"IMC" (space) message & send to 7575

اب کہاں جائوں

1990ء کے آخر میں اسلام آباد کا رخ کیا اور پھر اسی شہر کا ہو کر رہ گیا۔راولاکوٹ کے نواح میں ایک چھوٹے سے گائوں سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔گائوں میں سردیوں میں اس قدر برف پڑتی کہ گھروں کی دیواریں اور چھت ایک دوسرے سے بغلگیر ہوجاتے۔ ماموں زاد بھائی جاوید خلیل اور شاہد کراچی میں زیر تعلیم تھے۔شاہد ہم عمر ہی نہیں ہم جولی بھی تھا۔گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے گائوں آتا تو شہری زندگی کا ایسا دلفریب نقشہ کھینچتا کہ راتوں کی نیند حرام ہوجاتی۔بتاتا کہ یہ شہر راتوں کو جاگتا اور دن کو سوتا ہے۔ابھی دسویں جماعت کا امتحان دیا ہی تھا کہ کراچی سدھارگیا۔اس وقت تک ایم کیوایم کا ظہور ہوا تھا نہ پشتون مہاجر تنازعات کا آغاز۔
چند برس بہت مستی کے گزرے۔گھر سے دور ہونے کے باوجود تنہائی کا احساس نہ ہوتا۔سرشام کوئی مشاعرہ سننے چلے جاتے۔کبھی کوئی فلم دیکھ لیتے۔ان دنوںضیاء الحق کی حکومت کا سورج غروب ہونا شروع ہوگیا تھا لہٰذا سیاسی سرگرمیاں بھی شروع ہوچکی تھیں۔بسااوقات جلسے جلوس دیکھنے چلے جاتے۔ضیا ء الحق کی پیداکردہ گھٹن کے باوجود شہر میں تھیٹر بھی ہوتا۔کچھ نہ بن پڑتا تو صدر کراچی کے ڈھابوں یا کوئٹہ ہوٹل پر بائیں بازو کے دانشوروں سے مڈبھیڑ ہوجاتی۔شوکت علی کشمیر ی ان محفلوں کی جان تھے۔ نظریاتی بحثوں میں گہری دلچسپی لیتے ۔بعد میں سرکارکے عتاب کا شکارہوکر جنیوا جابسے۔وہ دن اور آج کا دن‘ ہر برس اقوام متحدہ کے اداروں میں حکومت پاکستان کی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیںاور حساب برابر کرتے ہیں۔
اسی زمانے میں اچانک ایم کیوایم ایک طوفان کی مانند اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے شہر کے سیاسی منظر نامے پر چھا گئی۔پشتون مہاجر لڑائیوں کا آغاز ہوا۔جواب میںپنجابی پشتون اتحاد قائم ہوا۔ شہر میں فسادات شروع ہوگئے۔کرفیو نافذ ہوتااور مسلسل کئی روز تک زندگی معطل ہوجاتی۔لیاری میں پیپلزپارٹی والوں نے اپنا قبضہ اس قدر جمایا کہ مخالفین کے لیے قدم رکھنا محال ہوگیا۔ایم کیوایم کے علاقوں میں مخالفین کے لیے قدم رکھنا ناممکن ہوتاگیا۔ انہی ہنگاموں میں کئی شناسا چہرے مارے جانے لگے۔ جمعیت اور اے ایم ایس او کے جھگڑے میں ایک ملنے والا طالب علم مارا گیا۔جمعیت نے بہت احتجاج کیا ۔جذبات سے مغلوب نوجوانوں نے سروں پر کفن باندھ کر جنازے میں شرکت کی اور بدلہ لینے کا عہد کیا۔پروفیسر غفور نے تقریر شروع کی۔ ہجوم غصے اور انتقام کی آگ میں جل رہا تھا۔ خلاف معمول انہوں نے کہا:میں نعشیں اٹھاتا اٹھاتا تھک گیا ہوں۔ میرے بچو!میں اب اپنے کسی بچے کو کفن میں لپٹا نہیں دیکھ سکتا۔ میں اب اپنی نعش قبر میں اتارنا چاہتا ہوں۔ بپھرے ہوئے جذبات ماند پڑ گئے۔آج سوچتاہوں کہ دانشمند انسان آزمائش اور امتحان میں بھی تدبر اور تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔کراچی یونیورسٹی میں آئے روز جھگڑے ہوتے۔ایک بار ایک بلوچ دوست نے‘ جو آج کل بڑے نامور وکیل ہیں‘ صلاح دی کہ تم بھی ایک بندوق اپنے کمرے میں رکھ لو۔وہ بھی مفت۔
موت کو سر پر منڈلاتے دیکھا تو فیصلہ کیا کہ اب یہ شہر رہنے کے قابل نہیںلہٰذا راولپنڈی کوچ کرجائوں۔ٹرین میں بیٹھا تو جاوید بھائی نے ابن انشا کا گیت گایااور کہا کہ رب راکھا۔ 
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب، جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا
اس دل کے دریدہ دامن میں، دیکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے، اس جھولی کا پھیلانا کیا
بوجھل دل کے ساتھ کراچی چھوڑ ا اور راولپنڈی کے دامن میں پناہ لی۔تیئس برس قبل راولپنڈی اور اسلام آباد بہت چھوٹے چھوٹے شہر تھے، کراچی کے ایک ضلع جتنے بھی نہ تھے۔معروف صحافی سعود ساحر نے بتایا کہ یہ سکیورٹی پروف شہر ہیں۔یہاں داخل ہونے اور نکلنے کے تمام راستوں کی سخت نگرانی کی جاتی ہے۔جرائم کی شرح پورے ملک سے کم اورتعلیم کی شرح سب سے بلند ہے۔سوچا کہ اس شہر کو ہی اپنا مسکن بنانا چاہیے۔تحفظ‘ روزگار اور عزت سب ہی کچھ تو یہاں دستیاب ہے۔تہی دامن ہونے کے باوجود شہری زندگی کا خوب لطف اٹھایا۔مارگلہ کے پہلو میں آباد اس سرسبز شہر کو دیکھتا تو اپنا راولاکوٹ نگاہوں میں گھوم جاتا جہاں تا حد نگاہ سبزہ ہی سبزہ ہوتاہے۔پہاڑنہیں پہاڑوں کا سلسلہ ہوتاہے۔ایک پہاڑ پر چڑھتے ہیں تو دس دوسرے سینہ تانے کھڑے یہ باور کراتے کہ منزل ابھی نہیں آئی۔ 
کراچی اور راولاکوٹ کے برعکس یہاں کی ہر گلی محلے میں بابوئوں کی قطاریں نظر آتی ہیں۔ ہر گلی میں ایک بڑا افسر بستا ہے۔ پیدل چلتے ہوئے بڑے بڑے سیاستدان ،فوجی جرنیل اور اعلیٰ سرکاری افسر نظر آجاتے ہیں۔ آغاشاہی اور صاحبزادہ یعقوب علی خان کو سپرمارکیٹ کے بغل میں سیر کرتے دیکھا تو دنگ رہ گیا۔ سینیٹر پروفیسر خورشید‘ اعتزاز احسن اور ایس ایم ظفر کو کتابوں کی دکانوں میں ورق گردانی کرتے دیکھتا تو جھوم جاتا۔غیر ملکی سائیکلوں پر گھومتے‘ ان کے بچے عام سکولوں میں نظرآتے۔گوری میمیں شاپنگ کرتیں اور شہر میں بلاخوف وخطر گھومتی پھرتیں۔ سفارت خانے دن رات دعوتوں میں مصروف رہتے۔ اکادکا پولیس والے کہیں کہیں کھڑے نظر آتے۔ ٹریفک رواں دواں رہتی، گاڑیوں کی لمبی قطاروں کا کوئی تصور نہ تھا۔
انہی دنوں کا ذکر ہے کہ راولپنڈی کے مرنجان مرنج سیاستدان کبیر علی واسطی نے رخصت ہوتے ہوئے ایک جاپانی سفارت کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیا۔پوچھا کہ پاکستان یاد آئے گا ؟بے ساختہ اس نے جواب دیا: ایک ایک چیز ،موسم، لوگ، کھانے ۔ حسرت بھری سانس لے کر کہنے لگا : ٹوکیو میں میرا سارا گھر محض اس ایک ڈرائنگ روم جتنا ہے۔گھر کا سارا کام خود کرنا پڑتا ہے۔ ملازموں کی یہ فوج ظفر موج دستیاب نہیں۔میر ی شریک حیات پاکستان سے رخصت ہونے کا تصور کرکے ہی رونے لگتی ہے۔وہ اپنی پاکستانی سہیلیوں کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی۔ فرانس کے ایک سفیر نے درخواست کرکے پانچ برس اسلام آباد میں گزارے۔ 
جرمنی کے ایک سفیر نے اسلام آباد میں چھ برس تک نوکری کی۔
وہ دن ہوا ہوئے کہ پسینہ گلاب تھا۔اب اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہری خوف کے سائے تلے زندگی گزارتے ہیں۔ عساکر پاکستان کا شہر غیر محفوظ ہے۔صدر اور وزیراعظم کے بلند وبالا گھروں کے عقب میں دہشت گرد دندناتے پھرتے ہیں۔ اسلام آباد کچہری میں ہونے والے دھماکوں او رہلاکتوں نے حفاظتی انتظامات کا پول کھول دیاہے۔ 
پاکستان کے سب سے محفوظ شہر کا اب عالم یہ ہے کہ غیر ملکی سفارت کار پاکستان آنے سے کتراتے ہیں۔جو آتے ہیں انہیں بیوی بچے یہاں لانے کی اجازت نہیںاور ایک برس سے زیادہ یہاں گزارنے پر آمادہ نہیں۔ شہری پارکوں میںجانے سے کتراتے ہیں۔ بچوں کے سکول تعلیمی ادارے کم جیل خانے زیادہ لگتے ہیں۔ اندر داخل ہونے کے لیے درجنوں سوالات اور حفاظتی دائروں سے گزرنا پڑتاہے۔
اسلام آباد کی نوجوان وکیل فضہ ملک کا جنازہ اٹھا تو شہر میںکہرام مچ گیا۔وہ حال ہی میں برطانیہ سے قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے لوٹی تھی کہ ظالمان نے اس کی جان لے لی۔ ماں باپ کی اکلوتی دختر نیک اختر‘ جس کے ہاتھ ابھی پیلے ہونے تھے‘ اگلے جہاں سدھار گئی ہے ۔ ہمارے شہ دماغ وزیر داخلہ مذاکرات کی زنبیل تھامے طالبان کے ساتھ صلح کا کوئی نیا فارمولہ پیش کرنے والے ہیں۔ میں نے بڑی چاہت کے ساتھ اس شہر کو اپنا مسکن بنایا تھا مگر اب سوچتاہوں کہ وقت آگیا ہے کہ بوریا بستر اٹھائوں اور دور کسی دیس کو سدھار جائوں۔ جہاں ٹی وی ہو نہ اخبارات کی چیختی چنگھاڑتی سرخیاں‘ بہتاہوا خون دیکھنے اور اپنے ہم وطنوں کی نعشیں اٹھانے کا اب یارا نہیں رہا۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں