امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں ڈرون حملوں کے خاتمے کے متعلق دوٹوک وعدہ نہیں کیا لیکن امید ضرور دلائی کہ یہ سلسلہ جلد ختم ہونے والاہے۔ محدود افادیت اپنی جگہ لیکن ان حملوں کے نتیجے میں 3,460 شہری ہلاک ہوچکے ہیں‘ جن میں زیادہ تر بے گناہ افراد بتائے جاتے ہیں۔ان ہلاکتوں کی وجہ سے ملک میں امریکا مخالف جذبات بھڑکے اورشہریوں کی نگاہ میں ریاست کی عمل داری مشکوک ہوگئی۔ جان کیر ی ‘ پاکستانیوں کے لیے اجنبی نہیں۔وہ واشنگٹن میں پاکستان کے آزمودہ حلیف تصور کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کے راستے سے کانٹے چنے ۔بطور وزیرخارجہ ان کا یہ پہلا دورۂ پاکستان تھا۔پاکستان میں بھی نئی حکومت ہے جو امریکا ہی نہیں بلکہ خطے کے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی علمبردار ہے۔ کیری دورے کے اختتام پر کافی پراعتماد اور پاکستانی حکام مطمئن اور مسرور دکھائی دیئے۔ اس دورہ کا حاصل پاک امریکا اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کی بحالی کو قراردیا جاسکتاہے۔ یہ ایک ایسا فورم ہے جہاں دونوں ممالک کی قیادت اعلیٰ ترین سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گی اور ادارہ جاتی بنیادوں پر مکالمے کے ذریعے دوطرفہ تعاون کی نئی راہیں تلاش کی جائیں گی۔ یہ ڈائیلاگ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگلے اٹھارہ ماہ میں افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء مکمل ہوجائے گا۔ 2015ء میں کیر ی لوگر بل کی مدت ختم ہوجائے گی اور پاکستان کو ملنے والی سالانہ مالی امداد کا سلسلہ ٹوٹ جائے گا۔ عالمی کساد بازاری کے سبب امریکا کی اپنی تجوری خالی ہے۔ پاکستان بھی امداد کی بجائے تجارت اور کاروباری شراکت داری میں وسعت پیدا کرنے کی خواہش رکھتاہے۔اس کے ساتھ ہی پاکستان میں جاری یو ایس ایڈ کے منصوبے بندہوجائیں گے۔ پاکستان میں موجود امریکی شہریوں کی بڑی تعداد واپس چلی جائے گی۔ اس پس منظر میں دونوں ممالک کو ایسی ٹھوس بنیادیں تلاش کرنی ہیں جن پر پاک امریکا تعلقات کے مستقبل کی عمارت استوار کی جاسکے۔ابھی تک تعلقات کا محور دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے۔ امریکی حکام بلاہچکچاہٹ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پاک امریکا تعلقات یک رخے ہیں۔انہیں ہمہ جہتی بنانے کی ضرورت اجاگر کی جاتی رہی ہے لیکن ابھی تک قابل عمل آئیڈیا ز سامنے نہیں آسکے‘ جو دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کی نشاندہی کرتے ہوں۔ دوسری جانب بدقسمتی سے دونوں ممالک کے ورلڈ ویو اور ترجیحات میں بھی نمایاں تضاد پایا جاتا ہے۔ افغانستان میں بھارت کا کردار امریکا کے نزدیک سود مند ہے جب کہ اسلام آباد میں اسے پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے سے تعبیر کیاجاتاہے۔ افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی مداخلت اسلام آباد کے لیے بہت بڑی دردسری ہے جب کہ امریکیوں کے نزدیک یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔جوہر ی ہتھیاروں کے پھیلائو کے امور پر بھی دونوں ممالک کے تصورات میں بنیادی نوعیت کے اختلافات پائے جاتے ہیں۔پاکستان کی مشرق وسطیٰ بالخصوص اسرائیل کے بارے میں پالیسی بھی امریکا کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ پاکستان کی بنیادی پریشانی یہ ہے کہ امریکا افغانستان سے جارہاہے ۔ اپنے پیچھے غیر مستحکم اور معاشی طور پر بدحال افغانستان چھوڑ کر جارہا ہے۔یہ خدشات بھی ہیں کہ کہیں افغانستان دوبارہ خانہ جنگی کا شکار نہ ہوجائے۔پاکستان میں اب مزید افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں۔علاوہ ازیں افغانستان میں جاری سیاسی کشمکش میں نہ چاہتے ہوئے بھی پاکستان کی حکومت اور شہری ملوث ہوجاتے ہیں‘خطے کے دوسرے ممالک کے اثرونفوذ کو روکنے کے نام پر اور کبھی اپنے مفادات کے تحفظ کے عنوان سے۔ یہ مداخلت جہاں پاکستان کو بہت مہنگی پڑتی ہے وہاں افغانستان میں امن قائم نہیں ہونے دیتی۔اسی خدشے کے تدارک کے لیے پاکستان نے افغان طالبان قیدی رہاکیے۔ان کا امریکا کے ساتھ رابطہ کرایا گیا۔قطرمیں انہیں دفتر کھولنے میں معاونت فراہم کی۔ سفری دستاویزات فراہم کیں۔افغان صدر حامد کرزئی کی ناراضگی کے علی الرغم دوحہ مذاکرات میں سہولت کا ر کا کردار ادا کیاتاکہ افغان امن عمل آگے بڑھ سکے۔پاکستان کے اس مثبت کردار کی عالمی سطح پر ستائش ہوئی ۔ماضی کے برعکس اب دنیا پاکستان کو دہشت گردی کا محور قرار نہیں دیتی اور نہ ہی پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد سے پکڑے جانے کے باوجود پاکستان کا خطے میں ازسر نو اہم کردار ادا کرنا کسی معجزے سے کم نہیں۔ گزشتہ دوبرسوں میںپاک امریکا تعلقات میں تنائو اور کشیدگی رہی۔حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہے۔امریکا کامتبادل تلاش کرنے کے لیے بڑے جتن کیے گئے۔ چین کے ساتھ تعلقات میں مزید گہرائی لائی گئی ۔جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ماسکو کا دورہ کیا۔ایران اور ترکی کے ساتھ تعلقات میں تجارت اور کاروبار کے نئے افق تلاش کئے گئے۔ امریکا نے بھی پاکستان پر انحصار کم کرنے اور افغانستان میں اپنی افواج کی سپلائی کے لیے متبادل راستوں کے حصول کی سرتوڑ کوشش کی۔وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ معاہدے کیے لیکن آخر کار دونوں ممالک اس نتیجے پر پہنچے کہ ایک دوسرے کے ساتھ نبھا کرنا مجبوری بھی ہے اور ایک دوسرے کے لیے سود مند بھی۔امریکا نے بھی حقیقت پسندانہ موقف اپنایا اور غیر ضروری طور پر پاکستان پر دبائو ڈالنا ترک کردیا ۔پاکستان بھی امریکا سے اب زیادہ امیدیں نہیں رکھتا ۔یوں معمول کے دوطرفہ تعلقات کی بحالی ممکن ہوئی۔ کچھ باخبر تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ امریکااپنا آخری سپاہی افغانستان سے نکالنے تک پاکستان کے ناز نخرے اٹھاتارہے گا۔اس کے بعد وہ پاکستان کے ساتھ وہی سلوک دہرائے گا جو اسی کی دہائی کے آخرمیں سوویت یونین کی شکست وریخت کے بعد روا رکھا گیا تھا ۔اس لیے امریکیوں سے زیادہ توقعات نا رکھی جائیں۔ دوسری پریشانی یہ ہے کہ مفت ملنے والی مالی امداد کے سوتے بھی خشک ہونے والے ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ دس برس میں پاکستان کو 25.9ڈالر امریکی امداد ملی ۔ غیر ملکی امداد کی بندش سے ’غالب خستہ‘ کا حال مزید پتلا ہوجائے گا۔ بظاہر ایسا لگتاہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے ماضی کے تلخ تجربات سے بہت کچھ سیکھا ہے۔اب وہ اہم فیصلوں سے قبل قومی سلامتی کے متعلقہ اداروں سے مشاورت کرتے ہیں۔جان کیر ی کے دورہ پاکستان سے قبل بھی انہوں نے تما م اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس بلایا تاکہ اہم امور پرمتفقہ حکمت عملی مرتب کی جاسکے۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے اور ایک دوسرے سے مختلف باتیں کرنے سے صرف کنفیوژن پھیلتاہے۔دنیا بھی یہ غلط تاثر لیتی ہے کہ یہاں طاقت کا ایک نہیں متعدد مراکز ہیں ۔ فیصلہ سازی کا عمل منقسم ہے لہٰذا وہ آسانی سے داخلی تقسیم کا فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ حکومت کو کوشش کرنی چاہیے کہ اگلے برسوں میں بھی امریکا کے ساتھ تعلقات خوشگوار رہیں۔افغانستان سے پوری طرح فوجی انخلانہ ہو تاکہ خطے میں امریکی دلچسپی برقرار رہے۔ اسی صورت میں پاکستان کی اسٹرٹیجک اہمیت قائم رکھی جاسکتی ہے۔افغانستان میں عالمی برادری کے اشتراک سے سیاسی استحکام کے قیام کے لیے مخلصانہ کوششیں جاری رکھی جائیں۔اس تلخ حقیقت کا ادراک کیا جائے کہ پاکستان میں امن وامان کا ہر راستہ کابل سے گزرتا ہے۔ مستحکم افغانستان مستحکم پاکستان کی ضمانت فراہم کرسکتاہے لہٰذا اگلے اٹھارہ ماہ میں ہر ممکن کوشش کی جائے کہ صدر حامد کرزئی اور متحارب افغان گروہوں کے مابین صلح کا کوئی راستہ نکل آئے۔