"IMC" (space) message & send to 7575

دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب

چوپالوں سے لے کر پانچ ستارہ ہوٹلوں تک دہلی میں جہاں بھی لوگوں سے تبادلہ خیال کا موقع ملا وہاں اگلے چندماہ میں متوقع عام انتخابات زیر بحث تھے ۔پندرہ برس تک دہلی کی حکمران رہنے والی شیلا ڈکشٹ کو عام آدمی پارٹی کے رہنما اروندرکیجری وال نے نہ صرف عبرت ناک شکست سے دوچار کیا بلکہ بھارتی سیاست کی جہت ہی بدل ڈالی، شہریوں کو ووٹ کی اصل طاقت کا احساس ہوا،انہیں معلوم ہوا کہ ان کے ہاتھ میں بری کارکردگی کے حامل حکمرانوں کو نشانہ عبرت بنانے کا ہتھیار آگیا ہے۔لوگ سانولی رنگت کے کیجری وال کورشک سے دیکھتے ہیں کہ اس ایک شخص کے عزم او رحوصلے نے ناممکن کو ممکن بنادیاہے۔بعض دانشوراورصحافی کیجری وال کی سیاست میں آمداورجنتاکی آوازبننے کے عمل کو ''عرب بہار‘‘کے مماثل قراردیتے ہیں۔اقتدار سے قربت رکھنے والے افرادکا خیال ہے کہ کانگریس کی ہوا اکھڑچکی ہے اوراب اقتدارکی دیوی گاندھی خاندان سے روٹھ چکی ہے۔
کراچی کی طرح دہلی میں بھی انسانوں کا جنگل آباد ہے۔ بھارت کے طول وعرض سے لوگ دہلی کا رخ کرتے ہیں۔شہر کے قلب میں سلسلہ چشتیہ کے بزرگ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کا مزار ایک انوکھا منظر پیشکرتاہے۔تنگ وتاریک گلیوں سے گزرکرہزاروں زائرین درگاہ پر حاضر ی دیتے ہیں۔ مسلمان دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے‘ ہندواور سکھ ہاتھ جوڑ کر خواجہ کی نگری میں من کی مرادیں پیش کرتے نظرآتے ہیں۔ پورا علاقہ روشنی اور پھولوں کی خوشبو سے معطر رہتاہے۔حضرت خواجہؒ کے مزار میں بے بدل شاعراورصوفی امیرخسروؒ بھی آرام فرما رہے ہیں۔چند فرلانگ کے فاصلے پر تبلیغی جماعت کا مرکز ہے جہاں سے دنیا بھر کے لیے تبلیغی مشن نکلتے ہیں۔حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے مزار کی طرف جاتے ہوئے مرزا اسداللہ خاں غالب سے آنکھیں چار ہوجاتی ہیں۔ لوگ حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی زیارت کے لیے آتے ہیں تو غالب ان کا استقبال کرتے ہیں۔
لگ بھگ ایک کروڑ اسی لاکھ نفوس پر مشتمل ممبئی کے بعد دہلی بھارت کا دوسرا بڑا شہر ہے۔عام لوگ آج بھی اسے دلی ہی کہتے ہیں۔ جلال الدین محمد اکبر نے مغل سلطنت کا دارالحکومت آگرہ سے دلی منتقل کیا لیکن 1639ء میں شاہجہان نے ایک نیا شہر آبادکیا جو دلی پر انگریزوں کے قبضے تک مغل سلطنت کا دارالحکومت رہا۔انگریزوں نے1920ء میں نیودہلی کے نام سے ایک نیا شہر آباد کیا جو آزادی کے بعد بھی بھارت کا دارالحکومت ہے۔آزادی کے67برس گزرجانے کے باوصف شاہجہان کے دلی کے حالات دگرگوں ہی ہیں۔کہتے ہیں کہ 'پراٹھے والی‘ میں جوکلچر صدیوں پہلے تک تھا وہی آج بھی ہے۔ پراٹھے بنانے والے بدلے اور نہ ان سے لطف اندوز ہونے والوں پر ماہ وسال کی تبدیلی کا کوئی اثر ہوا۔یہی حال حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے کوچے کابھی ہے۔دنیا بھر سے زائرین یہاں آتے ہیں،ناک پر رومال اور جیب پر ہاتھ رکھے بنا اس علاقے میں داخل ہونا محال ہوتاہے؛حالانکہ ''چمکتے ‘‘ہوئے بھارت کے لیے چنداں مشکل نہیں کہ وہ ان علاقوں کی صفائی ستھرائی کا اہتمام کرے۔ یہ علاقہ محض مسلمانوں کی میراث نہیں بلکہ عالمی ورثے کا حصہ ہے جس کی دیکھ بھال دہلی کی ریاستی حکومت کو کرنی چاہیے۔خود مسلمانوں میںایسے مخیر خواتین وحضرات کی کمی نہیں جوحضرت نظام الدین اولیاءؒ کے مزارکے نواحی علاقے میں صفائی کا اہتمام کراسکتے ہیں۔ایک دوست نے اس صورت حال پر دلچسپ تبصرہ کیا:گندگی نہ ہو تو مسلمانوں کے علاقوں کو کیسے پہچاناجائے گا؟
