"IMC" (space) message & send to 7575

عمران خان کوجلدی کس بات کی ہے؟

روز اوّل سے عیاںتھا کہ تحریک انصاف اور عمران خان نون لیگ کی حکومت کو آسانی سے ٹکنے نہیں دیں گے۔ یہ اندازہ ہرگز نہ تھا کہ ان کے صبر کا پیمانہ اس قدر جلد لبریز ہو جائے گا۔ وزیر اعظم نواز شریف کو اقتدار سنبھالے ابھی پانچ ماہ بھی نہیں ہوئے کہ نون لیگ کی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا گیا۔سوال یہ ہے کہ عمران خان کو جلدی کس بات کی ہے؟ الیکشن کے بعد تحریک انصاف نے دھاندلی کے خلاف احتجاج ضرور کیالیکن بھرپور احتجاجی تحریک نہیں چلا سکی ۔قوم اور معاشرے کے فعال طبقات نے انتخابات کے نتائج کو قبول کرلیا۔عالمی اداروں نے بھی انہیں پوری طرح شفاف قرار نہیں دیا لیکن تیسری دنیا کے معیار کے مطابق انہیں قبولیت کی سند عطا کردی گئی۔ قومی اسمبلی میں عمران خان نے حلف اٹھانے کے بعد جو تقریر کی‘ اس میں چارحلقوں میں ازسرنو انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ حکومت دھاندلی ثابت ہونے پر چار نہیں چالیس حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کے لیے تیارہے لیکن تحریک انصاف ان نشستوں پردوبارہ انتخابات کرانے کے لیے فضا ہموار نہ کرسکی۔ حقیقت یہ ہے کہ انتخابات کا اپنا ایک موسم اور ماحول ہوتاہے ۔ حکومتیں تشکیل پا جائیں تولوگ معمول کی مصروفیات کی طرف لوٹ جاتے ہیں، سیاسی درجہ حرارت گر جاتا ہے اس لیے عوام کو دوبارہ سیاسی محاذ آرائی کے لیے متحرک کرنا عملاًممکن نہیں رہتا۔ مجھے نہیں لگتا کہ آج کی تاریخ میں عوام تحریک انصاف کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے میدان میں نکلیں گے۔احتجاجی تحریک کا اعلان لاحاصل مشق نہیں تو قبل ازوقت ضرور ہے۔ابھی تک نون لیگ کی حکومت کے خلاف عوام میں بیزاری کے وہ جذبات پیدا نہیں ہوئے جو احتجاجی تحریکوں کا حصہ بننے پر لوگوں کو اکساتے ہیں۔دوسری جانب عوام پیپلزپارٹی کی حکومت کا نون لیگ کی موجودہ حکومت کی کارکردگی سے موازنہ کرتے ہیں تو سکھ کا سانس لیتے ہیں کیونکہ وزیراعظم نواز شریف کی ٹیم متحرک ہے اور ملک کو مسائل سے نکالنے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے۔ نون لیگ کی موجودہ حکومت کے دوپہلو ایسے ہیں جو تیزی سے اس کی مقبولیت کا گراف گرانے کا سبب بن سکتے ہیں۔گزشتہ پانچ ماہ میں مہنگائی کا طوفان امڈ آیا ہے۔ ہزاروں نہیں لاکھوں روپے ماہانہ آمدنی والے لوگ بھی سیاپا کرتے نظر آتے ہیں۔لگتا ہے ہوش ربا مہنگائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔نون لیگ حکومت کی دوسری بڑی کمزوری یہ ہے کہ ’سرکار‘ وزیراعظم ہائوس اسلام آباد یا وزیراعلیٰ پنجاب کے سیکرٹریٹ سے کنٹرول کی جاتی ہے۔وزراء دبے لفظوں میں شکوہ کرتے ہیں کہ انہیں آزادی کے ساتھ کام نہیں کرنے دیا جاتا، ایک مخصوص لابی ہر کام میں ٹانگ اڑاتی اور من مانی کرتی ہے۔اسی وجہ سے مفاد عامہ کے کام بر وقت نہیں ہوتے۔ ایک سینئر سرکاری افسر کا کہنا ہے کہ کوئی فائل وزیراعظم ہائوس چلی جائے تو واپسی کا سفر کئی ہفتوں میں طے کرتی ہے۔ وزیراعظم نے اپنی مرضی سے بے پناہ ذمہ داریاں سنبھال رکھی ہیں۔ وہ خارجہ اوردفاع کے وزیر علاوہ کئی دوسرے اداروں کے سربراہ بھی ہیں ۔آزادکشمیر میں کشمیر کونسل کے نام سے ایک ادارہ قائم ہے جو وفاقی اور آزادکشمیر کی حکومتوں کے مابین رابطے کا کام کرتاہے،اس کے پاس اربوں روپے کا بجٹ ہے۔اس کا بجٹ اجلاس وزیراعظم کی زیر صدارت جون میں ہونا چاہیے تھا تاکہ یہ فنڈز مظفرآباد منتقل ہوں مگریہ اجلاس ابھی تک نہیں ہوسکا۔اب کشمیر کونسل کے ایک رکن نے تجویز دی ہے کہ وزیراعظم کے پاس وقت نہیں تو وہ کانفرنس کال کے ذریعے ہی میٹنگ میں رسمی طور پر شرکت کرلیں تاکہ قانونی تقاضا پورا ہوسکے۔ بلوچستان‘ جہاں وزیراعظم نے کھلے دل کا مظاہر ہ کیا اور عبدالمالک کو وزیراعلیٰ مقرر کیا وہ بھی توجہ سے محروم ہے۔کئی ماہ بعد صوبائی کابینہ بننے کی نوبت آئی۔ وزیراعلیٰ عبدالمالک کا کہنا ہے کہ وہ لاپتا افرادکا مسئلہ حل کرانے میں ناکام رہے ہیں۔ظاہر ہے کہ وفاقی حکومت کی دلچسپی اور مدد کے بغیر لاپتا افراد کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔سپریم کورٹ بھی لاپتا افراد کے حوالے سے اکثر حکومت کی سرزنش کرتاہے لیکن متعلقہ ادارے ٹس سے مس نہیں ہوتے۔کوئی بھی ادارہ ان افراد کی گمشدگی کے حوالے سے سچ بولنے یا ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے تیار نہیں۔ خیبر پختون خو ا کی حکومت کے ساتھ بھی وفاق کے تعلقات ہموار نہیں۔وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا وزیراعظم سے رابطہ نہ ہونے کے مترادف ہے۔انہیں غیر ملکی دوروں میں شریک نہیں کیا جاتا۔تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کوطالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں براہ راست شریک نہیں کیا گیا۔ان کے سیاسی حریف مولانا فضل الرحمن میلہ لوٹ رہے ہیں۔ وہ کابل تشریف لے گئے جہاں صدارتی محل میں صدر حامد کرزئی سے نشست کی۔ واپسی پر فرماتے ہیں: ہم (میں)نے تین دن میں وہ کچھ حاصل کیا جو پاکستان کی حکومت اور سفارت کار برسوں میں حاصل نہ کرسکے۔ وہ حکومت کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے فوکل پرسن بن چکے ہیں جو صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کو گوارا نہیں۔جواباً وزیراعلیٰ پرویز خٹک ہیرو بننے کے لیے نیٹو سپلائی روکنے کی دھمکی دے رہے ہیں جبکہ عمران خان وفاقی حکومت کو ڈرون گرانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ دوسری طرف طالبان سے مذاکرات فی الحال ’مذاق رات ‘بن چکے ہیں،کوئی ٹھوس پیش رفت ہوتی نظر نہیں آتی۔امریکا ڈرون حملے روکنے کے لیے تیار نہیں اور طالبان ڈرون رکوانے کی شرط منوائے بغیر جنگ بندی نہیں کریں گے۔ انگریزی میں Anti Incumbency کی ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ حکومتی چہرے دیکھ دیکھ کر یا اس کے اقدامات سے بیزار ہوجاتے ہیںاور تبدیلی کی خواہش کرنے لگتے ہیں۔موجودہ حکومت ابھی اس قدر غیر مقبول نہیں ہوئی کہ لوگ تبدیلی کے نعرے کے پیچھے اٹھ کھڑے ہوں۔ پیپلزپارٹی حزب اختلاف کا کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی حال ہی میں کراچی میں کی جانے والی دھواں دھار تقریر کے فوراًبعد ان کے والد گرامی آصف علی زرداری نے نواز شریف کو دوستی اور محبت کا پیغام دے کراس تقریر کاتاثر ختم کردیا۔زرداری صاحب کے بارے میں کہاجاتاہے کہ وہ مولانا فضل الرحمن کی طرح کچی گولیاں نہیں کھیلتے۔کئی تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ وہ نوازشریف کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہتے ۔انہیں معلوم ہے کہ پاکستان کو موجودہ سیاسی اور معاشی بحران سے نکالنا ممکن نہیں ‘لہٰذا وہ چاہتے ہیں کہ نون لیگ کو پورا موقع ملنا چاہیے تاکہ عوام خراب کارکردگی کی بنیاد پر اگلے انتخابات میں اسے مسترد کردیںاور اس وقت پیپلزپارٹی نجات دہندہ کے طور پر سامنے آئے۔ عمران خان نون لیگ کی حکومت کے خلاف ضرور متحرک ہوں لیکن احتجاجی تحریک چلانے کے لیے حالات سازگار نظر نہیں آتے۔ انہیں ابھی انتظار کرنا چاہیے۔ انہیں خیبر پختونخوا میں اچھی حکومت(گڈ گورننس) کا مینڈیٹ ملاہے۔ کے پی کے کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر ہرایک کی نظرہے۔اگر وہ اس صوبے کے عوام کے حالات سدھارنے ‘امن وامان بحال کرنے اور معاشی خوشحالی لانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو لوگ انہیں آئندہ عام انتخابات میں کامیابی سے ہمکنار کرسکتے ہیں۔ابھی تک تو وہاںکوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آتی۔عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ وہ صوبے میں نوے روز میں بلدیاتی انتخابات کرائیں گے لیکن ابھی تک ان انتخابات کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوسکی۔اور بھی بہت کچھ کے پی کے میں کیا جاناچاہیے۔ علاوہ ازیں ملک کے حالات بھی احتجاجی تحریک کا متحمل نہیں ہیں۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں