"IMC" (space) message & send to 7575

اوراعصاب شل ہوگئے

قاف لیگ کے ایک رہنما نے بتایا کہ آل پاکستان مسلم لیگ کا باقاعدہ اعلان کرنے سے قبل پرویز مشرف نے دوبئی میں متعدد مشاورتی اجلاس منعقد کیے تاکہ وہ قاف لیگ کے رہنمائوں کے اشتراک اور ممتاز سیاسی شخصیات کے جلو میں ایک بڑی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کرسکیں۔دوبئی کے ایک مہنگے ہوٹل میں لگائے گئے 'مشرف دربار‘ میں خورشید محمودقصوری ،امیر مقام،طارق عظیم،ہمایوں اخترسمیت درجنوں آزمودہ مصاحبین سرجوڑے بیٹھے تھے۔مشرف چاہتے تھے کہ ان کے پرانے حلیف اپنی پوری سیاسی طاقت اور جرأت سے بروئے کار آئیںاور ملک کے طول وعرض میں مسلم لیگ کا پرچم لہرا دیں ، لیکن جب بھی مطلب کی بات شرو ع ہوتی تو وہ کنی کتراجاتے۔فیصلہ ہونے لگتا تومزید غور وفکر اور منصوبہ بندی کے نام پر طرح دے جاتے۔
مشرف کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ لوگ اس قدر کج بحثی کیوں کرتے ہیں ، جلدی اور دوٹوک فیصلہ کیوں نہیں کرتے۔چھ سات اجلاس ہوئے ، سب مشرف کی میزبانی سے لطف اندوز ہوتے لیکن نشستند، گفتندوبرخاستندکے سواکچھ نہ ہوتا۔اجمل وزیر کہتے ہیں: ایک شام جھنجھلاہٹ کے شکار مشرف میرا ہاتھ پکڑ کر ہوٹل کی بالکونی میں لے گئے اور کہا،اجمل تم پشتون ہو، کھل کر بتائو کہ فیصلہ کیوں نہیں ہوتا، ماجرا کیا ہے، یہ لوگ کیا کھیل کھیل رہے ہیں؟اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ مشرف کے چہرے پر تھکاوٹ کے آثارنمایاں تھے۔وہ جلد ازجلد پاکستان کی سیاست میں دھوم دھام سے واپسی چاہتے تھے۔ عرض کیا کہ حضور! یہ لوگ محض حالات کا جائزہ لے رہے ہیں ، پردے کے پیچھے جو سکرپٹ لکھا جارہا ہے اس میں اپنا کردار تلاش کر رہے ہیں ، دفاعی اداروں کے موڈ کا جائزہ لے رہے ہیں ، وہ آپ کے ساتھ نہیں بلکہ نئے سسٹم میں اپنی جگہ بنانے کے لیے بے چین ہیں۔مشرف یہ سن کر مزیدبے چین ہوگئے اور کہا کہ تم ٹھیک کہتے ہو لیکن پاکستانی عوام بے تابی سے میرا انتظارکررہے ہیں کیونکہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے انہیں سخت مایوس کیا ہے۔
اتفاق سے ایک محفل میں اس پولیس افسر سے ملاقات ہوگئی جو پرویز مشرف کے جوڈیشنل ریمانڈ پر سوال جواب کرنے پر مامور تھا۔اس نے دلچسپ کہانی سنائی،کہتے ہیں: میں پرویز مشرف کا زمانہ طالب علمی سے مداح ہوں۔ایک سہ پہرحسب معمول ڈیوٹی پر تھا کہ حکم ملا کہ پرویز مشرف سے لال مسجد کیس کے حوالے سے چند سوالات کے جوابات حاصل کرو۔ میں نہ چاہنے کے باوجود چک شہزاد میں مشرف کے فارم ہائوس جاپہنچا۔ اسٹاف نے ملاقات کرانے سے انکار کردیا۔ادب سے عرض کیا کہ مجھے اپنا فرض ادا کرنا ہے ،بات نہ مانی گئی تو پولیس کا روایتی طریقہ اختیارکرنا پڑے گا۔سٹاف کو دھمکایاتو سب رام ہوگئے۔مشرف سے کمرئہ ملاقات میں پہنچا تو انہیں ادب سے سلام کیااور آنے کامقصد بیان کیا۔دیر تک میری شکل تکتے رہے ، سوال گندم جواب چنا ،کافی دیربے تکان گفتگو کرتے رہے لیکن بے ترتیب۔ ان کے اعصاب شل ہوچکے تھے۔ جوڈیشل ریمانڈ پر مشرف پہلے ہی نفسیاتی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکارہوچکے تھے۔
کراچی ائیر پورٹ پراترے تواستقبالی 'جلوسی‘ کا احوال سن کر ایسے بدحواس ہوئے گویا قیامت ٹوٹ پڑی ، مقبولیت کا نشہ ہرن ہوگیا ، فیس بک اور ٹویٹر پر دس لاکھ سے زیادہ مداحوں نے خیریت پوچھنے کی بھی زحمت نہ کی۔ ان کی رہائی کے لیے کوئی قابل ذکر مہم نہ چلائی گئی۔مغربی دنیا بالخصوص امریکی ارکانِ کانگرس نے جوان کی ذہانت اور بہادری کے گیت گاتے نہ تھکتے تھے‘ نہ صرف چپ سادھ لی بلکہ نوازشریف کی تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملانے لگے ۔
