"IMC" (space) message & send to 7575

اور مُلّا فضل اللہ

ملافضل اللہ کے تحریک طالبان کا سربراہ مقرر کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی (این ڈی ایس) تحریک طالبان کے اشتراک سے پاکستان کے ساتھ فیصلہ کن معرکہ آرائی کا فیصلہ کرچکی ہے۔فضل اللہ محض ایک مہرہ ہے‘اس کے پیچھے افغان حکومت کے شہ دماغوں کا ہاتھ ہے۔صوبہ کنٹر میں وہ سرکاری مہمان کی سی زندگی بسرکرتاہے۔پاکستان سے مذاکرات کا کٹر مخالف ہے۔سوات آپریشن کے دوران موت کے منہ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوا تو افغانستان جاچھپا۔وہاں سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیاں منظم کرنے لگا۔جلد ہی افغان خفیہ ایجنسی کے ہتھے چڑھ گیا۔این ڈی ایس ایک مدت سے پاکستان کو سبق سکھانا چاہتی ہے۔اس کا خیال ہے کہ جب تک پاکستان کو دندان شکن جواب نہیں دیا جاتا‘ وہ افغانستان میں مداخلت سے باز نہیں آئے گا۔ بھارت بھی نہ صرف اس معاملے میں این ڈی ایس کا ہم خیال ہے بلکہ اس کی معاونت بھی کرتاہے۔بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے اپنی حالیہ کتاب Courage and Conviction میںحیران کن انکشافات کیے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ ممبئی حملوں کے بعد نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر نے استفسار کیا کہ کیا ہماری پاکستان کے اندر حملے کرنے کی استعداد ہے۔اس کے بعد آرمی میں ٹیکنیکل سپورٹ ڈویژن کے نام سے ایک ادارہ بنایاگیا جو ہمسایہ ممالک میں کام کرتاہے۔ رواں برس کے اوائل میں کابل میں صحافیوں کے ایک گروپ کے ہمراہ سابق وزیرخزانہ ڈاکٹر اشرف غنی سے ملاقات ہوئی۔موصوف نے بلاتکلف فرمایا کہ وہ افغانستان کے اند رلڑائی لڑنے کے بجائے پاکستان کی سرزمین پر لڑنا پسند کریں گے۔ بھارت کی دقت یہ ہے کہ اس کی سرگرمیوں پر امریکیوں اور نیٹو فورسز کی گہری نظر ہے‘ اس لیے بھارت پس منظر میں رہ کر این ڈی ایس کو استعمال کرتاہے۔ہتھیار اور تربیت فراہم کرتاہے۔ خفیہ اطلاعات کی فراہمی میں نہ صرف مدد کرتاہے بلکہ سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی اور دیگر جدید ذرائع سے بھی این ڈی ایس کو غلط یا صحیح اطلاعات فراہم کرتارہتاہے۔پاکستان کے اندر افغان موبائل کمپنیوں کے ذریعے خطرناک نیٹ ورک بچھایا گیا جو پاکستان کی سلامتی کو دیمک کی طرح چاٹ رہاہے لیکن حکومت اس غیر قانونی نیٹ ورک کو توڑنے میں ابھی تک ناکام ہے۔ آئی جی سندھ پولیس کہتے ہیں کہ کراچی سے افغانستان کی موبائل سمیں (Sims)پکڑی گئیں جو دہشت گردی کے واقعات میں استعمال ہوتی ہیں۔گزشتہ ماہ پشاور ہائی کورٹ میں ایک مقدمے میںچیف جسٹس نے کہا کہ نوے فیصد جرائم میں افغان سمیں استعمال ہوئی ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق پاکستان کے اندر محض گزشتہ چھ ماہ میں ایک لاکھ سے زائدافغان سمیں فروخت کی گئیں۔ سم خریدنے اور فعال کرنے کے لیے کسی شناختی دستاویز کی ضرورت نہیں‘ آلو ٹماٹر کی طرح خریدی اور برتی جاتی ہے۔ سو روپے کی سم ملتی ہے جس میں پہلے ہی سو روپے کا فری بیلنس ہوتاہے۔آئیڈیا یہ ہے کہ پاکستان کو داخلی طور پر اس قدرکمزوراور انتشار کا شکار کردیا جائے کہ وہ افغانستان میں مداخلت کا تصور بھی نہ کرسکے۔ جن خواتین و حضرات کو یہ شک تھا کہ تحریک طالبان پاکستان ایک داخلی گروہ ہے (جو افغانستان میں امریکی قبضے کے ردعمل میں معروض وجود میں آیا‘ اس کے مقاصد محدود ہیں اور وہ پاکستان دشمن گروہ نہیں) ان کے یہ شکوک ملافضل اللہ کے ٹی ٹی پی کا امیر منتخب ہونے کے بعد رفع ہوجانے چاہئیں۔ اکثر کہاجاتاتھا کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی میں امتیاز کیاجانا چاہیے۔افغان طالبان پاکستان کے اندر کارروائیاں پسند نہیں کرتے ۔ اب جب فضل اللہ افغانستان کی سرزمین پر بیٹھ کر پاکستان کے اندر کارروائیاں کرے گا تو افغان طالبان کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ ا س کے خلاف بروئے کار آئیں۔ ملافضل اللہ کا تحریک طالبان پاکستان کا امیر مقرر ہونا ایک غیر معمولی واقعہ ہے جو پاکستان کی سلامتی ہی نہیں بلکہ اس کی خطے کے حوالے سے موجودہ پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔فضل اللہ نے پاکستان کی سلامتی اور دفاعی اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ وہ برملا اس عزم کا اظہار کرچکاہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور کور کمانڈر پشاور اس کا اگلا ہدف ہیں۔اس گروہ نے ماضی میں کیے جانے والے حملوں میں جس طرح کی ٹیکنالوجی اور مہارت کا مظاہرہ کیا وہ ان کی بہترین حربی تربیت کی عکاسی کرتاہے۔فضل اللہ کے زیرکمان ٹی ٹی پی زخمی شیر کی طرح حملہ آور ہوگی لہٰذا بروقت حفاظتی تدبیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔اس وقت قبائلی علاقوں میں چھ بریگیڈ فوج تعینات ہے جوایک پوری کور کے برابر ہے۔خفیہ اداروں کا بھی بہترین نیٹ ورک موجود ہے۔ کمزور سہی لیکن سول انتظامیہ بھی پائی جاتی ہے۔ دفاعی تیاریوں کے علاوہ شہریوں کو مصروف اور متحرک رکھنے کے لیے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیاجاسکتاہے۔اس میں بہت سے خطرات بھی پنہاں ہیں لیکن بڑے مقاصد کے لیے خطرات تو مول لینے پڑتے ہیں۔غالب امکان ہے کہ دسمبر میںخیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات ہوں گے ۔یہ الیکشن صوبے میں زبردست سیاسی سرگرمیوں کو جنم دینے کا موجب بنے گا۔ یہ موقع ہوگا کہ حکومت قبائلی علاقوں کی تنظیم نو کرے۔پختون خوا ملی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی نے تجویز دی ہے کہ قبائلی علاقہ جات کو الگ صوبہ بنادیاجائے‘ یہ ایک صائب مشورہ ہے جس پر غورکیا جائے۔ شمالی وزیرستان کو چھوڑ کر باقی چھ ایجنسیوں میں وسیع پیمانے پر سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔فاٹا کوخیبر پختون خوا سے الگ کرکے اس کے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔فاٹا کے لیے علیحدہ گورنر مقرر کیا جائے۔فاٹا سیکرٹریٹ کو پشاور سے میران شاہ یا کسی دوسرے علاقہ میں منتقل کیا جائے تاکہ قصہ زمین برسرزمین چکایا جاسکے۔فاٹا میں بھی بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں تاکہ شہری سیاسی سرگرمیوں کی طرف متوجہ ہوں۔مقامی حکومتیں قائم ہوں ۔وہاں کی قیادت کو مالی وسائل دستیاب ہوں تاکہ وہ لوگوں کے مسائل حل کریں ۔سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے ان علاقوں کے نوجوانوں کا رخ بدلاجاسکتاہے۔ جہاں تک چودھری نثار علی خان کی قیادت میں شروع ہونے والے مذاکرات کا تعلق ہے‘ جب تک فضل اللہ ٹی ٹی پی کے سربراہ ہیں اس وقت تک مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ بحال ہونے کا کوئی امکان نہیں۔طالبان کے ساتھ امن عمل کی بحالی بھی دشوار نظرآتی ہے۔ٹی ٹی پی والے پہلے ہی کہہ چکے ہیں حکومت کے ساتھ رابطہ رکھنے والوں کو سزادی جائے گی۔ امید کی جاتی تھی کہ امریکہ اور نیٹو افواج کے افغانستان سے نکلنے کے بعد خطے میں امن واستحکام قائم ہوجائے گا لیکن اب ایسا نظرآتاہے کہ بھارت ‘افغانستان اور پاکستان کے خفیہ اداروں کے مابین خفیہ جنگ کا باضابطہ آغاز ہوچکاہے جو نیٹو افواج کے انخلا کے ساتھ ہی اپنے عروج کو پہنچ جائے گی۔پاکستان کو کابل حکومت اور امریکیوں پر بھی دبائو جاری رکھناچاہیے کہ وہ فضل اللہ کو پاکستان کے حوالے کریں۔اس سلسلے میں جارحانہ سفارتی مہم چلائی جائے تاکہ کسی بھی فورم پر افغان حکومت کو پاکستان کو مطعون کرنے کا موقع نہ مل سکے۔امریکہ اور افغان طالبان کے مابین جاری مفاہمت کے عمل میں تعاون کو ملافضل اللہ کے خلاف کارروائی سے مشروط کیا جائے۔ اگر کابل فضل اللہ کے خلاف کارروائی نہیں کرتا تواگلے سال اپریل میں ہونے والے افغان صدارتی انتخاب کے انعقاد میں تعاون کو بھی محدود کیا جاسکتا ہے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں