نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسپیکرعبدالقدوس بزنجووزیراعلیٰ بلوچستان کیلئےمضبوط امیدواربن گئے
  • بریکنگ :- عبدالقدوس بزنجوکواتحادی جماعتوں کےعلاوہ اپوزیشن ارکان کی بھی حمایت حاصل
  • بریکنگ :- بلوچستان اسمبلی جمعرات کو نئےقائدایوان کاانتخاب کرےگی
  • بریکنگ :- جان جمالی اورصالح بھوتانی اسپیکربلوچستان اسمبلی کیلئےمضبوط امیدوار
  • بریکنگ :- نئی حکومت میں ظہوربلیدی ایک بارپھرمالیاتی امورسنبھالیں گے
  • بریکنگ :- بلوچستان کےناراض ارکان کوکابینہ کاحصہ بنایاجائےگا،ذرائع
Coronavirus Updates
"IGC" (space) message & send to 7575

تبدیلی کا بھاری پتھر اور بدنامی کا خوف

ڈگری یا سند کا لفظ ذہن میں آتے ہی لوگ سند یافتہ شخص کے درجے کا تعین کرتے ہیں ۔ کہنے کو یہ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہی ہے لیکن ‘ کاغذ کا یہ ٹکڑا آپ کی قدر ‘ قیمت اور اہمیت کا تعین کرتا ہے ۔ تاہم یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ جس ملک میں انسانی جان کی کوئی قدر‘قیمت نہ ہو وہاں کاغذ کی ڈگری کی کیا اہمیت ہو گی؟ جب انسانی جان کی اہمیت اور وقار ہی نہ رہا تو پھر سند کا وقار بھی کھونے لگا ہے ۔ وزیر ہوابازی کی جانب سے پارلیمان میں پیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ملک کی تمام ایئر لائنوں کے 860پائلٹوں میں سے 262یعنی 32فیصد سے زائد نے لائسنس جعلی طریقے سے حاصل کئے ہیں‘ جبکہ پی آئی ائے میں چار پائلٹوں سمیت عملے کے بہت سے ارکان کی تعلیمی اسناد بھی باقاعدہ تحقیقات میں جعلی پائی گئی ہیں۔ یہ معاملہ صرف پائلٹس کی جانب سے جعلی طریقے سے حاصل شدہ ڈگریوں تک محدود نہیں‘ ملک میں جعلی طریقے سے لائسنس اور ڈگریاں حاصل کرنے کا طریقۂ واردات بہت پرانا ہے اور جعلی ڈگریاں ‘ ڈپلومے ‘ سرٹیفکیٹ اور جعلی طور پر حاصل کیے گئے برتھ سرٹیفکیٹ کا حصول عام ہے۔جعلی دوائیں‘ جعلی ناموں اور برانڈز کا پانی‘ الیکٹرانک کا جعلی سامان‘ جعلی فوڈ آئٹمز‘ اور نہ جانے کیا کیا۔ مارکیٹ کھلی ہے اور میدان لگا ہوا ہے۔جس ملک میں جان بچانے والی ادویات مہنگی اور پھر جعلی مل رہی ہوں تو وہاں آپ کیا کہیں گے؟آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ جعلی دوائیں پی کر ہمارے ملک کے کتنے ہی جوان‘ بوڑھے ‘ خواتین اور بچے موت کی نیند سو چکے ہیں۔دو نمبر کے کام کرنے والے افراد ہمارے لئے قومی المیہ سے کم نہیں ہیں مگر حکومت اس پر کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ ہمارے قومی اداروں میں جعلی ڈگریوں کے حامل افراد موجود ہیں۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی اپنی ایک تحقیق میں یہ ثابت ہوا کہ نیشنل ٹیسٹنگ سروس اور کامسیٹس کے ایک سربراہ کے پی ایچ ڈی تھیسز کا 72فیصد مواد نقل شدہ ہے۔