اسٹیبلشمنٹ نے انہیں سمجھایا کہ پاکستان بدل چکاہے ، پاکستانی شہری جمہوری نظام اورپارلیمانی طرز حکومت کو دل سے قبول کرچکے ہیں ، اب وہ بادشاہت یا آمریت کو گوارا نہیں کرتے۔انہیں باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ وہ پاکستان واپس نہ آئیں۔لیکن موصوف باز نہ آئے اور واپس آکر شکنجے میں پھنس گئے ۔ اب فوجی قیادت کو مدد کے لیے پکارتے ہیں ۔ جواب نہیں آتا تو ریٹائرڈ افسروں سے خطاب کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ وہاں سے بھی یہی مشورہ دیاجاتاہے کہ عدالت میں پیش ہو جائیں اور مقدمے کا سامنا کریں۔ 
عدالت جاتے ہوئے راستے سے ہسپتال چلے جانے کا فیصلہ ان کی نفسیاتی ناہمواری کی عکاسی کرتاہے۔ راولپنڈی میں فوج کے ادارۂ امراضِ قلب میں مشرف کے ملاقاتیوں سے گفتگوکر کے جو کچھ معلوم ہوسکا اس سے بھی یہی قیاس کیا جاسکتاہے کہ وہ گہرے صدمے سے دوچارہیں ، ان کا پختہ خیال ہے کہ وہ نجات دہندہ ہیں اور عوام ان سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔وہ اب تک اس زعم میں مبتلا ہیں کہ فیس بک کے دوست ان کی پشت پر ہیں ، الطاف حسین اور ان کی ایم کیوایم ان کی بھرپور مدد کرے گی ، غیر ملکی دوست بھی ان کی مدد کو آئیں گے اورانہیں عزت واحترام سے نکال کر لے جائیں گے۔
مصیبت کی گھڑی میں حالات کا بہادری سے مقابلہ کرنے والوں کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جاتاہے۔ معمول کے حالات میں سب ہی دلیر بنتے ہیں۔مشرف جن حالات سے گزرے رہے ہیں وہ غیر متوقع نہ تھے۔آئین شکنی پر بھی جوابدہی کی فکر نہ کرنا سادہ لوحی نہیں تو کیا ہے؟اب رونے دھونے کا کوئی فائدہ نہیں۔ بچائو کا ایک ہی راستہ ہے کہ جم کر مقدمہ لڑا جائے ، عدالت میں اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔ان کے وکیل مقدمے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے میںیہی غلطی یحییٰ بختیار نے کی تھی۔ وہ ججوں سے بھی الجھ پڑے اور ضیاء الحق کے خلاف قوت گفتار کے مظاہرے کرتے رہے۔ خود ذوالفقار علی بھٹو بھی عدالت میں لمبی لمبی تقریریں کرتے تھے ۔کہتے کہ اگر مجھے سزائے موت دی گئی تو ہمالیہ روئے گا۔ اگر وہ اس کے برعکس مقدمے میں پائے جانے والے قانونی سقم کی نشان دہی کرتے تو بچائو کے امکانات روشن ہوجاتے۔
اب پرویزمشرف کے لیے میڈیامیںبھی حمایتی تلاش کرلیے گئے ہیں جو ان کا مقدمہ لڑرہے ہیں۔کیس اور عدالتی کارروائی کو پرویز مشرف بمقابلہ نواز شریف اور ناراض ججوں کا رنگ دیاجارہاہے۔مقصد یہ ہے کہ مقدمہ آئین اور قانون کے دائرے سے نکل کر ذاتیات کی شکل اختیار کر جائے اور اس کے بعد رائے عامہ کو کنفیوز کرکے مشرف کے حق میں ہموار کی جائے۔ حکومت کو اس مقدمے میں بہت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی مرحلے پر مقدمے کو پرویز مشرف بمقابلہ نوازشریف کارنگ نہیں ملنا چاہیے۔ افسوسنا ک امر یہ ہے کہ سینئر تجزیہ نگار اور دانشور بھی بغض معاویہ میں اس مقدمے کو مخصوص رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ اداروں کے مابین محاذآرائی کی بنیاد رکھی جا سکے۔ انہیں کوئی پروا نہیں کہ اس کھیل کا انجام کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔ اگر احتیاط نہ برتی گئی تو ملک عدم استحکام کا شکار ہوگا اورجمہوریت کی چولیں بھی ہل جائیں گی۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں