"IMC" (space) message & send to 7575

2014ء۔۔۔ ترجیحات

افراد کی طرح ملک اور قومیں بھی نئے سال کی ترجیحات طے کرتی ہیں۔ماضی کی غلطیوں اور محرومیوں کے ازالے کا عزم کیا جاتاہے تاکہ مستقبل کی بہتر صورت گری کرسکیں۔ بقاء کا ایک ہی راستہ باقی بچا ہے کہ پاکستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز اتفاق رائے سے داخلی ،خارجی اور اقتصادی حکمت عملی کی تشکیل نو کریںاور دس سے پندرہ برس تک اس پر سختی سے کاربند رہیں۔اگریہ سب بطور قوم اور ریاست موجودہ روش پر قائم رہے توخدانخواستہ پاکستان دنیا کے نقشے پر بوجھ بن جائے گا،ایک ایسی طفیلی ریاست جس کے فیصلے اسلام آباد میں نہیں واشنگٹن اور برسلز میں ہوںگے۔
2013ء کا سورج غروب ہوا لیکن پاکستان کے دامن پر لگے داغ دھبوں میں قابل ذکرکمی نہیں آئی۔دنیا اسے آج بھی ایک خطرناک ملک کے طور پر شناخت کرتی ہے جو 'جوہر ی ہتھیاروں‘ سے لیس ہے،جہاں دہشت گرد دندنانتے پھرتے ہیں، حتیٰ کہ حساس دفاعی تنصیبات پر بھی حملے کرتے ہیں۔ وفاق اور صوبوں میں کمزورحکومتیں قائم ہیں جن کی عملداری (رٹ) ملک کی اقتصادی شہ رگ کراچی تک پر قائم نہیں۔افسوس!دنیا میںناکام ریاست کے جو پیمانے رائج ہیں پاکستان ہر حوالے سے ان پر پورا اترتا ہے۔
گزشتہ ستر برس کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت ور ترین ممالک صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔برطانوی سلطنت نام کی کوئی شہ آج دنیا کے نقشے پہ موجود نہیں۔دیوار برلن تاریخ کے کوڑے دان میں دفن ہوگئی۔ کمیونسٹ سوویت یونین اور اس کے حامی ممالک سرمایہ دارانہ نظام کے پجاری بن چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں آنے والی تبدیلیاں،خطے میں جاری خفیہ جنگ اورشورش خبردارکرتی ہے کہ وقت ہاتھ سے نکلا جا رہاہے ، ہمیں اپنے آپ کو اس طرح بدلنا ہوگا کہ پاکستان نہ صرف پُرامن ملک بن جائے بلکہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پرگامزن ہو کر دنیا کے ہمرکاب بھی ہوجائے۔ 
گزشتہ سال پاکستان نے بہت سی غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں جن میں پرامن انتقال اقتدارکوملکی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھاجائے گا،لیکن اس کے باوصف یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ مسائل کے انبار میں بری طرح گھرا ہوا ملک ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ شہریوں اور ریاست کے مابین اعتماد کا فقدان ہے۔ عوام ریاست کو اپنا محافظ اور خدمات فراہم کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ شہریوں کے مصائب میں اضافے کا محرک تصور کرتے ہیں۔دوسرا بڑامسئلہ سیاسی جماعتوں اور حکمران خاندانوں کے اندر پائی جانے والی آمریت ہے۔اعلیٰ عہدوں اور مناصب کا حق دار صرف انہی خواتین وحضرات کوسمجھا جاتاہے جن کا حکمران اشرافیہ یا ان کے قرابت داروں سے تعلق ہویا مفاد جڑا ہواہو۔
موروثیت اور خاندانی سیاست نے میرٹ اور اصولوں کا بری طرح گلا گھونٹ کر معاشرے میں گھٹن اور مایوسی کو جنم دیا ہے ۔یہ مسئلہ صرف حکمران جماعت نون لیگ تک محدود نہیں بلکہ پیپلزپارٹی ، جمعیت علمائے اسلام اورعوامی نیشنل پارٹی میں بھی خاندانی اجارہ داری اپنے عروج پر ہے۔ لیڈروں کے اس طرز عمل سے نہ صرف سیاسی کارکن مایوس ہیں بلکہ جمہوریت مخالف عناصر اس طرز حکمرانی سے آمریت کو بہتر قراردیتے ہیں۔ ریاستی اداروں کی ساکھ کی بحالی ، سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادت پر اعتماد کے فقدان کا خاتمہ کیے بغیر شہریوں کو مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔
جمہوری اور فلاحی ریاست کا خواب اس وقت تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک امیر اور غریب کے درمیان پایا جانے والا تفاوت کم نہ ہو۔اس وقت پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتاہے جہاں امراء غیر معمولی تیز رفتار ی سے ریاستی طاقت کے بل بوتے پر مفاد عامہ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دولت کے انبار جمع کرتے جارہے ہیں۔غریب اور محروم طبقات نہ صرف پس رہے ہیں بلکہ غربت اور جہالت نے نوجوانوں کے ایک طبقے کو ریاست کے خلاف معرکہ آراء کردیا ہے۔ وسائل کی کمی اور جہالت نے انہیں پاکستان دشمنوں کا آلہ کار بنا دیا ہے اور وہ اپنے ہی ہم وطنوں کے لہو سے ہاتھ رنگ رہے ہیں۔ 
حکومت کی دانش مندی کا یہ عالم ہے کہ وہ دہشت گردوں سے مذاکرات کے لیے انہی کے سرپرستوں سے مدد کی بھیک مانگ رہی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے مولانا سمیع الحق سے ملاقات کی اوران سے طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کرانے کے لیے کردارادا کرنے کی استدعا کی ۔ موصوف گزشتہ کئی دہائیوں سے طالبانیت کے علمبردار ہیں، ان کا مدرسہ'حقانیہ اکوڑہ خٹک‘ اور 'دفاع پاکستان کونسل‘ طالبان کے نقطہ نظر کو سیاسی حمایت فراہم کرنے کا ایک بڑا فورم ہے۔
علاوہ ازیںان کا آج کی طالبان کی قیادت پراثرورسوخ نہ ہونے کے برابر ہے۔طالبان یا افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم شدت پسند، ایک اکائی نہیں بلکہ کئی طرح کے گروپوں کا مجموعہ ہیں جن کا اپنا اپنا ایجنڈا ہے۔گزشتہ برس کابل کا ایک مختصر دورہ کرنے کا موقع ملا، وہاں کے باخبر لوگوں نے بتایا کہ مولانا سمیع الحق اور فضل الرحمان تو دور کی بات آج کے طالبان کمانڈروں پر ملاعمرکا بھی بہت معمولی اثر ہے۔ طالبان کی جو نسل آج کل برسرپیکار ہے وہ گزشتہ بیس سے تیس سال کی مدت میں جوان ہوئی ، اس کی نظریاتی اور فکری تربیت سیاسی ڈھانچوں میں نہیں بلکہ میدان جنگ میں ہوئی ہے۔ وہ بندوق کی زبان بولتے ہیں اور یہی زبان سمجھتے ہیں۔ مذاکرات کے نام پردفاعی اداروں کے ہاتھ پائوں باندھ کرانہیں میدان میں اتار دیا گیا ہے جہاں تحریک طالبان کے لوگ ان پر حملے کرتے ہیں لیکن وہ ان کے خلاف جوابی آپریشن نہیں کر سکتے کیونکہ مولانافضل الرحمان احتجاج کرتے ہیں۔وہ وزیراعظم کو فون کرکے آپریشن رکوادیتے ہیں،مولانا سمیع الحق تلملاتے ہیں۔حکومت کواس نوع کی سیاسی بلیک میلنگ کو مسترد کرناہوگا۔
نون لیگ نے برسراقتدار آنے سے قبل قوم کو بہت سہانے سپنے دکھائے لیکن اب یہ خواب بری طرح بکھر رہے ہیں۔مہنگائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی عدم موجودگی کے باعث حکومت کے خلاف ایک طوفان اٹھ رہاہے جس کا ایوان اقتدار میں براجمان عناصر کو احساس نہیں،انہیں سب ہراہرا دکھایا جارہاہے جبکہ نون لیگ کے کٹر حامی بھی حیران اور پریشان ہیں کہ وہ کس طرح بلدیاتی انتخابات میں عوام کا سامنا کریں گے۔
آج علی الصبح بیگم صاحبہ نے خبرسنائی کہ گیس رات گئے سے غائب ہے اورکچھ دیر پہلے بجلی بھی چلی گئی،لہٰذا چائے پک سکتی ہے نہ ناشتے کا انتظام ہوسکتاہے۔ پانی یخ ٹھنڈا ہے ۔ راولپنڈی میںمری اورکشمیر سے آنے والی سرد ہوائیں ماحول کوافسردہ کردیتی ہیں۔ جلد ہی احساس ہوا کہ پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں ، لہٰذا چار وناچار ناشتہ خریدنے بازار چل دیا۔ لوگوں کا ہجوم تھا اور لمبی قطاریں۔تندور والا رورہاتھا کہ گیس دستیاب نہیں ۔ ہوٹل والے بجلی نہ ہونے کے باعث پانی کی موٹر نہ چلا سکنے کا ذکر کررہے تھے۔ہرکوئی اپنی درد بھری کہانی سنا رہاتھا ۔ میڈیا سے جو اطلاعات مل رہی ہیں ان کے مطابق ملک کے باقی حصوں کی صورت حال بھی اس سے مختلف نہیں۔مجھے نون لیگ کے رہنمائوں کی تقریریں یاد ہیں۔ وہ کہتے تھے:مضبوط معیشت، مضبوط ملک !
اب بھی وقت ہے کہ حکومت جنگی بنیادوں پر عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے بروئے کار آئے۔پرویز مشرف کو سزادینا تاریخ سے جنگ کے سوا کچھ نہیں۔اس سے جمہوریت مضبوط ہوگی اور نہ لوگوں کے بجھے چولہے جلیں گے۔ درست ترجیحات کے تعین ہی سے مشکلات سے دوچار ملک کو سنبھا لا دیا جا سکتا ہے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں