آزادکشمیر کی سیاست نیا رخ اختیار کرچکی ہے۔ پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی نے اپنے ہی وزیراعظم چودھری عبدالمجید کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرادی ہے۔ دستوری تقاضا ہے کہ تین سے سات دنوں کے اندرتحریک پر رائے شماری کرائی جائے۔بیرسٹر سلطان محمود چودھری کا دعویٰ ہے کہ انہیں تیرہ ارکان ،نون لیگ اورایم کیوایم کی حمایت حاصل ہے۔سلطان محمود وزیراعظم بنتے ہیں یا نہیں ۔ چودھری عبدالمجید اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی قیادت نے سلطان محمود چودھری کو گزشتہ انتخابات میںیہ لولی پاپ دیا تھا کہ وہ آزادکشمیر کے وزیراعظم ہوں گے ۔ عین وقت پر چودھری عبدالمجید کو وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد کرکے صدر آصف علی زرداری نے سب کو حیرت زدہ کردیا۔ا س عرصے میںبیرسٹر سلطان محمود چودھری‘ مجید کا تختہ الٹنے کے لیے ہر وقت بے چین رہے۔اسلام آباد میں حکومت کی تبدیلی نے ان کے خوابوں کو تعبیر دی۔ پیپلزپارٹی کی صفوں میں موجود ناراض ارکان اسمبلی نے چودھری مجید کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔’اصولوں کی علمبردار ‘مسلم لیگ نون نے مجید حکومت کے خاتمہ میں اپنا حصہ ڈالا ۔راجہ فاروق حید رنہیں چاہتے کہ ایک غلط روایت پختہ ہو۔ وزارتوں کے لیے مضطرب ساتھیوں کے جذبہ جنون کے ہاتھوں بے بس ہیں۔ وفاقی حکومت براہ راست سلطان محمود چودھری کی پیٹھ ٹھونک نہیں رہی لیکن بطور پارٹی پوری طرح شریک ہے۔ چودھری عبدالمجید ایک معمر سیاستدان ہونے کے باوجود اپنا رنگ جمانے میں ناکام رہے۔صدر زرداری کی حمایت کے باوجود وہ آزادکشمیر کے نواب اسلم رئیسانی ثابت ہوئے۔ ’’ نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں ‘‘کے مصداق وہ اقتدار کے منہ زور گھوڑے پر سوا ر توہوگئے لیکن اسے سنبھال نہ پائے۔قصور چودھری مجید کا بھی نہیں۔وفاقی حکومت کی طرف سے محترمہ فریال تالپور نے آزادکشمیر میں حکومت کی راہنمائی کا فریضہ کچھ اس طرح سرانجام دیا کہ ان کی مرضی اور منشا کے بنا یہاں ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتاتھا۔محترمہ اسلام آباد میں قائم زرداری ہائوس سے ریموٹ کنٹرل سے کشمیر پہ حکومت فرماتیں۔زرداری ہائوس کے اہلکاروں کو بھی مظفرآباد میں غیر معمولی پروٹوکول دیا جاتا۔ چودھری مجید کمزور اعصاب کے مالک شخصیت ہیں جو دبائو برداشت نہیں کرسکتے ۔ فریال تالپور کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کردیتے۔سوائے تین کے تمام ارکان اسمبلی وزیر بن گئے۔چھ غیر منتخب شخصیات کو مشیر کا منصب دے کر وزیر کے مساوی مراعات دی گئیں۔پیپلزپارٹی کے پچاس کے لگ بھگ جیالوں کو مشیر او رکوآرڈی نیٹر کا منصب عطا کیاگیا۔وزیروں اورمشیروں کی یہ فوج ظفر موج محترمہ فریال تالپور کی سرپرستی میں سرکاری خزانے پر داد عیش دیتی رہی اور مجید حکومت کی کشتی میں سوراخ ہوتے رہے۔ دوسری جانب مجید ایک غیر فعال اور غیر متوازن وزیراعظم کے طور پر سامنے آئے ۔مظفرآباد کے سینئر صحافی طارق نقاش نے ان کے دورِ حکومت کو آزادکشمیر کا بدترین دور قراردیا۔ ان کا وزراء پر کوئی کنٹرول نہ تھا۔ بسااوقات سرکاری اجلاسوں اور غیر رسمی ملاقات میں بات توتکار تک جاپہنچتی ۔ چودھری مجید بے بسی کی تصویر بنے اپنی توہین برداشت کر جاتے۔ اسلام آباد میں اپنا کِلّا مضبوط رکھنے کی خاطر انہوں نے اکثر بااثر افرا د کو نئی سرکاری گاڑیاں دیں۔ کراچی میں صدر آصف علی زرداری کا سیکورٹی انچارج بلال شیخ مارا گیا۔ پتہ چلا کہ مرحوم کے زیر استعمال بھی حکومت آزادکشمیر کی گاڑی تھی۔زرداری ہائوس کے اہلکاروں کے پاس بھی آزادکشمیر کی سرکاری گاڑیاں ہیں۔ گزشتہ دوعشروں سے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور بین الاقوامی برادری کی حمایت کے حصول کے لیے آزادکشمیر کی حکومتوں نے قومی خزانے کومال مفت دل بے رحم کی طرح برتا۔ درجنوں وفود سیر سپاٹے کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں اور نام بے چارے کشمیر کا استعمال ہوتاہے۔چودھری مجید نے خود بیرونی دوروں سے گریز کیا لیکن آئے دن بھارت کو کھوکھلی دھمکیاں لگاتے اور داد پاتے رہے۔ مظفرآباد میڈیکل کالج کو میرواعظ عمر فاروق کے والد میرواعظ مولوی محمد فاروق کے نام سے منسوب کیا۔حریت کانفرنس کے راہنمائوں کے دورے پر پروٹوکول کا بھرپور اہتمام کیا ۔ نوے کی دہائی میںکشمیر لبریشن سیل کے نام سے ایک ادارہ قائم ہوا تاکہ مہاجرین کی مالی معاونت کی جاسکے اور کشمیر کاز کو دنیا میں متعارف کرانے کی غرض سے مالی وسائل دستیا ب ہوں۔ حکومت آزادکشمیر اپنے شہریوں سے لبریشن سیل کے نام پر ایک ٹیکس وصول کرتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ لبریشن سیل کے وسائل کو بے رحمی سے خرچ کیا جاتاہے۔سردار عتیق احمد خان چند ہفتے قبل اپنے اسٹاف کے ہمراہ لند ن گئے ۔انہیں سیل سے گیارہ لاکھ روپے دیئے گئے ۔بہانہ یہ تراشہ گیا کہ وہ مسئلہ کشمیر اجاگر کریں گے۔ چودھری مجید کی حکومت نے محض اسٹبلشمنٹ کی خوشنودی کی خاطر آزادکشمیر میں دستوری ترامیم کا راستہ روکا۔سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے دستوری ترامیم کا مسودہ تیار کیا تاکہ کشمیر کونسل کے توسط سے وفاقی حکومت کو حاصل اختیارات آزادکشمیر اسمبلی کو منتقل کرکے حکومت کوبااختیاربنایا جاسکے۔دستورپاکستان میں کی جانے والی اٹھارویں ترمیم نے صوبوں کے انتظامی اور مالی اختیارات میں بے پناہ اضافہ کیا۔ آزادکشمیر چونکہ وفاق کا دستوری حصہ نہیں لہٰذا ان قوانین کا اطلاق اس خطے پر نہیں ہوتا۔ اس پس منظر میں سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی نے ایک مہم چلائی کہ انہیں بھی دیگر صوبوں کے طرز پر اختیارات ملیں اوروفاق کو حاصل براہ راست اختیارات واپس آزاد کشمیر کو لوٹادیئے جائیں۔اس نقطہ نظر کو عوام میں زبردست پزیرائی ملی۔ مخصوص مفادات کی حامل قوتوں نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ اس طرح آزادکشمیر ہاتھ سے نکل جائے گا ۔پاکستان مخالف عناصر کو تقویت ملے گی۔ امسال اپریل میں صدر زرداری نے اپنے دورہ مظفرآباد میں اس امر پر مسرت کا اظہار کیا تھا کہ دستوری ترامیم کے حوالے سے کل جماعتی اتفاق رائے پیدا ہوچکا ہے۔مجید حکومت اس جھانسے میں آگئی وہ ایک تاریخ ساز کارنامہ کرنے سے محروم رہی۔ گزشتہ سات برس میں چودھری مجید چوتھے وزیراعظم ہیں جن کی ’بے وقت‘رخصتی کا ہنگام درپیش ہے۔قبل ازیں سردار عتیق احمد خان، سردار یعقوب خان، راجہ فاروق حید ر کو اپنے ہی ساتھیوں کی بے وفائی نے اقتدار سے محروم کیا ۔اس صورت حال کا آزادکشمیر کی نئی نسل پر بڑا منفی اثر پڑا ہے۔ نوجوان محقق وقاص علی کوثر کی حال ہی میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق آزادکشمیر کے نوجوانوں کی اکثریت اپنی سیاسی قیادت پر نہ صرف بے اعتمادی کا اظہار کرتی ہے بلکہ ان کے طرزحکمرانی سے شدیدمتنفر ہے۔وہ غربت اور بے روزگاری کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ قراردیتے ہیں۔ مجید حکومت کے خاتمے کے بعد یہ توقع رکھنا بعید ازقیاس ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آزادکشمیر بلوچستان کی راہ پر چل پڑاہے۔ جہاںسیاسی وفاداری اور جماعتی وابستگی مذاق بن چکی ہے۔سیاستدان اچھی حکومت کی فراہمی اور مفاد عامہ کے کاموں پر توجہ دینے کے بجائے ذاتی جاہ وحشمت اور سیاسی رسوخ میں اضافہ چاہتے ہیں۔آنے والی حکومت بھی چوں چوں کا مربہ ہوگی اور ضروری نہیں کہ تادیر قائم رہ سکے۔