چند دن پہلے تحریکِ انصاف کے صدر جاوید ہاشمی کو ایک ٹی وی چینل پر وزیرستان آپریشن کے حوالے سے سنا تو خوشگوار حیرت ہوئی۔انہوں نے دبے لفظوں میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کی حمایت کی اور شہدا کی قربانیوں کوخراج تحسین پیش کیا۔لگ بھگ ایسی ہی گفتگو جناب شاہ محمود قریشی کرتے ہیں۔لاہور سے تحریکِ انصاف کے راہنما شفقت محمود بھی انتہا پسندوں کے خلاف قومی موقف کی تائید کرتے نظر آتے ہیں۔ اکثر لیڈروں کو ملک گیر سطح پر شدت پسندی کے خلاف پیدا ہونے والی فضا کا بخوبی احساس ہے لیکن وہ جماعتی پالیسیوں کے باعث محض تھکے ہوئے بوڑھوں کی طرح منہ میں بڑبڑانے پر اکتفا کرتے ہیں۔ کھل کر اختلاف رائے کی جسارت نہیں کرتے۔
تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کاموقف اس وقت اختیار کیا تھا جب پوری تحریکِ انصاف ایک تانگے میں سما جاتی تھی۔اسے ملکی امور چلانے کی شدبد تھی اور نہ اسٹیک ہولڈرز اسے وزن دیتے تھے لیکن اب صورت حال یکسر مختلف ہے۔و ہ ایک ایسے صوبے میں حکمران ہے جو شدت پسندوں کا مرکز ہے۔قبائلی علاقہ جات ،جہاں ہزاروں 'فسادی‘چھپے ہوئے ہیں، نہ صرف خیبر پختون خوا سے متصل ہیں بلکہ یہ دونوں خطے نسلی اور لسانی اعتبار سے ایک اکائی بھی ہیں۔
تحریکِ انصاف طالبان کے ساتھ مذاکرات کی علمبردار ہے لیکن جب مذاکرات کا سلسلہ چل پڑا تو اس نے ان سے علیحدگی اختیار کرلی۔اگر عمران خان براہِ راست مذکراتی ٹیم کا حصہ ہوتے تو غالباًمنظر نامہ مختلف ہوتا۔مذاکرات کا سلسلہ شروع ہواتو طالبان نے ایسے مطالبات پیش کیے جو تحریکِ انصاف کے اکثر راہنمائوں کے لیے ناقابل قبول تھے۔آئین کو وہ مانتے نہیں۔خارجہ پالیسی بدلنا چاہتے ہیںحتیٰ کہ پولیو کے قطرہ بھی پلانے کی اجازت نہیں دیتے۔ان کے اپنے علم وفضل اور جدید دنیا سے آگہی کا یہ عالم ہے کہ اکثر طالبان راہنما ناخواندہ ہیں‘ اس کے باوجود بیس کروڑ پاکستانیوں کی تقدیر لکھنا چاہتے ہیں۔
تحریک انصاف اور خاص طور پر عمران خان بدلتے ہوئے حالات کا ادراک نہیں کرپائے ۔اس کے برعکس مولانافضل الرحمن، جو کل تک طالبان کے نظریات کے پرچارک تھے، آج ایک اعتدال پسند سیاسی شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں۔حالیہ چند ماہ میں وہ واحد مذہبی اور سیاسی شخصیت ہیں جنہوں نے نہ صرف بروقت رائے عامہ کے رجحان کو بھانپا بلکہ اپنے نقطہ نظر میں تبدیلی بھی کی۔ خطرات مول لے کر ٹی وی چینلز پر آئے اور بغیر کسی لگی لپٹی کے طالبان کی سیاسی حکمت عملی کو مسترد کیاحتیٰ کہ لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کی طرف سے آئین پاکستان پر کیے گئے حملوں کا بھی مدلل جواب دیا۔