پشاور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ''ڈاکٹر ‘‘عظمت حیات خان کے پی ایچ ڈی تھیسز کا مواد بھی چربہ شدہ تھا۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر سانگی کی ڈگری پر بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس چلتا رہا۔ایک اور اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ تحریری امتحانات یا عملی امتحان میں دوسرے شخص کو بٹھا کر امتحان دلوا دیا جاتا ہے۔راولپنڈی سے مسلم لیگ ن کے سابق رکن قومی اسمبلی حاجی پرویز خان کا عزیز ان کی جگہ امتحان دے رہا تھا کہ پکڑا گیا اور انہیں نا اہل قرار دیا گیا۔ڈرائیونگ کے اکثر لائسنس بھی اسی طریقے سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ملک بھرمیں ہزاروں افراد ایسے ہیں جن کے پاس لائسنس تو ہے‘ لیکن انہوں نے کسی تربیت گاہ یا سکول کا دروازہ تک نہیں دیکھا۔
جعلی لائسنس کا مسئلہ حل کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کیو آر کوڈ لائسنس متعارف کرایا جائے۔پی ایم ڈی سی ‘ پاکستان بار کونسل ‘ ٹریفک پولیس اور پاکستان انجینئر نگ کونسل کی جانب سے کئی بار اپنی ویب سائٹس کے ذریعے جعلی طریقے سے حاصل کی جانے والی اسناد اور جعلی طریقے سے حاصل کیے گئے لائسنسز کے بارے میں اطلاعات دی جاتی ہیں۔جعلی ڈگریوں اور جعلی طریقے سے حاصل کیے گئے لائسنسز کی وجہ سے مختلف شعبوں کے کئی افراد کی گرفتاریاں ہو چکی ہیں ان میں ڈاکٹر ‘ انجینئر ‘ پروفیسرز ‘ وکیل ‘ ڈینٹسٹ ‘ صحافی اوروکلا سمیت کئی شعبوں کے لوگ شامل ہیں۔ 2012ء میں کراچی پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا تھا جو مبینہ طور مختلف ٹی وی چینلز اور اخبارات کے صحافتی شناختی کارڈ‘ لوگو اور مائیک بنا کر فروخت کر رہا تھا۔بی بی سی ریڈیو کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں موجود ایک کمپنی نے برطانیہ میں 2013ء اور 2014ء کے دوران تین ہزار سے زائد جعلی ڈگریاں فروخت کیں۔ڈگریاں لینے والوں میں نیشنل ہیلتھ سروس کے مشیر ‘ نرسیں اور ایک بڑا دفاعی ٹھیکیدار بھی شامل تھا۔
پاکستان کے اندر اور باہر ڈگریوں کی تصدیق کا عمل تو شروع ہو چکا ہے‘ تاہم اس عمل میں بھی کافی وقت لگنے کے ساتھ آن لائن نظام کمزور ہونے کی وجہ سے بہت سی پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں۔2010ء میں جب بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی سے پوچھا گیا کہ اراکین اسمبلی کی جعلی ڈگریاں بر آمد ہو رہی ہیں تو انہوں نے کہا کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے۔دنیا بھر میں یونیورسٹیوں کا جال بچھا ہوا ہے جو تعلیم کے بعد ڈگریاں دیتی ہیں‘ وہیں ان سے کہیں زیادہ ایسے ادارے بھی موجود ہیں جو جعلی ڈگریاں بناتے اور بیچتے ہیں۔امریکا میں انہیں Diploma Millsکہا جاتا ہے ۔جارج گولن George Gollinامریکا میں ہائیر ایجوکیشن کونسل کے رکن رہے‘انہوں نے جنوری 2010ء میں سی این این کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ امریکا میں ہر سال ایک لاکھ جعلی ڈگریاں بیچی جاتی ہیں‘ جن میں سے 35ہزار کے قریب ایم اے اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں ہوتی ہیں۔ جعلی ڈگری بنانا اور بیچنا اس قدر آسان ہے کہ آپ کو صرف ایک ویب سائٹ بنانا ہوتی ہے ‘ جہاں ایسے ڈپلوما اور ڈگریاں بنا کر بیچے جا سکیں‘ جن پر اصل کا گمان ہو اور ایسی یونیورسٹیاں کاغذوں میں تخلیق کی جاتی ہیں تاکہ لوگوں کو اصلی معلوم ہوں۔ان یونیورسٹیوں سے ڈگریاں حاصل کرنے والے خریداروں کا تعلق مختلف شعبوں سے ہوتا ہے۔نوکری لینے کے لیے ‘ ترقی حاصل کرنے کے لیے ‘ اپنی علمی دھاک بٹھانے کے لیے ‘ سیاست میں حصہ لینے اور انتخاب لڑنے کے لیے‘اپنا پروفائل بہتر بنانے کے لیے ۔ گولن نے Saint Rigis کی مثال دی جس نے نو ہزار چھ سو ڈگریاں بیچ کر سات ملین ڈالر کمائے ۔ اس نے مثال دی کہ ایک امریکی نے نیوکلیئر انجینئرنگ کی ڈگری ایسے ہی ایک ادارے سے حاصل کی اور وہ اب ایک نیو کلیئر پلانٹ کے کنٹرول روم میں کام کر رہا ہے ۔اس وقت امریکا میں چار سو ڈپلوما ملز کام کر رہی ہیں اور تین سو جعلی ڈگری بنانے والی ویب سائٹس آزادانہ اپنا کاروبار کر رہی ہیں۔ یہ کاروبار پانچ سو ملین ڈالر پر محیط ہے ۔ اسی طرح یورپ کے جعلی تعلیمی ادارے اور ویب سائٹس 50ملین ڈالر لے کر ہر سال 15ہزار افراد کو تعلیمی اسناد دیتے ہیں۔
اس سارے پس منظر کے بعد آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جعلی ڈگریاں اور جعلی طور پر لائسنس حاصل کرنا نیا کام نہیں اور نہ ہی یہ صرف پاکستان تک محدود ہے۔امریکا سمیت دنیا بھر میں کئی پائلٹس کے پاس جعلی طریقے سے حاصل کیے گئے لائسنس موجود ہیں۔وزیر ہوابازی کا 32فیصد سے زائد پائلٹس کے لائسنس اور اسناد کو اپنی رپورٹ میں مشکوک اور جعلی قرار دینے سے ملک کی بدنامی نہیں ہوئی بلکہ مستقبل میں بڑے حادثات سے بچنے کے لیے ایک مناسب ذریعہ اختیار کیا گیا ہے۔کیا ملک اس وقت بدنام نہیں ہوتا تھا جب پائلٹس اور ائیر ہوسٹسز سمگلنگ اور منشیات میں پکڑے جاتے تھے؟گند کو ہمیشہ کارپٹ کے نیچے چھپانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ‘ کمی ‘کوتاہی کی تحقیقات ہونی چاہئیں ‘ اسے سامنے لا کر کمزوریوں کو دور کرنے کا طریقہ کار وضع کرنا چاہیے۔پہلے اس بات پر اصرار تھا کہ کراچی طیارہ حادثہ رپورٹ شائع کی جائے اور اب جب رپورٹ مقررہ وقت کے اندر شائع ہو گئی ہے تو کہا جارہا ہے کہ رپورٹ شائع کیوں کی ہے۔اگر یہی خبر کل لیک ہوجاتی تو پھر یہی لوگ کہتے کہ اس سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے اور حکومت اس کی ذمہ دار ہے۔یہ سنجیدہ طرزِ عمل ہے اور نہ ہی سنجیدہ روایتیں اس سے قائم کی جا سکتی ہے۔اگر حکومت نے تبدیلی کا بھاری پتھر اٹھایا ہے تو پھر اسے پھینکنے کے بجائے مناسب طریقے سے مناسب جگہ رکھنا ضروری ہے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں