دنیا کا پہلا کمرشل پاور سٹیشن !

دنیا کا پہلا کمرشل پاور سٹیشن !

اسپیشل فیچر

تحریر : نعیم احسن


دنیائے سائنس کے سب سے بڑے موجد تھامس ایلوا ایڈیسن نے پرل سٹریٹ، لوئر مین ہٹن میں 4 ستمبر 1882ء کو پہلا مکمل کمرشل الیکٹرک لائٹنگ اینڈ پاور سسٹم قائم کیا۔ ایڈیسن کے بلب کی کامیابی نے پاور کے سورس کے لئے طلب پیدا کردی تھی اور یہ طلب ہی پرل سٹریٹ (Pearl Street)سٹیشن کی تعمیر اور جدید الیکٹرک یوٹیلٹی انڈسٹری کے قیام کا سبب بنی۔ قابل انحصار مرکزی پاور جنریشن، محفوظ اور موثر ڈسٹری بیوشن اور صارف کے لئے گیس لائٹنگ سے بھی کم قیمت پر برقی بلب کی روشنی کی فراہمی پرل سٹریٹ سٹیشن کی نمایاں ترین خصوصیات تھیں۔پرل سٹریٹ پاور سٹیشن کے قیام سے پہلے پاور انسٹالیشن کے لئے ایڈیسن کئی تجربات کر چکے تھے۔ 1880ء میں انہوں نے سٹیم شپ ’’کولمبیا‘‘ پر ایک چھوٹا سسٹم انسٹال کیا اور اسی طرح انہوںنے اپنی مینلو پارک لیب میں بھی ایک مختصر لائٹنگ سسٹم قائم کیا۔ کئی دیگر خصوصیات کے ساتھ 1881ء میں لندن میں ’’پیرس انٹرنیشنل ایکسپوزیشن‘‘ میں بھی انسٹالیشن کی۔ ان ابتدائی تجربات سے ایڈیسن کی ٹیم کو نیویارک میں پہلی مستقل انسٹالیشن کے قیام سے پہلے ہی اس تصور کو آزمانے کا موقع مل گیا۔ مثال کے طور پر مینلو پارک لیب میں ایڈیسن نے سٹیم ڈائنموز، سیفٹی فیوزز اور ریگولیٹنگ ڈیوائسز کی جانچ کی جو بعد میں پرل سٹریٹ پلانٹ میں کامیابی سے استعمال کی گئیں۔ان تجربات سے ہٹ کر بھی پرل سٹریٹ پلانٹ کی تعمیر میں کئی رکاوٹیں پیش آئیں۔ ایک بڑا مسئلہ کافی مقدار میں پاور جنریٹ کرنے کا طریقہ ڈھونڈنا تھا۔ ایڈیسن ڈائنمو (dynamo)، جسے آج ہم جنریٹر کہتے ہیں، استعمال کرنا چاہتے تھے۔ ڈائنمو ایک ایسی مشین ہے جو میکینکل انرجی کو الیکٹریکل انرجی میں تبدیل کرتی ہے۔ لیکن اس وقت تک اتنی طاقت ور ڈائنمو دستیاب نہیں تھی۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ’’جمبو ڈائنمو‘‘ تیار کی گئی۔ یہ 27 ٹن کی ایک مشین تھی جو 100 کلوواٹ بجلی پیدا کرتی تھی اور 1200 لائٹوں کے لئے کافی تھی۔ یہ پہلے سے دستیاب بڑی سے بڑی ڈائنمو سے بھی چار گنا بڑی تھی۔ پیرس ایکسپو میں ایڈیسن کے سسٹم کے پہلے مظاہرے میں پہلی مرتبہ سنگل جمبو ڈائنمو استعمال کی گئی۔ نیویارک شہر کے ایک مربع میل علاقے کو روشن کرنے کے لئے پرل سٹریٹ پاور پلانٹ میں اس طرح کی 6 جمبو ڈائنموز کی ضرورت تھی۔بجلی کی فراہمی ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ صارفین کے گھروں تک پاور پہنچانے کے لئے تاروں اور زیر زمین ٹیوبوں، جنہیں Conduits کہتے ہیں، کا نیٹ ورک تعمیر کرنا سب سے بڑا چیلنج تھا۔ نیو یارک شہر کے سیاستدان ابتدائی طور پر شکوک و شبہات کا شکار تھے اور انہوں نے لوئر مین ہٹن کی گلیوں کی کھدائی کرنے کی تجویز مسترد کردی۔ ایڈیسن کو اپنے منصوبے کی تکمیل کے لئے گلیاں کھود کر ایک لاکھ فٹ وائرنگ بچھانے کی ضرورت تھی۔ تاہم ایڈیسن نے کسی نہ کسی طور پر شہر کے میئر کو قائل کرہی لیا۔ ٹیوبوں کی انسٹالیشن پر اس پورے منصوبے میں سب سے زیادہ لاگت آئی۔ایک اور بڑا مسئلہ ایک ایسی ڈیوائس کی ضرورت تھی جو توانائی کے استعمال کا حساب کتاب رکھ سکے تاکہ صارفین سے استعمال شدہ توانائی کی قیمت وصول کی جا سکے۔ اگرچہ 18 ویں صدی کی ابتداء ہی میں ایسے آلات موجود تھے جو بجلی کے بہائو کا کھوج لگا سکتے تھے اور یہ بتا سکتے تھے کہ کتنی بجلی گزر رہی ہے لیکن ایسا کوئی آلہ نہیں تھا جو گزرتے وقت کے ساتھ اس بہائو کا ریکارڈ بھی رکھ سکے۔ 1882ء کے موسم بہار میں الیکٹریکل میٹر کا ایک کامیاب ڈیزائن تیار کرلیا گیا۔ تاہم ایڈیسن نے اپنے صارفین کو اس وقت تک بل نہیں بھیجے جب تک پورا سسٹم قابل انحصار طریقے سے چلنا نہیں شروع ہوگیا اور اس کے لئے کچھ اور وقت لگ گیا۔ دنیا کا سب سے پہلا بل بجلی انسونیا (Ansonia) براس اینڈ کاپر کمپنی کو 18 جنوری 1883ء کو بھیجا گیا اور اس بل کی رقم 50.44 ڈالر تھی۔ صارفین کو بل کے علاوہ اور بھی اخراجات برداشت کرنے پڑتے تھے جیسے بجلی کے بلب کی قیمت وہ خود ادا کرتے تھے جو کہ فی بلب 1 ڈالر تھی، 1880ء کے تناظر میں یہ قیمت کافی زیادہ تھی۔کئی طرح کی رکاوٹوں کے باوجود پرل سٹریٹ سسٹم نے کامیابی حاصل کرلی۔ ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کا شمار ان اولین دفاتر میں ہوتا ہے جنہوں نے یہ نیا سسٹم اپنایا۔ اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا، ’’آرک لائٹنگ، جو اس سے قبل الیکٹرک لائٹنگ کی واحد دستیاب صورت تھی، کے مقابلے میں اس کی روشنی بہت نرم اور ہموار ہے، اور آنکھوں کو بہت بھلی معلوم ہوتی ہے۔‘‘یہ سارا معاملہ دراصل اس طرح سے نہیں چل رہا تھا جس طرح سے ایڈیسن کو امید تھی۔ عوام اس بات سے ابھی تک ناآشنا ہیں کہ پرل سٹریٹ سسٹم کئی برسوں تک بھاری خسارے میں جاتا رہا۔ اس کی ابتدائی لاگت بہت زیادہ تھی۔ مین ہٹن رئیل اسٹیٹ کی قیمت سمیت پاور سٹیشن اور اس کی تمام تاروں، انڈر گرائونڈ ٹیوبوں اور دوسری تنصیبات پر تقریباً تین لاکھ ڈالر لاگت آئی تھی۔آپریٹنگ کے مسلسل اخراجات تعمیراتی اخراجات کے علاوہ تھے جیسے پلانٹ کے بوائلر کے لئے روزانہ کوئلے کی بڑی مقدار کی ضرورت ہوتی تھی جس سے ڈائنموز کو چلانے کے لئے بھاپ حاصل کی جاتی تھی۔ 1882ء اور 1883ء کے دوران پرل سٹریٹ پلانٹ کو چلانے کے اخراجات اس سے ہونے والی آمدنی سے کہیں زیادہ تھے تاہم 1884ء میں اس سے منافع آنے لگا۔پرل سٹریٹ پاور سٹیشن کی کامیابی ہی ایک طرح سے اس کی ناکامی کا باعث بنی۔ ایڈیسن کے سسٹم نے دوردراز جگہوں پر توانائی کی طلب پیدا کردی اور ان جگہوں تک سپلائی کا کام بہت مہنگا ثابت ہوتا تھا۔ انڈسٹری کی جانب سے لائٹنگ کے لئے استعمال ہونے والے 110 وولٹ کے علاوہ دیگر وولٹیج ز کے لئے ڈیمانڈ دن بدن بڑھنے لگی۔ ایڈیسن کے سسٹم میں ڈائریکٹ کرنٹ (DC) استعمال ہوتا تھا جو کہ نئی ڈیمانڈز کے لئے موزوں نہیںتھا۔ نکولا ٹیسلا (Nikola Tesla) اور جارج واشنگٹن ہائوس جیسے حریفوں کا خیال تھا کہ انڈسٹری کی ڈیمانڈ آلٹرنیٹنگ کرنٹ (AC) سے پوری کی جا سکتی ہے۔ ایڈیسن ڈائریکٹ کرنٹ کی محدودیت کو ماننے میں متامل تھے اور اس کا دفاع کررہے تھے۔ تاہم ان کا خیال غلط ثابت ہوا اور دنیا نے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے آلٹرنیٹنگ کرنٹ کو معیار بنا لیا۔اگرچہ اے سی پاور کا استعمال بڑھ رہا تھا لیکن پرل سٹریٹ سٹیشن کامیابی سے کام کرتا رہا۔ 2 جنوری 1890ء کی صبح اس میں آگ بھڑک اٹھی اور اس کی چھ میں سے پانچ ڈائنموز مکمل طور پر تباہ ہوگئیں-بچ جانے والا یونٹ آج بھی ’’ہنری فورڈ میوزیم‘‘ میںمحفوظ ہے اور 1980 میں امریکن سوسائٹی آف میکینکل انجینئرنگ نے اسے ’’نیشنل ہسٹوریکل میکینکل انجینئرنگ‘‘ کا اہم ترین سنگ میل قرار دیا۔ پرل سٹریٹ سٹیشن کو دوبارہ تعمیر کیا گیا اوریہ 1895ء میں استعمال پر پابندی لگنے تک کامیابی سے کام کرتا رہا۔ اس وقت تک انجینئرز کہیں زیادہ بڑے سائز کے پاور پلانٹ ڈیزائن کرچکے تھے جن سے بڑے علاقوں کو برقی رو فراہم کی جا سکتی تھی-- اور اس طرح پرل سٹریٹ متروک ہوگیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ریکارڈ ساز فیفا ورلڈ کپ 2026

ریکارڈ ساز فیفا ورلڈ کپ 2026

عالمی فٹ بال کی تاریخ میں کئی نئے ریکارڈ قائمفیفا ورلڈ کپ 2026ء کا میلہ اپنے اختتام کو پہنچا،فائنل میں اسپین نے دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کو شکست دے کر نہ صرف ایک بڑا اپ سیٹ کیا بلکہ عالمی فٹ بال کی تاریخ میں کئی نئے ریکارڈ بھی قائم کر دیے۔امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے اس ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر 104 میچ کھیلے گئے، جو فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں کسی بھی ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ مقابلے ہیں۔ اسی لیے اس ایونٹ میں بے شمار نئے ریکارڈ قائم ہوئے اور کئی پرانے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے کی دوڑ سے لے کر ریکارڈ ساز کلین شیٹ تک، 2026ء کے اس عالمی ٹورنامنٹ نے کئی ایسے تاریخی کارنامے دیکھے جنہوں نے فٹ بال کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔میسی کے عالمی اعزازاگرچہ ارجنٹائن کی ٹیم فائنل میں شکست کے بعد رنر اپ رہی، تاہم اس کے اسٹار کپتان لیونل میسی نے اپنی انفرادی کارکردگی سے کئی یادگار ریکارڈ اپنے نام کئے۔ میسی نے مسلسل 9 فیفا ورلڈ کپ میچوں میں گول کرکے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا، یوں وہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں لگاتار سب سے زیادہ میچوں میں گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔ ان کا یہ شاندار سلسلہ 3 دسمبر 2022ء سے شروع ہوا اور 7 جولائی 2026ء تک جاری رہا۔ اس کے علاوہ لیونل میسی نے فیفا ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ 34 میچ کھیلنے کا اپنا ہی عالمی ریکارڈ مزید بہتر بنایا۔ انہوں نے ایک اور منفرد اعزاز بھی حاصل کیا جب 38 سال اور 357 دن کی عمر میں الجزائر کے خلاف ہیٹ ٹرک اسکور کرکے ورلڈ کپ کی تاریخ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے معمر ترین کھلاڑی بن گئے۔گولز کی بارشلیونل میسی اور فرانس کے کائلیان ایمباپے کے درمیان ورلڈ کپ کے دوران ریکارڈز کی دلچسپ دوڑ جاری رہی، لیکن آخرکار اس میدان میں کامیابی ایمباپے کے حصے میں آئی۔ انہوں نے مجموعی طور پر 22 گول کر کے فیفا ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ ایمباپے نے یہ گول 2018ء، 2022ء اور 2026ء کے ورلڈ کپ مقابلوں میں اسکور کیے، جس سے انہوں نے عالمی فٹ بال کی تاریخ میں ایک اور شاندار سنگ میل عبور کر لیا۔ فرانس کے مائیکل اولیسے نے بھی اس ٹورنامنٹ میں اپنی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 7 گول پاسز (اسسٹ) دے کر فیفا ورلڈ کپ کے ایک ہی ٹورنامنٹ میں کسی بھی کھلاڑی کی جانب سے سب سے زیادہ اسسٹ کرنے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ ان کی شاندار پاسنگ، بہترین کھیل اور ساتھی کھلاڑیوں کیلئے گول کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت نے انہیں ورلڈ کپ 2026ء کے نمایاں ترین کھلاڑیوں میں شامل کر دیا۔''کلین شیٹ‘‘ گول کیپر سیمون کا تاریخی ریکارڈورلڈ کپ 2026ء میں اسپین کے گول کیپر اونائی سیمون نے بھی ایک منفرد عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ انہوں نے یکم دسمبر 2022ء سے 10 جولائی 2026ء تک فیفا ورلڈ کپ کے مقابلوں میں مسلسل سب سے طویل عرصے تک اپنے خلاف کوئی گول نہ ہونے (کلین شیٹ) کا ریکارڈ قائم کیا۔ اس شاندار کارکردگی کے دوران وہ حریف ٹیموں کو گول کرنے سے مسلسل روکے رکھنے میں کامیاب رہے، جس نے اسپین کی عالمی ٹائٹل جیتنے کی مہم میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔یہی مضبوط دفاع اسپین کی عالمی چیمپئن بننے کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ثابت ہوا۔عمر کامیابی میں رکاوٹ نہیںکیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا، جن کا اصل نام جوسیمار ڈیاس ہے، نے فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں ایک منفرد عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ وہ ورلڈ کپ میں اپنے پہلے ہی میچ میں کلین شیٹ رکھنے والے معمر ترین گول کیپر بن گئے۔ 15 جون کو اسپین کے خلاف مقابلے میں انہوں نے شاندار گول کیپنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف ٹیم کو کوئی گول کرنے کا موقع نہ دیا۔ اس تاریخی کارکردگی کے وقت ان کی عمر 40 سال اور 12 دن تھی، جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل ہے۔ کرسٹیانو رونالڈوکا اعزازپرتگال کے عالمی شہرت یافتہ فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو نے فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں ایک تاریخی اعزاز اپنے نام کیا۔ انہوں نے ورلڈ کپ کے چھ مختلف ٹورنامنٹس میں گول کرنے والے پہلے کھلاڑی بن کر اپنا ہی عالمی ریکارڈ مزید مستحکم کیا۔ رونالڈو نے 2006ء، 2010ء، 2014ء، 2018ء، 2022ء اور 2026ء کے ورلڈ کپ مقابلوں میں گول اسکور کیے، جو ان کی غیرمعمولی مستقل مزاجی، بہترین فٹنس اور طویل عرصے تک اعلیٰ معیار کی کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔ یہ کارنامہ انہیں عالمی فٹ بال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں نمایاں مقام دلاتا ہے۔فیفا ورلڈ کپ 2030ء فیفا ورلڈ کپ 2030ء کی مشترکہ میزبانی مراکش، پرتگال اور اسپین کریں گے۔ یہ ٹورنامنٹ اپنی نوعیت کا ایک تاریخی ایونٹ ہوگا کیونکہ یہ 1930ء میں منعقد ہونے والے پہلے فیفا ورلڈ کپ کی سوویں سالگرہ کی مناسبت سے کھیلا جائے گا۔ پہلے ورلڈ کپ کی میزبانی یوراگوئے نے کی تھی اور وہی اس افتتاحی عالمی مقابلے کا چیمپئن بھی بنا تھا۔

زمین کے آبی ذخائر میں آکسیجن کی کمی

زمین کے آبی ذخائر میں آکسیجن کی کمی

بڑھتا ہوا عالمی ماحولیاتی بحراندنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی، آلودگی اور حیاتیاتی تنوع میں کمی جیسے مسائل پر مسلسل بات کی جا رہی ہے لیکن ایک اور خطرہ خاموشی سے بڑھ رہا ہے جس پر اب سائنسدانوں نے توجہ دلائی ہے۔ یہ خطرہ دنیا کے سمندروں، جھیلوں، دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر میں آکسیجن کی مقدار میں مسلسل کمی کا ہے۔ آکسیجن پانی میں موجود تمام جانداروں کی بقا کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر اس کی مقدار کم ہو جائے تو نہ صرف آبی حیات متاثر ہوتی ہے بلکہ پورا ماحولیاتی نظام عدم توازن کا شکار ہونے لگتا ہے۔ حالیہ سائنسی تحقیقات کے مطابق یہ مسئلہ اب ایک مقامی یا علاقائی نہیں بلکہ عالمی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے اثرات مستقبل میں انسانی زندگی، خوراک کی فراہمی اور عالمی آب و ہوا پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔آبی ذخائر میں آکسیجن کیوں کم ہو رہی ہے؟سائنسدانوں کے مطابق پانی میں آکسیجن کی کمی کے پیچھے کئی عوامل بیک وقت کام کر رہے ہیں۔ سب سے اہم وجہ عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہے۔ جب پانی کا درجہ حرارت بڑھتا ہے تو وہ کم آکسیجن جذب کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گرم پانی میں آبی تہوں کی باہمی آمیزش بھی کم ہو جاتی ہے جس کے باعث گہرے پانی تک تازہ آکسیجن نہیں پہنچ پاتی۔دوسری بڑی وجہ زرعی زمینوں سے بہہ کر آنے والی کھادیں اور دیگر غذائی اجزاہیں۔ نائٹروجن اور فاسفورس کی زیادہ مقدار جھیلوں اور ساحلی علاقوں میں کائی (Algae) کی غیر معمولی افزائش کا باعث بنتی ہے۔ جب یہ کائی مر جاتی ہے تو اسے گلانے والے جراثیم بڑی مقدار میں آکسیجن استعمال کرتے ہیں جس سے پانی میں آکسیجن کی سطح خطرناک حد تک گر جاتی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں بعض علاقوں میں آبی جانوروں کے لیے زندہ رہنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سمندری پانیوں کی گردش میں آنے والی تبدیلیاں، آلودگی اور انسانی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں آکسیجن کی کمی کے واقعات پہلے کی نسبت زیادہ تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔آبی حیات اور انسانوں پر اس کے اثراتپانی میں آکسیجن کی کمی کا سب سے پہلا اثر مچھلیوں، جھینگوں، کیکڑوں، شارک اور دیگر آبی جانداروں پر پڑتا ہے۔ جب آکسیجن مطلوبہ سطح سے نیچے آ جاتی ہے تو بہت سے جانور یا تو ان علاقوں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا پھر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ بعض حساس انواع تو معمولی کمی بھی برداشت نہیں کر پاتیں جس کے نتیجے میں ان کی تعداد مسلسل کم ہونے لگتی ہے۔اس صورتحال کا اثر صرف آبی حیات تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری غذائی زنجیر متاثر ہوتی ہے۔ اگر چھوٹے جاندار ختم ہونے لگیں تو ان پر انحصار کرنے والی بڑی مچھلیاں اور دیگر شکاری جانور بھی متاثر ہوتے ہیں۔ بالآخر اس کا اثر ماہی گیری، ساحلی معیشت اور ان کروڑوں لوگوں پر پڑتا ہے جن کا روزگار سمندر اور دیگر آبی وسائل سے وابستہ ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آکسیجن کی کمی پانی کے اندر ہونے والے قدرتی حیاتیاتی اور کیمیائی عمل کو بھی بدل دیتی ہے۔ اس سے بعض نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہو سکتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے عمل کو مزید تیز کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ اس طرح ایک ایسا چکر شروع ہو جاتا ہے جس میں موسمیاتی تبدیلی آکسیجن کو کم کرتی ہے اور آکسیجن کی کمی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مزید بڑھا دیتی ہے۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو کے سکریپس انسٹی ٹیوشن آف اوشینوگرافی کے ماہرین جنہوں نے یہ تحقیق کی ہے، کہتے ہیں کہ پانی میں آکسیجن کی کمی کو اب ایک الگ تھلگ مسئلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے خیال میں یہ موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع میں کمی، سمندری تیزابیت، آلودگی اور دیگر عالمی ماحولیاتی مسائل سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے تجویز دی ہے کہ آبی ذخائر میں آکسیجن کی کمی کو بھیPlanetary Boundaries Framework میں شامل کیا جائے۔یہ فریم ورک ان ماحولیاتی حدود کی نشاندہی کرتا ہے جن کے اندر رہ کر زمین کا قدرتی نظام متوازن انداز میں کام کرتا ہے۔ اگر انسان ان حدود سے تجاوز کرے تو ایسے ناقابلِ تلافی نقصانات ہو سکتے ہیں جن کے اثرات کا ازالہ انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ آکسیجن کی مسلسل کمی اب اسی درجے کا ایک خطرہ بنتی جا رہی ہے اس لیے اس کی نگرانی اور تدارک کو عالمی ترجیح دی جانی چاہیے۔مسئلے کا حل اور مستقبل کی ذمہ داریاںماہرین کے مطابق اس بحران سے نمٹنے کے لیے صرف ایک اقدام کافی نہیں ہوگا بلکہ مختلف شعبوں میں بیک وقت عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ سب سے پہلے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لا کر عالمی حدت کو محدود کرنا ضروری ہے تاکہ پانی کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ روکا جا سکے۔ اسی طرح زرعی شعبے میں کھادوں کے محتاط استعمال، صنعتی فضلے کی بہتر صفائی اور دریاؤں و جھیلوں میں آلودگی کے بہاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر پالیسیاں بھی ناگزیر ہیں۔اس کے علاوہ مختلف ممالک کو اپنے سمندروں، جھیلوں اور دریاؤں میں آکسیجن کی مسلسل نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ خطرناک تبدیلیوں کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔ تحقیق اور بین الاقوامی تعاون میں اضافہ بھی اس مسئلے کے حل کا ایک اہم حصہ ہے کیونکہ یہ بحران کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کو متاثر کر رہا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

غلاموں کی آزادی کا مسودہ22 جولائی 1862ء کو امریکی صدر ابراہام لنکن نے اپنی کابینہ کے سامنے غلاموں کی آزادی کا ابتدائی مسودہ پیش کیا۔ اس وقت امریکہ خانہ جنگی کی لپیٹ میں تھا جہاں شمالی اور جنوبی ریاستیں ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار تھیں۔ جنوبی ریاستوں کی معیشت غلامی پر قائم تھی جبکہ شمالی ریاستیں غلامی کے خاتمے کی حامی تھیں۔لنکن نے اپنے وزراکو بتایا کہ وہ غلامی کے خاتمے کا اعلان کرنا چاہتے ہیں لیکن وزیر خارجہ ولیم سیورڈ کے مشورے پر فیصلہ کیا کہ اسے کسی بڑی فوجی کامیابی کے بعد جاری کیا جائے تاکہ اسے کمزوری کی علامت نہ سمجھا جائے۔ بعد ازاں ستمبر 1862ء میں اینٹیٹم کی جنگ کے بعد ابتدائی اعلان جاری ہوا اور یکم جنوری 1863ء کو باقاعدہ نافذ کیا گیا۔ پہلی کار ریس22 جولائی 1894ء کو فرانس میں پیرس سے روان تک دنیا کی پہلی باقاعدہ کار مقابلہ ریس منعقد ہوئی۔ اس مقابلے کا انعقاد فرانسیسی اخبار Le Petit Journalنے کیا تھا۔ اس ریس کا مقصد صرف رفتار کا مقابلہ نہیں بلکہ یہ ثابت کرنا تھا کہ موٹرگاڑیاں گھوڑا گاڑیوں کا قابلِ اعتماد متبادل بن سکتی ہیں۔تقریباً 126 کلومیٹر طویل اس راستے میں مختلف قسم کی گاڑیاں شریک ہوئیں جن میں بھاپ، تیل اور دیگر ذرائع سے چلنے والی گاڑیاں شامل تھیں۔ اگرچہ تیز ترین گاڑی نے پہلے منزل حاصل کی لیکن انعام اس گاڑی کو دیا گیا جو محفوظ، قابلِ اعتماد اور روزمرہ استعمال کے لیے زیادہ موزوں سمجھی گئی۔یہ مقابلہ جدید آٹوموبائل صنعت کی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہوا۔ دنیا کا فضائی چکر 22 جولائی 1933ء کو امریکی ہوا بازWiley Post نے سات دن، 18 گھنٹے اور 49 منٹ میں تنہا دنیا کا فضائی چکر مکمل کر کے تاریخ رقم کی یوں دنیا کے پہلے شخص بن گئے جس نے اکیلے یہ کارنامہ انجام دیا۔اس سفر کے دوران انہوں نے جدید نیویگیشن آلات اور خودکار پائلٹ نظام کا استعمال کیا جو اُس دور میں ایک نئی ایجاد تھی۔ولی پوسٹ کی اس کامیابی نے عالمی ہوابازی میں انقلاب برپا کیا۔ بعد کے برسوں میں بین الاقوامی فضائی سفر، جدید نیویگیشن، اور مسافر بردار طیاروں کی ترقی کی راہ ہموار ہوئی۔ ان کی پرواز نے انجینئروں اور ہوا بازوں کو نئی تحقیق پر آمادہ کیا اور عالمی فضائی رابطوں کو فروغ ملا۔ مجدانیک نازی کیمپ 22 جولائی 1944ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران سوویت فوجوں نے پولینڈ کے شہر لوبلن کے قریب واقع مجدانیک (Majdanek) نازی حراستی کیمپ کو آزاد کرایا۔ یہ پہلا بڑا نازی کیمپ تھا جو اتحادی افواج کے قبضے میں آیا اور جس کے ذریعے دنیا کو نازی جرائم کی ہولناک حقیقت کا براہِ راست ثبوت ملا۔کیمپ میں گیس چیمبرز، بھٹیاں، قیدیوں کا سامان اور دیگر شواہد تقریباً اصل حالت میں موجود تھے۔ یہاں ہزاروں افراد، خصوصاً یہودی، پولستانی، سوویت جنگی قیدی اور دیگر شہری قید رکھے گئے تھے اور بڑی تعداد میں قتل کیے گئے۔مجدانیک کی آزادی نے عالمی رائے عامہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

پلاسٹک کی سستی ری سائیکلنگ

پلاسٹک کی سستی ری سائیکلنگ

ماحول دوست مستقبل کی جانب پیش رفتدنیا بھر میں پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال ماحولیاتی آلودگی کے سب سے بڑے مسائل میں شمار ہوتا ہے۔ ہر سال کروڑوں ٹن پلاسٹک استعمال کے بعد کچرے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کا بڑا حصہ سمندروں، دریاؤں، جنگلات اور زمین میں جمع ہو کر ماحول، جنگلی حیات اور انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔ لیکن پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کے روایتی طریقے نہ صرف مہنگے ہیں بلکہ ان میں توانائی کا زیادہ استعمال اور مختلف کیمیائی مادوں کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ مگرایک نئی تحقیق نے امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے، جس میں صرف پانی، آکسیجن اور حرارت کی مدد سے پلاسٹک کو مفید کیمیائی مادوں میں تبدیل کرنے کا ایک سادہ، کم خرچ اور ماحول دوست طریقہ پیش کیا گیا ہے۔جدید تحقیق کیا بتاتی ہے؟ چین کی Zhejiang یونیورسٹی کے پروفیسر یونگ وانگ کی قیادت میں ماہرین کی ایک ٹیم نے ایسا طریقہ دریافت کیا ہے جس میں پلاسٹک کے فضلے کو پانی اور آکسیجن کی موجودگی میں مناسب درجہ حرارت پر مخصوص عمل سے گزار کر قیمتی نامیاتی مادوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ کار کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں مہنگے یا زہریلے کیمیائی مادے استعمال نہیں کیے جاتے جس سے اس عمل کی لاگت نمایاں طور پر کم ہو گی۔تحقیق کے دوران پولی ایتھائلین (PE)، پولی پروپلین (PP) اور استعمال شدہ ربڑ جیسے ایسے مواد کو بھی کامیابی سے ری سائیکل کیا گیا جن کی ری سائیکلنگ ماضی میں خاصی مشکل سمجھی جاتی تھی۔ یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پلاسٹک کی بڑی مقدار انہی اقسام پر مشتمل ہوتی ہے۔ری سائیکلنگ کے اس نئے طریقہ کار سے حاصل ہونے والے نامیاتی مادے مختلف صنعتوں میں خام مال کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ادویات سازی، خوراک میں استعمال ہونے والے اجزا، زرعی مصنوعات، صنعتی کیمیکلز اور ماحول دوست بائیوڈیگریڈیبل مواد کی تیاری میں بھی ان مرکبات کی خاص اہمیت ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اب پلاسٹک کو صرف فضلہ سمجھ کر تلف کرنے کے بجائے اسے دوبارہ کارآمد مصنوعات میں تبدیل کرنا ممکن اور نسبتاً آسان ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی صنعتی پیمانے پر کامیاب ہو جاتی ہے تو پلاسٹک کا کچرا ایک قیمتی معاشی وسیلہ بن سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس طریقے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ گندے یا مختلف اقسام کے ملے جلے پلاسٹک پر بھی مؤثر ثابت ہوا جبکہ روایتی ری سائیکلنگ میں پلاسٹک کی صفائی اور الگ الگ درجہ بندی پر کافی اخراجات آتے ہیں۔پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کی نئی امیداقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق ہر سال کروڑوں ٹن پلاسٹک ماحول میں شامل ہو جاتا ہے جس کا صرف ایک محدود حصہ ہی ری سائیکل ہو پاتا ہے۔ باقی کچرا لینڈ فل، دریاؤں اور سمندروں میں جمع ہو کر آبی حیات، پرندوں اور دیگر جانداروں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔اگر پانی اور آکسیجن پر مبنی یہ نئی ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر اختیار کر لی جاتی ہے تو نہ صرف پلاسٹک کے ڈھیروں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے بلکہ کاربن کے اخراج میں بھی کمی ممکن ہوگی۔ روایتی طریقوں کے مقابلے میں کم توانائی کا استعمال اس تحقیق کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی کوششوں میں بھی اہم بنا دیتا ہے۔یہ پیش رفت سرکلر اکانومی (Circular Economy) کے تصور کو بھی فروغ دے سکتی ہے جس کے تحت استعمال شدہ اشیا کو دوبارہ کارآمد مصنوعات میں تبدیل کر کے قدرتی وسائل پر دباؤ کم کیا جاتا ہے۔پاکستان کیلئے اہمیتہمارا ملک بھی پلاسٹک آلودگی کے شدید مسائل سے دوچار ہے۔ شہروں میں شاپنگ بیگز، پلاسٹک کی بوتلیں، پیکنگ میٹریل اور دیگر فضلہ نالوں کی بندش، شہری آلودگی اور سیلابی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ اگرچہ بعض شہروں میں سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی عائد کی جا چکی ہے لیکن اس پر مکمل عمل درآمد اب بھی ایک چیلنج ہے۔اگر مستقبل میں یہ نئی ری سائیکلنگ ٹیکنالوجی تجارتی سطح پر دستیاب ہو جائے تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے پلاسٹک کے فضلے کو معاشی وسائل میں تبدیل کرنے کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ماحول کو فائدہ ہوگا بلکہ ری سائیکلنگ کی صنعت میں سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور مقامی معیشت کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ عوامی شعور بیدار کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ شہری اگر پلاسٹک کے استعمال میں احتیاط کریں، غیر ضروری پلاسٹک سے گریز کریں اور استعمال شدہ پلاسٹک کو مناسب طریقے سے جمع کریں تو ری سائیکلنگ کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔بہرکیف پانی اور آکسیجن کی مدد سے پلاسٹک کو مفید کیمیائی مادوں میں تبدیل کرنے کی یہ نئی تحقیق ماحولیات کے شعبے میں ایک اہم سائنسی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کو صنعتی پیمانے پر مکمل طور پر نافذ ہونے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے لیکن ابتدائی نتائج نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید سائنس پلاسٹک آلودگی جیسے عالمی مسئلے کے لیے پائیدار اور کم خرچ حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجیز نہ صرف زمین کو صاف رکھنے میں مدد دیں گی بلکہ فضلے کو قیمتی وسائل میں تبدیل کر کے ماحول اور معیشت دونوں کے لیے نئے امکانات پیدا کریں گی۔

جنک فوڈ ڈے

جنک فوڈ ڈے

خوراک کا بدلتا رجحان ،صحت پر منفی اشراتہر سال 21 جولائی کو دنیا بھر میں جنک فوڈ ڈے (Junk Food Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد صرف جنک فوڈ کا ذکر کرنا نہیں بلکہ عوام خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کو اس کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا اور صحت مند غذا کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔جنک فوڈ کی اصطلاح ایسے کھانوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جن میں کیلوریز تو بہت زیادہ پائی جاتی ہیں لیکن غذائیت بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ 1950ء کی دہائی میں امریکہ میں مقبول ہونے والا یہ لفظ بڑے پیمانے پر ان کھانوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن میں شکر، چکنائی اور نمک کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔آج کے تیز رفتار دور میں برگر، پیزا، فرائز، کولڈ ڈرنکس، چپس اور دیگر فاسٹ فوڈ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں حالانکہ ان کا مسلسل استعمال کئی خطرناک بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔جنک فوڈ میں چکنائی، نمک، چینی اور کیلوریز کی مقدار بہت زیادہ جبکہ وٹامنز، فائبر اور معدنیات نہایت کم ہوتے ہیں۔ اس کا مسلسل استعمال جسم میں چربی بڑھاتا ہے، وزن میں اضافے کا سبب بنتا ہے اور قوتِ مدافعت کو کمزور کرتا ہے۔ بچوں میں جسمانی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے، دانت خراب ہوتے ہیں اور پڑھائی میں توجہ کم ہو جاتی ہے، جبکہ نوجوانوں میں تھکن، سستی، ذہنی دباؤ اور مختلف دائمی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔جنک فوڈ کا رجحانپاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران جنک فوڈ کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ شہروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے قصبوں میں بھی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس کی تعداد بڑھ رہی ہے اورنوجوان اپنے جیب خرچ کا بڑا حصہ فاسٹ فوڈ ریستورانوں میں کھانے پر خرچ کر رہے ہیں۔ جیسے جیسے ملک میں فاسٹ فوڈ کا کاروبار فروغ پا رہا ہے سکول کے بچے، کالج اور یونیورسٹی کے طلباکے ساتھ ساتھ نوجوان ملازمین بھی جنک فوڈ ریستورانوں میں لنچ کرنا پسند کرتے ہیں۔یہ ایک ایسی عادت ہے جس کا تعلق کبھی صرف بالائی متوسط طبقے یا اشرافیہ سے تھالیکن اب ایک نئی شہری ثقافت کا حصہ بن چکا ہے۔ نوجوانوں کی بدلتی ہوئی عادات کے ساتھ فاسٹ فوڈکے کاروبار میں بھی تیزی آئی ہے اورمتعدد بین الاقوامی فاسٹ فوڈ چینز بھی آچکی ہیں۔ یہ تبدیلی 1990ء کی دہائی کے آخر میں شروع ہوئی جب ہر طبقے کے لوگ خاص طور پر نوجوانوں میں فاسٹ فوڈ کے رجحان نے فروغ پایا۔حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا کے انقلاب نے اس رجحان میں مزید اضافہ کیا کیونکہ بہت سے سوشل میڈیا پروفائلز کو شیئر کرنے کے لیے ایسی تصویروں کی ضرورت ہوتی ہے جن میں انہیں اپنے دوستوں کے ساتھ گھومتے یا کھانا کھاتے دیکھا جا سکے۔ آن لائن فوڈ ڈیلیوری، سوشل میڈیا اشتہارات اور بدلتا ہوا طرزِ زندگی نوجوان نسل کو غیر صحت بخش غذا کی طرف راغب کر رہا ہے مگر اس کے نتیجے میں موٹاپا، ذیابیطس،ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو مستقبل میں صحت کے نظام پر مزید بوجھ ڈال سکتا ہے۔اس صورتحال میں والدین کو چاہیے کہ بچوں کو شروع ہی سے متوازن غذا کی عادت ڈالیں۔ گھر میں تازہ کھانا، پھل، سبزیاں، دودھ، دہی اور دالوں کا استعمال بڑھائیں اور فاسٹ فوڈ کو صرف کبھی کبھار تک محدود رکھیں۔ نوجوانوں کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ وقتی ذائقہ صحت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ باقاعدہ ورزش، مناسب نیند، پانی کا زیادہ استعمال اور صحت بخش خوراک ہی ایک توانا اور کامیاب زندگی کی ضمانت ہیں۔صحت مند پاکستان کی جانب ایک قدمحکومت، تعلیمی اداروں، میڈیا اور والدین کو مل کر جنک فوڈ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ سکولوں اور کالجوں میں غذائیت سے متعلق آگاہی پروگرام منعقد کیے جانے چاہئیں، کینٹینوں میں صحت بخش غذائیں فراہم کی جائیں اور عوام کو متوازن خوراک کی اہمیت سے روشناس کرایا جائے۔ صحت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے،اگر ہم اپنی خوراک کے بارے میں درست فیصلے کریں، جنک فوڈ کے استعمال کو محدود کریں اور صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں تو نہ صرف اپنی بلکہ آنے والی نسلوں کی صحت بھی محفوظ بنا سکتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

چاند پر پہلا قدم 21 جولائی 1969ء انسانی تاریخ کا ایک غیر معمولی دن تھا جب امریکی خلاباز نیل آرمسٹرانگ چاند کی سطح پر قدم رکھنے والے پہلے انسان بنے اور چند منٹ بعد بز ایلڈرِن بھی ان کے ساتھ چاند پر اترے۔ یہ کامیابی ناسا کے اپالو 11 مشن کا حصہ تھی، جس کا آغاز 16 جولائی کو ہوا تھا۔ مشن کے تیسرے رکن مائیکل کولنز کمانڈ ماڈیول میں چاند کے مدار میں موجود رہے۔ آرمسٹرانگ کے مشہور الفاظ ''یہ انسان کا ایک چھوٹا سا قدم لیکن انسانیت کے لیے ایک عظیم چھلانگ ہے‘‘ دنیا میں براہِ راست نشر ہوئے اور کروڑوں لوگوں نے یہ تاریخی لمحہ دیکھا۔ اس مشن کے دوران خلابازوں نے چاند سے چٹانوں کے نمونے جمع کیے، سائنسی آلات نصب کیے اور کئی تجربات انجام دیے۔ آرٹیمس کے مندر کی تباہی21 جولائی 356 قبل مسیح کو قدیم شہر ایفیسس (موجودہ ترکی) میں واقع مندرِ آرٹیمس کو آگ لگا کر تباہ کر دیا گیا۔ یہ مندر قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شمار ہوتا تھا اور یونانی دیوی آرٹیمس کے نام پر تعمیر کیا گیا تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق ایک شخص ہیروسٹریٹس نے صرف اپنی شہرت حاصل کرنے کی خواہش میں اس مندر کو آگ لگا دی۔ اس مندر کی تعمیر میں کئی دہائیاں صرف ہوئی تھیں اور یہ اپنے عظیم ستونوں، نفیس سنگِ مرمر اور شاندار فنِ تعمیر کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھا۔ آج اس مندر کے صرف کھنڈرات باقی ہیں لیکن آثارِ قدیمہ کے ماہرین اسے انسانی تاریخ کے عظیم تعمیراتی شاہکاروں میں شمار کرتے ہیں۔ کریٹ کا زلزلہ اور سونامی21 جولائی 365ء کو بحیرہ روم کے علاقے میں تاریخ کے طاقتور ترین زلزلوں میں سے ایک آیا جس کا مرکز یونانی جزیرہ کریٹ تھا۔ اس زلزلے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس نے ایک تباہ کن سونامی کو جنم دیا جس نے مصر، لیبیا اور بحیرہ روم کے دیگر ساحلی علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ قدیم شہر سکندریہ خاص طور پر بری طرح متاثر ہوا جہاں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور بندرگاہیں، عمارتیں اور بحری جہاز تباہ ہو گئے۔ مؤرخین کے مطابق سمندر کا پانی پہلے غیر معمولی طور پر پیچھے ہٹا اور پھر ایک دیو ہیکل لہر آئی جس نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس قدرتی آفت نے قدیم دنیا کی معیشت، تجارت اور آبادی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ سکوپس کا فیصلہ21 جولائی 1925ء کو امریکہ کی ریاست ٹینیسی میں مشہور سکوپس مقدمہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس مقدمے میں حیاتیات کے استاد جان ٹی سکوپس پر الزام تھا کہ انہوں نے ریاستی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طلبہ کو چارلس ڈارون کا نظریۂ ارتقا پڑھایا۔ عدالت نے انہیں قصوروار قرار دیتے ہوئے 100 ڈالر جرمانہ کیا، اگرچہ بعد میں یہ سزا قانونی بنیادوں پر ختم کر دی گئی۔ یہ مقدمہ سائنس،مذہب، تعلیم اور آزادی اظہار کے درمیان جاری بحث کی علامت بن گیا اور نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی اور جدید تعلیم میں سائنسی نظریات کی تدریس کے بارے میں اہم سوالات اٹھائے۔ آج بھی سکوپس مقدمے کو امریکی عدالتی اور تعلیمی تاریخ کا ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ جنیوا معاہدہ اور ویتنام کی تقسیم21 جولائی 1954ء کو جنیوا کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچی اور اس کے نتیجے میں وہ معاہدہ طے پایا جس کے تحت ویتنام کو عارضی طور پر شمالی ویتنام اور جنوبی ویتنام میں تقسیم کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ پہلی ہند۔چین جنگ کے خاتمے کے بعد کیا گیا جس میں فرانسیسی نوآبادیاتی حکومت کو شکست ہوئی تھی۔ اس تقسیم نے بعد میں ویتنام جنگ کی بنیاد رکھی جس میں امریکہ سمیت کئی عالمی طاقتیں کود پڑیں۔ اس جنگ نے لاکھوں افراد کی جانیں لیں اور بیسویں صدی کی اہم ترین بین الاقوامی جنگوں میں شمار ہوئی۔