ٹی وی سکرین پر وزیرخزانہ اسحاق ڈار ،ممنون حسین اور پرویز رشید کو نائن زیرو میں متحدہ قومی موومنٹ کے صدر دفتر میں مذاکرات کرتے دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ اسحاق ڈار صاحب نے فرمایا:الطاف حسین اور نوا زشریف کی ایک ہی سوچ ہے۔الطاف حسین نے کہا:نوا ز شریف اور شہباز شریف کو اپنا بھائی سمجھتاہوں۔سیاست کے رنگ ہیںنرالے ۔زیادہ پرانی بات نہیں کہ ایم کیوایم کے رہنماحیدر عباس رضوی اورچودھری نثارعلی خان کے مابین پانی پت کا معرکہ لڑا گیا۔ اب دونوں بھائی بھائی بن گئے ہیں۔ ممکن ہے ایم کیوایم وفاقی حکومت کا حصہ بھی بن جائے۔ گزشتہ انتخابات میں کراچی میں لوگوں نے متبادل سیاسی جماعت کے طور پر تحریک انصاف کو پسند کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں اسے ووٹ ملے۔دوسری جانب برطانوی قانون حرکت میں آیا۔الطاف حسین کو دستیاب آزادی نہ صرف ختم کردی گئی بلکہ ان کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ منی لانڈرنگ سے لے کر عمران فاروق قتل کیس تک کے مقدمات قائم ہوئے ۔یہ پیش رفت ایم کیوایم کے روایتی مزاج کو اعتدال میں لارہی تھی۔برطانیہ ہی نہیں دنیا کے ہرمہذب ملک میں یہ تصور محال ہے کہ کوئی شہری کسی دوسرے فرقے یا گروہ کے خلاف لوگوں کو تشدد پر اکسائے۔ایسے افراد کو کڑی سزائیں دی جاتی ہیں۔ الطاف حسین غیر محتاط اور طویل تقریروں کے باعث گرفت میں آچکے ہیں اور اب انہیں سخت برطانوی قوانین کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں نون لیگ انہیں سہارا دے کر دوبارہ پرانے راستے پر کیوں گامزن کررہی ہے؟تحریک انصاف کی مخالفت کے سوا کوئی دوسرا جواز نظر نہیںآتا۔ آزادکشمیر میں چند دوستوںکی مشاورت پر نوا زشریف نے پارلیمانی پارٹی کے فیصلے کو قبول نہیں کیا۔چودھری مجید کی حکومت کا خاتمہ نوشتہ دیوار تھا لیکن نواز شریف نہ مانے۔ جو سیاسی کارکن اور رہنما برسوں سے نون لیگ کا پرچم تھامے رہے اب مایوسی اور بے بسی کی تصویر نظر آتے ہیں۔ آزادکشمیر میں نون لیگ کی قیادت تضحیک کا نشانہ بن گئی۔کئی خواتین وحضرات برملا کہتے ہیں کہ اچھا ہوتا اگر علاقائی جماعت بنائی ہوتی ‘کم ازکم اپنے فیصلے کرنے میں تو آزاد ہوتے۔جن دنوں آزادکشمیر میں نون لیگ قائم ہورہی تھی یہ دلیل بڑے تواتر سے دی جاتی کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کی خدمت کرتے کرتے تھک گئے ہیں‘ سیاستدانوں سے ڈیل کرنا آسان ہوتاہے‘ کم ازکم وہ تذلیل تو نہیں کرتے۔راجہ فاروق حیدر کی طرح کے بے باک اوردبنگ سیاستدان کو چار گھنٹے تک انتظار کرانے کے بعد مطلع کیا گیا کہ وہ عدم اعتماد کی تحریک میں حصہ نہ لیں۔اس طرز سیاست نے آزادکشمیر میں نون لیگ کو کافی نقصان سے دوچار کیا ہے۔ کشمیر کے سنجیدہ حلقوں میں یہ بحث عام ہے کہ تحریک انصاف بنائی جائے یا پھر کوئی نئی علاقائی جماعت۔علاقائی جماعتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ اپنے چنگل میں دبوچ کر غیر موثر کردیتی ہے۔ مسلم کانفرنس کا یہ انجام نہ ہوتا اگر اسٹیبلشمنٹ نے اسے انگوٹھے تلے دبایا نہ ہوتااورسردار عتیق احمد خان کو آزادانہ فیصلے کرنے دیئے جاتے۔ قومی جماعتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں بڑے لیڈر اپنے ’مجاور‘ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ مجاورں کی باقاعدہ آبیاری کرنے کا کلچر پروان چڑھ چکا ہے۔سیاستدان نااہل لوگوں کو شعوری طور پراپنے اردگرد رکھتے ہیں۔زیادہ ذہین فطین لوگوں سے انہیں خطرہ محسوس ہوتاہے۔ وہ زمانہ لد گیا جب حکمران اپنے سے زیادہ قابل لوگوں کو اپنے ساتھ رکھتے تھے تاکہ اچھے مشورے مل سکیں۔ ممتاز مفتی کمال کے ادیب تھے۔الکھ نگری میں لکھتے ہیں: ’ایک کالے کلوٹے دوست نے بڑی چاہ سے مجھے شادی میں شہ بالا بنایا۔شرمیلی طبیعت کے باعث میں تقریبات میں جانے سے کتراتاتھالیکن وہ نہ مانا۔ بارات کے ساتھ دلہن کے گھر پہنچے تو دلہا کا بڑا زبردست استقبال ہوا۔کچھ دن بیت گئے تو برسبیل تذکرہ پوچھا کہ تمہارے اور بھی بڑے قریبی یار ہیں‘ مجھ پر ہی نظر کرم کیوں؟ بلاتکلف جواب دیا: یار میرے احباب میں تم سے زیادہ مریل اور بدصورت کوئی دوسرا نہیں‘ تمہیں شہ بالا بنانے میں حکمت یہ تھی لوگ میری طرف متوجہ رہیں۔تم نے دیکھا‘ کسی نے تمہاری جانب آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھااور میں مرکز نگاہ بنا رہا‘۔ اب جناب ممنون حسین کو صدر پاکستان بنایا جارہاہے۔ موصُوف کی قابلیت اور قوت لسانی کی چاردانگ عالم شہرت ہے۔ایسا لگتا ہے کہ نون لیگ کے پاکستان میں قحط ا لرجال ہے۔ صدرآصف علی زرداری کی سیاست سے اختلاف اپنی جگہ لیکن انہوں نے محترمہ فہمیدہ مرزا کو قومی اسمبلی کا اسپیکر ،حنا ربانی کھر کو وزیرخارجہ اور شیری رحمان کو امریکا میں پاکستان کا سفیر بنا کر ملک کا سافٹ امیج ابھارنے کی کوشش کی۔نون لیگ بھی کسی خاتون کو ملک کا صدر بنا سکتی تھی۔بھارت میں حال ہی میں پرتیبھا پٹیل صدر کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئی ہیں۔ ان سے پہلے ممتاز سائنسدان اے پی جے عبدالکلام صدر کے منصب پر فائز رہے۔آزاد ی کے بعد کے زمانے میں ممتاز دانشور اور ماہر تعلیم ذاکر حسین کو صدر بنایا گیا۔انہوں نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا:پورا بھارت میرادیش ہے اور اس کے عوام میرا خاندان ہیں۔آج تک ذاکر حسین کی اس تقریر کو یاد کیاجاتاہے۔اب دیکھتے ہیں کہ جناب ممنون حسین اپنی پہلی تقریر میں کیسے جوہر خطابت دکھاتے ہیں۔ اسلام آباد میں ضمنی انتخابات کا ایک معرکہ لڑا جانے والاہے۔تحریک انصاف نے اسد عمر کو امیدوار نامزد کیا جو پی ٹی آئی کے ایک رہنما جاوید ہاشمی کی خالی کردہ نشست پر انتخابات میں حصہ لیں گے۔ان کے مدمقابل حنیف عباسی ہیں۔قبل ازیں اس حلقے سے انجم عقیل امیدوار تھے۔ان پر مالی معاملات میںخوردبرد اور بدعنوانی کے الزامات ہیں جس کے باعث اسلام آباد کے شہریوں نے انہیں مسترد کرکے ملتان سے آئے جاوید ہاشمی کو ووٹ دیئے۔ اب پھر حنیف عباسی کو میدان میں اتارا گیا ہے۔ ان پر بھی کئی طرح کے الزامات ہیں۔ اسد عمر ایک سنجیدہ اور باوقار سیاسی کارکن ہیں۔ انہیں سیاستدان قراردینا فی الحال قبل ازوقت ہے۔ پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے مالامال انسا ن ہیں۔ بہت بڑی ماہانہ تنخواہ‘ جس کا پاکستان میں کوئی شخص صر ف خواب ہی دیکھ سکتاہے‘ چھوڑ کر سیاست میں شامل ہوئے ہیں۔