نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ‏بھارتی ٹیم کوشکست کےبعدکشمیرمیں جشن،فوادچودھری
  • بریکنگ :- جشن مودی سرکارکی آنکھیں کھولنےکیلئےکافی ہوناچاہیئے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- مسلمانوں کوایک بارپھراذیت کانشانہ بناناقابل مذمت ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- شدت پسندی کیخلاف آوازوں کوبلندہوناہوگا،وزیراطلاعات
Coronavirus Updates
"IGC" (space) message & send to 7575

بیرونی قرضوں پر مبہم بیانیہ

پاکستان کا بیرونی قرضہ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے جو مشکلات میں گھری ہوئی کسی بھی معیشت کیلئے اچھا شگون نہیں؛ اگست کے آخر میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2019-20ء میں 11.895بلین ڈالر بیرونی پبلک ڈیٹ سروسنگ کی مد میں ادا کیے گئے جبکہ 2018-19ء میں اسی مد میں 9.645بلین ڈالر ادا کیے گئے تھے‘ یوں اس برس ان ادائیگیوں میں23 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اس میں 9.543بلین ڈالر اصل زر جبکہ 2.352بلین ڈالر سود میں مد میں اداکیے گئے ہیں۔آپ ادا کیے جانے والے سود کی شرح پر غورکریں جو تقریباً 20 فیصد بنتی ہے جبکہ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ساری دنیا میں شرح سود کم ترین سطح پر ہے حتیٰ کہ نجی قرض یا پرسنل لون تو صرف دو فیصد کی شرح سے بھی دستیاب ہے۔بیرونی قرض اور ادائیگیاں 2020ء کے مالی سال میں 112.8بلین ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ مالی سال 2019 ء میں یہ 106.3بلین امریکی ڈالر تھیں‘ اس میں چھ بلین کا مزید قرض اور چین سے ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے حاصل کی جانے والی دو بلین امریکی ڈالر کی رقم بھی شامل ہے۔پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت ختم ہونے پر ہمارا کل بیرونی قرض تقریباً 95.2بلین امریکی ڈالر تھا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ گزشتہ دو برس کے دوران حکومت نے تقریباً سترہ بلین ڈالر کا قرضہ حاصل کیا ہے‘یہ اضافہ 15.7فیصدبنتا ہے۔ان سارے قرضوں کا مقصد صرف یہ تھا کہ پاکستان نے پیرس کلب کے ممبر ممالک کے علاوہ عالمی اداروں یعنی آئی ایم ایف اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے جو قرض چکانے ہیں‘ وہ چکائے جائیں اور اس سارے عرصے کے دوران قرض کی مجموعی ادائیگی 24 بلین امریکی ڈالر سے زائد تھی۔ اس میں ایک ارب ڈالر کا وہ اصل زر بھی شامل ہے جو نومبر 2019ء میں یورو سکوک بانڈ کی مدت پوری ہونے پر چکایا گیا۔
مذکورہ بالا اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ قرض ادائیگی نئے قرض سے سات بلین ڈالر زائد رہی اور اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ جاری کھاتوں کی مد میں موجود فرق مالی سال 2020 ء میں بڑی تیزی سے کم ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ ہماری امپورٹ میں بھی بہت کمی آئی‘لیکن اگر ہم مقبول بیانیے کو دیکھیں تو وہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے 14.7ٹریلین کے قرضوں کا بوجھ ملک پر صرف دو برسوں میں لاد دیا ہے جبکہ ان کی پیشرو حکومت نے اتنا قرض یعنی تقریباً پندرہ ٹریلین روپے پانچ برسوں میں لیے تھے۔اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہوا کہ جون 2020ء تک ہمارا ملکی قرض45 ٹریلین تک پہنچ گیا‘ جو ہماری مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 106.8فیصدکے مساوی بنتا ہے۔بظاہر یہ بات سچ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں بیرونی قرض کے ساتھ ساتھ ڈالر اورروپے کے مابین مساواتی فرق بھی شامل ہے۔درحقیقت یہ ایک بہکا دینے والا حساب کتاب ہے کیونکہ حکومت کبھی بھی قرض ادائیگی کے لیے روپے کو ڈالر سے تبدیل نہیں کرتی بلکہ تقریباً ہمیشہ اس کام کے لیے یا تو نئے قرض لیے جاتے ہیں یا بیرونی ترسیلات ِزر سے کام چلایا جاتا ہے یا ایکسپورٹ کی آمدنی سے ہی قرض ادا کیا جاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان اعداد و شمار میں روپے کی قدر میں ہونے والی 38.4فیصد کمی کو بھی نہیں گنا جاتا۔پھر کیا وجہ ہے کہ ملک کے بیرونی قرض کے اعداد و شمار بیان کرتے ہوئے ڈالر اورروپے کی موجودہ مساواتی قیمت کے حساب سے بیان کیاجاتا ہے؟
اس بات میں تو کوئی شک و شبہ نہیں کہ جی ڈی پی کے حساب سے قرض کی بڑھتی ہوئی شرح باعثِ تشویش ہے‘ مالی سال 2020-21ء کے لیے پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کا اندازہ تین سو بلین امریکی ڈالرکا ہے، اس پر 112بلین امریکی ڈالر کا بیرونی قرض جی ڈی پی کا37 فیصد بنتا ہے‘ یہ شرح یقینا حکومت کی قرض واپسی کی صلاحیت کے بارے میں سوالات کو جنم دیتی ہے۔
دسمبر2019 ء تک بھارت کا بیرونی قرض (543بلین امریکی ڈالر) اس کی مجموعی قومی پیداوار کا 20 فیصد بنتا تھا اور یہ شرح ایک ایسی معیشت کی تھی جو مقامی سطح پر مسلسل بلندی کی جانب جا رہی تھی اور جس کی ایکسپورٹس میں اضافہ ہورہا تھا۔اسی طرح بھارت کا مجموعی قومی قرض دو ٹریلین امریکی ڈالر ہے جو اس کی مجموعی قومی پیداوار کے ستر فیصد کے مساوی بنتا ہے اور ایک ایسی معیشت جو تیزی سے آگے بڑھ رہی ہو اس کے لیے قومی پیداوار اور قومی قرض کی یہ شرح قابلِ قبول ہے۔وزارت خزانہ میں معاشی معاملات کے شعبے نے اپریل 2020ء میں جو رپورٹ شائع کی ا س کے مطابق مارچ 2019ء تک انڈیا کا مجموعی قرض اس کی جی ڈی پی کے 68.6فیصدکے مساوی تھا۔ جہاں تک انڈیا کے بیرونی قرضوں کا سوا ل ہے تو 1991ء تک یہ پچاسی بلین ڈالر تھاجو 2014ء میں 446بلین ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ دسمبر2019ء تک یہ 564بلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکا تھا اس کا مطلب یہ ہوا کی نریندر مودی کے دور میں ایک سو اٹھارہ بلین ڈالر قرض کا اضافہ ہوا۔یہ اعداد و شمار آج کی دنیا کی ایک سادہ سی حقیقت بیان کرتے ہیں کہ آج دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہوگا ‘چاہے وہ امریکہ ہو یا جرمنی‘جو قرض نہیں لیتا(اندرونی بھی اور بیرونی بھی) تاکہ ملک کو چلایا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومتیں جو قرض لیتی ہیں ان کا مقصد ان وسائل کو جنم دینا ہوتا ہے جو سماجی و معاشی ترقی کے ضامن بنیں اور ترقی کو یقینی بنا کر ملک کے عوام کی بہبود کی ضمانت دیں۔اگر اب آپ کو یہ بتایا جائے کہ یکم مئی 2020ء تک امریکہ کا وفاقی قرض تقریباً25 ٹریلین امریکی ڈالر کے مساوی تھا تو آپ کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔تاہم پاکستان میں زیادہ تر قرض اس لیے حاصل کیے جاتے ہیں کہ پچھلا قرض لوٹایا جا سکے اور اس کی وجہ سے ہی قرض کی مجموعی قومی پیداوار کے حوالے سے شرح باعثِ تشویش بن جاتی ہے۔ عموماً حکومت کی جی ڈی پی سے قرض کی شرح کو سرمایہ دار اس نظر سے پرکھتے ہیں کہ کیا یہ ملک اپنے قرض ادا کرنے کے قابل ہے یا نہیں اور اس کے نتیجے میں ملک کی قرض لینے کی صلاحیت اور اس کی بانڈز پر آنے والی لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ملک پر حکمران کوئی بھی ہو جوہماری موجودہ صورتحال ہے‘ جس میں کرنسی کی قدر بھی شامل ہے‘ اس میں مالی معاملات کو سنبھالنا ہرگز آسان کام نہیں ہے۔جب تک پاکستان میں حقیقی نمو اور منصوبوں کی بروقت تکمیل کو مرکزی اہمیت نہیں دی جاتی اور جب تک ہم ایسی مصنوعات پیدا یا تیار نہیں کرتے جن کی وجہ سے ہماری ایکسپورٹ میں نمایاں اضافہ ہو تب تک ہماری فارن ایکسچینج آمدنی نہ صرف ڈگمگاتی رہے گی بلکہ اس کی وجہ سے ہماری کرنسی کی قدر ہر وقت کم ہونے کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہے گا۔
اگر ہماری حکمران اشرافیہ ملک کو بے یقینی کے اندھیروں سے نکال کر ایک مستحکم مستقبل فراہم کرنا چاہتی ہے تو یقینا ہمارے ملک کو ایک چارٹر آف اکانومی کی ضرورت ہے اور ہمیں‘ اگر ہم بھارت کی پیروی نہیں کر سکتے‘ کم از کم بنگلہ دیش ماڈل اختیار کرنا پڑے گا۔ چینی قرضوں اور سرمایہ کاری پر بلا وجہ کے انحصار کے بجائے ایک متوازن ترقیاتی اپروچ اپنانے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے چینی شراکت داری سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اسے اپنے اندرونی معاملات کی درستی اور اپنے ہاں موجود انسانی و مادی وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔ یقینا سی پیک ایک بہت بڑی جست ہے‘ لیکن یہ اس وقت تک پاکستان کے لیے آبِ حیات نہیں بن سکتا جب تک پاکستانی اشرافیہ خود ملک کو حقیقی معاشی نمو کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے گورننس کے ڈھانچے میں اصلاحات، سرکاری خریداریوں کے جدید طریقے اور ٹیکس کا سادہ طریقہ کار اختیار نہیں کرتی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں