"IMC" (space) message & send to 7575

لارڈ نذیر کا استعفیٰ

برطانوی دارالامراء کے رکن لارڈ نذیر احمدلیبر پارٹی کی رکنیت سے مستعفی ہوگئے۔انہوں نے ایک انٹرویو میںکہاکہ چند برس قبل تیز رفتار ڈرائیونگ پر ان کی گرفتاری کے پیچھے یہودی لابی کا ہاتھ کارفرما تھا۔ یہ گفتگو انہیں لے ڈوبی ۔لیبر پارٹی نے یہودیوں پر الزام تراشی کی پاداش میں ان کی رکنیت معطل کردی۔ اب پارٹی سے نکالے جانے کا خدشے تھا۔چنانچہ مزید سبکی سے بچنے کی خاطر وہ پارٹی کی رکنیت سے ازخود مستعفی ہوگئے ۔ چندجملے لارڈ نذیر کی چار دہائیوںپر محیط لیبر پارٹی سے وابستگی کے خاتمے کا باعث بن گئے۔ لارڈ نذیر احمد کے ساتھ ہونے والے سلوک سے یہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ برطانوی حکومت اور معاشرے میںنفرت پھیلانے اور اشتعال انگیز گفتگو کرنے والوں کے لیے گنجائش نہیںبالخصوص یہودیوں کے حوالے سے کسی بھی قسم کی منفی گفتگو کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ جو لوگ برطانوی روایات کا خیال نہیں کرتے انہیں اس کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔برطانیہ میں جن امور پر اتفاق رائے پایا جاتاہے ان کا احترام تمام شہریوں پر لازم ہے۔یہ صرف برطانیہ ہی کے لیے خاص نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی قومی وحدت کے حوالے سے طے شدہ اصولوں پر لچک نہیں برتی جاتی ۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں لوگوں کو کھلی آزادی ہے کہ وہ جو چاہیں بولیں اور لکھیں،انہیں روکنے اور ٹوکنے والا کوئی نہیں۔ چند ماہ قبل حافظ طاہر اشرفی نے فرمایا :افغانستان میں خودکش حملے جائز ہیں۔ جنرل (ر) حمید گل گہری نیند سو نہیں پاتے جب تک وہ امریکا کے ٹکرے ٹکرے ہونے کا اعلان نہ فرمادیں۔ایسے بیانات صفحہ اوّل پر شہ سرخیوں سے چھپتے ہیں ۔ لارڈ نذیر احمد خاندانی سیاست دان نہیں ۔ ان کا تعلق عام سے گھرانے سے ہے۔وہ بارہ برس کی عمر میں والدین کے ہمراہ لاکھوں دیگر میرپوری خاندانوں کی طرح برطانیہ منتقل ہوئے۔ شیفیلڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی۔ زمانۂ طالب علمی میں لیبر پارٹی میں شامل ہوکر سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ مسلم کونسلروں کا متحدہ فورم تشکیل دے کر مقامی سیاست میں شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ 1998ء میں لیبر پارٹی نے انہیں دارالامراء (ہائوس آف لارڈ )کا رکن مقرر کیا۔ لارڈ بننے کے بعدانہوں نے مسلم دنیا کے مسائل اجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ کشمیر، فلسطین اور افغانستان ان کی سرگرمیوں کے اہم محورہیں۔ افغانستان اور عراق پر امریکی قبضے کے خلاف لارڈ نذیر نے بڑی دلیری سے لیبر پارٹی کی پالیسیوں سے اختلاف کیا ۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حوالے سے نذیر احمد دو ٹوک موقف رکھتے ہیںاور گزشتہ دو دہائیوں سے کشمیر کاز کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایک ملاقات میں انہوں نے بتایا: میں ان ہزاروں نوجوانوں میں سے ایک ہوں جن کے والدین نے خوشحال مستقبل کی امیدمیں برطانیہ نقل مکانی کی۔ والدین اورخاندان کے لوگوں نے خوشحال زندگی گزارنے کا خواب پورا کرنے کے لیے دن رات ایک کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد ایک چھوٹے سے سٹور سے کاروبار شروع کیا۔ ساتھ ساتھ مقامی سیاست میں بھی حصہ لیتا رہا۔ سیاست اور کاروبار دونوں ساتھ ساتھ ترقی کرتے رہے۔ لارڈ نذیر اپنے ماضی کو نہیں بھولے ۔انہوں نے بے تکلفی سے بتایا کہ میرا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے۔ہم کئی برس مچھلی اور چپس بنا کر فروخت کرتے رہے۔ میں خود سترہ برس تک اپنے ہاتھ سے دکان پر مچھلی پکاتا اور چپس تیار کرتا رہا۔ مجھے اپنے ماضی پر کوئی شرمندگی نہیں ۔ میں نے اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں سے لکھی ۔ لندن میں ہائوس آف لارڈز کی عمارت عہد رفتہ کی یاد دلاتی ہے جب برطانوی سلطنت پر سے سورج غروب نہیںہوتاتھا۔مشرق تا مغرب اس کا طوطی بولتاتھا۔اُس وقت ہائوس آف لارڈز کے اکثر ارکان عمر کے آخری حصہ میں ہوتے۔ خاندانی جاگیر داروں ،بڑے کاروباری لوگوں یا سیاستدانوں کی خدمات کے عوض انہیں ہائوس آف لارڈز کی رکنیت دی جاتی ۔یہ لوگ عام طور پر سماجی سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں۔اس کے برعکس نذیر احمد بڑے فعال اور متحرک رکن ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ہر وقت لوگوں سے ملنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔میرے گھر ،دفتر کے ٹیلی فون نمبرلوگوںکے پاس ہیں۔ سینکڑوں لوگوں کے فون آتے ہیں۔ اکثر وہ ذاتی مسائل کے بارے میں مشورہ کرتے ہیں ۔بسا اوقات ان کے پاس کوئی اچھا آئیڈیا ہوتاہے جو مجھے بتانے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ لوگ بے تکلفی کے ساتھ مجھے فون کرتے ہیں اور میں ان کی مدد کرتا ہوں۔ برطانیہ ایک کثیرنسلی معاشرہ ہے ،یہاں ہر رنگ و نسل اور مذہب کے لوگ آباد ہیں۔ کچھ ایسے ملکوں سے آئے ہیں جہاں جمہوریت اور آزادی اظہار رائے کا تصور بھی مفقود ہے ۔ ان کے مطالبات بڑے دلچسپ ہوتے ہیں۔ کئی لوگ تجویز دیتے ہیں کہ وزیراعظم سے ملاقات ہو تو انہیں بتائیں کہ وہ ریاستی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی لائیں۔ ظاہر ہے کہ ان موضوعات پر وزیراعظم کے ساتھ بات نہیں ہوسکتی تاہم بعض اوقات کچھ اچھے مشورے مل جاتے ہیں جو میں حکومت یا متعلقہ محکموں کو لکھ بھیجتا ہوں اور وہ ان پر عمل کرتے ہیں۔ اس قدر فعال ہونے کے باوجود وہ اپنے آپ کو پاکستانی سیاست سے الگ نہ کرسکے۔ان کی ترجیح برطانوی سیاست اور معاشرے میں نمایاں جگہ حاصل کرنا کم اور پاکستان اور آزادکشمیر میں دلچسپی زیادہ رہی ۔اسی سوچ نے انہیںیہ دن دکھایا۔محترمہ بے نظیربھٹو لند ن میں تھیں تو لارڈ نذیر ان کے بہت قریب تھے۔بعد ازاں معمولی اختلاف پرآصف علی زرداری سے ناراض ہوگئے۔ تلخی اس قدربڑھی کہ پیپلزپارٹی نے ان کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش کی۔رائے ونڈ میں نوازشریف کے ـ’وائٹ ہائوس‘ میں بھی مسلسل حاضری لگواتے رہے۔نوازشریف کی جلاوطنی کے خاتمے پر ان کے ہمراہ پاکستان آئے۔میرپور کی مقامی سیاست میں گہری دلچسپی لیتے ہیں۔کبھی ایک گروہ کی حمایت اور کبھی دوسرے کی ۔اب اکثر لوگ ان سے ناراض ہیں۔اچھا ہوتاکہ وہ برطانیہ کی داخلی سیاست میں اثر ورسوخ پیدا کرتے ۔ پاکستان یا میرپور کی سیاست میں غیر جانبدار رہتے لیکن انہوں نے دوسرا راستہ چنا۔ یہودیوں کے خلاف محض ایک تبصر ے کی پاداش میں لارڈ نذیر کی پارٹی رکنیت معطل ہوئی اورچالیس سالہ سیاسی کیرئیر خطرہ میں پڑ گیا۔حاجی غلام احمد بلور نے گستاخ رسول کے خلاف قتل کا فتویٰ دیا تو ان کے برطانیہ داخلے پر پابندی لگادی گئی۔اب دیکھتے ہیں کہ ایم کیوایم کے قائدالطاف حسین اپنے خلاف الزامات کا کیسے دفاع کرتے ہیں؟برطانیہ میں نفرت اور تشدد ابھارنے کے حوالے سے سخت قوانین ہیں۔ جو ایک خاص دائرے سے باہر نکل کر بیان بازی کی اجازت نہیں دیتے ۔لارڈ نذیر او رالطاف حسین کو اپنے ملک کے قوانین کا سختی سے احترام کرنا چاہیے ۔ برطانیہ کو پاکستان بنانے کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی ۔لارڈ نذیر اب بھی تاحیات ہائوس آف لارڈز کے رکن ہیں ۔وہ برطانیہ ہی کی سیاست کریں توپاکستان اور مسلمانوں کی زیادہ خدمت کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں