کا حساب کتاب رکھ سکے تاکہ صارفین سے استعمال شدہ توانائی کی قیمت وصول کی جا سکے۔ اگرچہ 18 ویں صدی کی ابتداء ہی میں ایسے آلات موجود تھے جو بجلی کے بہائو کا کھوج لگا سکتے تھے اور یہ بتا سکتے تھے کہ کتنی بجلی گزر رہی ہے لیکن ایسا کوئی آلہ نہیں تھا جو گزرتے وقت کے ساتھ اس بہائو کا ریکارڈ بھی رکھ سکے۔ 1882ء کے موسم بہار میں الیکٹریکل میٹر کا ایک کامیاب ڈیزائن تیار کرلیا گیا۔ تاہم ایڈیسن نے اپنے صارفین کو اس وقت تک بل نہیں بھیجے جب تک پورا سسٹم قابل انحصار طریقے سے چلنا نہیں شروع ہوگیا اور اس کے لئے کچھ اور وقت لگ گیا۔ دنیا کا سب سے پہلا بل بجلی انسونیا (Ansonia) براس اینڈ کاپر کمپنی کو 18 جنوری 1883ء کو بھیجا گیا اور اس بل کی رقم 50.44 ڈالر تھی۔ صارفین کو بل کے علاوہ اور بھی اخراجات برداشت کرنے پڑتے تھے جیسے بجلی کے بلب کی قیمت وہ خود ادا کرتے تھے جو کہ فی بلب 1 ڈالر تھی، 1880ء کے تناظر میں یہ قیمت کافی زیادہ تھی۔کئی طرح کی رکاوٹوں کے باوجود پرل سٹریٹ سسٹم نے کامیابی حاصل کرلی۔ ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کا شمار ان اولین دفاتر میں ہوتا ہے جنہوں نے یہ نیا سسٹم اپنایا۔ اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا، ’’آرک لائٹنگ، جو اس سے قبل الیکٹرک لائٹنگ کی واحد دستیاب صورت تھی، کے مقابلے میں اس کی روشنی بہت نرم اور ہموار ہے، اور آنکھوں کو بہت بھلی معلوم ہوتی ہے۔‘‘یہ سارا معاملہ دراصل اس طرح سے نہیں چل رہا تھا جس طرح سے ایڈیسن کو امید تھی۔ عوام اس بات سے ابھی تک ناآشنا ہیں کہ پرل سٹریٹ سسٹم کئی برسوں تک بھاری خسارے میں جاتا رہا۔ اس کی ابتدائی لاگت بہت زیادہ تھی۔ مین ہٹن رئیل اسٹیٹ کی قیمت سمیت پاور سٹیشن اور اس کی تمام تاروں، انڈر گرائونڈ ٹیوبوں اور دوسری تنصیبات پر تقریباً تین لاکھ ڈالر لاگت آئی تھی۔آپریٹنگ کے مسلسل اخراجات تعمیراتی اخراجات کے علاوہ تھے جیسے پلانٹ کے بوائلر کے لئے روزانہ کوئلے کی بڑی مقدار کی ضرورت ہوتی تھی جس سے ڈائنموز کو چلانے کے لئے بھاپ حاصل کی جاتی تھی۔ 1882ء اور 1883ء کے دوران پرل سٹریٹ پلانٹ کو چلانے کے اخراجات اس سے ہونے والی آمدنی سے کہیں زیادہ تھے تاہم 1884ء میں اس سے منافع آنے لگا۔پرل سٹریٹ پاور سٹیشن کی کامیابی ہی ایک طرح سے اس کی ناکامی کا باعث بنی۔ ایڈیسن کے سسٹم نے دوردراز جگہوں پر توانائی کی طلب پیدا کردی اور ان جگہوں تک سپلائی کا کام بہت مہنگا ثابت ہوتا تھا۔ انڈسٹری کی جانب سے لائٹنگ کے لئے استعمال ہونے والے 110 وولٹ کے علاوہ دیگر وولٹیج ز کے لئے ڈیمانڈ دن بدن بڑھنے لگی۔ ایڈیسن کے سسٹم میں ڈائریکٹ کرنٹ (DC) استعمال ہوتا تھا جو کہ نئی ڈیمانڈز کے لئے موزوں نہیںتھا۔ نکولا ٹیسلا (Nikola Tesla) اور جارج واشنگٹن ہائوس جیسے حریفوں کا خیال تھا کہ انڈسٹری کی ڈیمانڈ آلٹرنیٹنگ کرنٹ (AC) سے پوری کی جا سکتی ہے۔ ایڈیسن ڈائریکٹ کرنٹ کی محدودیت کو ماننے میں متامل تھے اور اس کا دفاع کررہے تھے۔ تاہم ان کا خیال غلط ثابت ہوا اور دنیا نے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے آلٹرنیٹنگ کرنٹ کو معیار بنا لیا۔اگرچہ اے سی پاور کا استعمال بڑھ رہا تھا لیکن پرل سٹریٹ سٹیشن کامیابی سے کام کرتا رہا۔ 2 جنوری 1890ء کی صبح اس میں آگ بھڑک اٹھی اور اس کی چھ میں سے پانچ ڈائنموز مکمل طور پر تباہ ہوگئیں-بچ جانے والا یونٹ آج بھی ’’ہنری فورڈ میوزیم‘‘ میںمحفوظ ہے اور 1980 میں امریکن سوسائٹی آف میکینکل انجینئرنگ نے اسے ’’نیشنل ہسٹوریکل میکینکل انجینئرنگ‘‘ کا اہم ترین سنگ میل قرار دیا۔ پرل سٹریٹ سٹیشن کو دوبارہ تعمیر کیا گیا اوریہ 1895ء میں استعمال پر پابندی لگنے تک کامیابی سے کام کرتا رہا۔ اس وقت تک انجینئرز کہیں زیادہ بڑے سائز کے پاور پلانٹ ڈیزائن کرچکے تھے جن سے بڑے علاقوں کو برقی رو فراہم کی جا سکتی تھی-- اور اس طرح پرل سٹریٹ متروک ہوگیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
برسا جامع مسجد

برسا جامع مسجد

سلجوقی و عثمانی عظمت کا سنگمترکی کے تاریخی شہر برسا(Bursa) میں واقع برسا جامع مسجد جسے مقامی طور پر ''اولو کامی‘‘ کہا جاتا ہے، اسلامی فن تعمیر کا ایک درخشاں شاہکار ہے۔ یہ عظیم الشان مسجد 14ویں صدی کے اواخر میں تعمیر کی گئی اور اسے ابتدائی عثمانی دور کی نمایاں ترین یادگاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سلجوقی اور عثمانی طرزِ تعمیر کے حسین امتزاج نے اس مسجد کو ایک منفرد شناخت عطا کی ہے، جو آج بھی ہزاروں زائرین اور سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔برسا، جو کبھی سلطنت عثمانیہ کا دارالحکومت رہا، تاریخی ورثے سے مالا مال شہر ہے۔ اسی شہر کے قلب میں قائم یہ جامع مسجد اپنی سادگی اور جلال کے باعث ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ روایت ہے کہ اس کی تعمیر سلطان بایزید اوّل کے دور میں مکمل ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عثمانی سلطنت اپنی بنیادیں مضبوط کر رہی تھی اور فن تعمیر میں نئی جہتیں متعارف ہو رہی تھیں۔ اولو کامی اسی ارتقائی مرحلے کی عکاس ہے۔مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے 20 گنبد ہیں جو قطار در قطار ترتیب دیے گئے ہیں۔ یہ گنبد چھت کے وسیع ڈھانچے کو سہارا دیتے ہیں اور اندرونی حصے کو ایک منفرد توازن اور ہم آہنگی عطا کرتے ہیں۔ دو بلند مینار مسجد کی شان بڑھاتے ہیں اور دور سے دیکھنے والوں کو اس کے روحانی وقار کا احساس دلاتے ہیں۔ اس میں بیک وقت تقریباً پانچ ہزارافراد نماز ادا کرسکتے ہیں، جو اس کے وسیع و عریض ہال کی گواہی دیتا ہے۔مسجد کا اندرونی منظر نہایت دلکش ہے۔ دیواروں اور ستونوں پر آویزاں خطاطی کے شاہکار اسے ایک روحانی عجائب گھر کا درجہ دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں موجود قرآنی آیات اور اسمائے حسنیٰ کی خطاطی مختلف ادوار کے نامور خطاطوں کے فن کا نمونہ ہے۔ یہی خطاطی اولو کامی کو دیگر مساجد سے ممتاز کرتی ہے۔ بڑے بڑے ستون، کشادہ فرش اور گنبدوں سے چھنتی روشنی عبادت گزاروں کے دلوں میں سکون اور خشوع پیدا کرتی ہے۔مسجد کے اندر موجود ایک خوبصورت فوارہ بھی اس کی انفرادیت کا حصہ ہے۔ عموماً فوارے صحن میں ہوتے ہیں، مگر اولو کامی میں یہ اندرونی حصے میں واقع ہے، جو ایک منفرد طرزِ تعمیر کی مثال ہے۔ اس سے نہ صرف وضو کی سہولت میسر آتی ہے بلکہ پانی کی مدھم آواز ایک روح پرور فضا قائم رکھتی ہے۔ یہ عنصر سلجوقی طرزِ تعمیر کی جھلک پیش کرتا ہے، جس میں پانی کو جمالیاتی اور روحانی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔برسا جامع مسجد کی تعمیر میں مضبوط پتھر اور سادہ مگر باوقار ڈیزائن اختیار کیا گیا۔ اس کی بیرونی دیواریں سادگی کا تاثر دیتی ہیں، جبکہ اندرونی حصہ نفیس آرائش اور خطاطی سے مزین ہے۔ یہی تضاد اسے ایک متوازن اور پْراثر عمارت بناتا ہے۔ یہ مسجد نہ صرف عبادت کا مرکز رہی بلکہ صدیوں تک علمی و سماجی سرگرمیوں کا محور بھی بنی رہی۔آج بھی اولو کامی برسا کی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ مقامی افراد کیلئے یہ روحانی مرکز ہے جہاں جمعہ اور عیدین کے اجتماعات میں ہزاروں افراد شریک ہوتے ہیں۔ سیاح یہاں آکر نہ صرف نماز ادا کرتے ہیں بلکہ اس کے فن تعمیر اور تاریخی پس منظر سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مسجد کے اطراف قائم بازار اور تاریخی عمارات اس علاقے کو مزید پرکشش بناتے ہیں، جس سے یہ مقام ایک ثقافتی مرکز کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ترکی میں موجود دیگر عظیم مساجد کی طرح برسا جامع مسجد بھی اس بات کی گواہ ہے کہ اسلامی تہذیب نے فن تعمیر میں کس قدر بلندی حاصل کی۔ سلجوقی سادگی اور عثمانی عظمت کا امتزاج اسے ایک منفرد مقام دیتا ہے۔ یہ مسجد ماضی کی یادگار ہونے کے ساتھ ساتھ حال کا زندہ روحانی مرکز بھی ہے۔مختصراً، برسا جامع مسجد یا اولو کامی صرف اینٹ اور پتھر کی عمارت نہیں بلکہ تاریخ، ایمان اور فن کا حسین امتزاج ہے۔ اس کے 20 گنبد، دو مینار، دلکش خطاطی اور وسیع ہال اسے ترکی کی نمایاں ترین مساجد میں شامل کرتے ہیں۔ صدیوں گزر جانے کے باوجود اس کی شان و شوکت برقرار ہے اور یہ آج بھی اسلامی فن تعمیر کی عظمت کا روشن استعارہ ہے۔