ایک دہائی پہلے جب دہلی آیاتھا تو شہر میں ایک چھوٹا سا ایئرپورٹ تھا،پٹرول پمپ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں نظرآتی تھیں،شہر میں کہیںجانا ہو تا توچندکلو میٹرکا فاصلہ طے کرنے میں کئی کئی گھنٹے صرف ہو جاتے۔اب دہلی زیادہ منظم اور بارونق لگتا ہے۔ سرکارکی سرپرستی میں شہر میں خوب شجر کاری کی گئی ہے، ہر طرف درخت اور سبزہ نظرآتاہے۔ اقتصادی ترقی کاسب سے زیادہ فائدہ بھی دہلی کو ملا۔سڑکیں کشادہ ہوئیں،نئے مال بننے،سرمایہ کاروں نے ابھرتی ہوئی مڈل کلاس کی جیبیں خالی کرانے کے لیے انہیں مغربی مشروبات‘پکوان اورطرززندگی اپنانے کی طرف مائل کیا۔میڈیا نے بھی حصہ بقدرجثہ پانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
اب دہلی کے متوسطہ طبقے اوراشرافیہ کا طرز زندگی بھارت سے کم‘ یورپ سے زیادہ مماثل دکھائی دیتاہے۔دہلی کے نواح میں اشرافیہ اورنو دولتیوں کی خاطر نئے شہرگڑگائوں (Gurgaon) فریدآباد (Faridabad) اورنوئیڈا (Noida) کے ناموں سے بسائے گئے ہیں۔ان علاقوں میں جاکر گمان ہوتاہے کہ یورپ کے کسی ملک میں آگئے ہیں۔زندگی کی تمام سہولتیں دستیاب ہیں۔کثیر المنزلہ مال ‘ا ن میں انتہائی مہنگے نرخوں پر فروخت ہونے والی اشیا کا سرسری جائزہ یہ باور کرانے کے لیے کافی ہوتاہے کہ یہ سازوسامان کوئی اور ہی مخلوق خریدتی ہوگی۔
مغربی کلچر کی یلغار کا یہ عالم ہے کہ ہم جنس پرستوں کوقانونی شادی کی اجازت دینے پر زبردست لے دے ہورہی ہے۔ کانگریس جوبھارت کی تہذیبی روایات کی پاسبان کہلاتی تھی،اب غیر فطری شادیوں کی حمایت کرتی ہے۔وزارت عظمیٰ کی گدی کے امیدوار راہول گاندھی بھی بڑھ چڑھ کر ہم جنسوں کی شادیوں کی وکالت کرتے ہیں۔ اس کے برعکس بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ راج ناتھ نے ان شادیوں کو غیر فطری اور بھارتی روایات اور تہذیب کے خلاف قراردیاہے؛ حالانکہ آج کل انتخابات کا ماحول ہے اور بی جے پی کے لیے ایک ایک ووٹ بڑا قیمتی ہے۔بی جے پی کے اس جرأت مندانہ موقف کی بھارتی مسلمان بھی ستائش کرتے ہیں۔معاشرتی بے راہ روی بھی اپنی انتہائوںکو چھو رہی ہے۔ آئے روزہونے والے 
آبروریزی کے واقعات کا میڈیا میں چرچاہوتاہے۔گزشتہ دنوں تہلکہ کے ایڈیٹر پر الزام لگا کہ انہوں نے اپنی ساتھی کی آبروریزی کی کوشش کی۔ان واقعات پر احتجاج بھی بہت ہوتاہے لیکن ان واقعات میں کمی نہیں آرہی ۔دلی والوں کی زندگی میں سب سے بڑی تبدیلی زیر زمین ریلوے کا نظام لایاہے جسے یہاں میٹرو کہا جاتا ہے۔ عمارتیں گرائے یا ہلاگلا کئے بغیردنیا کاتیرھواں بڑا میٹرو سسٹم کھڑا کر دیا گیا ہے۔ 189.63کلومیٹر طویل ریلوے لائن کے 142اسٹیشن ہیں۔ ہراسٹیشن پر وہی جدیداورخودکار نظام ہے جو لندن یا کسی دوسرے ملک میں نظر آتاہے۔ میٹرو کی بدولت اندرون شہر سفر سہل اور آسودہ ہوگیاہے۔ میٹرو پر ہرروزتقریباًبیس لاکھ افراد سفر کرتے ہیں۔اعلیٰ عہدوں پرفائزاور سفید پوش شہری بھی میٹرو پر سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔سفر سستا‘برق رفتار اور محفوظ بھی ہے۔ گرمیوں میں میٹرو ٹھنڈی اور سردیوں میں گرم ہوتی ہے۔چند دن قبل دہلی کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے میٹرو کا تفصیلی جائزہ لیا ۔نون لیگ نے انتخابی منشور میں بلٹ ٹرین بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔اگر وہ بڑے شہروں میںزیرزمین میٹرو(لاہور والی میٹرو بس نہیں) بنادیں تو پاکستانی انہیں دعائیں دیں گے۔
صدیوں پہلے میر تقی میر نے دلی کی بربادی کا نوحہ لکھا اور شہر چھوڑ کر لکھنو چلے گئے ؎ 
 
دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے
 
میٹرو ٹرین پر سفر کرتے ہوئے خیال آیا کہ آج میرزندہ ہوتے اور دہلی کی میٹرو کا احوال سنتے تو ضرور واپس لوٹ آتے۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں