بیروزگاری کا خاتمہ اور ٹیکنالوجی

بیروزگاری کا خاتمہ اور ٹیکنالوجی

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحئی


گذشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں معلومات اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے شعبے میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کچھ عرصے سے یہ مشاہدہ عام ہے کہ متعدد یونیورسٹیاں اور تربیتی ادارے طلباء کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی خصوصی تربیت کے پر کشش پیکج فراہم کر رہے ہیں ۔اسی اہمیت کے پیش نظر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑھتی مانگ کو پورا کرنے کیلئے آئی ٹی کے عالمی اداروں نے پاکستان میں اپنے خصوصی پروگرامز متعارف کروائے تاکہ پاکستانی عوام کو اس شعبے میں زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے ۔ پاکستانی عوام آئی سی ٹی سیکٹر میں تیزی سے ترقی کا سفر طے کر رہی ہے جسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ قوم جلد وہ مقام حاصل کر لے گی جو اسے درکار ہے فی الحال ابھی منزل دور ہے جس کیلئے سخت محنت کرنا ہو گی۔بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے عفریت اور مختلف دبائو کے باوجود معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں ۔ پاکستان کو اس وقت جس سب سے بڑے مسئلے کا سامنا ہے وہ ہے اس کی نوجوان نسل میں بڑھتی بے روزگاری ، ایک محتاط اندازے کے مطابق جب ہم نوجوان نسل کی طرف دیکھتے ہیں خصوصاً جن کی عمریں 30سال کے اندر اندر ہیں وہ کل آبادی کا دو تہائی حصہ ہیں اور بری طرح سے بے روزگاری کا شکار ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت کی ایک وجہ نوجوان نسل میں پائی جانیوالی بے روزگاری بھی ہے معاشرے کو اس ناسور سے پاک کرنے کیلئے اس کا جلد از جلد دیرپا اور پائیدار حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ بھوک ، افلاس سے تنگ پریشان حال نوجوان تیزی سے جرائم کی طرف راغب ہو رہے ہیں انہیں جرائم کے چنگل سے نجات دلانے کیلئے تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کی تعداد کو بڑھانا ہو گا ۔ یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ تعلیم یافتہ گریجویٹ نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں تھامے نوکریوں کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں اور انہیں نوکری نہیں ملتی ۔ بیروزگاری صرف گریجویٹ نوجوانوںکا مسئلہ نہیں المیہ تو یہ ہے کہ انجینئرز ، آئی ٹی سپیشلسٹس اور ایم اے پاس نوجوان بھی بہتر روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں ۔ یہاں ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ بے روزگاری قوم کو درپیش اہم مسائل میں سے ایک ہے ۔جہاں نوجوانوں کو یہ شکایت عام ہے کہ انہیں روزگار کے وہ مواقع میسر نہیں جتنے انہیں درکار ہیں وہیں دوسری جانب ادارے یہ گِلہ کرتے نظر آتے ہیں کہ عالمی معیار کا مقابلہ کرنے کیلئے انہیں مارکیٹ میں وہ وسائل دستیاب نہیں جن کی انہیں ضرورت ہے۔آئی ٹی کی سطح پر دیکھا جائے تو یہاں بھی قوم کو ایسے ہی مسائل درپیش ہیں ۔ اصل میںاس محاذ پرایک قوم کے طور پر مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کیلئے ہمارے پاس پیشہ ور آئی ٹی ماہرین کی کمی ہے۔ آئی ٹی پروفیشنلز وہ طاقت ہیں جن کے ذریعے عالمی معیار کا بہتر مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور بد قسمتی سے ہمارے پاس ان کی شدید قلت ہے ۔ ہمارے پاس عالمی مارکیٹ میں دستیاب ہنر مند وسائل نہیں ہیں۔ بھارت اس سلسلے میں ہم سے آگے ہے اور مشرقی یورپ کے ممالک کی طرح ہر گزرتے دن کیساتھ آئی ٹی آؤٹ سورسنگ کیلئے ایک بلاک کے طور پر ابھر رہا ہے ۔وقت کا تقاضاہے کہ اب ہم جلد یہ فیصلہ کر لیں کہ ہمیں روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرنی ہے؟ یا ہم زیادہ توجہ خصوصی پیشہ ور افراد بنانے پر مرکوز کرتے ہیں؟میری رائے میں ہمیں ان دونوں شعبوں پر بھرپور اور بیک وقت توجہ دینا ہو گی۔ ہمیں فوری طور پر تربیت یافتہ آئی ٹی ماہرین کو میدان میں اتارنا ہو گا تاکہ مارکیٹ میں نیا ٹیلنٹ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکے۔ ایسا ممکن ہو گیا تو کمپنیاں خود بخودروزگار کے دروازے کھولنے پر مجبور ہو جائیں گی اورملک میں نافذ لیبر قوانین نوجوانوںکو ان کے روزگار کے حقوق کی ضمانت بھی فراہم کر پائیں گے ۔ پاکستان میں دستیاب 3G اور 4G کی خدمات کے ساتھ، ہنر مند پاکستانی اب اپنی مصنوعات اور خدمات کی بدولت مقامی اور عالمی مارکیٹوں دونوں میںاپنے لئے نیا مقام تلاش کر سکتے ہیں ۔ پاکستان آئی سی ٹی کے شعبے میں تیز ی سے ترقی کر رہا ہے۔ اسی اہمیت کے پیش نظر بہت سی بین الاقوامی کمپنیاں اور ادارے اپنے بہترین اور جدید ترین آئی ٹی وسائل کیساتھ یہاں قدم جمانے میں مصروف عمل ہیں اور بیشتر کمپنیاں پاکستان کو اپنا نیا مسکن بنانا چاہتی ہیں ۔ پاکستان اس وقت آئی سی ٹی کی دنیا میں توجہ کا مرکز بن چکا ہے ۔ آئی ٹی کے میدان میں شاندار مستقبل پاکستانی نوجوانوںکا منتظر ہے جو انہیں بے روزگاری کی دلدل سے بھی نکال لے گا ۔مختلف کمپنیاں جیسے دنیا بھر میںاپنے آئی ٹی ماہرین کے ذریعے فاصلوں کو تیزی سے سمیٹتے ہوئے ترقی کی سفر پر رواں دواں ہیں بالکل اسی طرح لاہور ، کراچی، اسلام آباد ہی نہیں بلکہ ملتان ، پشاور، فیصل آباداور پاکستان کے دور دراز علاقے بھی ترقی کے ثمرات سے فیض یاب ہو سکتے ہیں ۔ جہاں تک روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا معاملہ ہے تو ان سے صرف وہی نوجوان فائدہ اٹھا سکیں گے جو اس قابل ہونگے کہ انہوں نے کس حد تک خود کو روزگار حاصل کرنے کے قابل بنایا ہے۔ صرف ہماری نوجوانوں کو درست سمت دکھانے کی ضرورت ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہماری یونیورسٹیاں بی اے اور ایم اے پاس نوجوانوں کی فوج تیار کرنے کی بجائے آئی ٹی کی بدلتی دنیا کا مقابلہ کرنے کیلئے ماہر نوجوان مارکیٹ میں لائیں تو حالات میں انقلابی تبدیلی آ جائیگی ۔روزگار کے فوری مواقع بھی پیدا ہونگے اور نوجوان نسل سے مایوسی اور جرائم دونوں کا بیک وقت خاتمہ بھی ممکن ہو سکے گا ۔ اچھے مواقع ایک مضبوط بنیاد فراہم کرنے کا باعث بنتے ہیں ۔ آئی ٹی کی با مقصد تعلیم ، با مقصد اور با عمل اداروںکے اشتراک سے ہم بین الاقوامی برادری میں پاکستانی قوم کو وہ مقام دلانے میں کامیاب ہو سکتے ہیںجو ہمارا حق ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
نیوجی مسجد

نیوجی مسجد

چین میں اسلام کی قدیم اور روشن علامتچین کا دارالحکومت بیجنگ صدیوں پرانی تہذیب، ثقافت اور تاریخ کا امین شہر ہے۔ اسی تاریخی شہر میں واقع نیوجی(niujie) مسجد چین کی قدیم ترین اور اہم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ یہ مسجد نہ صرف چینی مسلمانوں کیلئے ایک روحانی مرکز ہے بلکہ چین میں اسلام کی قدیم موجودگی اور ثقافتی ہم آہنگی کی ایک روشن مثال بھی ہے۔ اپنی منفرد تعمیر، تاریخی اہمیت اور مذہبی تقدس کی وجہ سے نیوجی مسجد کو چین میں اسلامی ورثے کی نمایاں علامت سمجھا جاتا ہے۔نیوجی مسجد کی تعمیر تقریباً ایک ہزار سال قبل 996ء میں عمل میں آئی۔ اس زمانے میں چین کے مختلف علاقوں میں مسلمان تاجروں اور مبلغین کی آمد و رفت جاری تھی، جس کے نتیجے میں اسلام یہاں پھیلتا گیا۔ بیجنگ میں آباد مسلمان تاجروں اور مقامی مسلمانوں کی عبادت کیلئے اس مسجد کی بنیاد رکھی گئی۔وقت کے ساتھ ساتھ مختلف چینی سلطنتوں کے ادوار میں اس مسجد کی مرمت اور توسیع ہوتی رہی۔ خصوصاً ''منگ ڈائنیسٹی‘‘(Ming Dynasty)اور چنگ ڈائنیسٹی (Qing Dynasty) کے زمانے میں اس مسجد کی عمارت کو مزید وسعت دی گئی اور اس کی تزئین و آرائش کی گئی۔ اس طرح نیوجی مسجد نہ صرف ایک عبادت گاہ بلکہ چین میں اسلام کی تاریخی یادگار بھی بن گئی۔بیجنگ میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ نیوجی مسجد ان مسلمانوں کیلئے نہ صرف عبادت کا مرکز ہے بلکہ ایک مذہبی، ثقافتی اور سماجی مرکز کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔یہاں باقاعدگی سے نمازِ جمعہ، عیدین کی نمازیں اور دیگر دینی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ رمضان المبارک کے دوران مسجد میں خصوصی عبادات اور افطار کے اجتماعات بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں اسلامی تعلیمات کی ترویج اور مذہبی رہنمائی کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔منفرد طرزِ تعمیراس مسجد کا کل رقبہ ڈیڑھ ایکڑ ہے جبکہ اندرونی رقبہ64600مربع فٹ ہے۔ اس میں ایک ہی وقت میں ایک ہزار افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔نیوجی مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا منفرد فن تعمیر ہے۔ بظاہر یہ مسجد ایک روایتی چینی عمارت کی طرح دکھائی دیتی ہے، کیونکہ اس کی تعمیر میں چینی طرزِ تعمیر کے اصولوں کو اختیار کیا گیا ہے۔ مسجد کی چھتیں خمیدہ انداز میں بنی ہوئی ہیں، لکڑی کی نفیس نقاشی اور سرخ ستون چینی فن تعمیر کی جھلک پیش کرتے ہیں۔تاہم اندر داخل ہونے پر اسلامی فن تعمیر کے نمایاں عناصر نظر آتے ہیں۔ مسجد کے اندرونی حصے میں عربی خطاطی، قرآنی آیات اور اسلامی نقش و نگار موجود ہیں۔ قبلہ کی سمت میں محراب نہایت خوبصورت انداز میں بنائی گئی ہے، جبکہ نماز کیلئے وسیع ہال بھی موجود ہے جہاں سینکڑوں نمازی بیک وقت عبادت کرسکتے ہیں۔ اس طرح یہ مسجد چینی اور اسلامی فن تعمیر کے حسین امتزاج کی مثال ہے۔ثقافتی اور سیاحتی اہمیتنیوجی مسجد مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ سیاحتی لحاظ سے بھی خاصی شہرت رکھتی ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے سیاح اس تاریخی مسجد کو دیکھنے اور اس کے منفرد فن تعمیر کا مشاہدہ کرنے کیلئے بیجنگ کا رخ کرتے ہیں۔ مسجد کے اطراف کا علاقہ بھی مسلمانوں کی ثقافت اور طرزِ زندگی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں حلال کھانوں کے ریستوران اور اسلامی مصنوعات کی دکانیں موجود ہیں۔یہ مسجد اس حقیقت کی علامت ہے کہ مختلف تہذیبیں اور مذاہب ایک ہی معاشرے میں باہمی احترام اور ہم آہنگی کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ چینی طرزِ تعمیر اور اسلامی روحانیت کا امتزاج اس مسجد کو دنیا کی منفرد مساجد میں شامل کرتا ہے۔نیوجی مسجد بیجنگ نہ صرف چین کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے بلکہ اسلام کے عالمی تاریخی ورثے کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔ تقریباً ایک ہزار سال سے یہ مسجد مسلمانوں کی عبادت، روحانیت اور اجتماعیت کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس کی تاریخی عظمت اور فن تعمیر کی خوبصورتی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اسلام نے دنیا کے مختلف خطوں میں اپنی اقدار اور ثقافت کے ساتھ مقامی تہذیبوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی ہے۔

عباس ابن فرناس

عباس ابن فرناس

عظیم مسلم سائنسدان جس نے انسانی پرواز کا تجربہ کیاابوالقاسم عباس ابن فرناس نویں صدی عیسوی کے مسلم سپین سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ پہلا شخص تھا جس نے انسانی پرواز کا تجربہ کیا، وہ دور جب انسانی پرواز کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ عباس ابن فرناس نے اس زمانے میں اڑنے کی کوشش کی۔ اس نے اڑنے کیلئے ایک غلاف تیار کیا جس میں پراور متحرک بازو لگے ہوئے تھے۔ عباس ابن فرناس نے اپنے تیار کردہ پروں والے اس غلاف کی مدد سے خود اڑنے کا خطرہ مول لیا اور مصنوعی پروں کے ساتھ ایک بلند چٹان سے کود پڑا۔ تھوڑی دیر ہوا میں رہنے کے بعد وہ نیچے اترنے لگا تو سنبھل نہ سکا اور زخمی ہو گیا۔ پرواز میں اترتے ہوئے ابن فرناس کی ناکامی کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس نے پرندوں کی اڑان کا مطالعہ کرتے وقت اس چیز پر غور نہیں کیا کہ وہ نیچے آتے ہوئے اپنی دم سے بھی مدد لیتے ہیں۔عباس ابن فرناس کے حالات زندگی کے متعلق کوئی تاریخی مواد نہیں ملتا۔ اس کے بارے میں صرف یہی معلومات میسر ہیں کہ وہ بربرالاصل اور بنو امیہ کا آزاد کردہ غلام تھا اور رندہ(Ronda)کے علاقے کا رہنے والا تھا۔ بلور بھی اسی کی ایجاد ہے۔ اس نے ایک میقات (گھڑی) اور چوڑی وار گولا'' کرۂ فلکی‘‘ بھی ایجاد کیا۔ ابو القاسم عباس ابن فرناس اندلس کا شاعر، ادیب تھا۔ وہ اموی امراء قرطبہ، الحکم الاول، عبدالرحمن ثانی اور محمد اول کے دربار سے وابستہ رہا اور اپنی قصیدہ گوئی کی بدولت متواتر تین بادشاہوں کے عہد حکومت میں دربار سے منسلک رہا۔نویں صدی کے آخری عشروں میں قرطبہ میں وہ تنہا شخص تھا جو خلیل بن احمد کی کتاب کے مضامین کی تشریح کر سکتا تھا۔ اس نے 887ء میں وفات پائی۔

رمضان کے پکوان

رمضان کے پکوان

اریبین رائساجزاء: چاول آدھا کلو، شملہ مرچ دو عدد، چکن پیس ایک کپ،نمک ایک چائے کا چمچ، چکن پاؤڈر ایک کھانے کا چمچ،سفید مرچ ایک چائے کا چمچ، سرکہ چار کھانے کے چمچ،پیلا رنگ، کشمش ایک چوتھائی کپ۔ترکیب:چاول ابال لیں۔اب ایک پین میں چار کھانے کے چمچ آئل لیں اور اس میں شملہ مرچ ،ابلی ہوئی چکن پیس، نمک اور چکن پاؤڈر سفید مرچ سرکہ کشمش ڈال کر فرائی کریں اور پھر ابلے ہوئی چاول ڈال کر مکس کریں اور پیلا رنگ ڈال کر پانچ منٹ دم دیں۔عربی بریڈ پڈنگ اجزاء :ڈبل روٹی کے توس چھ عدد (چاروں طرف کے کنارے کاٹ لیں)۔سوکھی خوبانی ایک پیالی( گٹھلی نکال کر باریک باریک کاٹ لیں)، سنگترے کے چھلکے چار عدد ( سفید والا حصہ نکال کر باریک کاٹ لیں )،کنڈینس ملک ایک ٹن۔ کارن فلور ایک چائے کا چمچ،بادام دس عدد (باریک کاٹ لیں)۔ تلنے کیلئے کوکنگ آئل۔ ترکیب: سب سے پہلے ایک فرائنگ پین میں کوکنگ آئل گرم کریں۔ توس گولڈن برائون تل کر نکال لیں۔ ایک اخبار پر پھیلا دیں تاکہ چکنائی جذب ہو جائے۔ ایک الگ فرائنگ پین لیں۔ دودھ ڈال کر ذرا پکالیں اور کارن فلور ملاکر گاڑھا گاڑھا کرلیں۔ پھر سے ایک فرائنگ پین لے لیں اس میں چینی پگھلا کر خوبانی کے ٹکڑے ، سنگترے کے چھلکے اور بادام ڈال کر پکالیں۔ چینی جب شیرا بن جائے تو اتارلیں۔ تلے ہوئے توس کے اوپر سب سے پہلے اچھی طرح گاڑھا کیا ہوا دودھ لگا لیں پھر تینوں چیزیں لگاکر ایک ڈش میں رکھتے جائیں۔ چاہیں تو ٹھنڈا پیش کریں یا گرم گرم پیش کریں۔ دونوں طرح سے مزے دار لگیں گے۔ یہ ڈش پانچ افراد کیلئے کافی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

جوہری ہتھیار بردارامریکی طیارہ حادثے کا شکار14فروری 1961ء میں امریکی فضائیہ کا ایک بمبار طیارہ بی 52 جو جوہری ہتھیار لے کر پرواز کر رہا تھا، امریکی ریاست کیلیفورنیا میں حادثے کا شکار ہو گیا۔ یہ طیارہ معمول کی فوجی پرواز کر رہا تھا کہ اچانک فنی خرابی کے باعث زمین پر گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے کے نتیجے میں طیارے میں موجود عملے کو شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ چونکہ طیارہ جوہری ہتھیار لے جا رہا تھا، اس لیے اس واقعے نے امریکی حکام میں شدید تشویش پیدا کر دی۔ خوش قسمتی سے جوہری ہتھیار محفوظ رہے اور کسی بڑے ایٹمی حادثے سے ملک محفوظ رہا۔10ہزار کلوگرام کا بمدوسری عالمی جنگ کے اختتام کے قریب14مارچ1945ء کو RAFکی جانب سے جرمن اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے ایک بم کا استعمال کیا گیا جسے ''گرینڈ سلام‘‘ (Grand Slam)کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ جرمنی کے خلاف استعمال ہونے والے اس بم کا وزن تقریبا10ہزار کلو گرام تھا۔ابتدائی طور پر اس بم کا نام''Tallboy Large‘‘ رکھا گیا تھا لیکن میڈیا میں اس بم کے متعلق خبریں آنے کے بعد اس کا خفیہ نام تبدیل کر کے Grand Slamرکھ دیا گیا۔اس بم کی صلاحیت اس قدر زیادہ تھی کہ اس کے پھٹنے سے ایک زلزلے جیسی کیفیت پیدا ہوگئی۔میانمار میں قتل عام14 مارچ 2021 ء کو ''ہلائینگتھایا‘‘ ٹاؤن شپ ینگون، میانمار میں عام شہریوں کا قتل عام تھا۔ اس قتل عام کے دوران، میانمار کی فوج کے دستوں اور میانمار پولیس فورس کے اہلکاروں نے کم از کم 65 افراد کو ہلاک کیا۔ یہ قتل عام 2021ء میں میانمار کی بغاوت کے بعد رونما ہونے والے سب سے مہلک واقعات میں سے ایک تھا۔ اس واقعہ نے شہریوں کے خلاف فوج کے تشدد میں سنگین اضافہ کیا۔ پرتشدد کریک ڈاؤن نے ملک کے ایک بڑے تجارتی مرکزہلائینگتھایا سے فیکٹری ورکرز، رہائشیوں اور کاروباری افراد کو بڑے پیمانے پر نقل مکانی کرنے پر مجبور کردیا۔ٹراپیکل طوفانشدید ٹراپیکل طوفان کو افریقہ اور نصف جنوبی کرہ کو متاثر کرنے والے نہایت بدترین طوفانوں میں شمار کیا جاتاہے۔طویل عرصہ تک جاری رہنے والے اس تباہ کن طوفان نے موزمبیق، زمبابوے اور ملاوی میں شدید نقصان پہنچایا لیکن اس کی شدت میں اضافہ14مارچ2019ء ہوا۔طوفان کی وجہ سے 1500سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور صورتحال ایک انسانی بحران میں تبدیل ہو گئی۔یہ جنوب مغربی بحرہ ہند میں ریکارڈ کیا گیا سب سے مہلک ٹراپیکل طوفان تھا۔اس خوفناک طوفان میں جتنے افراد ہلاک ہوئے ان سے کہیں زیادہ لوگ لاپتہ ہو گئے۔سٹرلنگ ایئر لائن حادثہ 1972ء میں آج ہی کے دن سٹرلنگ ائیر لائن کا طیارہ دبئی کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ فلائٹ296نے کولمبو سے اڑان بھری، ممبئی، دبئی اورانقرہ سے ہوتے ہوئے کوپن ہیگن پہنچنا تھا لیکن دبئی کے قریب بدقسمتی سے حادثے کا شکار ہو گئی۔جہاز میں موجود 112 مسافر حادثے میں لقمۂ اجل بنے۔ تحقیقات میں یہ بتایا گیا کہ یہ خوفناک حادثہ جہاز کے پائلٹ کی غلطی کی وجہ سے پیش آیا۔اس حادثے کو ایوی ایشن اور متحدہ عرب امارات کی تاریخ کا بد ترین حادثہ قرار دیا جاتا ہے۔

چنیوٹ کی شاھی مسجد

چنیوٹ کی شاھی مسجد

شاہ جہاں کے عہد کی یادگارچنیوٹ شہر اپنی تاریخی عمارتوں، لکڑی کے نفیس کام اور قدیم طرزِ تعمیر کی وجہ سے برصغیر میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ دریائے چناب کے کنارے آباد اس شہر میں مغلیہ دور کی کئی یادگاریں موجود ہیں مگر ان میں سب سے نمایاں اور اہم عمارت چنیوٹ کی شاہی مسجد ہے۔چنیوٹ کی شاہی مسجد کی تعمیر سترہویں صدی میں مغل شہنشاہ شاہ جہاں کے دورِ حکومت میں ہوئی۔ اس مسجد کی نسبت مغل دربار کے طاقتور وزیرِاعظم سعد اللہ خان (1595ء تا 1655ء ) سے کی جاتی ہے۔ تاریخی شواہد کے مطابق مسجد کی تعمیر کا آغاز 1646ء میں ہوا اور یہ تقریباً 1655ء تک مکمل ہوئی۔ اس دور میں مغل سلطنت اپنے عروج پر تھی اور فنِ تعمیر میں خوبصورتی، توازن اور شان و شوکت کو خاص اہمیت دی جاتی تھی۔ یہی خصوصیات اس مسجد میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہیں۔سعد اللہ خان چنیوٹ کے رہنے والے تھے اور مغل دربار میں ان کا شمار انتہائی بااثر شخصیات میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنے آبائی شہر کی ترقی اور مذہبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عظیم الشان مسجد کی تعمیر کروائی۔ اس طرح یہ مسجد نہ صرف عبادت گاہ بلکہ ایک فلاحی اور سماجی مرکز کے طور پر بھی قائم کی گئی۔چنیوٹ کی شاہی مسجد شہر کے وسط میں واقع ہے اور قدیم بازاروں کے درمیان بلند مقام پر واقع ہے۔ مسجد کا مقام اس طرح منتخب کیا گیا تھا کہ یہ شہر کی مذہبی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بن سکے۔مسجد کے اردگرد تاریخی بازار موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس علاقے میں صدیوں سے تجارتی سرگرمیاں جاری رہی ہیں۔ مغل دور میں مذہبی عمارتوں کو اکثر ایسے مقامات پر تعمیر کیا جاتا تھا جہاں لوگ آسانی سے جمع ہو سکیں، چنیوٹ کی شاہی مسجد بھی اسی روایت کی عکاسی کرتی ہے۔فنِ تعمیر کی نمایاں خصوصیاتچنیوٹ کی شاہی مسجد کا فنِ تعمیر مغل طرزِ تعمیر کی بہترین مثال ہے۔ مسجد کی مجموعی ساخت مغل دور میں رائج سات محرابی یا سات خانے (Seven Bay) طرز پر مبنی ہے۔ اس طرز میں مرکزی عبادت گاہ کے سامنے محرابوں کی ایک قطار ہوتی ہے جو عمارت کو متوازن اور خوبصورت بناتی ہے۔مسجد کے مرکز میں ایک کشادہ صحن ہے۔ مغل مساجد میں کشادہ صحن ایک اہم عنصر ہوتا تھا کیونکہ جمعہ اور عیدین کے اجتماعات میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے تھے۔صحن کے چاروں طرف محرابی برآمدے بنائے گئے ہیں جو نہ صرف سایہ فراہم کرتے ہیں بلکہ عمارت کو ایک خاص جمالیاتی حسن بھی دیتے ہیں۔ ان برآمدوں کی محرابیں مغل فنِ تعمیر کی روایتی سادگی اور وقار کی نمائندگی کرتی ہیں۔اس مسجد کی ایک اہم خصوصیت اس کا بلند چبوترہ ہے۔ اس بلند بنیاد کے اندر دکانیں بنائی گئی ہیں۔ دکانوں کا مقصد مسجد کے اخراجات کے لیے مستقل آمدنی کا ذریعہ فراہم کرنا تھا۔ اس طرح مسجد نہ صرف ایک عبادت گاہ بلکہ ایک خود کفیل ادارہ بھی تھی۔ مغل دور میں مذہبی عمارتوں کے ساتھ ایسی معاشی سرگرمیوں کا انتظام عام تھا تاکہ ان کی دیکھ بھال اور مرمت کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ستونوں کا منفرد استعمالچنیوٹ کی شاہی مسجد کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ محرابِ قبلہ کے سامنے بنے برآمدوں کو سہارا دینے کے لیے ستونوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ مغل مساجد میں عام طور پر دیواروں اور محرابوں کے ذریعے چھت کو سہارا دیا جاتا تھا لیکن اس مسجد میں ستونوں کا استعمال نسبتاً غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔ماہرینِ فنِ تعمیر کے مطابق اس طرز کی ایک مثال لاہور کے قلعہ میں موجود موتی مسجد میں بھی ملتی ہے جو شاہ جہاں کے دور ہی میں تعمیر ہوئی تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں معمار مختلف تجربات کے ذریعے عمارتوں میں نئے انداز متعارف کروا رہے تھے۔سادگی اور وقار کا امتزاجچنیوٹ کی شاہی مسجد کا ڈیزائن اگرچہ شاندار ہے لیکن اس میں غیر ضروری تزئین و آرائش کم نظر آتی ہے۔ یہ سادگی مغل فنِ تعمیر کے اس رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس میں حسن اور توازن کو نمایاں رکھا جاتا تھا۔مسجد کی محرابیں، گنبد اور برآمدے نہایت متناسب انداز میں بنائے گئے ہیں۔ اینٹوں اور چونے کے استعمال سے بنائی گئی یہ عمارت آج بھی اپنی مضبوطی اور خوبصورتی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ وقت گزرنے کے باوجود اس کی اصل ساخت بڑی حد تک محفوظ ہے۔تاریخی اور ثقافتی اہمیتچنیوٹ کی شاہی مسجد صرف ایک مذہبی عمارت نہیں بلکہ ایک تاریخی دستاویز بھی ہے جو مغل دور کی تہذیب، مذہبی زندگی اور شہری منصوبہ بندی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ مسجد صدیوں سے شہر کے لوگوں کے لیے عبادت، تعلیم اور سماجی رابطے کا مرکز رہی ہے۔ اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مغل دور میں مقامی اشرافیہ اور درباری شخصیات اپنے آبائی علاقوں میں عوامی فلاح کے منصوبے شروع کرتی تھیں۔ سعد اللہ خان کی جانب سے اس مسجد کی تعمیر اسی روایت کی ایک نمایاں مثال ہے۔آج بھی چنیوٹ کی شاہی مسجد شہر کی اہم تاریخی یادگاروں میں شمار ہوتی ہے۔ مقامی لوگ اسے عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں جبکہ تاریخ اور فنِ تعمیر سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے یہ ایک اہم مقام ہے۔اگر اس مسجد کی مناسب دیکھ بھال اور تاریخی حیثیت کے مطابق تحفظ کیا جائے تو یہ نہ صرف پاکستان کے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

رمضان کےمشروب و پکوان

رمضان کےمشروب و پکوان

ڈھاکہ چکن اجزاء:چکن: 500 گرام ،دہی: آدھا کپ ادرک لہسن پیسٹ: 1 کھانے کا چمچ،لال مرچ پاؤڈر: 1 چائے کا چمچ،ہلدی: آدھا چائے کا چمچ،نمک: حسبِ ذائقہ،گرم مصالحہ: آدھا چائے کا چمچ،لیموں کا رس: 1 کھانے کا چمچ،بیسن: 2 کھانے کے چمچ،انڈا: 1 عدد،ہری مرچ: 2 باریک کٹی ہوئی،تیل: تلنے کے لیےترکیب:چکن کو اچھی طرح دھو کر ایک برتن میں رکھیں۔اس میں دہی، ادرک لہسن پیسٹ، لال مرچ، ہلدی، نمک، گرم مصالحہ اور لیموں کا رس شامل کریں۔پھر بیسن اور انڈا ڈال کر اچھی طرح مکس کریں تاکہ چکن پر اچھی کوٹنگ ہو جائے۔آخر میں ہری مرچ ڈال دیں اور 30 منٹ کے لیے میرینیٹ ہونے دیں۔کڑاہی میں تیل گرم کریں اور چکن کو درمیانی آنچ پر سنہری ہونے تک فرائی کریں۔گرم گرم چٹنی اور سلاد کے ساتھ پیش کریں۔شاہی ٹکڑےاجزاء :ڈبل روٹی کے سلائس: 6،دودھ: 1 لیٹر،چینی: آدھا کپ،گھی یا تیل: فرائی کرنے کے لیے،الائچی پاؤڈر: آدھا چائے کا چمچ،بادام، پستہ: سجاوٹ کے لیے،کیوڑہ یا گلاب جل: چند قطرے (اختیاری)ترکیب: ڈبل روٹی کے سلائس کو تکون شکل میں کاٹ کر گھی میں سنہری ہونے تک تل لیں۔ایک پتیلی میں دودھ ابالیں اور اس میں چینی اور الائچی ڈال دیں۔دودھ کو تھوڑا گاڑھا ہونے تک پکائیں۔تلی ہوئی بریڈ کو ایک ڈش میں رکھ کر اوپر سے گاڑھا دودھ ڈال دیں۔بادام اور پستے سے سجا کر ٹھنڈا کر لیں۔