سیاسی حرکیات پر عبور رکھنے والے مولانا فضل الرحمن یہ راز پاگئے کہ وہ زمانہ لد چکا جب خون خرابے سے حکومتیں گرا کرتیں تھیں اور انقلاب برپاہوتے تھے۔اب رائے عامہ کی حمایت کے بنا اقتدار حاصل نہیں کیاجاسکتا۔مولانا فضل الرحمن نے جس طرح جمہوری نظا م اور طرزِ حکومت کا دفاع کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔ماضی میں ان کالموں میں مولانا کی سیاست پر سخت نکتہ چینی کی جاتی رہی ہے لیکن اب کھلے دل کے ساتھ یہ تسلیم کیاجاتاہے کہ تمام تر شخصی کمزوریوں کے باوجود مولانا کا وجود پاکستانی سیاست کے لیے غنیمت ہے۔
دہشت گردی کے حوالے سے کنفیوژن پھیلانے میں صرف ایک سیاسی جماعت ہی نے غلطی نہیں کی بلکہ بے شمار سابق جنرلوں اور سفارت کاروں نے بھی خطاکھائی ۔اکثر دانشوروں اور حربی امور کے ماہرین نے امریکہ کی مخالفت میں طالبان اور شدت پسندوں کی حمایت کی۔اب گزشتہ لگ بھگ دوماہ سے ڈرون حملے نہیں ہورہے۔امریکہ بیان بازی بھی نہیں کررہا ۔اس کے باوجود نہ صرف مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ نون لیگ دائیں بازو کی ایک ایسی جماعت ہے جس کے حامیوں کا تعلق قدامت پرستوں سے ہے۔ طرزکہن پر اڑنے اورآئین نو سے ڈرنے والے زیادہ تر شہری نون لیگ کے حمایتی ہیں۔ملک میں کوئی پچیس لاکھ کے لگ بھگ نوجوان دینی مدارس میں زیرِ تعلیم ہیں۔محض پنجاب میں ہی 5500 مدرسے قائم ہیں۔یہ مدارس اور ان کے طلبہ عمومی طور پر نون لیگ کے امیدواروں کو ووٹ دیتے ہیں۔ان کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم نواز شریف کو ڈرایا جاتاہے کہ فوجی آپریشن کے نتیجے میں ان کا ووٹ بینک متاثر ہوگا۔دلیل یہ دی جاتی ہے کہ عمران خان نے ڈٹ کر آپریشن کی مخالفت کرنی ہے اور وہ نون لیگ کے ووٹ بینک پر شب خون مارسکتے ہیں۔ بے گھر عورتوں اور بچوں کو ٹی وی سکرینوں پر آہ وزاری کرتے دکھایا جاتاہے تو رائے عامہ کا موڈ بدل جاتاہے۔ کہرام مچ جاتاہے۔اس موقع پر عمران خان لوگوں کے جذبات کو آواز دیں گے ۔مہنگائی، بے روزگاری اور توانائی کے بحران کے ستائے ہوئے شہری سڑکوںپر نکل آئے تو حکومت کا بوریا بستر گول ہوسکتاہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پنجاب میں سترہ دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں۔ان میں کچھ طالبان کی مدد کرتے ہیں باقی پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ قتل وغارت گری میں ملوث ہیں۔خاص طور پر ملتان، جھنگ اور فیصل آباد میں ان گروہوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔پاکستان میں دہشت گردی کے امور کے ماہر محمد عامر رانا کا کہنا ہے کہ پچاس فیصددہشت گردوں کا تعلق پنجاب سے ہے۔دس ہزار سے زائد پنجابی نوجوان افغانستان ،قبائلی علاقہ جات یا کشمیر میں جاں بحق ہوئے ہیں۔
نون لیگ اس جنگ کا دائرہ دریائے اٹک سے پرے رکھنا چاہتی ہے لیکن ایک بار آپریشن شروع ہوگیا تو اسے محدود رکھنا ممکن نہ ہوگا۔ تاہم یہ خوش آئند ہے کہ موجودہ عسکری قیادت میں ملک بچانے کی خاطر فیصلہ کن اقدام کرنے کے حوالے سے یکسوئی اور عزم پایا جاتا ہے۔