نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کسی بھی وقت فیصلہ ہوسکتاہےہم حکومت میں رہیں یااپوزیشن میں،خواجہ اظہار
  • بریکنگ :- مہنگائی کےطوفان نےعوام کی کمرتوڑدی ہے،خواجہ اظہارالحسن
  • بریکنگ :- کراچی کےعوام ہماری جانب دیکھ رہےہیں،خواجہ اظہارالحسن
  • بریکنگ :- ایم کیوایم پاکستان نےمشاورتی اجلاس طلب کیاتھا،خواجہ اظہارالحسن
  • بریکنگ :- نسلہ ٹاورکےمعاملےپرسپریم کورٹ کونظرثانی کرنی چاہیئے،اظہارالحسن
  • بریکنگ :- غیرقانونی تعمیرات میں کرپشن کرنیوالوں کوگرفتارکیاجائے،اظہارالحسن
  • بریکنگ :- کراچی:حکومت کی بہت نازک صورتحال ہے،خواجہ اظہارالحسن
Coronavirus Updates
"IGC" (space) message & send to 7575

افغانستان اور منافقانہ جغرافیائی سیاست

تشدد، انتخابی نتائج کے حوالے سے جاری تنازعہ اور افغانستان میں پُرامن مفاہمت کے لیے جاری کاوشوں کے دوران کرس الیگزینڈر‘ سابق کینیڈین سفیر اور اقوام متحدہ کے افغان مشن کے ڈپٹی ہیڈ‘ نے جنگ زدہ ملک کی صورتحال کے بارے میں ایک مڑا تڑا سا نقطہ نظر پیش کیا ہے... منافقانہ جغرافیائی سیاست کی ایک کلاسیکل مثال۔حال ہی میں واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے 'افغانستان پیپرز‘ پر کرس الیگزینڈر کا رد عمل افغانستان کے بارے میں روایتی بعید از قیاس قسم کی چیزوں سے بھرپور ہے۔ مصنف نے مجموعی طور پر افغانستان میں گزرے اپنے آٹھ برس کے تجربات کا نچوڑ بیان کرتے ہوئے غیر مبہم انداز میں امریکی قیادت میں مصروفِ عمل نیٹو اتحاد کی افغان حکمت عملی کو ناقص اور غیر مربوط قرار دیا لیکن اسی سانس میں ناکامی کا سارا ملبہ پاکستان پر بھی ڈال دیا ہے۔ کرس کا مضمون پڑھتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے میں امر اللہ صالح اور رحمت اللہ نبیل کی گفتگو سن رہا ہوں، دونوں ہی افغانستان کے اندر پاکستان مخالف سخت نقطہ نظر کی وجہ سے معروف ہیں۔
کرِس الیگزینڈر نے اختتام اس بات پر کیا ہے کہ ''واشنگٹن پوسٹ میں 'افغانستان پیپرز‘ کی اشاعت سے بہت پہلے ہی یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ امریکہ کی سرکردگی میں لڑی جانے والی یہ لڑائی ایک بے تکے سے انتشار کا شکار تھی۔ لیکن اب بھی بنیادی غلطیوں میں سدھار لانے والے اقدامات( مثلاً ہمسایہ ملک پاکستان کو جوابدہ بنانا) کرنے میں بہت دیر نہیں ہوئی‘‘۔ 
اس کے برعکس 'افغانستان پیپرز‘ نے اُس بات کی تصدیق کر دی ہے جو افغانوں، امریکیوں اور نیٹو اتحاد میں شامل اکثر ممالک کے عوام کو گزشتہ کچھ عرصہ سے معلوم ہو چکی ہے: یہ مہم غیر مربوط حکمت عملی اور اپنی ذمہ داری دوسروں کے سر ڈالنے جیسے اقدامات سے زیادہ کچھ نہ تھی۔ (یہ کاغذات) اپنے نمائندگان کے متعلق گہری جڑیں رکھنے والی اس امریکی احتیاط کا پول کھولتے ہیں کہ یہ لوگ، خصوصاً جنگ کے دوران، ان کی پیٹھ پیچھے کیا گُل کھلاتے ہیں۔الیگزینڈر نے مقامی لوگوں کو لا تعلق کرنے اور شورش کو بڑھاوا دینے والے نمایاں ترین عناصر کی فہرست سازی کی ہے۔ 
٭ غیر قانونی حراستوں اور تشدد کے سبب امریکہ کی داغدار ساکھ 
٭ امریکی ہوائی حملوں میں جاں بحق ہونے والے ہزاروں عام شہری
٭ تخفیف اسلحہ کی مہم کے لیے درکار امریکی حمایت فراہم نہ کرنا اور اس پر طرّہ یہ کہ امریکی کمانڈروں کو یہ اجازت دینا کہ وہ مقامی سطح پر طاقت کے کھلاڑیوں کے ساتھ لین دین کر لیں، اس کے نتیجے میں اچھی طرح مسلح نئے طاقتور کھلاڑی ابھرے اور طالبان نے اس کا فائدہ اٹھایا۔
٭ امریکی قوت اور توجہ کا افغانستان سے ہٹ کر عراق کیجانب مبذول ہو جانا۔
٭ عراق پر قبضے کے حوالے سے نیٹو میں پائی جانے والی تقسیم، ''متصادم نظریات اور مفاداتی حکمت عملیوں کا شور و غوغا‘‘
٭ دو ہزار ایک کے اواخر میں ہونے والی بون کانفرنس سے طالبان کو باہر رکھنا (اس امر کی نشاندہی افغان امور کے آزمودہ کار ماہر برنیٹ روبن نے بھی کی ہے)
٭ انسدادِ منشیات کی امریکی حکمت عملی میں پائے جانے والے تضادات؛ اس سلسلے میں کیے جانے والے اخراجات عموماً غلط سمت میں ہی گئے‘ اور 
٭ نظام کے اندر پائی جانے والی کرپشن
اگرچہ ناکامیوں اور کہہ مکرنیوں کی ایک طویل فہرست بنائی جا سکتی ہے اور ابھی ہم کمزوریوں کے بارے میں بات نہیں کر رہے... کرپشن، بد انتظامی، وار لارڈ ازم اور ایسی ہی بہت سی چیزیں جن کی بارہا نشاندہی امریکہ کے خصوصی انسپکٹر جنرل برائے افغان تعمیر نو (ایس آئی جی اے آر) جان سوپکو نے کی۔ ان سب چیزوں کو نظر انداز کر کے الیگزینڈر نے، حسب معمول، افغانستان میں ہونے والی ناکامی کے لیے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا دیا۔
افغانستان میں موجود بہت سے دیگر مغربی حکام کی طرح الیگزینڈر کہتا ہے کہ ''اس ملک میں چند ماہ گزار کر ہی مجھے دکھائی دینے لگا کہ سرحد پار، ہمسایہ ملک پاکستان میں، سیف ہائوسز اور تربیتی میدان طالبان، حقانی اور دیگر دہشت گردوں کی تربیت کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔ کاش ہم انہیں وہیں تک محدود رکھ سکتے۔ آج امریکی راہنما اپنے ملک کو جو بہترین تحفہ دے سکتے ہیں وہ یہی ہے کہ وہ پاکستانی فوج پر وہی پابندیاں عائد کریں جو اس سے کہیں کم تر جرائم کے لیے انہوں نے روس پر عائد کر رکھی ہیں‘‘۔
لیکن پاکستانی طالبان نے سماج کو جو گھائو لگائے ہیں اس جانب موصوف نے توجہ نہیں فرمائی۔ 13 دسمبر 2007 سے... جب بیت اللہ محسود نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی بنیاد رکھی... تقریباً پانچ سو خود کش اور ہزارہا دہشت گردانہ حملے ہوئے۔ کیا یہ بات سچ کا ٹھٹھا اڑانے کے مترادف اور منافقت کی انتہا نہیں ہے کہ ان میں سے کسی نے (افغانستان میں ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے والوں نے) کبھی بھی اُن ہزارہا معصوم پاکستانیوں سے ہمدردی کا ایک لفظ نہیں بولا جو طالبان کی دہشت گردی کا ایندھن بن گئے؟ اتنی ہی حیران کن بات یہ ہے کہ اکثر مغربی حکام اور ماہرین تشدد کی اس لہر کو پاکستان کی ریاست کے اندر پائی جانے والی بے اطمینانی اور اس کی ''غلط‘‘ حکمت عملی کا نتیجہ قرار دینے میں ہچکچاہٹ نہیں دکھاتے لیکن اسی ساعت میں وہ دنیا بھر میں دہشتگردی کے ہر واقعے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دیتے ہیں۔
لندن برج پر ہونے والے حالیہ حملے( انتیس نومبر) نے مغرب کی اس منافقانہ طرز کا پردہ چاک کر دیا؛ برطانیہ میں پیدا ہونے والے چاقو بردار حملہ آور کو ہر پہلو سے دہشت گرد قرار دیا گیا۔ لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ 2014 میں ایک ہی وقوعے میں چاقو بردار دہشت گردوں کے ہاتھوں ہونے والی تیس اموات وہ واحد واقعہ تھا جسے مغرب میں ''چین کے اندر اقلیتوں کو دبانے پر پیدا ہونے والی فرسٹریشن کے اظہار‘‘ کے کھاتے میں ڈالا گیا۔
کیا کوئی صحیح الدماغ شخص اس امریکی قانون سازی کی حمایت کر سکتا ہے جو ہانگ کانگ اور سنکیانگ میں حزب مخالف کو سرکاری مدد فراہم کرنے کیلئے کی گئی ہے، یا گوانتانامو بے میں جو غیر انسانی حالات ہیں ان کی تائید کی جا سکتی ہے۔ ایسی جیل خود امریکی حکومت کیلئے اپنی سرزمین پر بنانا ممکن ہی نہیں۔ یا اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر روا رکھنے جانے والے مظالم پر خاموشی جو مغربی میڈیا میں حلال ہے۔ اخبار کے مطابق 'افغانستان پیپرز‘ ان بے ربط امریکی پالیسیوں پر فرد جرم ہیں جن کا کوئی سر پیر نہ تھا، جن کی بدولت کرپشن پھلی پھولی، جس کے تحت پسندیدہ جنگی سرداروں کی سرپرستی کی گئی، بڑی بڑی مالیاتی بے قاعدگیوں سے صرف نظر کیا گیا اور غلط مفروضوں کی بنیاد پر اپنی چالیں چلی گئیں۔
ان انٹرویوز سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حکام نے یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ وہ صریح جھوٹ بول رہے ہیں ایسے پُر امید بیانات جاری کیے جن کی اوٹ میں وہ نا قابل تردید ثبوت چھپائے گئے جو بتاتے تھے کہ افغان جنگ جیتی نہیں جا سکتی۔ بہت سے لوگ جن کا انٹرویو کیا گیا انہوں نے مفصل انداز سے امریکی حکومت کی ان کوششوں کو بے نقاب کیا‘ جو وہ اپنے عوام سے حقائق چھپانے اور ایک ایسے کلچر کو پروان چڑھانے کیے کر رہی تھی جہاں بری خبروں یا تنقید کی قطعاً حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔دانش کے حوالے سے متعصب لوگ ہی افغان جنگ میں اتحادیوں کی ناکامی کا سبب افغانستان کے بہت سے ہمسایہ ممالک میں سے ایک کے کھاتے میں ڈال سکتے ہیں۔ جو لوگ پاکستان پر پابندیوں کا مطالبہ کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ یہ مطالبہ کرنے سے پہلے اس مجرمانہ خاموشی کی مذمت کریں جو چار بڑوں (امریکہ، انگلینڈ، فرانس اور جرمنی) نے فلسطین اور کشمیر میں اسرائیل اور انڈیا کے ہاتھوں ہونے والے مظالم پر اختیار کر رکھی ہے۔ یا اس سکوت پر ہی آواز اٹھا لیں جو باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے (ہانگ کانگ اور سنکیانگ) پُر تشدد سیاسی تحریکوں کو پیسہ مہیا کرنے پر اختیار کیا گیا ہے۔ جمہوریت کا ان لوگوں سے تقاضا ہے کہ پاکستان پر پابندیوں یا چین میں مداخلت کیلئے جواز تراشنے سے پہلے انڈیا سے مطالبہ کریں کہ وہ کشمیر اور شہریت کے ترمیمی بل کے ذریعے جس نا روا رویے کا مظاہرہ کر رہا ہے اس سے باز رہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں