نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:قانون کےتحت تعلیمی اداروں میں بچوں کوسزادیناجرم ہے
  • بریکنگ :- کراچی:وزیراعلیٰ سندھ کی صدارت میں کابینہ کااجلاس
  • بریکنگ :- کابینہ نےڈرافٹ پنشمنٹ ایکٹ رولز 2016 منظورکرلیا

دو حیران کن کتابیں

آپ نے ایسے سپاہی کے بارے میں کم ہی سنا ہوگا جس کے ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں قلم و قرطاس ہو۔ ایسا سپاہی جو پہلے تاریخ رقم کرتا ہے اور پھر اسے قلم بند کرتا ہے۔ اس سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ سپاہی‘ مصنف فتوحات نویسی سے آگے بڑھ کر اپنے چشم دید مشاہدات کو تحقیق کے ترازو پر تولتا اور پھر اپنے تجزیوں اور نتائج کو عالمی معیار پر یوں مرتب کرتا ہے کہ ایک طرف اُس کی کتاب ''مستقبل کا تحفظ‘‘ ایک تحقیقی دستاویز اور دوسری طرف دہشتگردی سے مکمل نجات کیلئے ایک گائیڈ بک بن جاتی ہے۔ یہ کارنامہ حاضر سروس بریگیڈیئر عمر ستار نے انجام دیا ہے جو افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحدوں پر دہشتگردوں کے خلاف ایک سپاہی اور کمانڈر کی حیثیت سے کئی معرکوں میں بنفس نفیس شرکت کرچکے ہیں۔ بریگیڈیئر صاحب نے ان علاقوں میں محض دہشتگردی کے خاتمہ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ دہشتگردی کے اسباب و علل کا بنظرِ عمیق جائزہ بھی لیا ہے۔ انہوں نے دہشتگردی سے چھٹکارے کیلئے زبردست حکمتِ عملی بھی تفصیل سے پیش کی ہے۔بریگیڈیئر عمر ستار نے مصر کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے کئی سال کی محنت شاقہ کے بعد ''مستقبل کے تحفظ اور دہشتگردی کا خاتمہ‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی۔ ہشتگردی کیخلاف بریگیڈیئر صاحب کی عملی جدوجہد کے نتائج نے اُن کے تحقیقی کارنامے کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ بالعموم پی ایچ ڈی کی سطح کے تحقیقی کام نظری نوعیت کے ہوتے ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان تحقیقی سفارشات کا عملی میدان میں امتحان ہی اُنہیں درست یا غلط ثابت کرتا ہے۔ انہوں نے دہشتگردی کے خلاف عملی میدان میں حاصل ہونے والی کامیابی کی بنیاد پر پہلے اصول و قواعد مرتب کیے اور پھر انہیں تحقیقی سانچے میں ڈھال کر دنیا سے شیئر کیا۔
ڈاکٹر بریگیڈیئر عمر ستار نے دہشتگردی کی لعنت سے فری ملکوں کی مثال سے ثابت کیا ہے کہ اگر کوئی ملک اس بات کا اہتمام کرلے کہ دہشتگردوں کو کسی طرح کی بھی کوئی مادی، مالی اور سماجی امداد نہیں ملے گی تو اس ملک میں دہشتگردی کے امکانات تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔ مصنف نے اپنی کتاب میں دہشتگردی کی علامات کا قلع قمع کرنے کو ناکافی قرار دیا ہے۔ انہوں نے نہایت دقت نظر سے اُن اسباب کا جائزہ بھی لیا جو ہر دہشتگردی کی تہہ میں موجود ہوتے ہیں۔ ان اسباب میں سب سے پہلے بے بسی آتی ہے، پھر مایوسی، اس کے بعد جذبۂ انتقام اور چوتھا سبب پریشاں حالی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کو یہ پیغام دیا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل سدباب کیلئے درج بالا اسباب کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔
مصنف نے اپنی کتاب میں وہ کارنامہ بھی کر دکھایا ہے جس سے ہر محقق اور مدبر کنی کترا جاتا اور پہلو بچا جاتا ہے۔ بریگیڈیئر صاحب نے دہشتگردی کی ایک جامع تعریف وضع کردی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اپنے انفرادی یا کسی جتھے کے مقاصد کی تکمیل کیلئے طاقت کا استعمال دہشتگردی کی ذیل میں آتا ہے جیسے اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری یا دوسروں پر اپنے خیالات کا بزورِ شمشیر نفاذ وغیرہ؛ تاہم بریگیڈیئر صاحب کی تحقیقی تھیوری کے مطابق اگر کسی علاقے کی پچاس فیصد سے زیادہ آبادی مجبوراً اپنی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کرتی ہے تو یہ دہشتگردی نہیں، حریت پسندی کہلائے گی۔ اس سلسلے میں کشمیر اور فلسطین کی مثال دنیا کے سامنے ہے۔ یو این او نے بھی کشمیریوں کو حق خودارادی دیا ہے مگر اس پر ابھی یہ عالمی ادارہ عملدرآمد نہیں کروا سکا‘ اس لیے بیچارے کشمیری ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔
بریگیڈیئر صاحب کی کتاب مستقبل کا تحفظ بزبان انگریزی ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات، اساتذہ کرام، دانشوروں اور اخبار نویس خواتین و حضرات کے لیے نہ صرف ناگزیر ہے بلکہ بے حد دلچسپی کا باعث ہوگا۔ ہم فاضل مصنف سے گزارش کریں گے کہ وہ زیادہ سے زیادہ قارئین تک اپنی حیران کن تصنیف پہنچانے کیلئے اُسے قومی زبان اردو میں پیش کرنے کا بھی اہتمام کریں۔
دوسری دلچسپ کتاب ''سقراط کا دیس‘‘ ہے۔ یہ ڈاکٹر زاہد منیر عامر کا ایک اور سفرنامہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا ذوقِ جہاں بینی اس سے پہلے کئی ملکوں کی سیاحت سے مستفید ہوچکا ہے۔ وہ جس دیس جاتے ہیں‘ وہاں کی ایسی منظرکشی کرتے ہیں کہ دل چاہتا ہے کہ آدمی اُڑ کر وہاں پہنچ جائے۔ اس حوالے سے وہ اکثر کئی نئی اور پرانی دنیائوں کو تسخیر کرنے پر عازم سفر رہتے ہیں۔ وہ اردو زبان و ادب کے مستند عالم، ماہر لسانیات اور استاد ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی میں کئی اہم عہدوں پر کام کر چکے ہیں بلکہ ابھی تک کررہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بیرونِ وطن بھی اردو اور پاکستانی تہذیب و ثقافت کے سفیر کی حیثیت سے اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
مجھے یورپ کے بہت سے اہم ملکوں کی سیاحت کا موقع مل چکا ہے۔ یورپی تہذیب کے انگلستان و فرانس اور اٹلی جیسے مراکز میں خاصا طویل قیام بھی رہا مگر دل میں ایک حسرت باقی رہ گئی کہ کاش مغربی تہذیب و ثقافت کے بانی یونان کے مراکزِ علم و دانش کو تاریخ کے دریچوں سے بالواسطہ دیکھنے کے بعد انہیں بچشم خود بھی دیکھتے۔ ایتھنز کی گلیوں میں سقراط کے نقوشِ پا کو ڈھونڈتے ہوئے چشم تصور سے انہیں چوکوں اور چوراہوں میں ایتھنز کے شہریوں میں سچائی اور خیر کی دولت لٹاتے ہوئے دیکھتے۔ مگر بوجوہ یہ حسرت پوری نہ ہوسکی۔ اب ڈاکٹر زاہد منیر عامر کی کتاب ''سقراط کے دیس میں‘‘ ملی تو یوں محسوس ہوا کہ گویا یہ حسرت پوری ہو گئی ہے۔
لیجئے ڈاکٹر زاہد منیر عامر آپ کو اپنے ہمراہ لے کر ایکروپولس پہنچ گئے ہیں۔ یونان کی پہچان ایکروپولس دور دور سے دکھائی دینے والی عمارت پارتھینان ہے۔ ایتھنز کا مطلب قلعہ یا بلندوبالا حصار ہے اور پارتھینان کا مطلب ہے کنواری کا مستقر۔ یہ قدیم یونانی تصورات کا وجودی اظہار ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ دنیا کے قدیم تاریخی آثار میں کامل ترین عمارت ہے جو ڈھائی ہزار سال سے ایکروپولس پر ایستادہ ہے۔ ایکروپولس کی اونچی پتھریلی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئیں تو اس معبد کے اونچے ستون آپ کا استقبال کرتے ہیں۔ یونانی فن تعمیر کے اس شاہکار کو یونانی عقیدے کے مطابق اہل یونان کی سرپرست ایتھنا دیوی سے نسبت تھی۔ ایتھنا تخلیق، تمدن اور تعقل کی دیوی کا نام ہے۔ ایتھنز کا نام اسی کے نام پر رکھا گیا مگر اس دیس کی ہزاروں سال سے شہرت سقراط، افلاطون اور ارسطو جیسے صاحبانِ علم اور فلسفیوں کی وجہ سے ہے۔
میلادِ مسیح سے 470 سال پہلے سقراط ایتھنز میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ بنیادی طور پر مجسمہ ساز تھے مگر جذبۂ حب الوطنی سے بھی سرشار تھے۔ انہیں ایتھنز میں ایک اخلاقی و روحانی بزرگ کا مقام ومرتبہ حاصل تھا۔ سچائی ودانائی کی تلاش میں وہ ایتھنز کی گلیوں میں مکالمہ کرتے دکھائی دیتے تھے۔ وہ حق پرست، حق گو اور منصف مزاج تھے۔ مسلسل غوروفکر کے نتیجے میں انہوں نے دیوی دیوتائوں کے حقیقی وجود سے انکار کردیا۔ 399 قبل مسیح میں اس حق گوئی کی پاداش میں انہیں ایتھنز کی ایک عدالت نے سزائے موت سنائی۔ سقراط نے یونان میں دلیل ودانائی کا چراغ جلایا مگر اسے دلیل سے کوئی قائل نہ کرسکا۔ لہٰذا ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے زہر کا پیالہ پینے کا حکم دیا گیا۔ سقراط نے بخوشی حق گوئی کی قیمت ادا کرتے ہوئے زہر کا پیالہ اپنے لبوں سے لگا لیا اور حق گوئی کی تاریخ میں امر ہوگئے۔ ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے قدیم وجدید یونان کی نہایت دلکش پیرائے میں منظرکشی کی ہے۔ کتاب میں مقناطیسی کشش ہے۔ ایک مرتبہ کتاب شروع کرنے کے بعد آپ ختم کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھ سکتے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں