ڈیمینشیا، دل کے دورے، فالج اور کینسر کے خطرے کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیتایک خراب رات کی نیند کا مطلب صرف اگلے دن تھکن اور آنکھوں کی سْستی نہیں ہے، بلکہ یہ مستقبل میں آنے والی بعض بیماریوں کے بارے میں بھی اشارے دے سکتی ہے۔ جدید سائنس نے نیند کے رازوں کو سمجھنے میں ایک نیا انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ایک ایسا پروگرام تیار کیا گیا ہے جو صرف ایک رات کی نیند کے ڈیٹا کی بنیاد پر آپ کے ڈیمینشیا، دل کے دورے، فالج اور کینسر کے خطرے کی پیش گوئی کر سکتا ہے، وہ بھی تشخیص سے سالوں قبل۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق، یہ ماڈل نیند کے دوران دماغی لہروں، دل کی دھڑکن، سانس اور دیگر حیاتیاتی عوامل کا تجزیہ کر کے مستقبل کی ممکنہ بیماریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔سائنسدانوں نے ایک نیا مصنوعی ذہانت (AI) پروگرام تیار کیا ہے جو صرف ایک رات کی نیند کے ڈیٹا کی بنیاد پر ڈیمینشیا، دل کے دورے، فالج اور کینسر کے خطرے کی پیش گوئی کر سکتا ہے ۔اس ماڈل کو ''سلیپ ایف ایم‘‘ (SleepFM) کا نام دیا گیا ہے اور اسے 65ہزار شرکاء کے 5لاکھ 85ہزارگھنٹوں کے نیند کے ڈیٹا پر تربیت دی گئی ہے۔یہ ڈیٹا پولیسومنوگرافی (polysomnography) نامی نیند کے جائزے سے حاصل کیا گیا، جو دماغی لہروں، آنکھوں کی حرکت، پٹھوں کی سرگرمی، دل کی دھڑکن، سانس لینے اور آکسیجن کی سطح کو ریکارڈ کرتا ہے۔اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم نے پولیسومنوگرافی کے ڈیٹا کا موازنہ الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز سے کیا، جن میں سے کچھ 25 سال پر محیط تھے۔انہوں نے دریافت کیا کہ 130 مختلف بیماریوں کا اندازہ مریض کے نیند کے ڈیٹا کی بنیاد پر معقول درستگی کے ساتھ لگایا جا سکتا ہے۔ماڈل کی پیش گوئیاں خاص طور پر کینسر، حمل کے دوران پیچیدگیاں، گردش خون کی بیماریاں اور ذہنی عوارض کیلئے درست ثابت ہوئیں۔مصنف جیمز زو(James Zou) کے مطابق ''سلیپ ایف ایم‘‘ بنیادی طور پر نیند کی زبان سیکھ رہا ہے۔ ہمیں خوشی ہوئی کہ مختلف بیماریوں کیلئے یہ ماڈل معلوماتی اور کارآمد پیش گوئیاں کر سکتا ہے۔یہ پروگرام ہر بیماری کے زمرے کیلئے ایک عددی قدر دیتا ہے جو ''سی انڈکس‘‘ (C-index ) کہلاتا ہے۔ڈاکٹر زو کے مطابق تمام ممکنہ افراد کے جوڑوں کیلئے، ماڈل یہ درجہ بندی کرتا ہے کہ کون کس مرض کا پہلے شکار ہو گا۔''سلیپ ایف ایم‘‘ کو پارکنسن کی بیماری کی پیش گوئی میں 89 فیصد درست، ڈیمینشیا میں 85 فیصد درست اور دل کے دورے میں 81 فیصد درست پایا گیاہے۔ یہ ماڈل چھاتی اور پروسٹیٹ کینسر کی پیش گوئی میں بالترتیب 87 اور 89 فیصد درست نکلا، اور موت کے خطرے کی پیش گوئی میں بھی 84 فیصد درستگی حاصل کی گئی۔اگرچہ موجودہ نیند کے مطالعات میں خصوصی طبی آلات کی ضرورت ہوتی ہے، ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ مستقبل میں پولیسومنوگرافی ایک طاقتور ابتدائی تشخیص کا آلہ بن سکتی ہے۔ ٹیم نے یہ بھی دریافت کیا کہ اگرچہ دل کی علامات گردش خون کی بیماریوں کیلئے سب سے زیادہ معلوماتی تھیں، دماغی سرگرمی کے سگنلز ذہنی اور عصبی حالات کیلئے بہتر تھے اور سانس کے سگنلز تنفسی عوارض کی پیش گوئی میں زیادہ معاون ثابت ہوئے۔ تاہم، بہترین مجموعی نتائج وہی آئے جو تمام اقسام کے سگنلز کو ملا کر استعمال کیے گئے۔ڈاکٹر زو نے کہاکہ اس تحقیق میں ہماری تکنیکی پیش رفت یہ ہے کہ ہم نے مختلف ڈیٹا ماڈالٹیز ( data modalities )کو ہم آہنگ کرنا سیکھا تاکہ یہ سب ایک زبان سیکھ کر ایک ساتھ کام کر سکیں۔ہم مصنوعی ذہانت (AI) کی پیش گوئیوں کو مزید بہتر بنانے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں، ممکن ہے کہ اس میں ویئر ایبل آلات جیسے ایپل واچ کا ڈیٹا بھی شامل کیا جائے۔جریدے Nature Medicine میں لکھتے ہوئے محققین نے کہا کہ نیند ایک بنیادی حیاتیاتی عمل ہے جس کے جسمانی اور ذہنی صحت پر وسیع اثرات ہیں، تاہم بیماریوں کے ساتھ اس کے پیچیدہ تعلق کو ابھی تک پوری طرح نہیں سمجھا جا سکا۔ایک رات کی نیند کے ڈیٹا سے ''سلیپ ایف ایم‘‘130 مختلف حالتوں کی درست پیش گوئی کرتا ہے، جس کا ''سی انڈکس‘‘ کم از کم 0.75 ہے۔یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ فاؤنڈیشن ماڈلز ملٹی ماڈل نیند کے ریکارڈنگز سے نیند کی زبان سیکھ سکتے ہیں، جو بڑے پیمانے پر، کم لیبل والے تجزیے اور بیماری کی پیش گوئی کو ممکن بناتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی نہ صرف بیماریوں کی بروقت شناخت ممکن بناتی ہے بلکہ علاج اور احتیاطی تدابیر کے نئے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