رمضان کے مشروب و پکوان:دہی سبزیوں کی سلاد

رمضان کے مشروب و پکوان:دہی سبزیوں کی سلاد

اجزاء:دہی آدھا کلو، آلو ابلے ہوئے تین عدد، پیاز باریک لمبوتری کٹی ہوئی ایک پیالی، کھیرا دو عدد، نمک کالی مرچ( پسی ہوئی) حسب ذائقہ، مرغی( ابلی ہوئی) تقریباً 125گرام۔ ترکیب: مرغی کے باریک ٹکڑے کر لیں، ابلے ہوئے آلو کش کر لیں۔ ایک عدد کھیرا کش کر لیں۔ دوسرے کھیرے کے پتلے ٹکڑے کر لیں۔ ایک کھلے منہ کے پیالے میں دہی ڈال کر پھینٹ لیں۔ دہی میں آلو اور کٹی ہوئی پیاز ڈال کر پھینٹیں۔ ساتھ نمک اور کالی مرچ شامل کر دیں۔ دہی میں مرغی کے ٹکڑے اور کش کیا ہوا کھیرا ڈال کر یکجا کریں۔ ڈش میں دہی کا آمیزہ ڈالیں۔ دہی کے آمیزے پر کٹا ہوا کھیرا رکھ دیں۔ عمدہ ترین اور لذت سے بھرپور سلاد تیار ہے۔ تناول فرمائیں۔چکن قیمہ پکوڑااجزا:باریک کٹی چکن 250 گرام،پھینٹے ہوئے انڈے 2 عدد، بیسن 4کھانے کے چمچے، پسی لال مرچ ایک چائے کا چمچ، کٹی ہری مرچ 2 عدد،ہلدی ایک چوتھائی چائے کا چمچ، بیکنگ پائوڈر آدھا چائے کا چمچ،نمک ایک چائے کا چمچ،کٹا ہرا دھنیا حسب ضرورت، چاٹ مصالحہ آدھا کھانے کا چمچ ،باریک کٹی ہری پیاز آدھا کپ۔ترکیب: بیسن ،بیکنگ پائوڈرپسی لال مرچ اور ہلدی،نمک، کپ پانی،باریک کٹی چکن،کٹی ہری مرچ اور کٹا ہرادھنیا ڈال کر ایک پیالے میں مکس کرکے 30 منٹ کیلئے رکھ دیں، اب پین میں تیل گرم کرکے اس کو پکوڑے کی شکل میں خستہ اور گولڈن ہونے تک فرائی کرلیں، لیجئے مزیدا ر چکن قیمہ پکوڑے تیار ہیں ۔اپنے افطار دسترخوان کی رونق بڑھائیں۔

آج کا دن

آج کا دن

باربی ڈول متعارف کرائی گئی1959ء میں آج کے روز معروف کارٹون اور کھلونا گڑیا باربی ڈول کو دنیا کے سامنے متعارف کروایا گیا۔ اس گڑیا کو امریکی کھلونا ساز کمپنی نے جرمن گڑیا''بائلڈ لی لی‘‘ سے متاثر ہو کر بنایاتھا۔ باربی ڈول کا شمار دنیا کے مشہورترین کرداروں میں ہوتا ہے۔اب یہ گڑیا ایک فیملی کی شکل اختیار کر چکی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس فیملی کے اراکین میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا کی معروف ماڈلز سے مماثلت رکھنے والی باربی ڈولز بھی بنائی جا چکی ہیں۔ہٹلر کا نئی فضائیہ بنانے کا اعلان9مارچ1935ء کوایڈولف ہٹلر نے جرمنی کیلئے نئی فضائیہ بنانے کا اعلا ن کیا۔ہٹلر نے یہ بھی اعلان کیا کہ ورسائیلس معاہدے کی خلاف ورزی پر جرمنی کی فوجی طاقت کو دوبارہ مضبوط کیا جائے گا۔اسی عرصے میں دنیا دوسری عالمی جنگ کی جانب بڑھ رہی تھی اور عالمی حالات دن بدن خراب ہو رہے تھے۔ ہٹلر نے تقریباً5لاکھ فوجی بھرتی کرنے اور جرمنی کیلئے ایک نئی فضائیہ بنانے کا اعلان بھی اسی دوران کیا۔ایستونیا پر بمباریدوسری عالمی جنگ کے دوران ایستونیا پر متعدد مرتبہ بمباری کی گئی۔ پہلی بمباری 1941ء میں کے دوران کی گئی جو آپریشن باربروسہ کا حصہ تھی۔ اس کے بعد ایستونیا کے دارالحکومت تالین پر 9مارچ 1944ء کو سوویت یونین کی جانب سے کی جانے والی بمباری سب سے زیادہ تباہ کن تھی۔یہ بمباری جنگ ناروا کے دوران کی گئی، اسے ''مارچ بمباری‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ سوویت یونین نے دو دن کے دوران تالین پر ہزاروں بم برسائے۔

اِستقلال مسجد

اِستقلال مسجد

جنوب مشرقی ایشیا کی عظیم ترین عبادت گاہانڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں واقع ''استقلال مسجد‘‘ نہ صرف ملک کی سب سے بڑی مسجد ہے بلکہ اسے جنوب مشرقی ایشیا کی عظیم ترین عبادت گاہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ ''استقلال‘‘ کا مطلب ہے آزادی، اور یہ نام انڈونیشیا کی نوآبادیاتی تسلط سے آزادی کی یاد میں رکھا گیا۔ اس مسجد کی تعمیر 1978ء میں مکمل ہوئی اور یہ قومی تشخص، مذہبی وقار اور جدید فن تعمیر کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔استقلال مسجد تقریباً 5.9 ہیکٹر کے وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کے مرکزی ہال اور ملحقہ حصوں میں بیک وقت تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار نمازی نماز ادا کرسکتے ہیں، جو اسے دنیا کی بڑی مساجد میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔ مسجد کا کشادہ صحن، بلند و بالا ستون، وسیع گنبد اور جدید طرزِ تعمیر اسے ایک منفرد شناخت بخشتے ہیں۔ اس کا مرکزی گنبد تقریباً 45 میٹر قطر پر مشتمل ہے، جو انڈونیشیا کی آزادی کے سال 1945ء کی علامتی یاد دہانی بھی سمجھا جاتا ہے۔استقلال مسجد کا ڈیزائن سادہ مگر باوقار ہے۔ سفید سنگِ مرمر اور اسٹیل کے استعمال نے اسے جدید اور شفاف تاثر دیا ہے۔ مسجد کا مینار تقریباً 96 میٹر بلند ہے جو شہر کے افق پر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ستونوں اور محرابوں کی ترتیب میں اسلامی فن تعمیر کی جھلک موجود ہے، مگر مجموعی ڈیزائن میں انڈونیشیا کے متنوع ثقافتی ورثے اور جدید انجینئرنگ کا حسین امتزاج نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسجد روایتی اور جدید طرزِ تعمیر کے سنگم کی بہترین مثال سمجھی جاتی ہے۔مسجد کا اندرونی حصہ نہایت وسیع اور ہوادار ہے۔ مرکزی ہال میں لگے بلند ستون اور کھلے طرز کی ترتیب نمازیوں کو روحانی سکون فراہم کرتی ہے۔ فرش پر بچھے قالین، سادہ مگر خوبصورت محراب اور قرآنی آیات کی دلکش خطاطی عبادت کے ماحول کو مزید پراثر بناتے ہیں۔ یہاں جدید صوتی نظام نصب ہے تاکہ ہزاروں افراد تک خطبہ اور اذان کی آواز واضح طور پر پہنچ سکے۔ رمضان المبارک، عیدین اور دیگر مذہبی مواقع پر یہاں لاکھوں افراد کا اجتماع ایک ایمان افروز منظر پیش کرتا ہے۔استقلال مسجد کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا جغرافیائی اور سماجی محل وقوع ہے۔ یہ مسجد جکارتہ کے مرکزی حصے میں واقع ہے اور اس کے سامنے ایک تاریخی گرجا گھر موجود ہے، جو مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ انڈونیشیا ایک کثیرالمذاہب معاشرہ ہے، اور استقلال مسجد اس تنوع کے باوجود قومی یکجہتی کی روشن مثال کے طور پر جانی جاتی ہے۔ یہاں مختلف بین الاقوامی وفود اور سیاح بھی آتے ہیں، جنہیں مسجد کے مختلف حصوں کی سیر کروائی جاتی ہے۔مسجد میں نہ صرف نماز اور عبادت کا اہتمام کیا جاتا ہے بلکہ یہ تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہے۔ یہاں اسلامی تعلیمات کے فروغ کیلئے دروس، سیمینارز اور کانفرنسز منعقد ہوتی ہیں۔ وسیع کانفرنس ہال اور ملحقہ کمروں میں مختلف مذہبی و سماجی موضوعات پر مکالمہ ہوتا ہے۔ اس طرح استقلال مسجد صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک فعال سماجی و فکری مرکز بھی ہے جو قوم کی رہنمائی میں کردار ادا کرتا ہے۔ انڈونیشیا کی آزادی کی یادگار کے طور پر استقلال مسجد قومی وقار کی علامت ہے۔ اس کی تعمیر میں جدید ٹیکنالوجی اور مقامی وسائل کا استعمال کیا گیا، جس سے یہ عمارت ملک کی ترقی اور خود انحصاری کی نشانی بن گئی۔ ہر سال ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاح یہاں آکر اس کے فن تعمیر اور روحانی فضا سے متاثر ہوتے ہیں۔ رات کے وقت روشنیاں اس کے سفید گنبد اور مینار کو مزید دلکش بنا دیتی ہیں، جو جکارتہ کی پہچان بن چکا ہے۔مختصراً، استقلال مسجد انڈونیشیا کی آزادی، مذہبی عقیدت اور ثقافتی ہم آہنگی کا ایک عظیم استعارہ ہے۔ اپنی وسعت، جدید ڈیزائن اور روحانی ماحول کے باعث یہ مسجد نہ صرف جنوب مشرقی ایشیا بلکہ پوری اسلامی دنیا میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہے۔ یہاں ادا کی جانے والی نمازیں، منعقد ہونے والے اجتماعات اور آنے والے زائرین اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ استقلال مسجد ایمان، اتحاد اور قومی فخر کی روشن علامت ہے۔

رمضان کے پکوان:توری کے پکوڑے

رمضان کے پکوان:توری کے پکوڑے

اجزاء:توری آدھا کلو، نمک حسب ذائقہ، پسی ہوئی لال مرچ ایک چائے کا چمچ،ڈبل روٹی کا چورا ڈیڑھ پیالی، ہلدی آدھا چائے کا چمچ، سفید تل دو کھانے کے چمچ، کالی مرچ پسی ہوئی آدھا چائے کا چمچ، انڈے دو عدد، کوکنگ آئل حسب ضرورت۔ترکیب:توری کو چھیل کر اس کے گول قتلے کاٹ لیں اور اس پر نمک ہلدی اور لال مرچ چھڑ کر اچھی طرح ملا لیں۔ پھیلے ہوئے فرائنگ پین میں ان قتلوں کو پھیلا کر درمیانی آنچ پر رکھیں۔ الٹ پلٹ کرتے ہوئے اتنا پکائیں کہ توری کا اپنا پانی اچھی طرح خشک ہو جائے۔ ڈبل روٹی کے چورے میں تل اور کالی مرچ ملا لیں اور انڈوں کو پھینٹ کر رکھ لیں۔ توری کے قتلوں کو پھیلا کر اچھی طرح ٹھنڈا کر لیں۔ پہلے انہیں پھینٹے ہوئے انڈوں میں ڈبوئیں پھر ڈبل روٹی کے چورے میں لتھیڑ کر گرم کوکنگ آئل میں سنہری فرائی کرلیں۔

آج کا دن

آج کا دن

دُنیا کی پہلی خاتون پائلٹ1910ء میں فرانس کی ریمنڈ کو دنیا کی پہلی خاتون پائلٹ ہونے کا اعزاز ملا ۔ 8 مارچ 1910ء کو انہیں ہوائی جہاز اڑانے کا لائسنس دیا گیا۔ ریمنڈ 22اگست 1882ء کو فرانس کے شہر پیرس میں پیدا ہوئیں۔وہ ایک پلمبر کی بیٹی تھیں۔1909ء میں انہوں نے اپنے ایک دوست سے درخواست کی کہ وہ انہیں ہوائی جہاز اڑانا سکھائے۔صرف ایک سال میں ریمنڈ بہترین پائلٹ بن گئیں۔امریکہ نے فلپائن خریدا8 مارچ 1906ء کوامریکہ نے اسپین سے 20 ملین ڈالرز میں فلپائن کو خریدا۔ تاہم وہاں کی عوام نے اس معاہدے کی شدید مخالفت کی۔ 1902ء میں صدر تھیوڈور روزویلٹ نے فلپائن کی جنگ ختم کرنے کا اعلان کیا ۔اس جنگ کے دوران وہاں سیکڑوں مسلمانوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔جاپان کا رنگون پر قبضہ1942ء میں دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان نے برطانیہ کے زیر انتظام برما کے علاقے رنگون پر قبضہ کر لیا۔ یہ دوسری عالمی جنگ کا وہ مرحلہ تھا جب جاپان کو جنگ میں فتوحات مل رہی تھیں اور اس کی افواج مسلسل پیش قدمی کر رہی تھیں۔ رنگون پر قبضے کے بعد جاپانی افواج نے جنگ کا رخ ہی بدل دیا۔ جاپان پرل ہاربر پر حملہ کر کے پہلے ہی امریکہ کے ساتھ براہ راست لڑائی شروع کر چکا تھا۔ملائیشین جہاز غائب ہو گیاملائیشیا ایئر لائنز کی ''پرواز 370 ‘‘ 8 مارچ 2014 ء کوکوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے غائب ہو گئی۔ جہاز کے عملے نے آخری بار ائیر ٹریفک کنٹرول سے ٹیک آف کے تقریباً 38 منٹ بعد اس وقت رابطہ کیا جب پرواز بحیرہ جنوبی چین کے اوپر سے گزر رہی تھی۔ اس کے بعد طیارہ ریڈار اسکرینوں سے غائب ہو گیا۔