"IMC" (space) message & send to 7575

کشمیر:خطرناک راستے پر

تین دن پہلے گول گلاب گڑھ ،مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی باڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے جوانوں کے ہاتھوں توہینِ قرآن اور امام مسجد کو زدوکوب کرنے پر احتجاج جاری تھاکہ بی ایس ایف نے نہتے شہریوں پر فائر نگ کردی ۔چار شہری موقع پر شہید ہوگئے اور درجنوں گھائل۔ یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی اور پورا کشمیر سراپا احتجاج بن گیا۔ حکام نے کرفیو نفاذ کرکے شہریوں کو گھروں تک محدود کردیا۔سیّدعلی گیلانی سے لے کر یاسین ملک تک تمام اہم سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کو گھروں میں نظربند کردیا گیا ہے یا جیلوں میں محبوس۔پرامن احتجا ج کی اجازت ہے نہ جلسے جلوس کی۔لے دے کر ایک سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ رہ گیا جس پر لوگ اپنے دل کا غبار ہلکا کرتے ہیں۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں کہ سکیورٹی فورسز نے بے گناہ شہریوں پر گولی چلائی ہو۔کشمیر کی تاریخ ایسے واقعات سے اٹی پڑی ہے۔یہاں تعینات فوجی اور نیم فوجی دستوں کا شہریوں کی ہلاکتوں پر کوئی مواخذہ نہیں ہوتا۔ وہ کسی بھی شہری کو جان سے مار سکتے ہیں۔ ان کے ایسے اقدامات کو قانونی تحفظ حاصل ہے ۔اس نوع کے حادثات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا رواج بھی نہیں۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ بھارتی حکومت اور سماج ایسی ہلاکتوں کو معمول کی کارروائی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ حالانکہ بھارت کے اندر ہونے والے ایسے واقعات پر پورا’دیش‘اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ سبرامنیم سوامی جیسے منجھے ہوئے سیاستدان نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا کہ ’جہادیوں نے بی ایس ایف پر حملہ کردیا تھا لہٰذا انہیں جوابی فائرنگ کرنا پڑی‘۔یہی حال دیگر سیاستدانوں اور صحافیوں کا بھی ہے ۔وہ اپنے عوام کو سچائی بتانے کے روادار نہیں۔ جب بھی ریاستی تشدد کا کوئی بڑا واقعہ رونما ہوتاہے کشمیری پاکستانی ردعمل کا بے چپنی سے انتظار کرتے ہیں۔وہ نہ چاہتے ہوئے بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ان کے حق میں آواز بلند کریں‘ بالخصوص میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں تک پل پل کی خبر پہنچتی ہے۔کشمیر میں ہونے والی حالیہ ہلاکتوں پر جس طرح پاکستانی میڈیا اور ممتاز پاکستانیوں نے بے حسی کا مظاہرہ کیا‘ اس نے کشمیریوں کو سخت مایوس کیا۔انسانی حقو ق کے کسی علمبردار نے مذمت کا ایک لفظ تک نہیں بولا۔اخبارات میں اس واقعے کی رپورٹنگ اور ٹیلی وژن پر ہونے والی کوریج دیکھنے سے اندازہ ہوتاہے کہ پاکستانی میڈیا کشمیر کی اہمیت سے غافل ہوچکا ہے۔ پاکستان کی اپنی مشکلات اور ترجیحات ہیں ۔حکومت داخلی مسائل میں بری طرح الجھی ہوئی ہے۔اقتصادیات کا بیڑا غرق ہوچکا ہے اور شدت پسندوں کے حملے دم نہیں لینے دیتے۔لہٰذا کشمیریوں کے دکھ درد کا مداوا کرنے کا کسی کے پاس وقت ہے اور نہ سمجھ۔پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں کشمیر پر حکومتی سطح پر لاتعلقی حد سے زیادہ بڑھ چکی تھی۔سوائے چند ایک موقعوں کے صدر آصف علی زرداری اور پارٹی کے ’وزرائے اعظموں‘ نے کشمیر کا ذکر تک کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ نواز شریف کی حکومت پر صدر زرداری کی کشمیر پالیسی کا گہرا اثر محسوس ہوتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے کچھ سیاستدانوں اور دانشوروں کا خیال ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا ذکر کرنے سے بھارت ناراض ہوجاتاہے لہٰذا ناانصافیوں اور زیادیتوں پر چپ سادھنے سے امن عمل آگے بڑھ سکتاہے۔ ایک اور نرالی منطق یہ پیش کی جاتی ہے کہ اسلام آباد اور نئی دہلی میں تعلقات کی بہتری سے کشمیر کے حالات خودبخود بہتر ہونا شروع ہوجائیں گے۔اسی لیے اب ٹریک ٹو کی سطح پر ہونے والے بہت سارے مباحثوں میں کشمیریوں کو شریک نہیں کیاجاتا یا پھر کشمیر کو ایک ضمنی موضوع کے طور پر پیش کیاجاتاہے۔اس طرزعمل نے کشمیر کے فعال طبقات میں یہ احساس پیدا کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی حکومتیں اور سول سوسائٹی انہیں نظرانداز کرکے اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہتی ہیں۔ کشمیر سے بالا پاک بھارت تعلقات کو بہتر بنانے کے ناکام تجربات پہلے بھی بہت کیے جاچکے ہیں۔یہ ممکن نہیں ہوتاہے کہ کشمیر کے اندر حالات خراب ہوں۔ کرفیو ہو۔ لوگ مارے جارہے ہوں اور اسلام آباد اور دہلی کے مابین مذاکرات کا خوشگوار دور چل رہاہو۔ حالیہ چند ماہ کے دوران کشمیر میں بڑے خطرناک قسم کے رجحانات ابھرے ہیں۔پڑے لکھے اور پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے نوجوان تیزی سے عسکریت کی جانب راغب ہورہے ہیں۔سری نگر سے چھپنے والے اخبار رائزنگ کشمیر کے ایڈیٹر شجاعت بخاری نے ایک کالم میں لکھاہے کہ ان نوجوانوںکا تعلق خوشحال گھرانوں سے ہے۔یہ شعوری طور پر عسکریت کی طرف جارہے ہیں کیونکہ انہیں مسئلہ کشمیر کا کوئی سیاسی حل نظر نہیں آتا۔علاوہ ازیںگزشتہ چار ماہ میں تیس بھارتی فوجی اور پولیس والے مارے گئے ہیں۔ سری نگر شہرمیں بی ایس ایف پر حملہ ہوا ہے۔کنٹرول لائن پر بظاہر امن قائم ہے لیکن عملاًیہاں بھی حالات کافی بگڑے ہوئے ہیں۔2012-13ء میں دوسو سے زائد مرتبہ کنٹرول لائن کی خلاف ورزی ہوئی اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ خدشہ ہے کہ اگلے چند ماہ میں کشمیر میں عسکریت کا احیا ہوجائے گا۔کشمیر سے ملنے والی اطلاعات سے بھی اندازہ ہوتا کہ وہاں نوجوانوں میں شدیت پسندی کی طرف رجحان تیزی سے بڑھ رہاہے۔بڑتی ہوئی مایوسی اور بے زاری کا اندازہ یوں بھی کیا جاسکتاہے کہ میں نے فیس بک پر لکھا: گول گلاب گڑھ کے واقعے سے پاک بھارت تعلقات میں آنے والی بہتری کو دھچکا لگ سکتاہے ۔چند منٹ میں درجنوں کشمیری نوجوانون نے تبصرہ کیا کہ بھارت اور پاکستان کے مابین ہونے والے مذاکرات سے ہمارا کیا لینا دینا۔اب نوجوانوں پر حریت کانفرنس کے رہنمائوں کااثر رسوخ بھی ناقابل ذکر حد تک کم ہوچکاہے۔وہ اکثر ان رہنمائوں کو مسترد کرتے ہیں۔ اگر اسلام آباد چاہتاہے کہ سری نگر کابل کی طرح پاکستان سے نفرت نہ کرے تو انہیں کشمیریوں کے جذبات اور احساسات کو مدنظر رکھنا ہوگا ۔ محض اسلام آباد‘ دہلی کے درمیان تعلقات کی بہتری سے کشمیری چڑ جاتے ہیں اور وہ مذاکرتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے منفی حربے استعمال کرنے پر اتر آتے ہیں۔حکومت پاکستان نے اچھا کیا کہ پگواش نامی ایک بین الاقوامی تنظیم کو اگست میں اسلام آباد میں کشمیر پر ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس کی اجازت دی۔اسی طرح سری نگر اور جموں کی کاروباری شخصیات اور تاجروں کو مظفرآباد اور میرپور کا دورہ کرنے کی اجازت دی گئی۔ اگرچہ یہ کوئی بڑے اقدامات نہیں لیکن کم ازکم کشمیر پر جاری بحث‘ مباحثے کو مثبت رخ دینے اور اس کی مرکزی حیثیت کی بحالی میں مدد دے سکتے ہیں۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں