تحریک طالبان پاکستان کے امیرحکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت نے سرکاری اور سیاسی حلقوں میںکھلبلی مچادی ۔ وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے دھواں دھار پریس کانفرنس میںفرمایا: امریکہ نے بدعہدی کی اور دوطرفہ تعلقات پر نظر ثانی ہوگی۔تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نیٹو سپلائی معطل کرنے کا اعلان کرچکے ہیں‘حتیٰ کہ وہ صوبائی حکومت کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔روایتی طالبان نواز حلقے بھی شمشیر بکف ہیں۔انہیں اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کا سنہری موقع ملاہے۔نون لیگ‘تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کے مابین حکیم اللہ محسود کا سوگ منانے کا مقابلہ جاری ہے۔ سیاسی لیڈرشپ مشکل حالات میں غیر جذباتی فیصلہ کرتی ہے اور ہوش وخرد کا دامن نہیںچھوڑتی۔ملک اور قوم کو ناقابل برداشت مشکلات کا شکار نہیں کرتی۔حکیم اللہ محسود اب قید حیات سے آزاد ہوچکے ہیں۔ان کا باب بند ہوچکا۔حکومت اور سیاستدانوں کو غور کرنا ہوگا کہ اس صورت حال سے کیا فائدہ اٹھا یاجاسکتا ہے؟حکیم اللہ محسود کا گروپ کمزور اور گھائل ہوچکا ہے۔اس کی اعلیٰ سطحی لیڈر شپ ماری جا چکی ۔ان کا نیٹ ورک بڑی حد تک ٹوٹ چکا ہے۔کمزور اور شکست خوردہ فریق کے پاس مذاکرات کے سوا کوئی آپشن نہیں رہتا۔ آزمودہ جنگی حکمت عملی یہ ہے کہ مذاکرات سے پہلے مخالفین کو کمزور کیا جاتا ہے تاکہ سودا بازی میں برتری حاصل کی جاسکے۔ واللہ !ڈرون حملوں کی حمایت کا تصور بھی محال ہے۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ تمام تر کوششوں اور آہ وزاری کے باوجود ڈرون حملے بند نہیں ہوپاتے۔ ڈرون روکنا اسلام آباد کے بس میں نہیں حتیٰ کہ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر رچرڈ اولسن کے اختیار میںبھی نہیں۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ واشنگٹن میں ڈرون حملوں کی حامی لابی بہت طاقت ور ہے۔ چودھری نثار وزیرداخلہ ہونے کے باوجود قائد حزب اختلاف کی طرح گفتگو کرتے ہیں۔ایسا لگتاہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ دانستہ یا نادانستہ سیاسی مسابقت میں الجھ چکے ہیں۔عمران خان کی سیاست کو انتہاپسندانہ موقف بھاتاہے۔وہ خیبر پختون خوا میں حکومت چلانے پر قانع نہیں۔ چاہتے ہیں کہ جلدازجلد اسلام آباد اور پنجاب پر تحریک انصاف کا پرچم لہرائے۔پاکستان میں امریکہ کے خلاف تحریک چلانا اور رائے عامہ کو بھڑکانا نسبتاً سہل کام ہے ۔ نیٹو سپلائی روکنے کے نعرے پر پی ٹی آئی کی سیاست چمک سکتی ہے۔لوگ انہیں بہادر اور محب وطن راہنما مان لیں گے۔پورے ملک کے پختونوں اور دائیں بازوکے حلقے میں انہیں مقبولیت حاصل ہوگی ۔ پتہ نہیںچودھری نثار اس طرزسیاست سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ان کا جوش خطابت ان کی اپنی حکومت اور جماعت کے لیے مشکلات کا باعث بن جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے لیے نیٹو سپلائی روکنا اور بعدازاں اس فیصلے پر قائم رہنا ممکن ہے؟یہ بھی پیش نظر رہے کہ نیٹو سپلائی محض امریکہ کے لیے نہیں جاتی بلکہ دنیا کے 52 طاقت ور ممالک اس سپلائی سے استفادہ کرتے ہیں۔ان میں پاکستان کے قریبی حلیف برطانیہ اور ترکی بھی شامل ہیں۔حکیم اللہ کی ہلاکت کے مسئلہ پر امریکہ کے ساتھ مخاصمت ملک کے مفاد میں ہے یا نہیں؟ محاذ آرائی کا انجام ملک کے لیے مزید مشکلات کا باعث تو نہیں ہوگا؟افغانستان سے فوجی انخلاء کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اگر سپلائی لائن بند کردی جائے تو فطری طور پر انخلاء کا عمل رک جائے گا۔کیا عمران خان یا پاکستان افغانستان سے امریکی انخلاء میں تعطل پیدا کرنا پسند کریں گے؟امید ہے کہ کابینہ کی دفاعی کمیٹی ان تمام پہلوئوں پر غور کرنے کے بعد کوئی فیصلہ کرے گی۔ دفاعی اداروں کے امریکہ کے ساتھ کشیدہ تعلقات میں غیر معمولی بہتری آچکی ہے۔طالبان رہنما لطیف اللہ محسود کو افغانستان سے گرفتار کیا گیا تاکہ وہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں نہ کرسکے۔پاکستان نے مفاہمت کے جذبے کے تحت ملا برادر سمیت درجنوں افغان راہنمائوں کو رہا کیا۔حکومت کی کوششوں سے یہ ممکن ہوا کہ طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔اب اگر پاکستان نیٹو سپلائی روکتاہے یا تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات دفاعی اداروں کے تعلقات پر ہی نہیں پڑیں گے بلکہ افغان پیس پراسیس بھی متاثر ہوگا۔ پاکستان کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے اور کسی بھی محاذ آرائی کی متحمل نہیں ہوسکتی۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ رواں مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح محض3.6 فی صد ہے‘ جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے۔صنعتیں بند اور کاروباری ا دارے اپنا بزنس بیرون ملک منتقل کرتے جارہے ہیں۔حکومت نے کرنسی نوٹ چھاپ کر بجلی کمپنیوں کو دیئے‘ نتیجتاً ملک میں مہنگائی کا ناقابل برداشت طوفان امنڈ آیا۔روایتی آزمودہ دوست بھی مدد کے لیے تیار نہیں۔ماضی میں جو ممالک سستا یا ادھار پر تیل دیا کرتے تھے وہ بھی پاکستان کے معاملات میں دلچسپی نہیں لے رہے۔ہمسایہ ملک ایران بھی شاکی ہے ۔بڑے طمطراق سے پاک ایران گیس پائپ لائن کا افتتاح کیا گیا لیکن اب ایسے اشارے ملے ہیں کہ یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑ چکاہے۔عالمی مالیاتی ادارے بھی اس وقت قرض دیتے ہیں جب انہیں امریکہ بہادر کا اشارہ ملتاہے۔توانائی کے منصوبوں کے لیے امریکہ سے مالی وسائل کی فراہمی کا تقاضا کیا جاتاہے۔افغانستان اور بھارت کے ساتھ کشیدگی کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی کہتے ہیں کہ بھارتی فورسز کو آزادی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے پاکستان سے نمٹیں۔ اسٹرٹیجک ماحول ہویا اقتصادی حالات کچھ بھی پاکستان کے لیے سازگار نہیں کہ وہ کسی مہم جوئی میں الجھے۔حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ امریکہ کو پرامن طریقے سے اس خطے سے نکلنے دیا جائے۔اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔بلاشبہ چودھری نثار علی خان نے طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرانے میں بہت محنت کی لیکن انہیں بخوبی معلوم ہے کہ بہت کچھ پاکستان کے ہاتھ میں نہیں۔اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔وہ پہلے ہی بہت مشکلات کا شکار ہے۔براہ کر م سیاسی موقع پرستی کی خاطر اسے مزید مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے۔ طالبان کے جو گروہ بات چیت کرنے پر آمادہ ہیں ان کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری رکھا جائے ۔بقول چودھری نثار کے 36طالبان دھڑے ہیں۔ان میں آدھے بھی معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آئیں تو بھی سرکاری کوششوں کو کامیاب قراردیا جائے گا۔