اس مرتبہ یوم آزادی پاکستان اور بھارت کے مابین کنٹرول لائن پر شروع ہونے والی کشیدگی کے سائے تلے منایا گیا۔ اشتعال کا عالم یہ ہے کہ بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے جموں کے کور ہیڈکواٹرز کے دورے میںفوجی کمانڈروں سے تلخ لہجے میں استفسار کیا: پاکستان کی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جواب دینے سے کس نے روکا؟ میں چاہتاہوں کہ کنٹرول لائن پر تعینات کمانڈر جارہانہ انداز میں موثر جوابی کارروائی کریں۔ بھارتی وزیردفاع اے کے انتھونی نے کہا کہ بھارتی فوج کو آزادی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کشیدگی سے نمٹے۔ چنانچہ اب کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر متعدد مکامات پر جاری فائرنگ سے فوجی جوانوں سمیت عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم نوا زشریف نے کوشش کی کہ وہ کشیدگی کو کم کریں لیکن بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان اس کے پانچ فوجیوں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرے۔ ممبئی حملوں کے مقدمہ میں زیرحراست لشکرطیبہ کے رہنمائوں بالخصوص ذکی الرحمان کو سزاسنائی جائے۔ مطالبات کی فہرست لمبی اور ناقابل عمل ہے۔ دوسری جانب بھارتی اسٹبلشمنٹ میںافغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کی واپسی کے بعد کے منظر نامے پر سخت اضطراب پایا جاتا ہے۔ توقعات کے برعکس پاکستان کی کوششوں سے طالبان اور امریکا کے درمیان براہ راست بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی کی حکومت بھی بتدریج اس عمل میں شریک ہوتی جا رہی ہے۔ امریکا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی نہ صرف کم ہوگئی ہے بلکہ پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کی جانے لگی ہے۔ یہ بھی امکان ہے کہ طالبان کسی مرحلے پر افغان حکومت کا حصہ بن سکتے ہیں۔ پاکستان کی سرحد سے متصل صوبوں میں طالبان کی حکومتیں بھی قائم ہونے کا قوی امکان ہے۔ بھارت کو امید تھی کہ پاک امریکہ تعلقات میں پایا جانے والا تنائو اس کی اسٹریٹیجک حیثیت کو تقویت فراہم کرے گا لیکن عملاًایسا نہ ہو سکا۔ تیزی سے متشکل ہوتے ہوئے اس منظرنامے میں بھارت کی حیثیت بری طرح متاثر ہو تی نظرآتی ہے۔ بھارت کا دوسر ا بڑا اور مستقل دردِ سر مقبوضہ کشمیر کے اندر تیزی سے بڑھتی ہوئی شدت پسندی کا رجحان ہے۔اگرچہ کنٹرول لائن سے دراندازی اور وادی میں سرگرم عسکریت پسندوں کی موجودگی بہت ہی محدود ہے لیکن اطلاعات ہیں کہ بڑے پیمانے پر تعلیم یافتہ اور صاحب حیثیت خاندانوں کے نوجوان عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ برطانوی صحافی اور مصنف جیسن برک نے ‘جس نے القاعدہ پر دو معرکتہ الا آراء کتابیں لکھی ہیں ‘چند دن قبل گارجین میںچھپنے والے اپنے مضمون میںایک پولیس افسر کا حوالہ دیا کہ کشمیر میں جنگجو اس لیے کم ہیں کہ انہیں ہتھیار دستیاب نہیں۔ اگر ان کی کمک بحال ہوجائے تو ہزاروں افراد بندوق اٹھانے کو تیار ہیں۔ جیسن کے مضمون کا ماحاصل یہ ہے کہ اگرچہ ابھی پرتشدد کارروائیوں کی سطح کم ہے لیکن اضافہ متوقع ہے۔ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ جو غیر ملکی جہادی افغانستان میںمغربی ممالک سے برسرپیکار ہیں وہ امریکی فوجی انخلا کے بعد کشمیر کا رخ کرسکتے ہیں۔ بھارت کشمیر میں عسکریت کے احیا کے ہر امکان کا سدباب کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل کے طرز پر اپنے مخالفین کا قلع قمع کرنے کے لیے سرحد پار آپریشنز بھی زیرغور ہیں۔ گزشتہ دس سال سے کولڈسٹارٹ ڈاکٹرائن کے عنوان سے سبک رفتاری سے پاکستان کے زیرانتظام علاقوں یا پاکستان کے اندر فوجی آپریشن کی تیاری جاری ہے۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ مظفرآباد میں مقیم متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سیّدصلاح الدین کو قتل کرانے کا ایک منصوبہ اس وقت ناکام ہوا جب قاتل قبل از وقت بارود پھٹ جانے سے جاں بحق ہوگیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ صلاح الدین کو ایک بم دھماکے میں ہلاک کرانے کا منصوبہ تھا۔ جس کے لیے ایک نوجوان وادی سے پاکستان لایا گیا۔ جسے بھاری نقد رقم اور دوبئی میں مکان کا لالچ دیا گیا۔ حافظ محمد سعید کی سلامتی کو بھی اسی طرح کے غیرمعمولی خطرات لاحق ہیں۔ اس نوعیت کے جارہانہ اقدامات کو اسٹرٹیجک کمیونٹی کے ایک غالب حصے کی حمایت بھی حاصل ہے۔ حال میں چالیس سرکردہ بھارتی شہریوں نے‘ جن میں فوج کے دو اور فضائیہ کے ایک سابق سربراہان بھی شامل ہیں ‘حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل معطل کر دے۔ ایسے اقدامات کرے جو پاکستان کے لیے بھارت سے محاذ آرائی جاری رکھنا ناممکن بنا دیں۔ کئی دانشور اور حربی امور کے ماہرین اپنی حکومت کو مشورہ دیتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف سرگرم تعاقب کی پالیسی اپنائے ۔ پاکستان میں جنگجوئوں کے تربیتی کیمپوں پر حملے کرے۔ جس طرح 1988ء میں امریکا نے خوست میں اسامہ بن لادن کے کیمپ پر کیا تھا۔ ممبئی حملوں کے بعد بھارت میں پاکستان کے بارے میں نرم گوشہ تلاش کرنا جہاں محال ہوگیا وہاں اعلیٰ حلقوں میں پاکستان سے تعلقات میں بہتری کے حامیوں کی آواز بری طرح دب گئی ہے۔ وہ عناصر زیادہ قوی ہو چکے ہیں جو پاکستان کے ساتھ سخت گیر رویئے کی وکالت کرتے تھے۔ پاکستان میں جاری شدت پسندی کی کارروائیوں کے پس منظر میں بہت سارے لوگ اسی وجہ سے غیر ملکی ہاتھ کا ذکرکرتے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے تجزیے پڑھ اور سن کر اندازہ ہوتاہے کہ بھارتی رائے عامہ کا موڈ تعلقات کی بہتری کے لیے ہموار کرنا کس قدر دشوار ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کے حق میں کونسی حکمت عملی بہتر ہے؟ بہت سارے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستان نے تحمل کی جو پالیسی اختیار کی ہوئی ہے وہ کمزوری کی عکاسی کرتی ہے۔ نواز شریف حکومت جرأت کامظاہرہ کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ کشیدگی ایک بہت بڑا جال ہے جس میںپھنسنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ پاکستان کو اپنی ترجیحات کے مطابق چلنا چاہیے اور تحمل کی موجودہ پالیسی جاری رہنی چاہیے تاکہ اس وقت تک جو کامیابیاں حاصل کی جاچکی ہیں وہ ضائع نہ ہوں۔ افغانستان میں جاری پیس پراسیس پر توجہ مرکوز رکھی جانی چاہیے۔ بھارت سے معمول کے تعلقات کی بحالی داخلی امن کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم خان رئیسانی اگرچہ ایک مزاحیہ کردار بن چکے ہیں لیکن گزشتہ دنوں انہوں نے بڑے پتے کی بات کی:کشمیر کا مسئلہ حل کرو بلوچستان کا مسئلہ خودبخود حل ہوجائے گا۔ پاکستان میں امن وامان کے مسائل کی جڑیں اس کی خارجہ پالیسی میں پیوست ہیں۔ بھارت کے ساتھ کشیدگی جاری رکھنا پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ یہ پاکستان کو مزید کمزور کرنے کی گہری سازش ہے۔ روز روزکے دھماکوں اور حملوں نے پہلے ہی پاکستان کو چکنا چور کررکھا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ بھارت کو مذاکرات کے عمل سے بھاگنے نہ دے۔ مسائل کے حل کے لیے مزید خوداعتماد ی کا مظاہرہ کیاجائے۔ سیاچن اور سرکریک پر پیش رفت کی حوصلہ افزائی کی جائے جبکہ کشمیر پر ہر اس اقدام کی حمایت کی جائے جو ’اسٹیٹس کو‘کی قوتوں کو کمزور کرتا ہو۔ پاکستان بھارت کے پانچ فوجی جوانوں کی ہلاکت کی مشترکہ یا غیر جانبدار ادارے سے تحقیقات کی تجویز بھی دے سکتاہے تاکہ حقائق کا علم ہوسکے۔ کنٹرول لائن پرجنگ بندی کو برقراررکھنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔اس میں کشمیریوں کا بھی فائدہ ہے۔ وزیراعظم نواز شریف من موہن سنگھ کے ساتھ ملاقات کو انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔ اگر بھارت یہ سربراہی ملاقات منسوخ کرتاہے تو کرے لیکن پاکستان کو ایسا کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